آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء کے 34 ویں میچ میں بھارت نے ویسٹ انڈیز کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے 125 رنز کے بڑے فرق سے شکست دے دی۔مانچسٹر میں بھارت نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 269 رنز کا ہدف دیا جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم 34 اعشاریہ 2 اوورز میں 143 پر ڈھیر ہوگئی۔کرس گیل 19 گیندوں پر صرف 6 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔سنیل امبریس نے سب سے زیادہ 31 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ نکولس پورن 28 اورہٹمائر 14 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔بھارت کی طرف سے محمد شامی سب سے کامیاب بولر رہے، انہوں نے 16 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، بومرہ اور چاہل نے دو، دو جبکہ پانڈیا اور کلدیپ یادیو نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔اس سے قبل بھارتی ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ویسٹ انڈین بولرز کو جلد ہی پہلی کامیابی روہیت شرما کی وکٹ کی صورت میں ملی، وہ 18 رنز بناکر روچ کی گیند پر وکٹ کیپر شائی ہوپ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔دوسری وکٹ کی شراکت میں کے ایل راہول اور ویرات کوہلی نے 69 رنز جوڑ کر ٹیم کا اسکور 98 تک پہنچادیا، راہول 48 رنز بناکر ہولڈر کی گیند پر کلین بولڈ ہوگئے۔ویرات کوہلی نے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے 72 رنز کی اننگز کھیلی، اس کے علاوہ دھونی ناقابل شکست 56 اور پانڈیا 46 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔یوں بھارت نے مقررہ پچاس اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 268 رنز بنائے۔ویسٹ انڈیز کی طرف سے روچ نے تین جبکہ کوٹریل اور ہولڈر نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
اسکاٹ لینڈ یارڈ نے صبح سویرے بانیٔ ایم کیو ایم الطاف حسین کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے مقامی پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔مرتضیٰ علی شاہ کا مزید کہنا ہے کہ شمالی لندن میں بانی ایم کیو ایم کی رہائش گاہ پر چھاپے میں 15 پولیس افسروں نے حصہ لیا۔
انہوں نے بتایا کہ بانیٔ ایم کیو ایم کی گرفتاری ممکنہ طور پر 2016ء کی نفرت انگیز تقریر پر کی گئی ہے۔ مرتضیٰ علی شاہ کے مطابق ایم کیو ایم کے ذرائع نے بھی الطاف حسین کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی گرفتاری کے بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے ان کے گھر ، ایم کیو ایم کے دفتراور سیکریٹریٹ کی بھی تلاشی لی جا رہی ہےجبکہ گھر میں موجود ملازمین اور عملے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی کوشش ہے کہ بانیٔ ایم کیو ایم کی جانب سے کی گئی نفرت انگیز تقاریر اور ان سے متعلق مواد اس تلاشی کے دوران برآمد کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق تھوڑی دیر میں لندن پولیس بانیٔ ایم کیو ایم الطاف حسین کا انٹرویو ریکارڈ کرےگی۔بانیٔ ایم کیو ایم الطاف حسین کی گرفتاری سے متعلق ایف آئی اے کو باقاعدہ آگاہ کردیا گیا ہے، الطاف حسین کی گرفتاری تین سال پہلے پاکستان کے فائل کردہ کیس پر ہوئی۔
انہوں نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کیس میں نفرت انگیز تقاریر کو بنیاد بنا کر تحقیقات کی جا رہی تھیں، حکومتِ پاکستان کی طرف سے بھی 3 سال سے تحقیقات چل رہی تھیں، اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم نے گزشتہ ماہ دورۂ پاکستان میں اہم معلومات شیئر کی تھیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستان کو آگاہ کردیا تھا کہ بہت جلد بڑی پیش رفت ہونے والی ہے ، کیس میں ایم کیو ایم پاکستان، ایم کیو ایم لندن کے بھی چار لوگ نامزد تھے، اس کیس میں 11 افراد کے ا نٹرویوز کیے گئے، تمام شواہد حکومت پاکستان پہلے ہی برطانوی حکومت سے شیئر کر چکی ہے۔
