مشن جی ٹی روڈ: پہلا دن ٹیسٹ، دوسرا ٹی ٹونٹی، نواز شریف جہلم پہنچ گئے
اسلام آباد: (نمائندہ خصوصی) بدھ کو مشن جی ٹی روڈ کا آغاز ہوا۔ جمعرات کو بھی عوام نواز شریف کے ساتھ ساتھ ہیں۔
نواز شریف جہلم پہنچ گئے
راولپنڈی سے نکلتے ہی سابق وزیر اعظم کے قافلے نے 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے نہایت تیزی سے منزل در منزل سفر کیا اور مختلف مقامات پر نہایت مختصر خطاب کرنے کے بعد نواز شریف دینہ سمیت متعدد قصبوں میں کارکنوں سے خطاب کئے بغیر ہی جہلم پہنچ گئے۔
عابد شیر علی اور طلال چودھری
نواز شریف کے قافلے کے ساتھ ساتھ محو سفر عابد شیر علی بالخصوص اور وزیر مملکت طلال چودھری بالعموم عوام کو انٹرٹین کرنے کا فریضہ اپنے ذمہ لئے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماء کبھی پارٹی ترانوں پر محو رقص نظر آتے ہیں تو کبھی خوب بڑھ چڑھ کر نعرے لگاتے ہیں۔ دونوں، عوام کو بھی اپنے اس شغل نعرہ بازی و رقص پسندی میں شامل کئے ہوئے ہیں۔ جہلم میں کارکنوں سے اپنے مختصر خطاب میں طلال چودھری بولے، روک سکتے ہو تو روک کر دکھاؤ، نواز شریف نہیں رکے گا۔
امیر مقام
جہلم میں امیر مقام نے بھی کارکنوں سے مختصر خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صرف اور صرف نواز شریف ہی پورے پاکستان کا لیڈر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خیبر پختونخوا کو عمران خان کی سیاست کا قبرستان بنا دیں گے۔ انہوں نے اہل پنجاب کو خبردار بھی کیا کہ وہ خیبرپختونخوا کے لوگوں کی طرح عمران خان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ ساتھ ساتھ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جس طرھ خیبرپختونخوا کے لوگ مینڈیٹ دینا جانتے ہیں، اسی طرح لینا بھی جانتے ہیں، لہٰذا اب وہاں بھی لوگ تبدیلی کے نعروں سے مایوس ہونے کے بعد نواز شریف ہی کو منتخب کریں گے۔
سرائے عالمگیر
پنجاب کے صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ سابق وزیر اعظم کے ٹھہرنے کے انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے اپنے خصوصی ہیلی کاپٹر میں سرائے عالمگیر کے نجی ہوٹل پہنچے اور سکیورٹی و دیگر انتظامات کا جائزہ لیا۔
اس سے قبل سوہاوہ میں نواز شریف نے خطاب کیا اور کہا کہ وزیر اعظم کی نااہلی کا مطلب کروڑوں عوام کی نااہلی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے سوال کیا کہ کیا انہیں فیصلہ منظور ہے؟ نواز شریف نے کہا کہ ملک کی خدمت کا مجھے یہ انعام دیا گیا ہے، یہ جزا ہے ہے یا سزا؟ پاکستان کا یہ دستور اور یہ طریقہ کار ہمیں بدلنا ہو گا۔
اس سے پہلے گوجر خان میں خطاب کے دوران نواز شریف نے کہا کہ اُن کا ایجنڈا آئین اور قانون کی بالادستی ہے، عوامی مینڈیٹ کی توہین برداشت نہیں۔
قبل ازیں، صبح راولپنڈٰی سے روانگی سے پہلے سابق وزیر اعظم نے رفقاء سے طویل مشاورت کی۔ پھر نواز شریف گاڑی میں سوار ہوئے اور قافلہ منزل کی جانب چل پڑا۔
خواجہ سعد رفیق نے جب کہا کہ جلدی نکلیں تو گاڑیوں کی رفتار بڑھ گئی اور قافلے کے شرکاء 100 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے برھنے لگے۔ مشن جی ٹی روڈ کیلئے رواں دواں قافلہ متعدد استقبالی کیمپوں میں منتظر کارکنوں کو چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔
شہر شہر گزرتے قافلے کا استقبال کرنے والے لیگی کارکنوں کا جوش و خروش قابل دید ہے۔ ہر طرف پارٹی پرچموں کی بہار ہے۔ جگہ جگہ قائد کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ خواتین کارکن بھی پرجوش ہیں۔






