وائلڈ لائف کا کہنا ہے کہ کسٹم حکام کی تحویل میں مر جانے والے 3 بازوں کا پوسٹ مارٹم کرایا جائے گا تاکہ ان کی ہلاکت کی اصل وجہ معلوم کی جاسکے۔ذرائع وائلڈ لائف کے مطابق جنگی حیات کو فوری آزاد کیا جاتا ہے مگر یہاں تو کسٹم حکام نے اسمگلنگ میں برآمد ہونے والے بازوں کو چار سے پانچ دن اپنی تحویل میں رکھا۔وائلڈ لائف ذرائع کا کہنا ہے کہ تحویل میں رکھنے جانے کے دوران باز کو فیڈ نہیں کروائی گئی، جبکہ انسانی تحویل میں جنگلی حیات بیمار ہوجاتی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ایک باز کسٹم حکام کی تحویل میں مرا جبکہ دو باز کل شام محکمہ جنگلی حیات کی تحویل میں مرے ہیں ۔مرنے والے بازوں کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ اسکینر سے گزرنے کے باعث یہ ہلاک ہوئے یا انسانی تحویل میں رہنے سے بازوں کی موت واقع ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شام باز وں کو سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کیا گیا ہے جس کے بعد محکمہ جنگلی حیات فوری طور پر بازوں کو نیشنل پارک میں آزاد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔واضح رہے کہ کسٹم حکام نے پانچ دن قبل باز اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 10 باز اپنی تحویل میں لیے تھے جن میں سے 3 باز مناسب غذا نہ ملنے کے باعث مرگئے جن کا پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا۔
کراچی فلم سوسائٹی کے بینر تلے پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے زیرِ اہتمام اینیمیشن کے عنوان سے فیسٹیول کا آغاز کردیا گیا ہے۔اس سلسلے میں فیسٹیول کے پہلے روز ’بلال: نیو بریڈ ہیرو‘، ’ارتھ ہیروز‘ ، ’قائد سے باتیں‘ اور ’اللّہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مارخور‘ دکھائی گئیں اور پاکستان میں اینیمیشن کے مستقبل کے حوالے سے ایک سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا۔ اسپیشل اسکریننگ کا آغاز کراچی کے کیپری سینما سے ہوا، جہاں پر کراچی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے غیر مراعات یافتہ طبقے کے بچوں کو مختلف اینیمیٹڈ فلمیں دکھائی گئیں۔ان اسکریننگ میں جے ایس اکیڈمی فار دی ڈیف ’تدریس‘ کراچی اسکولز گائیڈ اور دی ینگ پیڈریٹ اسکول کے طلباء نے شرکت کی۔ اسکریننگ میں ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر بخاری اور کے ایف ایس کی صدر سلطانہ صدیقی نے خصوصی شرکت کی اور بچوں کے جوش کو سراہا۔اس موقع پر ڈی جی رینجرز سندھ نے بچوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں میں کچھ پانے کا جذبہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے آپ کو دیانت داری سے محنت کرنا ہوگی۔ اس موقع پر انہوں نے اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ مستقبل میں ان ہی بچوں میں سے کوئی ایک ان کی جگہ پر کھڑا ہو اور ان ہی میں اتنے بڑے فلم میکرز سامنے آئیں کہ ان کی فلمیں بچوں کو دکھائی جارہی ہوں۔انہوں نے کے ایف ایس کی کاوش کو بھی سراہا۔ پاکستان میں اینیمیشن کے مستقبل کے حوالے سے سیمینار میں شرکاء سی ای او اور کو فاؤنڈر شارپ امیج امین فاروقی، وردہ اسٹوڈیو کے سی ای او دانیال نورانی، طلسمان اینیمیشن کے بانی اور ڈونکی کنگ کے تخلیق کار عزیز جندانی، بارہ جون انٹرٹینمنٹ اور بلال: آ نیو بریڈ ہیرو کے پروڈیوسر عارف جیلانی، جی ایف ایس کے لیکچر ار علی دینا اور برج اینیمیشن اور وی ایف ایکس کے چیف ایگزیکٹو آصف اقبال نے پاکستان میں اینیمیشن انڈسٹری کو درپیش مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بحیرہ عرب کے مشرقی وسطی حصے میں ٹراپیکل سائیکلون ’کیار‘ شدت اختیار کرکے انتہائی شدید سمندری طوفان میں تبدیل ہوگیا ہے جس کے اثرات کراچی سمیت زیریں سندھ میں 28سے 30 اکتوبر کے دوران نظر آسکتے ہیں۔سمندری طوفان ’کیار‘ کے اثرات کے پیش نظر کراچی سمیت زیریں سندھ میں گرد آلود تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش ہوسکتی ہے۔ٹراپیکل سائیکلون ’کیار‘ مغرب اور شمال مغرب کی جانب حرکت کر رہا ہے اور یہ کراچی کے جنوب مشرق سے 950 کلومیٹر دور رہ گیا ہے، محکمہ موسمیات نے پیر سے ماہی گیروں کو گہرے سمندر میں نہ جانے کی ہدایت کی ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ٹراپیکل سائیکلون ’کیار‘ شمال مغرب کی جانب حرکت کرتے ہوئے مزید شدت اختیار کرسکتا ہے حالیہ صورتحال میں سمندری طوفان سے پاکستان کی ساحلی پٹی کو کوئی خطرہ نہیں لیکن سمندری طوفان کے اثرات 28سے 30اکتوبر کے دوران کراچی سمیت زیریں سندھ مکران کے ساحل پر مٹی کے طوفان اور گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کی صورت میں نظر آسکتے ہیں۔ٹراپیکل سائیکلون ’کیار‘ کے اثرات کے سبب سمندر میں بھی طغیانی ہے، جبکہ شہر میں گرد آلود ہوائیں 45 سے 54 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل سکتی ہیں۔
