توبہ استغفار وارثوں کے ھوتے ھوئے بھی لاوارث پروفیسر ظہیر کا پنجاب پولیس کے ایس ایچ او عامر محبوب وینس نے نمازِ جنازہ کروایا اور تدفین کروائی تھانہ فیروزوالہ کی حدود میں محلہ صابر ٹاون ونڈالہ دیال شاہ کے رہائشی پروفیسر ظہیر احمد ظہیر کرونا وائرس کیوجہ سے اپنے گھر پر قرنطینہ تھے جوگزشتہ روز رضائے الہی سے وفات پا گئے،موت کے بعد بے حسی کا عالم یہ ہوا کہ پروفیسر صاحب کے بیوی بچے اور اہل محلہ بھی گھروں کو تالے لگا کر غائب ہوگئے کہ کہیں ہمیں ہی کرونا نہ ہو جائے اور حکومت ہمیں پکڑ کر نہ لے جائے… کسی شخص نے پولیس کو اطلاع کی جس پر ایس ایچ او عامر محبوب نے گھر میں جا کر دیکھا گیا کہ پروفیسر صاحب کی میت بے یارو مدد گار پڑی تھی، پولیس نے علاقے کو سیل کردیا ہے جبکہ پولیس نے پروفیسر صاحب کی میت کو SOPs کے ساتھ دفن کر دیا اللہ سے دعا کریں کہ اللہ کسی کا ایسا حال نہ کرے، دعا کریں کہ نیک اور صالح اولاد ہو جسے موت اور حکومت کا ڈر نہ ہو بلکہ اس کا ایمان مضبوط ہو آمین۔
پاکستان کے معروف اداکار، ہدایتکار و پروڈیوسر یاسر نواز کا کہنا ہے کہ وہ شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ دیکھ کر ارطغرل بنتے جارہے ہیں۔یاسر نواز نے گزشتہ روز اپنی اور ندا کی شادی کی 18ویں سالگر ہ کے موقع پر فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک لائیو سیشن کیا جس میں اُنہوں نے اپنے مداحوں کے سوالات کے جواب دیے۔لمحہ با لمحہقومی خبریںبین الاقوامی خبریںتجارتی خبریںکھیلوں کی خبریںانٹرٹینمنٹصحتدلچسپ و عجیبخاص رپورٹمیں تُرک سیریز دیکھ کر ارطغرل بنتا جارہا ہوں، یاسر نوازپاکستان کے معروف اداکار، ہدایتکار و پروڈیوسر یاسر نواز کا کہنا ہے کہ وہ شہرہ آفاق تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ دیکھ کر ارطغرل بنتے جارہے ہیںیاسر نواز نے گزشتہ روز اپنی اور ندا کی شادی کی 18ویں سالگر ہ کے موقع پر فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ ایک لائیو سیشن کیا جس میں اُنہوں نے اپنے مداحوں کے سوالات کے جواب دیے۔لائیو سیشن کے دوران ندا نے کہا کہ ’ہم اس لائیوسیشن کے ذریعے اُن تمام جھوٹی افواہوں کی تردید کرتے ہیں جو ہماری صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر زیرِ گردش ہیں۔‘یاسر نواز نے کہا کہ ’ہمیں سال 2020 ہمیشہ یاد رہے گا کیونکہ اِس سال ہماری شادی کو 18 سال مکمل ہوگئے ہیں اور ہم کورونا کی وجہ سے 13 دن سے ایک ساتھ قرنطینہ میں ہیں۔‘اداکار نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’سب سے کمال کی بات یہ ہے کہ اِن 13دنوں میں ندا نے مجھ سے کوئی لڑائی نہیں کی۔‘ندا یاسر نے کہا کہ ’اِس دوران ہمیں تھوڑی گھبراہٹ اور بے چینی بھی تھی کہ کیسے سب ٹھیک ہوگا لیکن اللّہ کا شکر ہے اُس نے ہم پر اپنا کرم کیا۔‘یاسر نواز نے کورونا میں کی جانے والی احتیاطی تدابیر سے اپنے مداحوں کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کورونا کی وجہ سے ہم اے سی میں زیادہ نہیں بیٹھ رہے اور اپنی خوارک میں ہم کلونجی اور وٹامن سی کا استعمال کر رہے ہیں۔‘اداکار نے کہا کہ ’ہم زنک کی گولیوں کا استعمال کر رہے ہیں، دار چینی اور ادرک کی چائے باقاعدگی سے پی رہے ہیں۔‘اُنہوں نے اپنے پڑوسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’ہمارے پڑوسی ہمارا بہت خیال رکھ رہے ہیں۔‘مداح کے ایک سوال کے جواب میں یاسر نواز نے کہا کہ ’میں ارطغرل غازی دیکھ کر ارطغرل بنتا جارہا ہوں۔‘ندا یاسر نے کہا کہ ’میں قرنطینہ کے دوران ارطغرل غازی دیکھ رہی ہوں اور یہ تُرک سیریز دیکھ کر ایک جوش پیدا ہوتا ہے کہ کیسے تاریخ میں مسلمانوں نے فتوحات اپنے نام کیں۔