کراچی کے قریب واقع چرنا آئی لینڈ پر 27فٹ لمبی شارک کی موجودگی کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق چرنا آئی لینڈ پر سمندر کے اندر 27فٹ لمبی اور 3 ٹن وزنی شارک دیکھی گئی ۔شارک کی کھلے سمندر میں اٹھکھیلیاں کرتے مناظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ چرنا آئی لینڈ ملک بھر میں اسکوبا ڈائیونگ کے لیے مشہور ہے.واضح رہے کہ کچھ سال قبل ٹھٹھہ کے قریب سمندر سے 40 فٹ طویل شارک مچھلی مردہ حالت میں ملی تھی جسے بعد میں کراچی ہاربر منتقل کیا گیا تھا۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزشتہ روز آنے والے زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 30 ہوگئی جبکہ 450 زخمی مختلف علاقوں میں زیرعلاج ہیں۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق زخمی افراد ڈی ایچ کیو میرپور اور ٹی ایچ کیو منڈاں میں زیرعلاج ہیں۔پمزاسپتال کی 3 ایمبولینسز، ڈاکٹرز اور اسٹاف کے 12 افراد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے میرپور کے لئے روانہ کردیے گئے ہیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق گزشتہ روز آنے والے زلزلے کی شدت 5 اعشاریہ 8 ریکارڈ کی گئی تھی، جس کی گہرائی زیرِ زمین 10 کلومیٹر تھی۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق سہ پہر 4 بج کر 2 منٹ پر آنے والے زلزلے کا مرکز جہلم کا شمالی علاقہ تھا۔
ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی لاہور اور گردو نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور اور گردو نواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکے قصور، ڈسکہ،اسلام آباد راولپنڈی،پشاور جہلم ، چارسدہ ، صوابی ،سوات مانسہرہ ، مینگورہ ، میرپور خاص ،مری کوٹ مومن ، سانگلہ ہل ، سکھیکھی ، گجرات ، حیدر آباد، اوکاڑہ، وزیر آباد، حافظ آباد، شکر گڑھ، شیخوپورہ ، فیروزوالا، چنیوٹ ، خوشاب، اٹک ، سرگودھا، مانگا منڈی ، اسکردو، ہنگو، باجوڑ،آزاد کشمیرمیں بھی محسوس کیے گئے۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کے شدت 6.1ریکارڈ کی گئی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی گہرائی دس کلو میٹر تھی۔ زلزلے کے دورانیہ آٹھ سے دس سیکنڈ تھا ۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز راولپنڈی سے 92 کلو میٹر دور جنوب مشرق میں تھا۔
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے انتقال کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں اور حیات ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق پچھلے کچھ دنوں سے یہ افواہیں سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھیں کہ وہ کافی بیمار ہیں اور اُن کا انتقال ہوگیا ہے۔اس کے علاوہ فیس بک پر بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی تصویر شیئر کر کے وضاحت دی گئی ہے کہ ’میرے پاکستانیوں: السلام وعلیکم! اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں سلامت ہوں، میرے مرنے کی خبریں فیس بک پر میرے اور ملک دشمن عناصر لگا رہے ہیں۔‘اس پوسٹ پر تمام صارفین نے تبصرہ کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ آپ کو طویل عمر سے نوازے اور ملک کو دشمنوں کے شر سے دور رکھے۔‘ڈاکٹرعبدالقدیرخان نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے جس میں انہوں نے ایسی تمام خبروں کی تردیدکی ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار ناقابل فراموش ہے، ان کی شاندار خدمات پر انہیں 14 اگست 1996ء میں صدر پاکستان فاروق لغاری کی جانب سے پاکستان کے سب سے بڑے سِول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا گیا تھا۔اس کے علاوہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 1989ء میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی دیا جاچکا ہے۔
