پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشت گروں کو ہلاک کردیا ہے، فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت 4 سیکیورٹی گارڈ بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق حملےمیں ملو ث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے ،جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بی ڈی ایس کے عملے کو طلب کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی۔ڈی آئی جی ساوتھ کا کہناہے کہ دہشت گرد جس گاڑی میں آئے تھے اسے بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دہشت گروں کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جدید اسلحہ اور دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے پولیس اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوئے ہیں ، جبکہ سول اسپتال میں 7 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔مقدس حیدر نے بتایا کہ فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے جسے اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل کے مطابق حملہ آوروں کے پاس جدید ہتھیار موجود تھے،وہ پارکنگ کے ذریعے عمارت میں داخل ہوئے تھے۔
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات منہگی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کے لیے وزارت پٹرولیم کی سمری کی منظور ی دے دی، پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر معمولی بات یہ ہے کہ یہ فیصلہ روایتی طور پر ہر مہینے کے آخری دن ہوتا ہے، لیکن اس بار پٹرول مہنگا کرنے کے فیصلے پر مہینہ ختم ہونے سے چار دن پہلے یعنی آج ہی سے عمل ہونے کا امکان ہے۔آج رات بارہ بجے سے ایک لیٹر پٹرول 25 روپے 58 پیسے، ایک لیٹر ہائی اسپیڈ ڈیزل 21 روپے 31 پیسے، مٹی کا تیل 23 روپے 50 پیسے اور ایک لیٹر لائٹ ڈیزل 17 روپے 84 پیسے مہنگا ہوجائے گا۔اس طرح پٹرول کی نئی قیمت 100 روپے 10 پیسے لیٹر، ڈیزل کی نئی قیمت 101 روپے 46 پیسے لیٹر، مٹی کا تیل 59 روپے لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل 55 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہوگی۔
ہر ملک و قوم اور ہر رنگ و نسل کے لوگوں کو حج میں شامل کرنا اتحاد اُمت کا عظیم درس ہے۔ جہلم(زاہد خورشید). گزشتہ چند مہینوں سے اقوام عالم ”کورونا وائرس“ کی شکل میں عذاب الٰہی کی لپیٹ میں ہیں۔ ایسے حالات میں جن ممالک نے بروقت حفاظتی اقدامات اُٹھائے، ان میں سعودی عرب سر فہرست ہے۔ان خیالات کا اظہار جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مہتمم حافظ عبدالحمید عامر نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ طول و عرض سے مسلمان حرمین شریفین میں ضیوف الرحمن بنتے ہیں، سعودی حکومت کی طرف سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے زائرین کو جو سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، اس کا اندازہ صرف وہاں جانے والے ہی لگا سکتے ہیں۔ اب ان حالات میں مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ مقدم رکھتے ہوئے سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس سال سعودی عرب میں مقیم ہر ملک و قوم اور ہر رنگ و نسل کے لوگ حج کریں گے۔