معروف ٹی وی کمپیئر اور کئی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والے طارق عزیز انتقال کرگئے۔طارق عزیز ادیب، شاعر اور سابق رکن قومی اسمبلی بھی تھے، انہوں نےکئی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔معروف اداکار طارق عزیز پی ٹی وی کے مقبول پروگرام نیلام گھر کے میزبان تھے۔ذرائع کے مطابق کئی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے والے طارق عزیز ادیب، شاعر اور سابق رکن قومی اسمبلی بھی تھے۔
اداکارہ ماہرہ خان اور سلیم کریم کے خاندانوں میں معاملات تقریباً طے پاگئے شادی کا اعلان جلد کردیا جائیگا۔ شادی میں صرف قریبی عزیز ہی شریک ہوں گے۔ماہرہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اپنی پسند کا اظہار کیا تھا۔35سالہ ماہرہ نے پہلی شادی 2007میں علی عسکری سے کی تھی جو 2015تک برقرار رہی جس سے انکا ایک بیٹا ازلان پیدا ہوا۔ماہرہ کا کہنا ہے پہلی شادی کے وقت میچور نہیں تھی لیکن اب شادی کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کرکیا ہے ۔
حکومت نے تمام ارکان پارلیمنٹ کے شریک حیات اور 18؍ سال کی عمر تک کے بچوں کو سالانہ 25؍ بزنس کلاس فضائی ٹکٹ دینے کیلئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور اس اقدام کا مقصد ارکان پارلیمنٹ کو سیشن میں شرکت میں سہولت دینا ہے۔25؍ بزنس کلاس فضائی ٹکٹس کے علاوہ، پارلیمنٹ کے ہر رکن کو ہر سال تین لاکھ روپے کے وائوچرز بھی ملیں گے جن کی مدد سے وہ پی آئی اے یا پاکستان ریلویز کو کسی طرح کی ادائیگی کیے بغیر بھی سفر کر سکیں گے۔اس سلسلے میں ایک قانون ’’دی میمبر آف پارلیمنٹ (سیلریز اینڈ الائونس) ترمیمی بل 2020ء پہلے ہی سینیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے اور اب اسے پارلیمانی امور ڈویژن کو بھجوایا جا رہا ہے تاکہ اس پر وزارت خزانہ کی رائے معلوم کی جا سکے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بل وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے 5؍ جون کو پیش کیا تھا اور ممکن ہے کہ اسے نئے مالی سال کے بجٹ کا حصہ بنا کر منظور کرلیا جائے۔اس بل کے ذریعے دی میمبر آف پارلیمنٹ (سیلریز اینڈ الائونس) بل 1974ء کے سیکشن 10؍ میں ترمیم کی جائے گی جس کے تحت ہر رکن پارلیمنٹ کو سال میں تین لاکھ روپے کے ایسے وائوچرز حاصل ہیں جن کی مدد سے وہ پی آئی اے یا ریلوے کے ذریعے کرایہ ادا کیے بغیر سفر کرتے ہیں۔ اسی سیکشن کے تحت اگر کوئی رکن نہیں چاہتا کہ اسے وائوچر دیا جائے، اُسے وائوچرز کی مالیت کے مساوی رقم بطور الائونس فراہم کی جاتی ہے۔اسی سیکشن کے تحت، وائوچر کی سہولت کے علاوہ، ہر رکن پارلیمنٹ کو 25؍ اوپن ریٹرن ٹکٹ بھی ملتے ہیں جو ان کے قریبی حلقے سے لیکر اسلام آباد تک کے سفر کیلئے ہوتے ہیں۔ لیکن اب مجوزہ ترمیم کے مطابق، ان سہولتوں میں شریک حیات اور 18؍ سال تک کی عمر کے بچوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جو یہ ٹکٹ ملک بھر میں سفر کیلئے استعمال کر سکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کے اہل خانہ پہلے ہی وائوچر کی یہ سہولت استعمال کر رہے ہیں لیکن اب حکومت ترمیم کے ذریعے ارکان پارلیمنٹ کی سہولتیں ان کے اہل خانہ تک بڑھانے کیلئے قانون سازی کر رہی ہے اور یہ سب سرکاری خزانے سے ادا کیا جائے گا۔