ملک بھر میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ’زینٹک‘ دوا کی فروخت پر فوری طور پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ۔ڈریپ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رینیٹی ڈائن ایچ سی ایل کے حامل ادویات کی ملک بھر میں فروخت پر فوری طور پر عارضی پابندی عائد کردی گئی ہے ۔نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ امریکی ادارے ایف ڈی اے کی جانب سے حالیہ تحقیق میں رینیٹی ڈائن میں مضر صحت اجزا سامنے آئیں ہیں اور ملک بھر میں یہ دوا’زینٹک‘ کے نام سے فروخت کی جاتی ہے لہذا ڈریپ کی جانب سے زینٹک کی فروخت پر فوری طور پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ڈریپ عالمی اداروں کے ساتھ مل کر مریضوں کی صحت کا پھرپور خیال رکھتا ہے۔واضح رہے کہ رینیٹی ڈائن ایچ سی ایل میں نائیٹرو سامائین کی آمیزش سامنے آئی ہے جو کیسنر کا سبب بنتی ہے۔امریکی ادارے ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ Ranitidine (رینٹڈین ) نامی دوا میں ممکنہ طور پر کینسر کی وجہ بننے والے کیمیکل پایا گیا ہے۔
سابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائم خانی سے تحقیقات میں ا ن کے دو مزید فرنٹ مین کا انکشاف ہوا ہے۔نیب ذرائع کے مطابق لیاقت قائم خانی سے تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر پارکس جمیل نیاز بھی لیاقت قائم خانی کا فرنٹ مین رہا ہے ۔جمیل نیاز نے تمام معاملات کے لیے کمپنی کھولی تھی، جبکہ اس نے مزید دو فرنٹ مین بنائے جو یہ کمپنی چلاتے تھے۔ذرائع کے مطابق لیاقت قائم خانی کے فرنٹ مین میں یوسف سرائیکی بھی شامل ہے جسے کراچی کے پارکس کے ٹھیکے دئیے گئے تھے۔واضح رہے کہ نیب کی جانب سے سابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائم خانی کو آج اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں مزید 14 روز کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔
اسلام آباد (انصار عباسی) ویسے ہی ایک بات کی جائے تو ایک دن شاہد خاقان عباسی نے ان کیخلاف تحقیقات کرنے والے نیب والوں سے پوچھا کہ کیا نیب چیئرمین کو مقرر کرنے پر بھی ان پر کوئی کیس ہو سکتا ہے۔لیکن جو بات شاذ و نادر ہی ہوتی ہے اور ماضی میں شاید ہی کبھی اس کا مشاہدہ کسی نے کیا ہو، وہ یہ ہے کہ شاہد عباسی نے ایل این جی کیس کے حوالے سے تمام متعلقہ حکام اور دیگر متعلقہ افراد بشمول مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق (جو نیب کی حراست میں ہیں) کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی ذمہ داری ان پر (شاہد عباسی) پر ڈال دیں تاکہ انہیں نیب کے عتاب سے بچایا جا سکے۔ان کی پارٹی اور خاندان کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شاہد خاقان عباسی پورے ایل این جی پروجیکٹ کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ’’انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ نیب بالآخر مفتاح اسماعیل، شیخ عمران الحق اور کئی دیگر کو گرفتار کرکے ان پر دبائو ڈالے گا۔