زاہد گشکوری نے ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ امکان ہے کہ ایف آئی اے کی ٹیم جلد برطانیہ کا دورہ کرے گی، ممکنہ طورپر ایف آئی اے کی ٹیم دو ہفتوں میں شواہد کے ساتھ برطانیہ جائے گی ، لندن میں الطاف حسین تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی،پاکستان کی طرف سے الطاف حسین کی حوالگی کے لیے بھی درخواست دوبارہ دیئے جانے کا امکان ہے۔ سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پاکستان آئی تھی جسے پاکستانی حکام نے اشتعال انگیز تقاریر کے حوالے سے بانی ایم کیو ایم کے خلاف شواہد فراہم کیے تھے۔
لندن میٹرو پولیٹن پولیس کی جانب سے بانی ایم کیو ایم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 60 سالہ شخص کو نفرت انگیز تقریر سے متعلق تحقیقات میں گرفتار کیا گیا ہے۔لندن پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کی گرفتاری شمال مغربی لندن میں ایک مقام سے کی گئی، جو سیریس کرائم ایکٹ 2007ء کی سیکشن 44 کی خلاف ورزی پر کی گئی۔لندن پولیس نے بتایا ہے کہ گرفتار شخص کو حراست میں لے کر جنوبی لندن کے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے، جو تاحال پولیس حراست میں ہے۔لندن پولیس کے مطابق انویسٹی گیشن کے تحت شمال مغربی لندن میں ایک مقام کی تلاشی لی جا رہی ہے، یہ تحقیقات لندن پولیس کے کاؤنٹر ٹیرر ازم کمانڈ کے افسران کر رہے ہیں۔لندن پولیس نے مزید بتایا کہ تفتیش کار شمال مغربی لندن میں ایک کمرشل مقام کی بھی تلاشی لے رہے ہیں، تحققیات کا فوکس ایم کیو ایم کی ایک شخصیت کی اگست 2016ء کی نفرت انگیز تقریر ہے۔ لندن پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پاکستان میں حکام سے لندن پولیس رابطے میں ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطین کے معاملے کو مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ قرار دے دیا۔سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والےاسلامی تعاون تنظیم کےسربراہی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق فلسطین مسلم امہ کا بنیادی مسئلہ ہے،فلسطین سے عالمی قراردادوں کےمطابق اسرائیلی قبضہ ختم کرایاجائے،مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا دارالحکومت ہے،آزاد،خودمختارریاست میں زندگی بسر کرنا فلسطینیوں کا حق ہے۔اجلاس میں ہرقسم کی دہشتگردی،انتہاپسندی،تعصب پسندی کی مذمت جبکہ سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات میں دہشتگرد حملوں کی بھی مذمت کی گئی۔عالمی برادری سے خطےمیں امن وسلامتی برقرار رکھنے کے لئے کردار ادا کرنے کامطالبہ بھی کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشتگردی کوشہریت،مذہب،یاکسی علاقے سےنہیں جوڑاجاسکتا،مذہب، رنگ نسل کی بنیادہرعدم برداشت،امتیازی سلوک مذمت کرتے ہیں۔اعلامیے میں نفرت ،امتیازی سلوک کےخاتمے کیلئے برداشت،احترام،بات چیت،تعاون پر زو دیاگیا اور کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کے انچارجز پر اسلامی امہ کےدرمیان افراتفری،اختلافات دور کرنےکیلئےذمہ داری ہے۔اعلامیے میں غیراسلامی ممالک میں رہنے والےمسلمانوں سےمکمل تعاون کااعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ غیراسلامی ممالک میں رہنے والےمسلمانوں کےمسائل عالمی فورم پر اٹھائے جائیں،جوائنٹ اسلامک ایکشن سےاوآئی سی ترقیاتی مقاصد حاصل کرسکتی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی میں گزشتہ ماہ 34کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کےمطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج نے گزشتہ ماہ 34 کشمیریوں کو شہید کیا، جبکہ 601 کشمیری فائرنگ، پیلٹ گنز اور شیلنگ سےزخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر میں خاتون سمیت 156 کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ، 5خواتین کو زیادتی کانشانہ بنایا گیا اور 39گھروں کو تباہ کیا گیا۔
بالی ووڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان کو پاکستان کی یاد ستانے لگی.بالی وڈ سپر اسٹار عید پر پاکستانی جوتی پہنیں گے شاہ رخ خان نے پشاور میں مقیم اپنے اور اپنے بیٹے کے لیے اپنی کزن سے پشاور چپل کی فرمائش کردی.
کراچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جاپان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، دوسری جانب سعودی عرب اور قطر کے درمیان تقریباً 2 سال سے جاری سرد تعلقات میں نرمی آنے لگی، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی اجلاس میں قطری امیر کو مدعو کرلیا گیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ جوہری ڈیل کا امکان موجود ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم شینزوآبے کے ساتھ ٹوکیو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ پائی جانے والے کشیدگی کے تناظر میں مصالحت پسندانہ گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔
اسلام آباد.بھارت نے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم عمران خان کو نہ بلانے کا فیصلہ کرلیا، بھارت نے حلف برداری میں شرکت کیلئے سارک کے دیگر رکن ممالک کے سربراہان کو دعوت دیدی۔ غیرملکی خبر رساںایجنسی نے بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ بھارت عمران خان کو مدعو نہیں کر رہا،خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری تقریب میں پاکستانی ہم منصب عمران خان کو مدعو نہیں کیا جائے گا،نریندر مودی 30 مئی کو دوسری بار بھارتی وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، بھارت نے مودی کی تقریب حلف برداری کے لیے سارک کے دیگر رکن ملکوں کے سربراہوں کو دعوت دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کو نہ بلانا اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فوری مثبت پیشرفت کا امکان نہیں ہے۔
کراچی مودی کی تقریب حلف برداری، عمران کو دعوت دینے کا فیصلہ ہوگیا؟بھارتی میڈیا کی متضاد اطلاعات سامنے آنے لگیں، تقریب حلف برداری میں ٹرمپ، پیوٹن،ژی سمیت برطانیہ، جاپان، جرمنی، فرانس ، اسرائیل اور عرب رہنمامدعو ہونگے، اکثریتی رپورٹوں کے مطابق مودی کی تقریب برداری میں عمران خان کو شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی تاہم کچھ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مودی کی تقریب حلف برداری میں عمران خان کو مدعو کرلیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پیش رفت عمران خان کے فون کے بعد سامنے آئی جب انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔2014میں وزیر اعظم منتخب ہونے پر مودی نے اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تھا اور نواز شریف نے شرکت کی تھی تاہم اس بار عمران خان کو پلوامہ اور بالاکوٹ واقعات کی وجہ سے مدعو کیے جانے کا امکا ن نہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کو تقریب میں مدعو کیے جانے کے سوال پربھارت کے سرکاری ذرائع کاکہنا ہے کہ اس طرح کی گفتگو قبل ازوقت ہے تاہم حکومت جلد اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔مودی نے2014 میں تقریب میں تمام سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا تھا، اگر حکومت نے تمام سارک سربراہان کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ مشکل ہوجائے گا کہ کس کو بلایا جائے کس کو نہیں،پاکستانی وزیر اعظم مہمانوں کی فہرست میں شامل ہیں،سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ امکان نہیں کہ عمران خان کو مدعو کیا جائے گا۔بھارتی میڈیا کے مطابق تقریب حلف برداری میں عمران خان کو دعوت دینے سے عالمی سطح پرمودی کے امیج بڑھ سکتا ہے۔ مودی کی تقریب حلف برداری 30 مئی کو ہو گی جس کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان کو شرکت کے دعوت نامے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تقریب میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،روسی صدر پیوٹن، چینی صدر ژی جن پنگ کو مدعو کیے جانے کا امکان ہے اس کے علاوہ برطانیہ، جاپان، جرمنی، سری لنکا، فرانس ، اسرائیل ، اورسعودی عرب کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گا، ولی عہدابوظبی محمد بن زاید النہیان اور بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مدعو نہیں کیا جائے گا تاہم ابھی تک غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کیے جانے کے حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مودی کو پہلے سوشل میڈیا پر اور پھر فون کر کے الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ جولائی 2018کے بعد مودی اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی۔