کئی ماہ قبل کچھ ارکان پارلیمنٹ نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین، اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہ میں 400؍ فیصد جبکہ تمام ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہ میں 100؍ فیصد اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ارکان پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کی سفری سہولتوں میں بھی نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔تنخواہوں اور مراعات میں اس قدر ہوشربا اضافے کی وجہ مہنگائی اور روپے کی قدر میں گراوٹ کو قرار دیا گیا تھا۔ بل کے مطابق، مہنگائی نے عوام کے ساتھ چیئرمین، اسپیکر، ڈپٹی چیئرمین، ڈپٹی اسپیکر اور تمام ارکان پارلیمنٹ کو متاثر کیا ہے۔جب دی نیوز نے اس قانون کے سینیٹ میں پیش ہونے سے قبل ہی اس حوالے سے خبر شائع کی تھی تو اس کی شہ سرخیاں شائع ہوئی تھیں اور ایک تنازع پیدا ہوا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پی ٹی آئی، نون لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے سینیٹ میں اس بل کی مخالفت کی تھی۔
برطانیہ کے معروف امپیریل کالج نے اپنے حالیہ منصوبے میں پاکستان میں کورونا سے متعلق حیران کن تخمینے دیتےہوئے انکشاف کیا ہے کہ اگست 2020 کے وسط میں پاکستان میں ایک دن میں کم از کم 80 ہزار اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ افراد وبا کے باعث زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔امپیریل کالج لندن نے برطانوی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ فنڈز سے متعدد اداروں اور ماہرین کے ساتھ ایک الگورتھم منصوبے کے تحت پاکستان سمیت متعدد ممالک میں کورونا سے متعلق تخمینوں کی رپورٹ مرتب کی۔آن لائن جاری کیے گئے منصوبے میں پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش، برازیل، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، روس، انڈونیشیا، شام اور ترکی سمیت درجنوں ممالک سے متعلق اندازوں پر مبنی حیران کن اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔
خوشاب میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ کر کے 4 سگی بہنوں کو قتل کردیا گیا۔پولیس کے مطابق تھانہ صدر خوشاب کے گاؤں ناڑا شمالی بستی شیر والی میں مسلح افراد نے شیر محمد مرحوم کے گھر پر فائرنگ کردی، گھر پر موجود شیر محمد کی 4 بیٹیاں بشریٰ بی بی، شازیہ بی بی، نسرین بی بی اور سلطانہ بی بی جاں بحق ہوگئیں۔پولیس کے مطابق شیر محمد مرحوم کا کوئی بیٹا نہیں ہے، قتل کی واردات جائیداد کے تنازع پر ہوئی، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ملحقہ شہر راولپنڈی میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں 7 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق راولپنڈی کے علاقے صدر میں واقع کوئلہ سینٹر چوک میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا خیز مواد موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا، علاقے کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔زخمیوں کو طبی امداد کے لیے دھماکے کے مقام سے ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار حماد اظہر نے قومی اسمبلی میں مالی سال 21-2020ء کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔
وفاقی وزیر حماد اظہر نے بجٹ تقریر کے دوران پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی پر افواجِ پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
بجٹ تقریر کے اہم نکات درج ذیل ہیں:۔