گرفتاری سے کئی ہفتے قبل، انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ وہ اُن لوگوں سے رابطہ کرکے انہیں بتائے کہ وہ نیب کی جانب سے جیل میں ڈالے جانے سے بچنے کیلئے جو بیان اپنی مرضی سے دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ نیب کی جیل یا حراست سے بچنے کیلئے سلطانی گواہ بن بھی گئے تو وہ ان کیخلاف دل میں کوئی بات نہیں رکھیں گے۔‘‘کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ افراد جیسا کہ آئی ایس جی ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر مبین صولت اور پیٹرولیم کے سابق سیکریٹری عابد سعید نے یہی کیا اور وزیر کیخلاف بیان دیا (اور ساری ذمہ داری ان پر ڈال دی) اور خود کو کسی بھی طرح کے مبینہ غلط کام سے بری الذمہ قرار دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد عباسی نے نیب کو یہ تک کہہ دیا ہے کہ وہ خود اس معاملے کی پوری ذمہ داری لینے کو تیار ہیں اور مفتاح اور عمران الحق کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں اور دونوں کو فوراً رہا کر دیا جائے۔اسی دوران، اس نمائندے کی جانب سے قابل بھروسہ ذرائع کے توسط سے سابق وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا گیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’سوالناموں‘‘ کے جوابات دیتے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے اور شاہد عباسی کے مطابق یہ سوالات ’’انتہائی مضحکہ‘‘ خیز اور ’’غیر منطقی تکرار‘‘ سے بھرے ہیں۔پہلے تو نیب کی توجہ کا مرکز قطر سے حاصل کی جانے والی ایل این جی تھی اور بیانات جاری کرتے ہوئے اسے ’’کرپٹ‘‘ قرار دیا گیا۔ شاہد عباسی کا جواب بڑا ہی سادہ ہے: مذاکرات کے ذریعے حاصل کی گئی یہ اُس وقت دنیا کی سب سے بہترین ایل این جی ڈیل تھی۔حتیٰ کہ قطر کی پیداوار سے دوگنا زیادہ سالانہ ایل این جی خریدنے والے ملک جاپان نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا تھا کیونکہ پاکستان نے کم ترین قیمتوں اور بہترین شرائط پر یہ معاہدہ کیا تھا۔شاہد عباسی کا کہنا ہے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی گیس اور ترکمانستان کی TAPI گیس پائپ لائن کی گیس کے مقابلے میں قطر سے ایل این جی کی خریداری کیلئے کیا جانے والے معاہدہ فی ایم ایم بی ٹی یو کے لحاظ سے کم ترین قیمتوں پر کیا گیا تھا۔ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کیونکہ اول الذکر دونوں ملکوں سے حاصل ہونے والی گیس ایل این جی کے مقابلے میں 15؍ سے 20؍ فیصد زیادہ مہنگی تھی۔ایل این جی اور گیس ایسی چیزیں ہیں جن کی قیمتوں پر مارکیٹ اثر انداز ہوتی ہے، لیکن قطر کے ساتھ کیے گئے طویل المدتی ایل این جی معاہدے کی وجہ سے تیل سے بجلی پیدا کرنے کے مقابلے میں اس گیس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے پر پاکستان کو سالانہ 150؍ سے 250؍ ارب روپے کی بچت ہوگی، دیگر فوائد الگ ہیں۔صرف یہی نہیں کہ نیب کو پاکستان اور قطر کے درمیان ہونے والے اس ایل این جی معاہدے میں کچھ نہیں ملا بلکہ حال ہی میں میڈیا نے یہ خبر دی ہے کہ اس پروجیکٹ کو سیاست کی نظر کرنے پر قطر عمران خان حکومت سے ناراض ہے۔کہا جاتا ہے کہ قطر کی وزارت توانائی اور قطر پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو افسر سعد الکعبی نے حال ہی میں صرف چار گھنٹے کیلئے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ ’’ایل این جی چاہئے تو ٹھیک بصورت دیگر ٹھیکہ منسوخ کر دیں، ہمارا نام اپنی سیاسی کیچڑ میں نہ گھسیٹیں، پھر دیکھتا ہوں کہ آپ کو کون ایل این جی فروخت کرتا ہے۔