ہم سعودی عرب کے اس اقدام کی تائید اور حمایت کرتے ہیں بلکہ قابل تحسین سمجھتے ہیں، کیونکہ انسانی جان کا تحفظ شرعی مقاصد میں سے اہم مقصد ہے، نیز تاریخ اس پر شاہد ہے کہ ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا پر بعض دفعہ مکمل اور بعض دفعہ جزوی طور پر حج پر پابندی بھی عائد کی گئی تھی، مگر احتیاطی تدابیر کے تحت مملکت سعودی عرب کا مقیم لوگوں کو حج کی اجازت دے کر بنیادی رکن اسلام کی بجا آوری کرنا مستحسن عمل ہے۔ انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب میں مقیم محدود لوگوں کو اجازت دیتے ہوئے اتحاد اُمت اور اخوت اسلامی کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم مختلف ممالک سے ہر رنگ و نسل کے لوگ اس میں شامل ہوں گے۔عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے اعداد و شمار کے مطابق اس مہلک مرض کے خدشات سے حتی الوسع بچنے اور عالم اسلام کو بچانے کے لیے مملکت سعودی عرب کا یہ اقدام اہل عقل و دانش کے نزدیک صحیح ترین اور انتہائی محتاط فیصلہ ہے، کیونکہ اس میں شرعی، طبی اور عقلی تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ان وجوہات کی بنا پرہم خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعوداور ولی عہد محمد بن سلمان کے اس امر کی بھرپور تائید کرتے ہیں، بلکہ اس قابل تحسین فیصلے پر ان کے شکر گزار بھی ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کابینہ کے کئی وزراء کی کارکردگی اور رویے سے ناخوش ہیں لیکن انہیں برطرف کرنا سیاسی لحاظ سے ان کیلئے ممکن نہیں۔اپنی 22؍ ماہ کی حکومت میں وزیراعظم نے متعدد مرتبہ اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے اور صرف ایسے ہی افراد کو کام کرنے کی اجازت دیں گے جو کام کر کے دکھائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کی زیر قیادت حکمران اتحاد کی پارلیمنٹ میں معمولی اکثریت انہیں اجازت نہیں دیتی کہ وہ کارکردگی نہ دکھانے والوں کیخلاف سخت ترین اقدام کر سکیں۔پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی میں اندرونی لڑائی اور نظم و ضبط کا نہ ہونا عمران خان کیلئے باعث ہزیمت ہیں لیکن اپنی ساکھ اور ماضی کے رکارڈ کے برعکس وہ کارکردگی نہ دکھانے والوں اور نظم و ضبط کا مظاہرہ نہ کرنے والوں کیخلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔وزیراعظم اس وقت شدید دبائو میں ہیں کیونکہ وہ اپنی پارٹی کے کسی رکن کو کھونا چاہتے ہیں اور نہ ہی اتحادی جماعتوں کو۔ اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں عمران خان پرعزم تھے کہ وہ کابینہ کیلئے بہترین ارکان لائیں گے لیکن جیسے وقت گزرتا گیا حالات معمول کے مطابق نظر آنے لگے۔اپنی حکومت کے ابتدائی 100؍ دن میں، پی ٹی آئی نے جراتمندانہ اہداف مقرر کیے تھے میں سے اکثر پورے نہیں ہوئے۔ تاہم، کسی بھی وزیر کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ دسمبر 2018ء میں وزیراعظم نے کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ وزارتوں اور ڈویژنوں کی ہر تین ماہ بعد کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔اسی مہینے میں کچھ وزراء کی کارکردگی کی وجہ سے تعریف کی گئی جبکہ ایک وزیر مملکت کو وفاقی وزیر بنا دیا گیا لیکن کسی کو ڈانٹ پلائی گئی اور نہ ہی کارکردگی نہ دکھانے والے کو برطرف کیا گیا۔ تاہم، بعد میں حکومت تین مہینے میں کارکردگی کا جائزہ لینے کی بات بھی پوری نہ کر سکی۔ گزشتہ سال ستمبر میں وزیراعظم آفس (پی ایم او) نے 27؍ وزارتوں کو سخت وارننگ (Red Letter) جاری کی کیونکہ یہ وزراء وہ کام بروقت نہ کر پائے جو انہیں کرنے کیلئے دیا گیا تھا۔