بجٹ میں حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ مہنگائی 9 اعشاریہ 1 فیصد سے کم کرکے ساڑھے 6 فیصد تک لانےکی تجویز دی گئی ہے۔ پانی کے منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے، ایم ایل ون کے لیے 34 ارب مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ درآمدی سگریٹ، بیڑی اور سگار میں ایف ای ڈی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ درآمدی سگریٹ پر ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر100 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ الیکٹرانک سگریٹس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ آٹو، موٹر سائیکل رکشہ اور 200 سی سی کی موٹر سائیکل پر ایڈوانس ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔ پاکستان میں موبائل فون بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ پاکستان میں تیار کیے گئے موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ کیفین والے مشروبات پر ٹیکس 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی۔ مشکل سفر سے ابتدا کی، مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے عوام کا تعاون کی ضرورت ہے معاشی بحران ورثے میں ملا، ملک دیوالیہ ہونےکےقریب تھا۔ گزشتہ حکومت میں بجٹ خسارہ 2300 ارب کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔ جاری کھاتوں کا خسارہ 20 ارب کی انتہاپر پہنچ چکا تھا۔ ملکی قرض 31 ہزار ارب پر پہنچ چکا تھا۔ گزشتہ 5 برسوں میں برآمدات میں بھی کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ 2 سال کے دوران کرپشن کا خاتمہ کیا۔ سود کی ادائیگیوں کے لیے 2 ہزار 946 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن کی ادائیگی کے لیے 470 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔ شرح نمو میں بہتری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیئے، ہمارا مقصد معیشت کی بحالی ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 650 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ نان ٹیکس ریونیو 1108 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ ایف بی آر کے ریونیو میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ ایف بی آر کے لیے 100 ارب مختص تھے۔ نجکاری سے آمدن کا تخمینہ 100 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم 650 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ نان ٹیکس ریونیو 1108 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ کرپشن کا خاتمہ اور ادارواں کی بحالی پہلی ترجیح رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لے کر آئے ۔ 16 سو ارب کی وصولیوں کا ہدف پورا کریں گے۔ 5 ہزار ارب کا سود ادا کیا گیا۔ خزانے پر گزشتہ حکومتوں کے قرضوں کے سود کا بوجھ اتارا۔ تحریکِ انصاف سماجی انصاف پر یقین رکھتی ہے اور اس کے حصول پر کار بند ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 5 ما ہ میں بجٹ خسارہ 5 فیصد سے کم ہو کر 3 اعشاریہ 8 فیصد رہ گیا تھا۔ ماضی کی حکومتوں کے بھاری قرضوں کی وجہ سے 5 ہزار ارب کا سود ادا کیا گیا۔ پاکستان کی بہتر ہوتی معیشت دیکھ کر آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کے ایکسپینڈڈ فنڈز کی منظوری دی۔ بلوم برگ نے دسمبر میں پاکستان کو دنیا کی بہترین معیشتوں میں سے ایک قرار دیا۔ موڈیز نے بھی ہماری ریٹنگ کو بہتر قرار دیا۔ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے ماضی میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔ منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کے خلاف اقدام نہ کرنے سے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں گیا۔ جون 2018ء کو پاکستان کو ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ میں ڈالا گیا ، ہماری حکومت نیشنل ایف اے ٹی ایف کمیٹی بنا کر اس میں بہتری لائی۔ ہم نے 2 سال میں نمایاں معاشی اعشاریے بہتر کیے۔ تجارتی خسارے میں 31 فیصد کمی کی، بجٹ خسارہ بھی 3 فیصد تک لایا گیا۔ اس مالی سال 1160 ارب کے مقابلے میں 1600 ارب ریونیو حاصل کریں گے۔ ماضی کے بھاری قرضوں کی وجہ سےگزشتہ 2 سال میں بھاری سود ادا کیا۔ 9 ماہ میں 17 ارب ڈالر غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر ہوگئے۔ 74 فیصد قرضہ جات کو طویل المدتی قرضوں میں تقسیم کیا۔ اسٹیٹ بینک سے ادھار لینے کا سلسلہ بند کیا۔ کرنسی کا ریٹ مارکیٹ اورینٹل کیا گیا۔ تجارتی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کیا گیا۔ سرکاری اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور شفاف نجکاری کی گئی۔ میڈ اِن پاکستان کے ساتھ پاکستانی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچائی گئیں۔ حکومت نے تمام صوبوں میں شفاف احتساب کے لیے اسٹرکچر اصلاحات کیں۔ پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019ء کا پہلی بار نفاذ کیا گیا ہے۔ پینشن کے نظام میں اصلاحات لائی گئی ہیں۔ ڈاکٹرعشرت حسین کی سربراہی میں ٹیم بنائی گئی۔ ٹیم نے 45 اداروں کی نجکاری، 14 اداروں کی صوبوں کو منتقلی کا پلان دیا۔ تجارتی خسارے میں 31 فیصد کمی کی گئی۔ کورونا وائرس کی وباء سے پاکستان کی معیشت کو جھٹکا لگا۔ طویل لاک ڈاؤن اور کاروباری سرگرمیاں بند ہوئیں، سفری پابندیوں سے معیشت کو نقصان ہوا۔ صنعتیں اور کاروبار بند ہونے سے جی ڈی پی میں 2100 ارب کی کمی ہوئی۔ کورونا اخراجات، مالیاتی اخراجات کو بیلنس رکھنا بجٹ کی ترجیحات میں ہے۔ کورونا کے تدارک کے لیے 12 سو ارب روپے سے زائد کے پیکیج کی منظوری دی گئی ہے۔ کورونا وائرس کی صورتِ حال میں خصوصی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کورونا وائرس کے باعث 73 فیصد جاری منصوبوں اور 27فیصد نئے فنڈز مختص کر رہے ہیں۔ کورونا سے بچاؤ کے لئے خصوصی 70 ارب کا پروگرام مختص کر دیا گیا ہے۔ کورونا اور دیگر آفات سے نمٹنے کے لیے الگ 70 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کسانوں کو 50 ارب کی رقم دی گئی۔ وفاقی حکومت کے اخراجات میں مختلف پیکیجز سے اضافہ ہوا۔ معیشت کی بہتری کے لیے کنسٹرکشن سیکٹر کو ریلیف دیا۔ لاک ڈاؤن کے برے اثرات کے ازالے کے لیے اسٹیٹ بینک نے بھی خصوصی ریلیف دیا۔ اسٹیٹ بینک نے انفرادی قرضوں کے لیے بینکوں کو 800 ارب روپے دیے۔ گزشتہ مال سال میں کوئی ضمنی گرانٹ نہیں دی گئی۔ خصوصی علاقوں فاٹا اور گلگت بلتستان کے لیے خصوصی بجٹ رکھا گیا ہے۔ کفایت شعاری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ بلین ٹری سونامی اور نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کو بجٹ میں تحفظ دیا گیا ہے۔ نان ٹیکس ریونیو میں اضافے کی توقع ہے ۔ احساس پروگرام کو 187 سے بڑھا کر 208 ارب کر دیا گیا ہے۔ توانائی اور خوراک سمیت 180 ارب کی رقم مختص کی ہے۔ حکومت اِن مشکل حالات میں کفایت شعاری کے اصولوں پر کاربند ہے۔ دفاع کے لیے 12 کھرب 89 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 875 ارب روپے کی رقم وفاقی بجٹ میں رکھی گئی۔ طبی آلات کی خریداری کے لیے 71 ارب، غریب خاندانوں کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ آزادجموں کشمیر کے لیے 55 ارب، گلگت بلتستان کے لیے 32 ارب مختص کیے ہیں۔ کے پی کے میں ضم اضلاع کے لیے 56 ارب بھی مختص کیے جا رہے ہیں۔ سندھ کے لیے 19 ارب، بلوچستان کے لیے 10 ارب کی خصوصی گرانٹ رکھی گئی ہے۔ توانائی اور خوراک کے شعبے میں 180 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ خصوصی علاقے آزاد کشمیر کے لیے 72 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ای گورننس کے ذریعے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تیار پلان کے لیے 1 ارب سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔ فنکاروں کی مالی امداد کے لیے آرٹسٹ پروٹیکشن فنڈ 25 کروڑ سے بڑھا کر 1 ارب کر دیا گیا ہے۔ عوام کو سستی ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لیے ریلوے کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کامیاب نوجوان پروگرام کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے لیے 650 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔ توانائی اور بجلی کے لیے 80 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دیا میر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیمز کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ سماجی شعبے کے لیے 250 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ مواصلات کے دیگر منصوبوں کے لیے 37 ارب رکھےگئے ہیں۔ تعلیمی منصوبوں اور مدرسوں کا نصاب ضم کرنے اور ای اسکولز کے قیام کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ آبی وسائل کے لیے مجموعی طور پر 69 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ لاہور وفاق اور کراچی کے اسپتالوں کے لیے 13 ارب مختص کیے گئےہیں۔ زراعت ریلیف میں 10 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ پی ایس ڈی پی کے لیے 650 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجلی کا ترسیلی نظام بہتر بنانے کے لیے 80 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کے لیے 6 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ قومی شناختی کارڈ سے متعلق شرط 50 ہزار سے بڑھا کر 1 لاکھ کر دی گئی۔ ڈبل کیبن گاڑیوں پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی۔ ایف اے ٹی ایف کے 14 نکات پر مکمل جبکہ 11 نکات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک انفرادی قرضوں کے لیے 800 ارب روپے مختص کرے گا۔ ٹیکس ادا کرنے کے لیے تنخواہ دار طبقے کے لیے ایپ متعارف کرائی گئی ہے۔ سیمنٹ کی پیداوار میں ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے۔ افغانستان کی بحالی کی مد میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بلوچستان کو 10 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ دی جائے گی۔ ٹیکس دہندگان کے لیے اسکولوں فیس پر ٹیکس کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔ ٹیکس ناہندگان کے لیے اسکول فیس پر ٹیکس کی شرط برقرار ہے۔ ایکسائز ڈیوٹی 65 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کر دی گئی ہے۔ انرجی ڈرنکس پر ایکسائز ڈیوٹی 13 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کر دی گئی۔ ڈبل کیبن پک اپ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہو گی۔ بھاری فیسیں لینے والے تعلیمی اداروں پر 100 فیصد سے زائد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ 2 لاکھ روپے سے زائد سالانہ فیس لینے والے تعلیمی اداروں کو 100 فیصد زائد ٹیکس دینا پڑے گا۔ ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو بھی بجٹ میں مدِنظر رکھا گیا ہے۔ زراعت کے شعبے اور ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے 10ارب مختص کیے گئے ہیں۔ تعلیمی اداروں اور شادی ہالز کے ٹیکس پر کمی کی جا رہی ہے۔ 50 ہزار سے 1 لاکھ کی خریداری پر شناختی کارڈ دکھانا ہو گا۔ عام خریدار کے لیے شناختی کارڈ کی حد 1 لاکھ روپے ہے۔ سیمنٹ پر ڈیوٹی 75 اعشاریہ 1 فی کلو کم کرنے کی تجویز ہے۔ وفاقی وزیر حماد اظہر کی بجٹ تقریر 1 گھنٹہ 5 منٹ پر مشتمل تھی۔