اسلام آباد،نئی دہلی وزیر اعظم عمران خان کا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو انتخابات میں کامیابی پر فون کرکے مبارکباد دی اس دوران عمران خا ن اور مودی کی جانب سے خطے کی خوشحالی ، اعتماد سازی، تشدد سے پاک ماحول کے عزم کا اظہار کیا گیا، عمران خا ن نے کہاکہ عوام، امن ، ترقی ، خوشحالی کیلئےملکر کام کرنا چاہیے جس پر مودی نے کہا کہ تشدد سے پاک ماحول ، اعتماد کا قیام ضروری ہے۔ دفترخارجہ پاکستان سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے نریندر مودی کو انتخابی کامیابی پر مبارک باد دینے کے علاوہ خطے کے لوگوں کی بہتری کے مشترکہ طور پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا،عمران خان نے خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے بارے میں اپنی سوچ اور خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان اہداف کے حصول کے لیے بھارت کے ساتھ ملکر کام کرنے کے لیے تیار ہیں،اس فون پر ہونے والے بات چیت کے بارے میں بھارتی وزارتخارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی نے امن، خوشحالی اور ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے اعتماد اور دہشت گردی سے پاک ماحول پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔واضح رہے کہ عمران خان اور مودی میں آخری مرتبہ جولائی 2018میں بات چیت ہوئی تھی جب نریندر مودی نے عمران خان کو ان جماعت تحریک انصاف کی انتخابی کامیابی پر مبارک باد پیش کی تھی۔یاد رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس سال فروری میں جنگ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی جب مقبوضہ کشمیر میں ایک حملے میں چالیس بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے ، بھارت نے اس حملے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالتے ہوئے پاکستان کے اندر فضائی حملے کی کوشش کی تھی جس کا بھرپور جواب دیتے ہوئے پاکستان نے جوابی فضائی کارروائی میں بھارتی فضائیہ کا ایک مگ بائسن طیارہ مار گرایا تھا اور ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔
حالیہ ہونے والے یورپین الیکشن میں ہم نے BIG پارٹی یعنی”Bündnis für Innovation und Gerechtigkeit” اس کی بے شمار وجوھات ہیں ۔۔ گذشتہ بیس تیس سال سے ہم نے کبھی یورپی پارلیمنٹ میں دلچسپی نہیں لی لیکن وقت کے عین تقاضوں نے ثابت کیا ہے کہ اب مستقبل میں ہمیں بھی یورپین پارلیمنٹ کے علاوہ جرمنی کی سیاست میں ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو نا صرف آپنی پارٹی ایجنڈہ کو سامنے رکھتی ہو بلکہ ہمارے مفادات اور خواہشات کو بھی سامنے رکھتی ہو ۔۔۔ ہم پاکستانیوں کی اکثریت جرمنی میں گزشتہ 30 سال سے SPD اور Die Grünen پارٹیوں کو ہی ووٹ دیتے آ رہے ہیں لیکن اب ہمیں بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہم ھمیشہ ایک روٹین کے مطابق ایسے ہی کرتے رہیں گے ؟؟ یا آپنے مفادات اور مستقبل کی ترجیحات کو سامنے رکھ کر خود بھی کچھ ہاتھ پاوں ماریں گے ۔۔۔ اس سلسلے میں ایک ایسی جماعت جس کا نام BIG پارٹی ھے اور میدان عمل میں آ چکی ھے جو کہ ابھی اتنی مشہور نہیں ھے لیکن جب ہمارے حلقوں میں یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا جرمنی میں کوئی مسلمانوں کی بھی سیاسی جماعت ہے جی جناب بالکل گزشتہ سالوں وجود میں آ چکی ہے اور کام کر رہی ہے اس جماعت کے زیادہ تر صوبائی و قومی اسمبلی کے ممبران سب مسلمان ہیں اور ان کے خیالات اور ایجنڈہ مکمل وہ ہی ھے جو ہمارا ہے یعنی وہ ہمارے دلوں کی ترجمانی کرتے ہیں ۔۔۔ اور اگر کوئی کمی پیشی ہے تو وہ ہم سے امید رکھتے ہیں ہم ان کی رہنمائی کریں ۔۔۔۔ آپ ان کی ویب سائیٹ پر جا کر خود دیکھ سکتے ہیں ۔۔۔۔ کیونکہ آنے والے وقتوں میں ہمیں آپنی آواز خود بلند کرنی ھےاور آگے بڑھنا ہے یا پھر ہمیں اسی پرانی اور فرسودہ سوچ کے ساتھ چلتے رہنا ہے ۔لہذا جب بھی آپ کے شہر یا علاقے میں بگ پارٹی کا ممبر کھڑا ہو اس کو بھر پور سپورٹ کریں ۔۔۔۔ اس وقت پھر ایک موقع ہے کہ ہم یورپین پارلیمنٹ میں آپنا ایسا نمائندہ بھیجیں جو نا صرف کشمیر فلسطین بلکہ ہمارے جرمنی اور یورپ میں مسلمانوں کے اجتماعی حقوق کی بھی بات بھی کر سکے اس کے لئے صرف BIG پارٹی ہی ہماری ترجیحات پر پورا اترتی ہےمیں انہی الفاظ پر اکتفاء کرتے آپنی بات کو سمیٹتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ ہمارے غیر ملکیوں بالخصوص مسلمانوں کے وسیع تر ایجنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے یورپین پارلیمنٹ کے الیکشن میں BIG کو سپورٹ کریں گے ۔۔۔۔۔ ناکہ محدود سوچ کے ساتھ بس کسی ایک ایشو کو ہی دیکھتے رہیں گے ۔۔ اور کسی ایسی پارٹی کو تقویت دیں گے جو صرف آپنے مقاصد کے لئے لڑتی ہیں ۔لہذا آپنے بچوں کے مستقبل کے ہمیں آج ابتدا کرنی ہے ۔۔۔ جزاک للہ خیرا واسلام حامیان و سپورٹر: حلقہ احباب بریمن : فاروق بیگ ، منیر حسین ۔۔ اور پاک کمیونٹی بریمن شہر حلقہ احباب ڈیٹمولڈ : خالد پرویز صاحب ۔ نادر صاحب و ساتھی اسلامک سینٹر برلین : خالد محمود و ساتھی اسلامک سینٹر ہیمبرگ : عمران خورشید و ساتھی