اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ٹرمپ نے ملازمتوں میں غیر ملکی افراد کو موقع دینے کے ویزا پروگرام پر نظر ثانی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کردیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ نے غیر ملکی ملازمین کے ویزا پروگرام سے متعلق نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے، اس کے علاوہ نئے بل کا مقصد ایسی پالیسی وضع کرنا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی ساختہ مصنوعات کو ترجیح دی جائے۔صدر ٹرمپ کے نئے صدارتی انتظامی حکم نامے کا عنوان ’بائے امریکن، ہایئر امریکن‘ ہے، صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر ایک امریکی سامان ساز کمپنی کے صدر دفاتر کا دورہ کرنے کے دوران جاری کیے۔ایگزیکٹو آرڈر کے تحت وفاقی اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایچ ون بی ویزا پروگرام میں بہتری لانے کے لیے اقدامات تجویز کریں، حکم نامے میں لیبر، انصاف، داخلہ اور وزارت خارجہ سے کہا ہے کہ وہ امیگریشن نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے اقدام اٹھائیں جس سے امریکی ملازمین کے مفادات کی حفاظت بھی ہوسکے۔اس حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں کہ جس کے تحت یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ایچ1 بی ویزا سب سے زیادہ کارکردگی یا سب سے زیادہ قابل شخص کو ہی مل سکے
ریاض(خصوصی نمائندہ)سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے کہا ہے کہ ایران نے یمن سے سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش تیار کی تھی۔ انھوں نے اس بات کا انکشاف نجی خبررساں ادارے کے جنرل مینجر ترکی الدخیل کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’اس سازش کا آغاز یمنی سرحد سے کیا گیا تھا اور اس کے جواب میں سعودی عرب اور عرب ممالک پر مشتمل اتحاد کی فورسز نے مملکت کے دفاع کے لیے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے دفاع کے لیے مداخلت کی تھی‘‘۔ وہ مارچ 2015ء سے جاری آپریشن فیصلہ کن طوفان کا حوالہ دے رہے تھے۔ احمد العسیری نے انٹرویو میں بتایا کہ ایران نے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے مقامی ملیشیاؤں کو استعمال کرنے کی کوشش کی تھی۔ تہران نے حوثی ملیشیا کی مالی اور اسلحی مدد کا آغاز سنہ 2004ء سے کیا تھا اور تب حوثیوں نے معزول یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف بغاوت برپا کی تھی۔ یمن میں جاری خانہ جنگی کے دوران میں حوثی باغی ایران کے مہیا کردہ اسلحے کو استعمال کررہے ہیں اور اس حوالے سے آئے دن خبروں اور رپورٹس کی شکل میں انکشافات ہوتے رہتے ہیں۔امریکا اور خلیجی ممالک بھی ایران پر حوثی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کے الزامات عاید کرتے ہیں جبکہ ایران سرکاری سطح پر ان الزامات کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔ جنرل احمد العسیری نے بتایا کہ سعودی انٹیلی جنس کو ایرانی ذرائع کی جانب سے حوثی جنگجوؤں کو ایک سو ڈالرز روزانہ دینے کا پتا چلا ہے۔اس کے علاوہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی یمن میں حوثیوں کی تربیت کے لیے موجودگی کی انٹیلی جنس اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔انھیں سعودی عرب کے اندر خودکش کارروائیوں کی بھی تربیت دی گئی تھی۔ انھوں نے کہا کہ سعودی فورسز کو یمن کو ایک ایسا میزائل اڈا بننے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں تھی جہاں سے سعودی مملکت کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے جبکہ ایرانیوں نے ایسی ہی سازش کی تھی اور وہ یمن کو ایک فوجی اڈے میں تبدیل کرکے وہاں سے سعودی مملکت پر حملے کرسکتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن کا سرحدی علاقہ اس سازش کے نتیجے میں غیر مستحکم بن جاتا اور پھر وہاں سے ایجنٹوں کو سعودی عرب میں دراندازی کا موقع مل جاتا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یمن میں جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب کی جانب 48 بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں اور حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی مملکت کی حدود میں یا یمن کے اندر سعودی فورسز پر 138 راکٹ فائر کیے گئے ہیں ۔ بریگیڈیئر عسیری کے بہ قول یہ یقین کیا جاتا ہے کہ یہ میزائل چین ،شمالی کوریا اور سابق سوویت یونین کی ریاستوں میں تیار کیے گئے تھے۔اس کے علاوہ ایران ان میزائلوں کی تیاری اور مرمت کا ذمے دار رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سب خطرناک بات یہ ہے کہ یہ ہتھیار ملیشیاؤں کے کنٹرول میں ہیں اور وہ غیر ریاستی عناصر ہیں۔اگر کسی ملک میں کوئی ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی حکومت کو اس کا ذمے دار ٹھہرایا جاتا ہے لیکن غیر ریاستی عناصر کو کوئی تسلیم نہیں کرتا ہے۔اس لیے ان کے قبضے میں آنے والے جدید ہتھیار بہت ہی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ اگر ایران یمن میں حکمرانی کی کوشش کرتا تو سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو دو محاذوں مشرقی اور جنوبی محاذ پر لگا دیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت قریباً ایک لاکھ سکیورٹی اہلکار یمن کے ساتھ واقع سرحد پر تعینات ہیں اور وہ چند روز ہی میں یمن پر قبضہ کرسکتے تھے لیکن ہمارا یہ مقصد نہیں تھا کیونکہ ہم یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کررہے تھے اور اس کی پورے ملک میں عمل داری چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج دو سال کی جنگ کے بعد حوثیوں کو مہیا کیے جانے والے بیرونی ہتھیاروں تک رسائی سے محروم کردیا گیا ہے۔وہ اپنے بہت سے تربیت یافتہ جنگجوؤں اور لیڈروں سے محروم ہوچکے ہیں اور بہت سے دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وہ یمن میں کھیل کا پانسا پلٹ چکا ہے اور وہ اتحادی فورسز کے حق میں ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں فوجی مداخلت کے تین مقاصد تھے،ایک یمنی ریاست کو محفوظ بنانا ،دوم یمنی شہریوں کو درپیش خطرات میں کمی اور سوم سعودی سرحدوں کا تحفظ ۔ہم ان مقاصد کے حصول میں نمایاں کامیابی ملی ہے اور اس وقت یمن کی قانون حکومت کا ملک 85 فی صد علاقے پر دوبارہ کنٹرول ہوچکا ہے۔
واشنگٹن(ڈیلی آزاد نیوز ڈیسک)امریکہ کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر بڑھتے تناو کا باعث امریکہ اور چین اس حوالے سے کئی تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر مک ماسٹر نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ قین کے ساتھ اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ ’یہ وہ صورتحال ہے جسے مزید نہیں بڑھنا چاہیے۔جنرل مک ماسٹر جو کہ افغان دارالحکومت کابل میں تھے نے کہا کہ تازہ لانچ سلسلہ وار اشتعال، غیر مستحکم کرنے اور دھمکی آمیز رویہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اور اس کےاتحادی اور پارٹنر اس حکومت سے خوف زدہ نہیں ہوں گے جس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں۔شمالی کوریا کو ناکامی کا سامنا ایسے وقت میں کرنا پڑا جب ایک روز قبل ہی اس نے امریکہ کو متنبہ کیا تھا کہ ‘اگر امریکہ ہمارے خلاف لاپرواہی پر مبنی اشتعال انگیزی کرتا ہے، تو ہماری انقلابی قوت فوری طور پر اس کا سنگین جواب دے گی۔ ہم بھرپور جنگ کا اور جوہری جنگ کا اپنے انداز میں جوہری حملے سے جواب دیں گے۔