ضلع منڈی بہاؤ الدین تحصیل پھالیہ کے گاؤں رنسیکے کے رہائشی دو سگے بھائیوں کا قتل
تفصیلات رنسیکے تحصیل پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین کے رہائشی دو سگے بھائی انصر وڑائچ اور غضنفر وڑائچ عرف صاحب اپنے ماموں کے ختم قل میں شرکت کے لیے گاؤں ڈومنیانوالی تھانہ کنجاہ تحصیل و ضلع گجرات گئے ہوئے تھے کہ وہاں لقمان نامی لڑکے نے انکو پستول سے فائرنگ کر کے قتل کر دیا قتل سے پہلے مقتولین اور قاتل کے درمیان کوئی وقتی تلخ کلامی نہ ہوئی بلکہ جب مقتول غضنفر عرف صاحب اپنے بھائی انصر کے ہمراہ اپنی تین سالہ بیٹی کو لے کر قریبی دکان پر کھانے کی چیز دلوانے گیا تو قاتل لقمان جس نے قبل ازیں پلاننگ کی ہوئی تھی نے موقع پا کر مقتولین پر بلا اشتعال فائرنگ کر دی فائرنگ اکیلے ملزم لقمان نے کی لیکن اسکے 5 ساتھی جو قتل کی منصوبہ بندی میں شامل تھے قاتل کو ساتھ لے کر تمام 6 افراد موقع سے فرار ہوگئے فائرنگ سے دونوں بھائی موقع پر جاں بحق ہو گئے وقوعہ آج مورخہ 11 جون 2020 دن تقریباً ساڑھے گیارہ بجے پیش آیا پولیس سے بار بار رابطہ کیا گیا لیکن حسب روایت پولیس تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچی حالانکہ پولیس چوکی منگووال ، پولیس چوکی کنگ چنن دونوں جائے وقوعہ سے تقریباً 10 منٹ کے فاصلے پر اور تھانہ کنجاہ تقریبا 20 منٹ کی مسافت پر واقع ہے جتنی دیر میں پولیس پہنچی تب تک شاید قاتل ضلع سے بھی باہر پہنچ چکے ہوں.اب لاشیں میجر شبیر شریف شہید ہسپتال THQ کنجاہ پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوائی جا چکی ہیں اللہ کرے ڈاکٹر روایتی بے حسی کا مظاہرہ نہ کریں اور جلد پوسٹمارٹم مکمل کر کے لاشیں ورثاء کے حوالے کریں
مقتولین کا ذاتی تعارف
رنسیکے تحصیل پھالیہ کے رہائشی اور انتہائی شریف شہری تھے کسی قسم کے اخلاقی یا قانونی جرم میں ملوث نہ تھے مقتولین صرف دو بھائی تھے انکی پانچ بہنیں ہیں ایک بوڑھی والدہ ہے مقتول انصر کی چھ بیٹیاں ایک 18 سالہ بیٹا محمد شاویز اور ایک بیوہ ہےمقتول غضنفر عرف صاحب کی ایک بیوہ اور صرف تین بیٹیاں ہیں بیٹا نہ ہےدو بھائیوں کے ظالمانہ قتل کے نتیجے میں ایک ماں کے بڑھاپے کا سہارا دونوں بیٹے چھن گئے دو خواتین بیوہ ہوئیں 10 بچے یتیم ہوئے دونوں گھر کے کفیل تھے اور دونوں ایک ساتھ قتل کر دیے گئے
قتل کا پس منظر
مقتولین کی ایک بہن جو ڈومنیانوالی کی رہائشی تھی پانچ سال پہلے اسکے خاوند کی وفات ہوئی وفات کے بعد اسکے سسرالیوں نے اسکو دونوں بیٹیوں سمیت گھر سے نکال دیا اور گھر اور جائیداد / زمین پر قبضہ کر لیا محکمہ مال کے ریکارڈ میں وہ زمین مقتولین کی بہن اور دونوں بھانجیوں کے نام پر وراثتی انتقال کے ذریعے ٹرانسفر ہو گئی لیکن ان دونوں یتیم بچیوں اور بیوہ عورت کی زمین پر انکے رشتہ داروں ( حالیہ قاتلوں ) نے ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا اور ان بچیوں اور انکی والدہ کو جائیداد نہ دینے کی صورت میں قتل کی دھمکیاں بھی دے چکے تھے مقتولین کی بیوہ بہن ایک بیٹی کے ہمراہ قاتلوں کے خوف سے رنسیکے گاؤں میں ہی