نادرا نے جے یو آئی (ف) کے اہم رہنما اور سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کو غیر ملکی شہری قرار دیتے ہوئے ان کا قومی شناختی کارڈ منسوخ کرکے ضبط کرلیا ہے۔پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق نادرا نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ صبور کی پاکستانی شہریت منسوخ کردی ہے ۔نادرا کی طرف سے آگاہی پر پیمرا نے بھی ٹی وی چینلز پر حافظ حمد اللہ کی کوریج کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حافظ حمد اللہ کو پروگرام اور ٹاک شوز میں بھی نہ بلائیں۔
حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے مذاکرات میں ساڑھے 10 بجے تک کا بریک آگیا ہے۔اسلام آباد میں حکومتی اور اپوزیشن کی کمیٹیوں نے مذاکرات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مذاکرات بہت اچھے ماحول میں ہورہے ہیں، امید ہے بہت جلد اچھی خبر ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ کافی بہتر ڈسکشن ہوئی، کچھ تجاویز انہوں نے دیں، کچھ ہم نے دیں۔حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ابھی مذاکرات میں وقفہ ہے، ساڑھے 10 بجے حکومتی اور اپوزیشن کی کمیٹیاں دوبارہ مذاکرات کریں گی۔رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے کہا کہ پرویز خٹک کی قیادت میں حکومت کے سینئر لوگ ہمارے پاس آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان سے بہت اچھی بات ہوئی، انہوں نے اعلیٰ سطح پر مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی نے مذاکرات کے دوران اپوزیشن کے چاروں مطالبات تحریری صورت میں حکومتی ٹیم کے حوالے کردیے ہیں۔ذرائع کے کا کہنا ہے کہ حکومتی ٹیم نے رہبر کمیٹی سے وزیراعظم سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے، جس کے بعد دونوں کمیٹیاں دوبارہ بیٹھیں گی۔ذرائع کے مطابق 4 نکاتی مطالبات میں وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ، نئے انتخابات، آئین میں اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی شامل ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست طبی بنیاد پر منظور کرلی۔لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے نوازشریف اور مریم نواز کی چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔عدالت نےمریم نواز کی ضمانت کی درخواست پر پیر کو جواب طلب کر لیا، جبکہ نواز شریف کی درخواست ضمانت پر کارروائی 10 منٹ تک کیلئے ملتوی کر دی تھی۔کیس کی سماعت دو بار تھوڑی تھوڑی دیر کے لیےملتوی ہوئی، پہلی بار سمز کے پرنسپل سے نواز شریف کی صحت سے متعلق تازہ رپورٹ پیش کرنے کے لیے ملتوی ہوئی تو دوسری بار عدالت نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرکے سماعت ملتوی کی تھی۔کیس کی سماعت کے دوران ڈاکٹر محمود ایاز نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ نواز شریف کی بیماری کی تشخیص کچھ حد تک ہوچکی ہے، تاہم ابھی مکمل تشخیص نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات نوازشریف کے سینے میں تکلیف ہوئی اوربازوں میں بھی تکلیف ہوئی، عدالت نے سوال کیا کہ کیا نواز شریف کی جان خطرے میں ہے؟ جس پر ڈاکٹر محمود ایاز نے کہا کہ جی نواز شریف کی طبیعت تشویشناک ہے۔ڈاکٹر محمود ایاز نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف تب سفر کر سکتے ہیں جب ان کے پلیٹ لیٹس 30 ہزار ہوں گے، جج نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ کیا آپ اس درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہیں ؟اس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ اگر نواز شریف کی صحت خطرے میں ہے تو ہمارے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے ۔
قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں عماد وسیم کی قیادت میں ناردرن نے بلوچستان کو 52 رنز سے ہرا کر ٹائٹل جیت لیا۔فیصل آباد میں فائنل میچ میں بلوچستان نے ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ ناردرن کے اوپنرز عمرامین اور علی عمران نے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا۔ناردرن کی پہلی وکٹ 46 رنز پر اس وقت گری جب علی عمران 16 رنز بنا کر یاسرشاہ کی گیند پرکیچ آؤٹ ہوئے۔دوسری وکٹ اوپنر عمر امین کی گری اس وقت ٹیم کا مجموعی اسکور 95 تھا، عمر امین نے 38 گیندوں پر 60 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 3 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔ناردرن کی ٹیم نے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹ پر 167 رنز اسکور کئے، جس میں 6 چھکے اور12 چوکے شامل تھے۔بلوچستان کے بولر عمادبٹ اور حسین طلعت نے دو،دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ یاسر شاہ نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ہدف کے تعاقب میں بلوچستان کی پوری ٹیم 18.2 اوورز میں 115 رنز ہی بنا سکی، ٹیم کے 7 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہوسکے۔
پاکستان کا قیام زبردست سیاسی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ ہمارا یہ ہی سیاسی جمہوری مزاج ہے جس کے سبب آزادی کے بعد سے گزشتہ 72برسوں کی تاریخ میں لاتعداد ایسے واقعات ہیں جس میں تقریباً ہر حکومت کے خلاف کوئی نہ کوئی قوت مزاحمتی صورت میں نظر آئی ہے۔کراچی کو پاکستان کے پہلے دارالحکومت کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ قریباً 13برس تک اس حیثیت کے ہونے کے سبب نوزائیدہ مملکت کے زیادہ تر مرکزی دفاتر یہاں قائم تھے۔مشکلات کا انبارتھا ایسے میں ان مسائل کی نشاندہی کے لیے حکومت وقت کے سامنے عام عوام، مزدوروں، طلبا سب ہی بھوک ہڑتال، ریلی اور دھرنے ہر قسم کی جدو جہد کرتے نظر آتے ہیں۔ پہلے دارالحکومت میں حکومت وقت کے خلاف کچھ بڑے احتجاجی واقعات یوں رہے۔
جنوری 1953، وفاقی وزیر تعلیم اور وزیراعظم کے خلاف احتجاج
جنوری 1953 کا دوسرا ہفتہ تھا۔ خواجہ ناظم الدین وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھے۔ شہر کی طلبا انجمنوں نےاپنے تعلیمی مسائل کے حل کےلیے فیس کی کمی سمیت9نکاتی مطالبات کےلیے ایک مہم شروع کی۔7جنوری کو ڈیموکریٹک اسٹوڈینٹس فیڈریشن کے زیراہتمام طلبا کی بڑی تعداد نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کےلیے وزیرتعلیم فضل الرحمن کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا تو اس موقع پر پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے متعدد طلبا گرفتار کرلیے۔
اس کے اگلے ہی دن 8 جنوری کو اس سے کہیں بڑا طلبا کا جلوس اپنا احتجاج ریکارڈ کرنے کےلیے وزیراعظم ہاوس کی طرف روزانہ ہوا ۔تو اس موقع پر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی، تو صورتحال سنگین ہوگئی۔ اس موقع پر فائرنگ سے دس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے صورتحال سے نمٹنے کےلیے کرفیو لگا دیا تھا۔
اس قومی سانحے پر رات گئے وزیراعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین نے ریڈیو پاکستان سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے طلبا کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کا ایک ایک نوجوان اور بچہ میرا جگر گوشہ ہے۔ تاہم دوسرے روز ملک کی تمام جماعتوں نے طلبا پر فائرنگ کے افسوسناک واقعے پر شہر بھر میں ہڑتال اور ملک بھر میں غائبانہ نماز جنازہ اداکی تھی۔ تشدد کے مجموعی واقعات میں 20 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
مارچ 1954، وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے خلاف احتجاج
ملک میں حسین شہید سہروردی وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھے۔ 28مارچ 1954 کو مشرقی پاکستان میں ہونے والے فسادات کے خلاف حزب اختلاف کے اتحاد متحدہ محاذ نے وزیراعظم حسین شہید سہروری کے خلاف ایک بڑا احتجاجی جلوس نکالا تھا۔اونٹ گاڑیوں اور گدھا گاڑیوں پر سوار احتجاجی جلوس شہر میں کئی مقامات پر گشت کرنے کے بعد کچہری روڈ پر واقع وزیراعظم ہاوس کے سامنے کئی گھنٹے احتجاج کیاتھا،نعرے بازی کی گئی تھی اور مقررین نے خطاب بھی کیا تھا جس میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر ڈھاکا جاکر حالات کو خود قابو کریں۔ بعدازاں مظاہرین پرامن طور پرمنتشر ہوگئے تھے۔