بیجنگ (خصوصی نمائندہ ) چین نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کو پرامن طریقے سے ایٹمی ہتھیاروں سے پاک رکھنا لازمی ہے،خطے کی نازک صورتحال کو خطرات سے بچانے کیلئے فریقین کو اشتعال انگیز کاروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ پیر کو چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کھانگ نے میں کہا کہ پرامن طریقے سے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک رکھنا چاہیے ۔ یہ تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات سے ہم آہنگ ہے۔حال ہی میں کیے گئے شمالی کوریا کے مزائل کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے چینی ترجمان نے کہا کہ خطے کی نازک صورتحال کوخطرات سے بچانے کے لئے متعلقہ فریقوں کو اشتعال انگیز کاروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔اور ایٹمی مسئلے کے پرامن تصفیے کے لئے مذاکرات کے راستے پر واپس آنا چاہیے۔قبل ازیں امریکی صدر کے اسسٹنٹ برائے قومی سلامتی امور ہر برٹ میک ماسٹر نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا کے مسئلے کے حل کے لیے امریکہ کے پاس تما م آپشنز ہیں ۔تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت فوجی طاقت کے علاوہ دیگر تمام طریقوں کے ذریعے اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کیا جانا چاہیئے۔ ہربرٹ میک ماسٹر نے امریکی ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیتے ہوئے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ آئندہ چند ہفتوں یا ماہ میں جزیرہ نما کوریا کے مسئلے سے متاثرہ مختلف فریقوں کو بدترین نتائج سے بچنے کیلیے فوجی طاقت کے علاوہ تمام طریقوں کو اختیار کرنا چاہیئے۔
واشنگٹن (خصوصی نمائندہ )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پہلی بارخلا میں بھی احتجاج کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے پہلے صدر بن گئے ہیں، جن کے خلاف زمین کے علاوہ بھی کسی دوسری جگہ احتجاج کیا گیا ہے۔آٹونومس اسپیس ایجنسی نیٹ ورک (اسان) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف خلا میں بھیجی گئی احتجاجی تختی کی تصویر اور ویڈیو جاری کی۔کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں کمپنی کے ماہرین کو ریاست ایریزونا سے احتجاجی تختی خلا میں بھیجتے ہوئے دیکھا گیا۔ادارے کے مطابق یہ احتجاج رواں ماہ 22 اپریل کو سماج میں سائنس کے کردار سے متعلق ہونے والے مارچ سے اظہار یکجہتی کےطور پر کیا گیا۔واضح رہے کہ صدارتی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے خواتین کے حوالے سے نامناسب گفتگو بھی منظر عام پر آئی تھی تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ازراہ مذاق کی جانے والی گفتگو‘ قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب کے دوران امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے باہر دھرنوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
ترکی (نمائندہ خصوصی) صدر رجب طیب ایردوان نے 18 مارچ یومِ شہدا اور فتح چناق قلعے کی 102 ویں سالانہ یاد کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ “جمہوریہ ترکی ہماری پہلی نہیں آخری حکومت ہے نتیجتاً عثمانی بھی ہمارے ہیں، سلجوقی بھی ہمارے۔ ہماری ہزاروں سالہ تاریخ میں گزرے ہوئے تمام ادوار ہمارے ہیں”۔صدر ایردوان نے کہا کہ “میں چناق قلعے سے اپنی مسلح افواج کا، پولیس کا اور اپنے محافظین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری مسلح افواج، پولیس اور محافظین ملک میں خندقیں کھودنے والوں کو گھڑے کھودنے والوں کواس وقت جُودی پہاڑوں میں، تندورک میں اور بست دیرے میں انہی کے کھودے ہوئے گڑھوں اور خندقوں میں دفن کر رہے ہیں۔ہالینڈ کے اسکینڈل روّیے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہالینڈ کی انتظامیہ میرے وزیر خارجہ کی پرواز کو منسوخ کر رہی ہے۔ میری خاتون وزیر کے ہالینڈ میں داخلے کو بین کر رہی ہے۔ گھوڑو ں اور کتوں کے ساتھ وہاں مقیم میرے شہریوں کے اوپر چڑھائی کر رہی ہے۔ جرمن چانسلر بھی ان کی حمایت کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب ایک ہیں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ آپ جو چاہے کر لیں اس ملت کو اس کے راستے سے نہیں ہٹا سکیں گے۔16 اپریل کو میری ملت مغرب کے اس غلط روّیے کا جواب بیلٹ بکسوں پر بہترین اور جمہوری شکل میں دے گی۔صدر ایردوان نے کہا کہ ہم اپنے قونصل خانے میں داخل نہیں ہو سکے۔ اس چیز کی بین الاقوامی قانون میں کوئی جگہ نہیں ہے آپ کسی وزیر پر دروازے بند نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ اس روّیے پر قائم رہیں گے تو ترکی سے بھی اس کا جواب پائیں گے۔ ترکی میں کروائے جانے والے ریفرینڈم سے آپ کو کیا؟ لیکن اصل میں حقیقت یہ نہیں ہے، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اس تبدیلی کا کیا مفہوم ہے۔ ایک صدی قبل “یورپ کا مردِ بیمار ” کہہ کر وہ جن ترکوں کی تعزیت کے لئے آئے تھے ان ترکوں نے انہیں چناق قلعے میں بدترین شکست سے دوچار کیا اور وہ اس شکست کو بھولے نہیں ہیں۔صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ صدارتی نظام، سیاست سے اقتصادیات تک، ڈپلومیسی سے سرمایہ کاریوں تک ہر شعبے میں ایک نئی فتح چناق قلعے کا راستہ ہموار کرے گا۔
پیرس (نمائندہ خصوصی) فرانس کے دارالحکومت پیرس کے اورلی ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز سکیورٹی فورسز نے ایک فوجی کی بندوق چھیننے والے مشتبہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ اس نے چندے قبل معمول کے چیک کے دوران میں ایک پولیس افسر کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔فرانسیسی وزیر داخلہ برونو لی روکس نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اس شخص سے آگاہ تھے۔پولیس کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ ایک سخت گیر مسلمان تھا لیکن اس نے اس کی شناخت نہیں بتائی ہے۔انسداد دہشت گردی کے پراسیکیوٹر نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔وزارت داخلہ کے ترجمان پائرے پینر برانڈٹ نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر اورلی کے ہوائی اڈے کا گھیراؤ کر لیا تھا اور اس مردہ شخص کی مکمل تلاشی لی ہے تا کہ اس بات کا یقین کیا جاسکے کہ اس نے خود کش جیکٹ تو نہیں پہن رکھی تھی لیکن اس سے کچھ نہیں ملا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ شخص بڑی پھرتی سے ایک فوجی کا ہتھیار چھیننے میں کامیاب ہوگیا تھا لیکن اس کو سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر گولی مار کر ٹھنڈا کردیا ہے اور واقعے میں کوئی اور شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔اورلی کا ہوائی اڈا پیرس کے جنوب میں واقع ہے۔یہ ملک کا دوسرا مصروف ترین ہوائی اڈا ہے۔فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد قریباً تین ہزار مسافروں کو ائیرپورٹ سے نکال لیا گیا تھا اور اورلی کے دونوں ٹرمینلز سے پروازیں معطل کردی گئی تھیں جبکہ بعض پروازوں کا رُخ پیرس کے شمال میں واقع دوسرے بڑے ہوائی اڈے چارلس ڈیگال کی جانب پھیر دیا گیا تھا۔ہلاکت سے قبل اس مشتبہ شخص نے پیرس کے شمال میں واقع علاقے اسٹینز میں معمول کے ٹریفک چیک کے دوران میں ایک پولیس افسر کو گولی مار کر زخمی کردیا تھا۔ فائرنگ کے یہ دونوں واقعات فرانس میں صدارتی انتخابات کے انعقاد سے صرف پانچ ہفتے قبل پیش آئے ہیں۔صدارتی انتخاب کے لیے مہم میں قومی سلامتی کو بنیادی اور مرکزی موضوع کی حیثیت حاصل ہے۔فرانس میں گذشتہ دو سال کے دوران میں پیش آئے دہشت گردی کے بڑے واقعات کے بعد سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ملک میں جولائی تک ہنگامی حالت نافذ ہے۔ یادرہے کہ پیرس میں نومبر 2015ء میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سیول (نمائندہ خصوصی) جنوبی کوریا کی برطرف صدر پھک گُن ہے نے کہا ہے کہ وہ پورے ملک سے معذرت خواہ ہیں۔منگل کو دارالحکومت سیول میں استغاثہ کے دفتر پہنچنے پر میڈیا سے مختصر بات چیت میں ان کا کہا تھا کہ “میں لوگوں سے معذرت کرتی ہوں۔ میں نیک نیتی سے سوالات کا جواب دوں گی۔”بدعنوانی کے ایک بڑے اسکینڈل سے پھک کا نام جڑنے کے بعد انھیں دس مارچ کو اپنے منصب سے ہاتھ دھونا پڑے تھے جس کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ انھوں نے براہ راست کھلے عام کوئی بات کی ہے۔