‘‘اس پیشرفت کے بعد بظاہر ایل این جی کیس میں نیب کی تحقیقات روک دی گئی ہیں۔ اس کے بعد آتے ہیں ایل این جی کی ری گیسی فکیشن (Regasification) کے معاملے پر۔ اس ٹرمینل کا ٹھیکہ آئی پی پی کے طریقہ کار کے تحت سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) اور اینگرو کے درمیان شفاف اور مسابقتی نیلامی کے عمل کے تحت مکمل کیا گیا تھا۔یب نے 2014-2015ء میں اس کی تحقیقات کی تھی جب شاہد خاقان عباسی پٹرولیم کے وزیر تھے۔ شاہد خاقان عباسی نے ہی چیئرمین نیب کو کو خط لکھا تھا کہ وہ بحیثیت وزیر پٹرولیم پیش ہونا چاہتے ہیں اور ہر طرح کے سوالوں کے جوابات دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ قومی اہمیت کا معاملہ ہے۔اس کے بعد شاہد عباسی چار گھنٹے تک نیب کی ٹیم کے سامنے جوابات دیتے رہے اور نیب ٹیم کو ہر چیز کی وضاحت پیش کی؛ جس کے بعد یہ معاملہ باضابطہ طور پر بند کر دیا گیا۔اب نیب نے یہ کیس دوبارہ کھول کر مفتاح اسماعیل کو دھر لیا جو اس وقت ایس ایس جی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے نان ایگزیکٹو چیئرمین تھے۔ساتھ ہی شیخ عمران الحق کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو اینگرو کے ذیلی ادارے EETPL کے چیف ایگزیکٹو افسر تھے۔ اسی ذیلی ادارے نے ری گیسی فکیشن ٹرمینل کیلئے کم سے کم بولی دی تھی۔شاہد خاقان عباسی کا موقف یہ ہے کہ ٹھیکہ شفاف نیلامی میں دیا گیا تھا اور انتظامات اُسی کنسلٹنٹ نے سنبھالے تھے جس نے ایس ایس جی سی کیلئے پہلے بھی تین ٹھیکوں کے انتظامات دیکھے تھے۔کنسلٹنٹ کا انتخاب اور فراہمی USAID (امریکا ا بین الاقوامی ترقیاتی ادارہ) نے کی تھی اور اس کیلئے ان کا اپنا ٹینڈر پراسیس ہوتا ہے۔ کنسلٹنٹ کے سارے اخراجات یو ایس ایڈ والوں نے دیے تھے۔ ٹرمینل کا ٹھیکہ وقت پر مکمل ہوا؛ طے شدہ وقت 11؍ ماہ تھا۔اس کے مقابلے میں، بھارت کے پہلے ایل این جی ٹرمینل کو تعمیر ہونے میں سات سال کا وقت لگا اور بنگلا دیش کا ٹرمینل پانچ سال میں تعمیر ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اینگرو کا ٹرمینل دنیا بھر میں وہ واحد ایل این جی ٹرمینل ہے جو گزشتہ چار سے پانچ سال کے دوران 100؍ فیصد صلاحیت کے مطابق کام کر رہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ری گیسی فکیشن کی موجودہ قیمت 46؍ سینٹس فی ایم ایم بی ٹی یو ہے اور اس میں پورٹ فیس، ٹیکس اور دیگر اخراجات بھی شامل ہیں، یہ دنیا بھر میں کم ترین قیمت ہے۔ بھارت میں یہ قیمت اوسطاً ایک ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے۔ پاکستان میں ہونے والی پانچ سابقہ نیلامیوں میں کسی بھی کمپنی نے 1.1؍ ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم بولی نہیں دی تھی۔یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس ٹرمینل کی سالانہ 90؍ ملین ڈالرز کی ادائیگیوں کے بعد بھی پاکستان کو بجلی کی کم پیداواری لاگت کی مد میں ہر سال 1.2؍ ارب ڈالرز کی بچت ہوتی ہے۔اس ٹرمینل پر حکومت کوئی زر تلافی یعنی سبسڈی نہیں دیتی اور حکومت اس کے کسی بھی طرح کے اخراجات بھی ادا نہیں کرتی۔ تمام اخراجات کنزیومر ادا کرتا ہے۔شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ اس ٹرمینل کے معاشی فوائد زبردست ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سالانہ 10؍ لاکھ ٹن یوریا درآمد کرتا تھا لیکن اس ٹرمینل کی وجہ سے 2017ء میں 6؍ لاکھ ٹن برآمد کرنے لگا۔