اس خط کو حتمی وارننگ قرار دیا گیا تھا اور ساتھ ہی ناراضی کا اظہار بھی کیا گیا تھا اور 34؍ میں سے 27؍ وفاقی سیکریٹریٹز کو یہ خط جاری کیا گیا۔ یہ Red Letter جاری ہونے کے باوجود کسی بھی وزیر کیخلاف کوئی سنگین نتائج سامنے نہیں آئے۔رواں سال مارچ میں وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے کچھ وزیروں کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر بیزاری کا اظہار کیا اور یہ تک کہا کہ جب حکومت کے وزیروں کے بیانات ہی مشکلات پیدا کرنے کیلئے کافی ہوں تو اپوزیشن کو کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔میڈیا میں آنے والی رپورٹ کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب اپوزیشن کچھ نہیں کرتی، کچھ وزیر ایسے بیانات دے دیتے ہیں جس کا بعد میں ملبہ سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔وزیراعظم نے اپنے وزراء کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ ایسے وزیر بھی ہیں جو اپنے دفاتر کی بجائے کوہسار مارکیٹ میں نظر آتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایسے وزیروں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔رواں سال اپریل میں بھی وزیراعظم نے اپنے کچھ وزراء کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر ناراضی ظاہر کی اور تمام وزیروں سے کارکردگی کی رپورٹس طلب کیں اور ساتھ ہی اشارہ دیا کہ جو لوگ ہدف کے مطابق کارروائی نہیں دکھائیں گے انہیں برطرف کر دیا جائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، بعد میں وزیراعظم کو معلوم ہوا کہ ان کی کابینہ کے کئی وزیروں کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔ انہوں نے اُن وزراء سے عہدہ سنبھالنے سے لے کر اب تک کارکردگی کے حوالے سے جامع رپورٹ طلب کی۔ وزراء سے یہ بھی سوال کیا گیا کہ وہ مستقبل میں اپنی اپنی وزارتوں کے حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ تاہم، اب بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اور اب ایک مرتبہ پھر وزیراعظم عمران خان نے اپنے وزراء کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی 6؍ ماہ میں درست کرلیں، ناکامی کی صورت میں معاملات ہاتھوں سے نکل سکتے ہیں۔ دی نیوز نے بدھ کو خبر دی تھی کہ وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری کے انٹرویو پر غیر ملکی میڈیا میں بحث چھڑ گئی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ عمران خان نے فواد چوہدری کو مزید بات کرنے سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ کابینہ کے ارکان بحث و مباحثے میں احتیاط سے کام لیں اور پارٹی کی صفوں میں اتحاد کو نقصان نہ پہنچائیں۔
متحدہ قومی موومنٹ لندن (ایم کیو ایم) کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا، ڈاکٹر عمران فاروق کو 16 ستمبر 2010 کو برطانیہ میں قتل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 5 دسمبر 2015 کو پاکستان میں اس قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔جس میں تین ملزمان خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی کو گرفتار کیا گیا،پاکستانی حکومت کی جانب سے برطانیہ کو دوران ٹرائل جرم ثابت ہونے کے باوجود ملزمان کو سزائے موت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔جس کے بعد کیس میں پیشرفت ہوئی اور برطانیہ نے باہمی قانونی معاونت کے تحت شواہد فراہم کیے،ملزمان کی ٹریول ہسٹری، موبائل فون ڈیٹا، فنگر پرنٹس رپورٹ، مقتول کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کو بطور شواہد ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔
یہ وبا کا دور ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے لاکھوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ پاکستان اور گردونواح کے ممالک میں بھی روزانہ سینکڑوں لوگ مر رہے ہیں۔ ابھی تک اس وبا کا بہترین علاج احتیاط ہے لیکن جو احتیاط نہیں کر رہے اُنہیں پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے جاہل قرار دے دیا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ نے جیو نیوز پر شاہزیب خانزادہ کے شو میں کہا کہ لاہوریے اللہ تعالیٰ کی الگ مخلوق لگتے ہیں، وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہوتے شاید ہی کوئی قوم اتنی جاہل ہوگی جیسی باتیں ہم کرتے ہیں۔ اُن کے اس بیان کے اگلے روز پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کو جاہل کہنے والوں سے اگلے الیکشن میں عوام بدلہ ضرور لیں گے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کے بیان سے صرف بلاول نہیں اکثر لاہوریے بھی بہت ناراض ہیں۔جب تین ماہ قبل کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے بلاول صاحب دو تین ہفتے کے لاک ڈائون کی بات کر رہے تھے تو ڈاکٹر یاسمین راشد کے قائد وزیراعظم عمران خان لاک ڈائون کی مخالفت کر رہے تھے۔ پھر سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے لاک ڈائون کا اعلان کر دیا تو عمران خان نے کہا کہ امیروں نے غریبوں کا لاک ڈائون کر دیا۔ پھر لاک ڈائون ختم ہوا اور پاکستان کے بڑے شہروں میں تیزی سے وبا پھیلنے لگی تو لاہور کے 61علاقوں کو بند کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ بہت سے لاہوریے کہتے ہیں کہ ہم جاہل نہیں بلکہ ہمارے سیاسی قائدین پڑھے لکھے جاہل ہیں جو وبا کے دور میں بھی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے اور عوام کو کنفیوز کر دیا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ بات ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کی ہے جو کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے سے پریشان ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ سٹپٹا گئی ہیں لیکن وبا کے دور میں ڈاکٹر صاحبہ کو الفاظ کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہئے تھی۔ لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے۔یہیں پر 23مارچ 1940کی قرارداد منظور ہوئی جس کے بعد پاکستان کی تحریک فیصلہ کن موڑ میں داخل ہوئی۔ کیا بےاحتیاطی صرف لاہوریوں نے کی ہے؟ کیا راولپنڈی کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد اور کراچی کے وفاقی وزیر امین الحق کورونا وائرس کا شکار نہیں ہوئے؟ کیا یہ دونوں جاہل ہیں؟میں ذاتی طور پر ڈاکٹر یاسمین راشد کا بہت احترام کرتا ہوں لیکن اُن کے حالیہ بیان کے بعد میں نے بھی سوچا کہ بےاحتیاطی تو پورے پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں کی جا رہی ہے پھر ڈاکٹر صاحبہ نے غصہ صرف لاہوریوں پر کیوں نکالا؟ اس سوال کا جواب مجھے فوراً مل گیا لیکن جواب آپ کے گوش گزار کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ لاہور کے لوگ اتنے عجیب نہیں البتہ لاہور پر بڑے عجیب عجیب لوگوں نے حکومت کی ہے۔