اپریل1954، دستور ساز اسمبلی کے سامنے مظاہرہ
دور تھا ملک کے تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرا کا قومی زبان کے مسئلے پر مشرقی پاکستان سے کافی دباؤ تھا۔ سیاسی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے 19اپریل 1954 کو دستور ساز اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ اب اردو کے ساتھ بنگلہ بھی سرکاری زبان ہوگی۔ رد عمل کے طور پر22اپریل 1954 کو بابائے اردو مولوی عبدالحق کی قیادت میں صرف اردو کو سرکاری زبان بنانے کے حق میں ایک لاکھ افراد پر مشتمل تاریخی احتجاجی مظاہرہ ہوا تھا۔
بابائے اردو مولوی عبدالحق
آج دارالحکومت میں مکمل ہڑتال تھی۔ مولوی عبدالحق کی قیادت میں مظاہرین نے اردو کالج سے احتجاجی ریلی کا آغاز کیا پھر سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے آخر میں دستور ساز اسمبلی کے سامنے دو گھنٹے تک فلک شگاف نعروں اور تقریروں کے ساتھ مظاہرہ کیا تھا۔
اس موقع پر مولوی عبدالحق نے اپنی تشویش کا اظہار کرنے کےلیے وزیر اعظم پاکستان سے بھی ملاقات کی تھی۔ پتھراؤ کے چند ایک واقعات کے علاوہ یہ احتجاج مجموعی طور پر پرامن تھا۔فروری 1956،دارلحکومت کو مغربی پاکستان کا حصہ بنانے کا مطالبہدارالحکومت میں چوہدری محمد علی وزارت عظمی پر فائز تھے۔ملک میںنئے آئین کی تیاری جاری تھی۔ایسے میں17فروری 1956 کودستوریہ کے رکن جناب یوسف ہارون،سابق مئیر ومیونسپل کونسلرمحمود ہارون مغربی پاکستان کے رکن خواجہ مظفرالحق،اے ایم قریشی اسمعیل برہانی اور عبداللہ حقانی سمیت مزید دورجن افراد کوجلسہ اور جلوس کرنے کے الزام میںدفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں برنس گارڈن کے قریب سے گرفتار کرلیا گیاتھا۔یہ افراد آئین سازی کے موقع پر مطالبہ کررہے تھے کہ کراچی کی مغربی پاکستان میں شامل کیا جائے۔اس مقصد کےلیے انہوں نےدستوراسمبلی کے سامنے مظاہرے کا پروگرام بنایا تھا ۔انتظامیہ صورتحال سے نمٹنے کےلیے اس سے قبل ہی دفعہ 144 کا نفاذکرچکی تھی۔
کراچی میں پولیس گردی کا ایک اور واقعہ پیش آگیا، اسٹیل ٹاؤن پولیس کی زیر حراست ملزم مبینہ پولیس تشدد سے جاں بحق ہو گیا۔پوسٹ مارٹم میں تاخیر پر لواحقین نے جناح اسپتال کے سامنے لاش کو سٹرک پر رکھ کر احتجاج کیا، ایم ایل او جناح اسپتال کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ملزم کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود تھے جبکہ حتمی رپورٹ 15 دن بعد آئے گی۔ذرائع کے مطابق پولیس کے مبینہ تشدد کا شکار ملزم عبدالقادر جناح اسپتال میں زیر علاج تھا ملزم کے جسم پر تشدد کے نشانات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔اطلاع ملنے پر متوفی کے لواحقین اسپتال پہنچے پوسٹ مارٹم میں تاخیر پر لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا بعد ازاں پولیس سرجن قرار عباسی کی پوسٹ مارٹم کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا۔ایم ایل او جناح اسپتال عبدالغفار کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم ایم ایل او ایڈیشنل پولیس سرجن علاقہ مجسٹریٹ اور تفتیشی افسر کی موجودگی میں کیا گیا، پوسٹ مارٹم کے دوران ہلاک ملزم کے پورے جسم کا سٹی اسکین کیا گیا۔
ایم ایل او کے مطابق ہلاک ملزم کے جسمانی اعزاء کیمیکل ایگزامین کے لئے محفوظ کرلیے گئے ہیں جس کی رپورٹ 15 دن بعد آجائے گی،تبھی موت کی وجوہات سامنے آسکیں گی۔
پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش کو تدفین کے لیے ورثاء کے حوالے کردیا گیا
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نواز شریف کی صحت جلد بحال کرے۔اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر صدر مملکت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے حکومت نواز شریف کو تمام طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی۔واضح رہے کہ نواز شریف پلٹ لیٹس میں کمی کی وجہ سے اس وقت سروسز اسپتال لاہور میں زیرعلاج ہیں۔