اس ٹرمینل سے قبل، پاکستان فیول آئل درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک تھا؛ چین پہلے نمبر پر تھا۔ آج فیول آئل کی ہماری درآمدات صفر ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹرمینل کے روزانہ کے اخراجات 100؍ فیصد صلاحیت پر دو لاکھ 25؍ ہزار ڈالرز ہے۔اس کے مقابلے میں، 250؍ میگاواٹ صلاحیت کے پاور پلانٹ کے روزانہ کے اخراجات 2؍ لاکھ ڈالرز جبکہ 1300؍ میگاواٹ کے پاور پلانٹ کے روزانہ کے اخراجات تقریباً 10؍ لاکھ ڈالرز ہوتے ہیں۔اینگرو ایل این جی ٹرمینل اتنی ری گیسی فکیشن / پراسیسنگ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے کہ روزانہ 4؍ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس پروجیکٹ میں کوئی سرکاری سرمایہ کاری نہیں۔اس میں وہی آئی پی پی ماڈل اختیار کیا گیا ہے جو پاکستان 1994ء سے پاور پلانٹس پر استعمال کرتا آیا ہے، صرف اس بار یہ کیا گیا ہے کہ شفاف اور مارکیٹ کی بنیاد پر طے شدہ میکنزم کے تحت نیلامی کے ذریعے اپ فرنٹ ٹیرف طے کیا گیا ہے۔ہ وہی میکنزم ہے جو پاکستان نے پہلے بھی پانچ ناکام نیلامیوں میں اختیار کیا تھا۔ 100؍ فیصد صلاحیت کے مطابق کام کرنے والا یہ پروجیکٹ بروقت مکمل کیا گیا تھا جو اپنے طور پر ایک ورلڈ ریکارڈ ہے اور اس کا ٹیرف بھی دنیا میں سب سے کم ترین سطح پر ہے، جس میں کوئی سرکاری سرمایہ کاری نہیں اور پیداواری مد میں اس پروجیکٹ کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کی بچت ہوتی ہے۔ان حقائق کے تحت، شاہد خاقان عباسی نے نیب سے سوال کیا ہے کہ اگر وہ ان پر کرپشن کا الزام عائد کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے پیسے لیے ہوں گے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی شخص نیلامی کے عمل میں کیسے پیسے لے سکتا ہے؟ کس نے پیسے ادا کیے ہوں گے؟ اینگرو نے؟ پاکستان کی سب سے بڑی کارپوریشن نے؟ تو کیا یہ کہہ کر آپ اینگرو پر بھی الزام عائد کر رہے ہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں۔حال ہی میں نیب کے تفتیش کاروں نے شاہد خاقان عباسی کو بتایا ہے کہ وہ ان پر مالیاتی کرپشن کا الزام عائد نہیں کر رہے بلکہ یہ ’’اختیارات کے ناجائز استعمال‘‘ کا کیس ہے۔اس کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے نیب والوں کو بتایا کہ ’’ٹھیک ہے تو یہ بتائیں کہ ایک وزیر کے پاس نیلامی کے عمل پر اثر انداز ہونے کیلئے کیا اختیارات ہوتے ہیں۔ اور اگر مجھے ذاتی حیثیت میں کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا تو میں کیوں نیلامی کے عمل میں مداخلت کروں گا؟ اینگرو میرے کسی رشتہ دار کی کمپنی نہیں۔‘‘تفتیش کاروں کے پاس ان سوالوں کا بھی کوئی جواب نہیں لیکن پھر یہ لوگ ایک نیا آئیڈیا لے کر سامنے آئے، ’’یہ ٹرمینل ہمیں خود تعمیر کرنا چاہئے تھا۔‘‘اس پر شاہد عباسی کا کہنا تھا کہ ’’ٹھیک ہے آپ ایل این جی ٹرمینل تعمیر کرنے کیلئے ڈرائنگز بنا کر دکھا دیں۔ آپ کو پتہ چل جائے گا۔‘‘ پاکستان ہر سال 10؍ ارب ڈالرز مالیت کا تیل درآمد کرتا ہے۔ایل این جی ری گیسی فکیشن ٹرمینلز کے مقابلے میں آئل ٹرمینلز کا معاملہ بہت آسان ہے۔ اس کے باوجود، پی ایس او کے پاس اپنے ٹرمینلز ہیں اور نہ وہ انہیں آپریٹ کرتا ہے۔اس کی آسان وجہ یہ ہے کہ پی ایس او آئل ٹرمینل پر آپریشنل اور پرفارمنس (کارکردگی) کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتا۔ یہ ٹرمینل ماہر کمپنیاں سنبھالتی ہیں۔ ان باتوں پر بھی نیب والے ہکا بکا ہیں۔