65 سالہ پھک جنوبی کوریا کی پہلی ایسی جمہوری منتخب صدر تھیں جنہیں پارلیمان کے مواخذے اور پھر عدالت عظمیٰ کی طرف سے ان کے خلاف فیصلے کے بعد عہدہ چھوڑنا پڑا۔ان کا پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنی ایک دوست چہ سون سل کے ساتھ مل کر بڑے کاروباری شعبوں پر دباو ڈالا کہ وہ ان دو فاونڈیشنز کو عطیات دیں جو پھک کی پالیسی کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔سابق صدر اس معاملے میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کرتی آئی ہیں۔لیکن عہدے سے ہٹنے کے بعد انھیں حاصل صدارتی استنثا ختم ہو گیا ہے اور اگر ان پر بڑے کاروباری اداروں بشمول سام سنگ گروپ کے چیف جے وائی لی سے مراعات کے بدلے رشوت لینے کا الزام ثابت ہو جاتا ہے تو انھیں دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔جنوبی کوریا میں بدعنوانی سے جڑے اس معاملے نے ایک ایسے وقت زور پکڑا ہے جب کہ پڑوسی ملک شمالی کوریا اور چین کے ساتھ اس کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔مقامی ٹی وی چینلز پر منگل کی صبح نشر کیے گئے مناظر میں پھک کو اپنی گاڑی سے اتر کر استغاثہ کے دفتر جاتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہ ان کے گھر سے چند منٹ کی مسافت پر ہی واقع ہے اور انھیں پولیس کے حفاظتی حصار میں یہاں تک پہنچایا گیا۔
واشنگٹن (نمائندہ خصوصی) امریکہ کا دورہ کرنے والی جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیسا تھ وائٹ ہاؤس میں بند کمرے میں ایک گھنٹے تک ملاقات کی۔تفصیلات کیمطابق مرکل نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ ترکی ہمیں مہاجرین کے مسئلے کیوجہ سے دھمکیاں دے رہا ہے جس کی وجہ سے ترکی کیساتھ حالیہ کچھ عرصے سے بحران موجود ہے ۔ صدر ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ ترکی نے مہاجرین کے معاملے میں پورے یورپ سے زیادہ مراعات دی ہیں۔صورتحال آپ کی سوچ سے بہت مختلف ہے ۔ٹرمپ کے اس جوب نے مرکل کو ششدر کر دیا۔صدر ٹرمپ کیطرف سے وائٹ ہاؤس میں مرکل سے مصافحہ نہ کرنے پر امریکی میڈیا میں بحث و مباحثہ جاری ہے ۔ مذاکرات کے بعداامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نیٹو اور امریکہ جرمنی کے دفاع کے لیے بھاری اخراجات کر رہے ہیں اور جرمنی اس حوالے سے بھاری رقم کا مقروض ہے ،جو اسے اب ادا کرنی چاہیے۔امریکی صدر کے ٹویٹ کے بعد جرمنی کی وزیر دفاع ارسولا وونڈر لیون نے واشگاف الفاظ ٖ میں کہاکہ ہم پر کوئی قرض واجب الادا نہیں، نیٹو فورسز کے اخراجات دنیا کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے کئے جارہے ہیں اور یہ مشن عالمی امن کا حصہ ہے ۔انہوں نے کہاداعش کیخلاف ہماری کاوشیں ڈھکی چھپی نہیں۔
بغداد (نمائندہ خصوصی) عراق کے دارالحکومت بغداد میں ایک کار بم دھماکے میں 23 افراد ہلاک اور 45 زخمی ہوگئے ہیں۔عراق کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق بغداد کے شیعہ اکثریتی آبادی والے علاقے العامل میں ایک مصروف بازار میں سوموار کی شام سات بجے کے قریب بارود سے بھری ایک کار کو دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔فوری طور پر کسی گروپ نے اس کار بم دھماکے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن اس کی نوعیت سے لگتا ہے کہ یہ داعش ہی نے کیا ہوگا اور یہ خودکش حملہ ہو سکتا ہے۔عراقی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیائیں اس وقت شمالی شہر موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہیں جبکہ داعش ان کی سخت مزاحمت کررہے ہیں۔داعش امریکا کی حمایت یافتہ عراقی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیاؤں سے لڑائی میں شکست اور اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقے کھو جانے کے بعد بغداد حکومت کی عمل داری والے علاقوں میں کاربم دھماکے یا خودکش بم حملے کر رہے ہیں اور ان میں سکیورٹی فورسز یا اہل تشیع کے اجتماعات یا ان کے آبادی والے علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