‘آخر میں یاسر نواز نے کورونا علامات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے بخار، جسم میں درد اور کمزوری ہوئی تھی جس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا تھا جوکہ مثبت آیا ۔‘یاد رہے کہ اِس سے قبل ندا یاسر نے انسٹاگرام پر اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھاکہ میں یہ وضاحت کرنا چاہتی ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے میں بالکل خیریت سے ہوں۔ندا یاسر نے اپنی صحت سے متعلق تمام جھوٹی افواہوں کی تردید کی تھی۔
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے میں کورونا صوبائی وزیر سمیت 4 ارکان اسمبلی کی جان لے چکا، پارلیمنٹ کے براہ راست سیشنز کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔فواد چوہدری نے اپنے ایک بیان میں پارلیمنٹ کے براہ راست سیشنز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں کورونا صوبائی وزیر سمیت 4 ارکان اسمبلی کی جان لے چکا، 18 کے قریب ارکان اسمبلی ابھی بھی کورونا سے زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمیں احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے براہ راست سیشنز کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، پارلیمان کے مواصلاتی سیشن کر کے احتیاط کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہے متعدد ارکان پارلیمنٹ براہ راست سیشن کے بعد کورونا کاشکار ہوچکے ہیں، ہوٹلوں میں یا براہ راست سیشن بلانے کی بجائے ورچوئل اجلاس کیے جائیں۔
لاہور پولیس نے مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناءاللہ کی گاڑی کو ریگل چوک پر تلاشی کے لیے روک لیا، لیگی رہنما نے میڈیا کے آنے تک گاڑی کی تلاشی دینے سے انکار کردیا۔ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ گاڑی کی پہلے تلاشی دیں گے اس کے بعد انہیں یہاں سے آگے جانے دیا جائے گا۔دوسری جانب لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ جب تک میڈیا نہیں آئے گا میں گاڑی کی تلاشی نہیں دوں گا، مجھے خوف ہے کہ یہ دوبارہ میری گاڑی میں منشیات نہ رکھ دیں ۔رانا ثناء اللہ نے اس موقع پر کہا کہ شہبازشریف 11 بجے لاہور ہائیکورٹ پہنچیں گے، نون لیگ کے رہنما اورورکز ہائیکورٹ پہنچنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے شہباز شریف کی رہائشگاہ پر گزشتہ روز نیب کے چھاپے سے متعلق کہا کہ جب کوئی عدالت کا دروازہ کھٹکٹائے تو کوئی ادارہ پھر گرفتاری کیلئے گھر کا گھیراو ٔنہیں کرتا۔
لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری درخواست ضمانت پر نیب کو 17 جون تک گرفتاری سے روک دیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس میں عبوری درخواست ضمانت پر سماعت جسٹس طارق عباسی اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی۔شہباز شریف کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز ایڈووکیٹ پیش ہوئے ہیں جبکہ ا سپیشل پراسکیوٹر نیب سید فیصل رضا بخاری بھی عدالت میں موجود تھے۔
مدھرے میں صبح سویرے سگے بھائی نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا. تفصیلات کے مطابق منڈی بہاوالدین کے علاقہ مدھرے میں صبح فجر کے وقت اکمل شہزاد کنگرا کو قتل کر دیا گیا.ذرائع کے مطابق اکمل شہزاد کو اسکے چھوٹے سگے بھائی نے قتل کیا ہے، پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے. پولیس دفتر کے مطابق ڈی.پی.او منڈی بہاوالدین ناصر سیال تھوڑی دیر تک پریس کانفرس کریں گے جس میں وہ اس قتل اور منڈی بہاوالدین میں بڑھتی ہوئی قتل کی واردات کے سلسلہ میں بریفنگ دیں گے.
اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن ہما نے ملک ریاض کی بیٹیوں اور آمنہ عثمان کے خلاف کیے جانے والا کیس واپس لے لیا، عدالت میں دئیے گئے بیان میں کہا کہ جو ہوا صرف غلط فہمی کی بنیاد پرہوا۔لاہور کے علاقے ڈیفنس میں اداکارہ عظمیٰ خان اور ان کی بہن کی جانب سے ملک ریاض کی بیٹیوں اور آمنہ عثمان کے خلاف گھر میں داخل ہوکر تشدد کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا، کینٹ کچہری میں پیشی پر عظمیٰ اور ہما نے عدالت میں دئیے گئے اپنے بیان میں اس ایف آئی آر کو غلط فہمی قرار دے دیا۔عظمی ٰخان نے عدالتی بیان میں کہا کہ تشدد کا واقعہ ہوا ہی نہیں، کسی نے حملہ نہیں کیا، ایف آئی آر میں نامزد ملزمان معصوم ہیں، پاؤں پر زخم اس لیے آیا کہ گلاس میز سے گر گیا تھا، خوشی المعروف عظمیٰ کی بہن ہما کہتی ہے میری بہن نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کرائی۔
آج محلہ سردار پورہ میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے لووولٹیج کے مسئلے کے حل کے لئے 8 عدد نئے کمبھےلگاے جا رہے ہیں جس سے نئ آبادی کو بجلی کی فراہمی کے حوالے سے مسائل بھی حل ہو گےجلد ہی سردار پورہ میں ایک نیا ٹرانسفارمر بھی لگوایا جاے گا ملک آصف نے مزید کہا نشاندہی آپ کریں کام ہمارا فرض ہے.شکریہ سید وسیم عباس شاہ صاحب اکمل باجوہ صاحب آصف بٹ صاحب اور ٹیم سردار پورہ جو ہمیشہ اپنے محلے کے کاموں کے سلسلہ میں آگاہ کرتے رہتے ہیں شکریہ سید عامر رضا چیرمین زکوٰۃ کمیٹی کریم پورہ شکریہ عوامی ایم این اے سید فیض الحسن شاہ
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاکستان میں ٹیسٹ رپورٹ جعلی ہیں تحقیقات کی جائیں ، برطانیہ میں سامنے آنے والی تصاویر میں سابق وزیراعظم کی حالت اچھی نظر آرہی ہے ۔وزیراعظم عمران خان کووفاقی وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے خط لکھا ہے جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے پاکستان میں ہونے والے ٹیسٹوں بارے تحقیقات کامطالبہ کیا گیا ہے۔
اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ عمران خان حکومت شوگر کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں شوگر مافیا نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی، اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ اور مسابقتی کمیشن آف پاکستان کے ذریعے فوجداری، ٹیکس چوری، ریگولیٹری اور کرپشن کی کارروائی شروع کرے گی۔یہ اقدام صرف ایسی شوگر ملز اور افراد کیخلاف نہیں ہوگی جن کے نام شوگر کمیشن میں سامنے آئے تھے؛ بلکہ متعلقہ اداروں سے کہا جائے گا کہ وہ دیگر شوگر ملوں کا بھی فارنسک آڈٹ کریں تاکہ ہمیشہ کیلئے ’’شوگر مافیا‘‘ کا معاملہ ختم کیا جا سکے۔حکومتی اقدامات میں گرفتاریاں، مقدمات کا اندراج، فوجداری مقدمات کا اندراج، ٹیکس کارروائی اور ریگولیٹری اقدامات شامل ہیں۔سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو بتایا ہے کہ سبسڈی کا معاملہ نیب یا ایف آئی اے کو دیا جا سکتا ہے تاکہ ایسے تمام افراد بشمول وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کی جا سکیں جو گزشتہ پانچ سال سے سبسڈی دے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ان کے معاون خصوصی برائے احتساب اور امور داخلہ شہزاد اکبر شوگر کمیشن کی سفارشات کے مطابق شوگر مافیا کیخلاف کارروائی کیلئے اقدامات اور تجاویز کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ شوگر مافیا کیخلاف ایکشن پلان کو رواں ہفتے ہی حتمی شکل دے کر اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ ایکشن پلان مرتب کر رہے ہیں وہ شوگر کمیشن کی سفارشات پر انحصار کر رہے ہیں۔ذریعے نے بتایا کہ ہم ان سفارشات پر عمل کریں گے، تمام متعلقہ اداروں کو ان کے دائرہ اختیار کے مطابق یہ کیسز بھیجے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہر طرح کا جرم، بے ضابطگی، ٹیکس اور ریگولیٹری خلاف ورزیوں کے معاملات کا احاطہ کیا جا سکے اور قصور وار افراد کا احتساب یقینی بنایا جا سکے۔