شاہد خاقان عباسی نے اپنے تفتیش کاروں کو یہ بھی بتایا ہے کہ کیا وہ وفاقی کابینہ کے کیے گئے فیصلوں کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ گزشتہ 30؍ سال میں حکومت پاکستان نے تین پروجیکٹ بنانے کی کوشش کی جن میں نندی پور پاور پروجیکٹ، نیلم جہلم ہائیڈل پاور پروجیکٹ اور نیو اسلام آباد ایئر پورٹ شامل ہیں۔انہوں نے نیب والوں کو بتایا کہ یہ تینوں پروجیکٹس اپنی طے شدہ قیمت سے زیادہ میں تعمیر کیے گئے، ان پر آنے والی لاگت ان کی اصل قیمت سے کم از کم تین گنا زیادہ تھی اور تینوں اپنے طے شدہ معیار سے بھی نچلی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن این تینوں پروجیکٹس کے مقابلے میں ایل این جی ری گیسی فکیشن پروجیکٹ بہت پیچیدہ ہے۔عباسی نے نیب حکام کو بتایا کہ اپنے کام کرنے کے انداز، سوجھ بوجھ اور نیب والوں کی سوچ کی وجہ سے یہ بیورو ملک کو تباہ کرنے پر تلا ہے۔اب شاہد خاقان عباسی کیلئے سونے پہ سہاگہ کی بات یہ ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ وزارت داخلہ کی فائلوں کے مطابق، جب وہ وزیراعظم تھے تو انہوں نے وزارت خارجہ کی گاڑیاں استعمال کیں۔ ایک ذریعے کے مطابق، اس سوال پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا:’’کون سا وزارت خارجہ؟ بھارتی وزارت خارجہ؟ کیا میں نے اُن سے گاڑیاں مانگی تھیں؟ اگر آپ کو اس بات پر اعتراض تھا اور آپ کے پاس گاڑیاں نہیں تھیں تو مجھے بتا دیتے، میں اپنے بیٹے سے کہہ دیتا وہ گاڑی لے آتا یا اوبر منگوا لیتا۔ اور میں یہی کہتا ہوں کہ موجودہ وزیراعظم کون سی گاڑیاں استعمال کر رہا ہے؟ وہی؟‘‘اس کے بعد ذرائع کا کہنا تھا کہ نیب والے او جی ڈی سی ایل کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو مقرر نہ کرنے کا کیس بنانا چاہتے تھے۔شاہد خاقان عباسی نے انہیں بتایا کہ جن قابل اور اہل لوگوں نے انہوں نے تلاش کیا وہ نیب کے خوف کی وجہ سے کام کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ اس کے بعد نیب والوں کی تحقیقات میں مزید وسعت آئی اور توجہ پی ایس او کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے تقرر پر مرکوز کی گئی۔شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ موجودہ حکومت کسی کو بھی مقرر نہیں کر پائی، حتیٰ کہ سرکاری کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھی مقرر نہیں کیا گیا۔کوئی بھی اچھی ساکھ کا قابل اور اہلیت رکھنے والا بندہ نیب کے خوف اور اس کی جانب سے ظالمانہ انداز سے نشانہ بنانے کے خوف کی وجہ سے ملازمت نہیں کرنا چاہتا کیونکہ ملازمت کے ساتھ انہیں یہ بھی ملتا ہے۔ذرائع نے شاہد خاقان عباسی کے حوالے سے بتایا کہ بتانے کیلئے بہت سی باتیں ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’’یہ نہ ختم ہونے والا مذاق ہے۔‘‘
وزیرِ اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ اس وقت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 10ہزار 13 مریضوں میںڈینگی کی تشخیص ہو چکی ہے۔ایک بیان میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی براے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کہتے ہیں کہ گزشتہ 2 روز میں پاکستان بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جڑواں شہروں راول پنڈی ، اسلام آباد سمیت ملک بھر میں ڈینگی کے کیسز میں اضافہ بدستور جاری ہے، اس صورتِ حال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے، آئندہ ہفتے ڈینگی کے متاثرین کی تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ڈینگی کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 200 کے قریب رہی، راولپنڈی میں 280 سے زائد مریضوں میںڈینگی کی تشخیص ہوئی ہے، اب تک جڑواں شہروں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 5000 سے زائد مریضوں میں ڈینگی کی تشخیص ہوئی ہے۔