بہت سے حکمران ایسے تھے جو لاہور پر لاہوریوں کی مرضی کے خلاف مسلط کر دیے گئے، وہ لاہوریوں پر بھی ظلم کرتے تھے اور ملتان والوں پر بھی ظلم کرتے تھے اور گالی لاہوریوں کو دی جاتی تھی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کا آبائی شہر چکوال ہے لیکن وہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد لاہور میں آباد ہوئیں۔ اُنہیں لاہور کی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ احمد شاہ ابدالی اپنے تیس سالہ دور اقتدار میں نو بار لاہور پر حملہ آور ہوا۔ ایک دفعہ اُس نے لاہور کو ایک سکھ سردار لہنا سنگھ کے حوالے کر دیا۔اُس نے لاہور پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنے کے لئے دو سکھ سرداروں صوبہ سنگھ اور گجر سنگھ کو بھی شریک اقتدار کر لیا۔ گجر سنگھ نے لاہور میں ایک قلعہ بھی تعمیر کیا اور یہ علاقہ قلعہ گجر سنگھ کہلاتا ہے۔ یہ تینوں سردار اپنی محفلوں میں افیم استعمال کرتے اور کہتے کہ یہ کسی حکیم نے بطور دوا تجویز کی ہے لہٰذا ان سرداروں کو حکیم کہا جانے لگا کیونکہ اُن کے ہر مرض کی دوا افیم تھی۔ یہ لاہوریوں کو لوٹتے اور لوٹ مار کا بڑا حصہ افغانوں کو دیکر اپنا اقتدار قائم رکھتے۔ ان افیمیوں کے علاوہ لاہور پر تین بھنگیوں کی حکومت بھی رہی ہے۔ یہ تینوں بھی سکھ تھے۔چپت سنگھ، صاحب سنگھ اور مہر سنگھ بھی مل کر دس سال تک لاہور پر حکومت کرتے رہے۔ ان کے پاس احمد شاہ درانی کی ایک مشہور زمزمہ توپ بھی تھی جو بعد میں بھنگیوں کی توپ کہلائی اور آج کل مال روڈ لاہور پر نیشنل کالج آف آرٹس کے سامنے کھڑی ہے اور بھنگی حکمرانوں کی یادگار ہے۔ان بھنگی حکمرانوں سے نجات پانے کے لئے شہر کے معزز مسلمانوں، ہندوئوں اور سکھوں نے رنجیت سنگھ سے رابطہ کیا اور رنجیت سنگھ نے 1799میں لاہوریوں کی مدد سے بھنگی حکمرانوں کو شکست دے کر شہر پر قبضہ کر لیا۔ قبضے کے بعد رنجیت سنگھ نے بھی بہت لوٹ مار کی۔اُس نے حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر سے سنگ مرمر اکھیڑا تو بیمار پڑ گیا اور قے کرنے لگا چنانچہ اُس نے مزار پر حاضری دینا شروع کر دی اور ٹھیک ہو گیا۔ 1918میں انفلوئنزا پھیلا تو لاکھوں لوگ مارے گئے۔ لاہور میں ہر دوسرا شخص بیمار پڑ گیا۔ رائے بہادر میلا رام داتا گنج بخشؒ کے مزار کے قریب اپنی مشہور لال کوٹھی میں رہتے تھے۔ان کے تین بیٹے وبا کا شکار ہو گئے۔ شہر کے ماہر ڈاکٹر اُنہیں شفایاب نہ کر سکے۔ میلا رام کے بقول اُنہوں نے داتا گنج بخشؒ کے مزار پر دعا کی اور اُن کے بیٹے ٹھیک ہو گئے جس کے بعد انہوں نے مزار کو بجلی فراہم کر کے نذرانہ پیش کیا۔ جب ڈاکٹر ناکام ہو جائیں تو پھر صرف لاہوریے نہیں پاکستان کے اکثر لوگ صوفیاء کے توسط سے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ لاہور والوں کو ڈاکٹر یاسمین راشد کی ہدایات کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔ لاہوریوں سمیت پاکستان کے تمام لوگ احتیاط ضرور کریں لیکن ڈاکٹر صاحبہ بھی الفاظ کے چنائو میں احتیاط کریں۔اُنہوں نے معافی تو مانگ لی ہے لیکن آئندہ وہ احتیاط نہیں کریں گی تو پھر لاہوریے کہیں گے کہ ڈاکٹر صاحبہ ہمیں پتا ہے آپ کو ہم پر اصل غصہ کیا ہے؟ آپ 2013میں نواز شریف سے الیکشن ہار گئیں، 2017میں کلثوم نواز سے ضمنی الیکشن ہار گئیں اور 2018میں وحید عالم سے الیکشن ہار گئیں۔آپ کی ہیٹ ٹرک مکمل ہو چکی ہے اب اگر حکومت نہیں ہو رہی تو خود ہی حکومت چھوڑ دیں ورنہ لاہوری بدظن ہو جائیں تو پھر بھنگیوں سے جان چھڑانے کیلئے کسی رنجیت سنگھ کو بلا لیتے ہیں۔