رہائش پذیر تھی جبکہ دوسری بیٹی کی شادی ہو چکی ہےہمارے تمام ادارے اس بیوہ خاتون اور اسکی دو بچیوں کو انکی وراثتی زمین کا قبضہ دلوانے میں عرصہ پانچ سال سے ناکام تھےقاتلوں نے پہلا ظلم مقتولین کی بہن اور بھانجیوں کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر کے کیا جسکے خلاف مقتولین نے کوئی مزاحمت نہ کی بلکہ لڑائی جھگڑے سے بچنے کے لیے اپنی بہن اور بھانجیوں کو خاموشی سے اپنے گاؤں لے آئےدوسرا ظلم انہوں نے آج مقتولین کا قتل ناحق کر کے کیا ہےیہ تمام واقعہ جنوبی پنجاب ، بلوچستان یا تھر جیسے پسماندہ علاقوں کا نہیںبلکہ ملک کے ترقی یافتہ ضلع گجرات کا ہےیہ واقعہ اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی صاحب کے صوبہ اسمبلی کے حلقے پی پی 30 کا ہے جہاں سے منتخب ہو کر وہ اسمبلی پہنچے ہیں
یہ واقع چوہدری مونس الٰہی کے حلقے کا ہے جہاں سے وہ قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے ہیں
ایک بوڑھی والدہ اماں نذیراں بی بی کو اسکے بیک وقت قتل ہونے والے بیٹوں کا قصاص کون لے کر دے گا ؟
10 یتیم بچوں بچیوں کو انکے والد صاحبان کے قتل کا حساب کون لے کر دے گا ؟
دو بیوہ خواتین کو انکے شوہروں کے قتل کا قصاص کون لے کر دے گا ؟
یہ شریف لوگ تھے انکے مقدمہ کی پیروی کون کرے گا ؟
قاتلوں سے انکے بقیہ خاندان کی حفاظت کون کرے گا ؟
گھر کے دونوں کفیل بیک وقت قتل ہوگئے اب اس خاندان کی کفالت کون کرے گا ؟
کیا وہ ادارے جو پانچ سال سے ایک بیوہ خاتون اور اسکی یتیم بچیوں کو انکا وراثتی حق نہ دلوا سکے ؟
8؍ ہزار ارب سے زائد کا بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش ہوگا۔ مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ کورونا معاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن گیا، بیروزگاری اور غربت بڑھے گی، مالی سال 2020ء کیلئے زراعت میں 2.67، صنعت میں منفی 2.64 فیصد اور خدمات کے شعبے میں منفی 0.59 نمو کی بنیاد پر ملکی آمدن کی شرح نمو کا تخمینہ 0.38 فیصد ہے۔کورونا کی وباء سے مجموعی ملکی پیداوار کو 3 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، مشیر خزانہ نے بتایا کہ جاری خسارے میں کمی ہوئی ہے، اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا، بیرونی سرمایہ کاری 137؍ فیصد بڑھی ہے، جبکہ مہنگائی 9.1؍ فیصد رہی، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے۔کورونا وائرس کے باعث 2 کروڑ 73 لاکھ افراد کا روزگار خطرے میں پڑگیا، جزوی لاک ڈاؤن پرزرعی اورغیر زرعی شعبےمیں ایک کروڑ 25لاکھ سے ایک کروڑ 55 لاکھ ، مکمل لاک ڈاؤن پر ایک کروڑ 87 لاکھا فراد سے ایک کروڑ 91لاکھ افراد کی بیروزگاری کا خدشہ ہے۔اسلام آباد میں اقتصادی مالی سروے 20-2019 پیش کرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کو بحران ورثے میں ملا، ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔ برآمدات کی شرح صفر رہی جبکہ گزشتہ حکومت کے آخری 2 سالوں میں غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 16-17 سے گر کر 9 کے قریب پہنچ گئے تھے۔مشیر خزانہ نے کہا کہ ڈالر سستا رکھا گیا جس کے باعث درآمدات، برآمدات سے دگنی ہوگئیں اور ان تمام چیزوں کا اثر یہ ہوا کہ ہمارے پاس ڈالر ختم ہو گئے کہ ہم اپنی معیشت کو چھے انداز میں چلا سکتے اور اس وقت میں ہمارے قرضے بڑھ کر 25ہزار ارب روپے ہو چکے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر قرض اور واجبات کو بھی ملایا جائے تو ہمارے قرضے تقریباً 30 کھرب روپے بن چکے تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس میں ہم بیرونی اکاؤنٹ میں ڈیفالٹ کی جانب دیکھ رہے تھے، ہمارے اخراجات آمدن سے کافی زیادہ تھے۔انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہم اپنی حکومت میں جو شرح نمو حاصل کررہے تھے وہ باہر سے قرض لے کر ملک کے اندر خرچ کررہے تھے تو ایسی صورتحال میں سب سے پہلی چیز یہ تھی کہ ہم مزید وسائل یعنی ڈالرز کو متحرک کریں۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حکومت نے کافی کوشش کی اور کچھ ممالک سے قرض اور موخر شدہ ادائیگیوں پر تیل حاصل کیا اور اس کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 6 ارب ڈالر کا پروگرام طے کیا۔حکومت نے ٹیکسز کو بہتر کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور سب سے بڑھ کر اپنے ملک کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے اپنے کاروباروں کو مراعات دینے کے لیے کاروباری شعبے کے لیے گیس، بجلی، قرضے یہ تمام چیزیں حکومت نے اپنی جیب سے پیسے دے کر سستے کیے۔انہوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر ہم نے اپنے بیرونی طور پر معیشت کو درپیش خطرات سے نمٹا اور ورثے میں ملنے والے 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو کم کرکے ہم 3 ارب ڈالر تک لے آئے۔ یہ حکومت کا بہت بڑا کارنامہ ہے کہ پہلے سال اور خصوصی طور پر اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 73فیصد کمی کی گئی۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ دوسری اہم چیز ہے کہ رواں سال اور پچھلے سال مجموعی طور پر کہ 5 ہزار ارب روپے قرضوں کی مد میں واپس کیے گئے۔ یہ ایک بہت اہم چیز ہے کہ ایک ملک ماضی میں لیے گئے قرضے چاہے وہ کتنے ہی بڑی تعداد میں کیوں نا ہوں، وہ واپس کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ حکومت نے ماضی کے قرضوں کے بوجھ کوواپس کرنے کے لیے قرضے لیے اور ماضی کے قرضوں کی مد میں 5 ہزار ارب روپے واپس کیے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ تیسری بہت اہم چیز جو اس سال ہوئی ہے وہ یہ کہ ہم نے اس سال بہت سخت انداز میں حکومت کو اخراجات کو کنٹرول کیا اور یہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ہوا ہو کہ ہم نے اس انداز میں کنٹرول کیا کہ پرائمری بیلنس قائم ہوگیا ہے یعنی ہمارے اخراجات، آمدن سے کم ہوگئے جس سے پرائمری بیلنس سرپلس ہوگیا یہ شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کبھی ہوا ہو۔مشیر خزانہ نے کہا کہ میں اس کے لیے فنانس سیکریٹری اور وزارت خزانہ کی پوری یم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور سب سےبڑ ھ کر یہ کہ وزیر اعظم نے اس شعبے میں قیادت دکھائی اور جنرل باجوہ کا بھی شکر گزار ہوں کہ ہم نےفوج کے بجٹ کو منجمد کیا۔
مشہور ڈرامہ سیریل گیسٹ ہاؤس میاں مراد ویٹر کا کردار ادا کرنے والے معروف اداکار طارق ملک راولپنڈی میں انتقال کر گئے۔طارق ملک کے خاندانی ذرائع کے مطابق ان کا ایک ہفتہ قبل کورونا کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، طارق ملک اسپتال میں زیر علاج تھے اور جمعرات کے روز حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے طارق ملک ٹیلی ویژن، ریڈیو اور اسٹیج میں کام کرتے رہے اور انہوں نے 1991 میں گیسٹ ہاؤس کے کردار سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا تھا۔انہوں نے پی ٹی وی کے بہت سے ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اردو، پنجابی اور پوٹھوہاری زبان کے ڈراموں میں کام کیا۔