پمز اسپتال میں 2700 ، پولی کلینک میں 480 اور روالپنڈی کے سرکاری اسپتالوں میں زیر علاج رہنے والےڈینگی کے مریضوں کی تعداد4000 کے قریب رہی۔ماہرین کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے تک ڈینگی کے حوالے سے صورتِ حال تشویش ناک رہنے کا خدشہ ہے۔ڈینگی کی صورتِ حال پر نظر رکھنے اور مریضوں کو بہتر طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے قومی ادارہ برائے صحت اسلام آباد میں کنٹرول سینٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے جو 24 گھنٹے آپریشنل رہے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ بابو سر ٹاپ بس حادثے میں پاک فوج کے 10 جوان بھی شہید ہوئے ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق بس حادثے میں شہید ہونے والے 10 فوجیوں سمیت 26 افراد کی میتیں سی ایم ایچ گلگت منتقل کردی گئی ہیں، جبکہ زخمیوں کو علاج کے لیے آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سی ایم ایچ گلگت پہنچایا گیا ہے۔بابوسرٹاپ بس حادثے میں پاک فوج کی جانب سے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا گیا ۔واضح رہے کہ ضلع دیامرمیں بابوسر ٹاپ کے قریب مسافر کوچ موڑ کاٹتے ہوئے پہاڑسے ٹکراگئی تھی،جس میں 8 بچوں سمیت 27 افراد جاں بحق اور 15 زخمی ہوگئے تھے۔ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللّٰہ فراق کے مطابق ضلع دیامر میں بابوسر ٹاپ کے قریب اسکردو سے راولپنڈی جانے والی مسافر کوچ حادثے کا شکار ہوئی۔حادثہ بابو سر ٹاپ گٹی داس کے مقام پر پیش آیا جس کے نتیجے 15 افراد شدید ذخمی ہوئے۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے 10 افراد کی شناخت محمد علی، فدا حسین، نقیب، حسینہ، عثمان، ڈرائیور محمد یونس، یاسمین، عمران، شکیل اورحسین کے ناموں کی شناخت ہوگئی ہے، جبکہ باقی افراد کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔
پاکستان وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکا روانہ وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دوروزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکا کے لیے روانہ ہوگئے وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا دوروزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکا کے لیے روانہ ہوگئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی مشیرخزانہ ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ اورمعاون خصوصی برائے سمندرپارپاکستانی سید ذولفقارعباس بخاری بھی ہمراہ ہیں وزیراعظم 21 سے 27 ستمبرتک امریکا کا دورہ کریں گے ترجمان دفترخارجہ کے مطابق 27 ستمبرکو جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کریں گے جس میں وزیراعظم مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پرمؤقف دیں گے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بھی آگاہ کریں گے ساتھ ہی وزیراعظم امریکی تھنک ٹینکس سے بھی خطاب کریں گے وزیراعظم عالمی میڈیا سے بھی بات چیت کریں گے وزیراعظم نفرت انگیز تقاریرکے خاتمے پر مباحثے سے بھی خطاب کریں گے دورے کے دوران وزیراعظم موجودہ حالات اور دیگر امور پر بھی بات چیت کریں گے