کہا جاتا ہے کہ جن 9؍ شوگر ملوں کا فارنسک آڈٹ کیا گیا تھا ان میں تقریباً تمام ملز غلط اقدامات میں ملوث تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ متعلقہ اداروں سے اب کہا جائے گا کہ وہ دیگر شوگر ملوں کا فارنسک آڈٹ بھی کریں تاکہ ان کے کردار کا بھی پتہ چل سکے۔اس سوال کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف سبسڈی کے معاملے پر تحقیقات ہوگی یا اس میں صرف سابقہ حکمرانوں کے کردار پر غور کیا جائے گا، کے جواب میں ذریعے نے کہا کہ شوگر کمیشن کے انکشافات کے تحت معاملات نیب یا پھر ایف آئی اے کو بھیجے جائیں گے تاکہ ملوث افراد کیخلاف کارروائی ہو سکے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے خراب کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے جنہوں نے تین ارب روپے کی سسبڈی شوگر ملز کو دی۔ایک ذریعے نے کہا کہ جب شوگر کمیشن کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے دور مین نا انصافی ہوئی تو ایسی صورت میں منتخب انداز سے کارروائی نہیں کی جا سکتی۔شوگر کمیشن کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جہانگیر ترین،چوہدری گروپ ، عمر شہریار، اومنی گروپ اور شریف گروپ کی شوگر ملوں میں سنگین غلط اقدامات ہوئے ہیں۔فارنسک رپورٹ میں شوگر انڈسٹری میں ہونے والی سنگین بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا گیا ہے جن میں کم قیمت پر چینی کی فروخت، بے نامدار خریداروں کو چینی کی فروخت، ڈبل بکنگ، اوور انوائسنگ، کم قیمت پر پھوگ اور شیرہ فروخت کرنا جس کے نتیجے میں مہنگائی ہوئی۔اس کے علاوہ بھی شوگر ملوں کے لین دین میں کئی کارپوریٹ فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے تشکیل دیے گئے اس کمیشن کا کام شوگر ملوں کا فارنسک آڈٹ کرنا تھا۔کمیشن نے 6؍ شوگر ملوں کا ریکارڈ آڈٹ کیا، ان میں وزیراعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز، چوہدری گروپ اور سلمان شہباز کی العربیۃ شوگر ملز شامل ہیں۔کمیشن کے مطابق یہ تمام شوگر ملز اربوں روپے کے کارپوریٹ فراڈ میں ملوث ہیں۔ پوری شوگر انڈسٹری نے بتایا کہ انہوں نے 124؍ ارب روپے کی چینی فروخت کی ہے جس میں سے 43؍ ارب روپے کی چینی رجسٹرڈ افراد کو فروخت کی گئی۔اگر انکم ٹیکس دینے والے افراد کو فروخت کی گئی 14؍ ارب روپے کی چینی اس میں سے نکال دیں تو باقی 58؍ ارب روپے کی چینی غیر رجسٹرڈ افراد کو بیچی گئی جو شبہ ہے کہ بے نامدار ہیں۔اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے میں کم پیدوار نے بہت کم کردار ادا کیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے دیگر پہلوئوں میں مارکیٹ میں ہونے والی ہیرا پھیری، ذخیرہ اندوزی اور سٹہ جیسے عوامل شامل ہیں۔ پیدا ہونے والے گنے اور اس کی کرشنگ میں بہت فرق ہے۔اس نمایاں خلا کی وجہ کسی حساب کتاب کے بغیر گنے کی خریداری اور اس کے بعد حساب کتاب کے بغیر چینی کی پیداوار کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس پہلو کے حوالے سے ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں جو فارنسک آڈٹ کے دوران جمع کیے گئے تھے۔مارکیٹ میں ہونے والی ہیرا پھیری کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ کچھ شوگر ملوں کے فائدے کیلئے مارکیٹ میں ہیرا پھیری کی گئی اور اس مقصد کیلئے فارورڈ کنٹریکٹ، فروخت کی گئی چینی کی نان لفٹنگ اور سٹے میں ملوث منتخب بروکروز کو چینی کی فروخت کا سہارا لیا گیا۔اگرچہ اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ کارٹلائزیشن موجود ہے لیکن سی سی پی جیسے مرکزی ریگولیٹر ادارے 2009ء میں کارٹلائزیشن کے حوالے سے اپنی رپوٹ جاری کرنے کے بعد سے خاموش رہے۔ شوگر انڈسٹری کو درپیش مسائل 2009ء سے جاری ہیں اور کوئی غیر مانوس معاملہ نہیں ہیں۔رپورٹ کے مطابق، بروکرز اور سرمایہ کاروں کی ملی بھگت کے ساتھ شوگر ملوں کی سطح پر چینی کی ذخیرہ اندوزی کے بھی ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ شوگر ملیں اپنے گوداموں میں فروخت شدہ چینی کا ذخیرہ چھپا کر رکھتی ہیں جس سے ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔متعلقہ قوانین (رجسٹریشن آف گودام ایکٹ پنجاب اور سندھ) کی موجودگی کے باوجود اسٹاک کرنے والوں یا شوگر ملوں کی جانب سے صوبوں میں چینی اسٹاک کرنے کا کوئی ڈیٹا یا اعداد و شمار موجود نہیں۔