اسلام آباد(طارق بٹ)کیا تحریک انصاف کےرہنما جہانگیر ترین لندن سے واپس پاکستان آئیں گے جہاں مختلف ادارے بشمول شوگر کمیشن ان کا استقبال تیز و تند سوال کرنے لئے ان کا استقبال کریں گے۔ابھی کچھ ہی دنوں پہلے جب جہانگیر ترین برطانیہ پہنچے اور ان کی برطانیہ آمد کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تو انہوں نے کہا کہ 2014سے ان کا میڈیکل چیک اپ نہیں ہوا وہ میڈیکل چیک اپ کے بعد پاکستان لوٹ جائیں گے۔عام تاثر یہ ہے کہ وہ پاکستان لوٹ آئیں گے مگر انہوں نے واپس آنے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا۔دوسری طرف شوگر ملز مالکان نے شوگر کمیشن کی رپورٹ عدالت میں چیلنج کردی ہے۔جیسا کہ جہانگیر ترین برطانیہ میں اپنے وسیع و عریض رہائشگاہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں دوسری طرف ان کے مخالفین بالخصوص پاکستان مسلم لیگ ن نے ان پر تنقید اور الزامات کی بوجھاڑ کردی ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف کے کسی بھی مرکزی رہنما نے جہانگیرترین کی حمائت نہیں کی، ادھر پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی جہانگیر ترین کی برطانیہ روانگی پر ان پر الزامات لگانے شروع کردئیے ہیں۔الزامات کے علاوہ جہانگیر ترین پر سوشل میڈیا میں بھی تنقیدی جملوں کی بوجھاڑ ہے جس میں سیاسی جماعتوں کے ارکان و حامی پیش پیش ہیں۔جہانگیر ترین نے الزامات اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے جوابات دینا مناسب نہیں سمجھا نہ صرف یہ بلکہ ان کے صاحزادے علی نے بھی اپنے سوشل میڈیا کے اکاؤنٹ سے کوئی جواب نہیں دیا۔
دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو گزشتہ روز آخری سلام کہنے والے پاکستانی ٹی وی اور ریڈیو کے معروف کمپیئر طارق عزیز نے اپنے آخری ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’يوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے رواں دواں زندگی رُک گئی ہے۔‘سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفات سے ایک روز قبل جاری طارق عزیز کے پیغام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیماری کے باعث بستر پر لیٹے رہنے سے انہیں کوفت ہوگئی تھی، انہوں نے لکھا کہ ’کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی۔‘انہوں نے اپنے پیغام میں یہ بھی لکھا کہ نہ جانے پرانا وقت کب لوٹ کے آتا ہے، ابھی تو کوئی امید نظر نہیں آرہی۔ٹوئٹر پر وفات سے دو روز قبل انہوں نے کلمہ شہادت بھی ٹوئٹ کیا تھا۔واضح رہے کہ ریڈیو پاکستان، ٹیلی ویژن، فلم، صحافت، ادب اور سیاست کاایک نمایاں نام طارق عزیز گزشتہ روز 84 سال کی عمر میں دارِ فانی سے کوچ کرگیا۔طارق عزیز کو اصل شہرت پاکستان ٹیلیویژن پر 1975 میں شروع ہونے والے پروگرام ’نیلام گھر‘ سے ملی۔ ان کا یہ پروگرام شروع کرنے کا انداز ’دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام‘ بہت مشہور ہوا تھا۔
لاہور میں کورونا سے زیادہ متاثرہ 66 علاقوں کو سیل کر دیا گیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے متاثرہ علاقوں میں 30 جون تک دفعہ 144 بھی نافذ کردی ہے۔لاہور میں سیل کیے گئے علاقوں میں پولیس نے رات 12 بجتے ہی لاک ڈاؤن کردیا۔ متاثرہ علاقوں میں بیرئیرز لگا کر راستے بند کردیے گئے۔محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے لاہور میں کورونا سے زیادہ متاثرہ علاقوں کو30 جون تک سیل کرنے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق سیل کیے گئے علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔سیل کئے گئے علاقوں میں شاپنگ مالز، مارکیٹس، پبلک پرائیوٹ دفاتر بند رہیں گے۔ عوام کی آمد و رفت سمیت پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ایک شخص ذاتی سواری ضرورت کے تحت استعمال کرسکے گا۔ سیل کیے گئے علاقوں میں سماجی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔جن علاقوں کو سیل کیا گیا ہے ان میں پھل، سبزی، دودھ، کریانہ، پیٹرول اور تندور صبح 9 سے شام 7 بجے تک کھلے رہیں گے۔ میڈیکل اسٹورز، لیبارٹری پورا ہفتہ 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔ ان علاقوں میں مقیم جج، وکیل، ڈاکٹرز، ہیلتھ ورکرز، پولیس اہلکار پابندی سےمستثنیٰ ہونگے۔ مریض کے ساتھ 2 افراد کو اسپتال جانے کی اجازت ہوگی۔
پاکستان کی نامور ماڈل و اداکارہ نازش جہانگیر نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے والدہ کی وفات کے بعد ناامید ہو کر دو بار خودکشی کا ارادہ کیا۔اداکارہ نے بتایا کہ وہ گزشتہ 10 برس سے ڈپریشن میں مبتلا ہیں اور اس سے مستقل لڑ رہی ہیں، وہ اس بیماری کو شکست دینے کیلئے مستقل کوشاں بھی ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اداکارہ نے اپنی بیماری سے متعلق کھل کر اظہار خیال کرتی ایک طویل پوسٹ شئیر کی۔انہوں نے بتایا کہ والدہ کی وفات کے بعد سب کچھ بے معنی ہوگیا تھا اور وہ بالکل ناامید ہوگئی تھیں۔نازش جہانگیر نے کہا کہ وہ اپنی اس کیفیت کو بیان کرنے اور کسی سے اس متعلق بات کرنے سے قاصر تھیں۔انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ 10 برس سے دماغی بیماری ’پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر‘ کا شکار ہیں، اس بیماری کا علاج نہ کرنے سے اس کے تباہ کن اثرات ہوسکتے ہیں۔نازش جہانگیر نے اپنی پوسٹ میں مزید بتایا کہ یہ بیماری نا صرف آپ کے گھر والوں اور دوستوں سے تعلقات کو متاثر کرتی ہے بلکہ یہ آپ کو جذباتی مسائل اور صحت سے متعلق مسئلوں میں بھی مبتلا کردیتی ہے۔نازش جہانگیر نے بتایا کہ وہ اس بیماری سےلڑنے کیلئے اپنی مدد آپ کے تحت خود کھڑی ہوئیں اور ان لوگوں کو توجہ کا مرکز بنایا جن کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آچکے تھے۔انہوں نے بتایا کہ ایسا کرنے سے انہیں لوگوں کی مایوسیوں کی وجوہات کا پتہ چلا اور پھر اپنی بیماری سے نکنے میں مدد ملی۔2015 میں پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کیرئیر کا آغاز کرنے والی نازش جہانگیر نے کہا کہ اس بیماری سے نکلنے کا ایسا کوئی بھی فارمولا نہیں ہے جو اچانک آپ کو خوف سے نکال کر ٹھیک کر دے۔اداکارہ نے کہا کہ میں سب کے لیے دعا کرتی ہوں کہ اس بیماری ک شکار افراد اتنے مضبوط ہوں کہ اپنی اس بیماری کے بارے میں بات کریں اور اس سے لڑیں۔انہوں نے اس بیماری میں مبتلا لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کی زندگی میں بیشتر مقامات پر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب آپ کسی سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے، کسی کی بات بھی سننا نہیں چاہتے اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب آپ کو اپنے دل کی بات کرنا ہوتی ہے اور اپنے اندر رہنے والی افسردگی کا مقابلہ ڈٹ کر کرنا ہوتا ہے۔نازش جہانگیر نے کہا کہ آپ اپنی زندگی میں مثبت چیزیں تلاش کریں اور منفی چیزوں کو نکال باہر کریں، سب کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں، لوگ زندگی کو جس طرح گزارنا چاہتے ہیں انہیں گزارنے دیں اور ہر ایک بارے میں اندازے نہ لگائیں۔