پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا جلد ریلیز ہونے والی ایک ویب سیریز سے اداکاری کے شعبے میں قدم رکھیںگی۔بھارتی ویب سائٹ کے مطابق ثانیہ مرزا صحت کے مسئلے پر بنائی گئی ریئلٹی ڈیجیٹل ایم ٹی وی کی سیریز ’ایم ٹی وی نشیبد‘ میں اداکاری کرتی دکھائی دیں گی۔مذکورہ سیریز کو ٹی وی پر بھی نشر کیا جاتا ہے اور اس سیریز کا پہلا سیزن جنوری 2020 میں نشر کیا گیا تھا۔’اسی سیریز کے دوسرے سیزن کو بھی جلد نشر کیا جائے گا اور ثانیہ مرزا اس سیریز کے دوسرے سیزن کی پانچوں قسطوں میں دکھائی دیں گی۔’ایم ٹی وی نشیبد‘ کے دوسرے سیزن کی کہانی بھارت میں کورونا کے باعث نافذ ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے مختلف بیماریوں اور خصوصی طور پر ٹی بی میں مبتلا افراد کی مشکلات کو دکھایا جائے گا۔سیریز کی مرکزی کہانی ایک نئے شادی شدہ جوڑے کے مسائل کے گرد گھومتی ہے جو کورونا کی وجہ سے اچانک لاک ڈاؤن نافذ ہونے سے کئی مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ثانیہ مرزا مشکلات میں گھرے اسی جوڑے کے مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کی کھوج لگانے سمیت بھارت میں ٹی بی کے مرض پر بھی بات کریں گی۔
ایف بی آر نے پاکستان کی مہنگی ترین شادی کی انکوائری مکمل کرلی۔ بزنس مین کی بیٹی کی شادی کی تقریب کے لیے نجی کنٹری کلب کو 15 کروڑ روپے ادائیگی کی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق نجی کنٹری کلب کو 120 روز کے لیے بک کیا گیا۔ ایونٹ منیجمنٹ کمپنی کو بھی ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی جبکہ بارات ڈیکوریشن کے لیے بھی ڈیڑھ سے 2 کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔آتش بازی کے لیے ایک کروڑ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ فوٹو گرافی اور اسٹوڈیو کے لیے 95 لاکھ روپے تک دیے گئے جبکہ دو گلوکاروں کو1 کروڑ 5 لاکھ روپے دینے کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریب نکاح کے لیے مولانا کو مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے دیے گئے۔
اسلام آباد (انصار عباسی) مریم نواز نے بالآخر اداروں کے مابین مذاکرات کے حق میں اپنا موقف نرم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ پی ڈی ایم اسی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہے جس کے اہم کھلاڑیوں پر حالیہ ہفتوں کے دوران نواز شریف نے تنقید کی تھی۔بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اگرچہ انہوں نے اعتراف کیا کہ اسٹیبلشمنٹ نون لیگ کے رہنمائوں کے ساتھ رابطے میں ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پس پردہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ان کے والد نے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی حکومت کے خاتمے، نا اہل قرار دیے جانے اور 2018ء کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے حق میں دھاندلی کا قصور وار قرار دیا تھا۔ تاہم، مریم نے پیشگی شرط یہ رکھی ہے کہ مذاکرات کے آغاز کیلئے عمران خان کی حکومت کو ہٹانا ہوگا۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نون لیگ کے موقف میں تبدیلی پس پردہ ہونے والی حالیہ پیش رفت کا نتیجہ ہو سکتی ہے جس کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ملک کے سیاسی منظرنامے میں ’’تبدیلی کی ہوائیں‘‘ چلنا شروع ہو گئی ہیں۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا حصہ سمجھی جانے والی جماعتوں کے ساتھ مبینہ طور پر رابطے کیے گئے ہیں تاکہ ’’تبدیلی‘‘ کو تبدیل کرنے کے آپشنز پر غور کیا جا سکے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران پس پردہ اہم مذاکرات ہوئے ہیں جو اگرچہ براہِ راست نہیں ہیں لیکن ’’حوصلہ افزا‘‘ ضرور ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات پی ڈی ایم کی تین جماعتوں پیپلز پارٹی، نون لیگ اور جے یو آئی ف کے ساتھ کیے گئے۔ ان رابطوں میں پنجاب اور مرکز میں تبدیلی پر بات ہوئی۔گزشتہ اتوار کو پی ڈی ایم رہنمائوں کی اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں اہم رہنمائوں بشمول نواز شریف، آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی جبکہ دیگر شرکاء میں شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف، مولانا فضل الرحمٰن، آفتاب شیرپائو، اختر مینگل اور اویس نورانی شامل تھے۔اگرچہ پی ڈی ایم رہنمائوں نے ملاقات کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا ہے کہ کس نے کس سے رابطہ کیا، لیکن کہا جاتا ہے کہ اس میں پنجاب کا معاملہ اور عثمان بزدار پر پہلے مرحلے کے طور پر بات کی گئی تاکہ تبدیلی لائی جا سکے، جس کے بعد مرکز میں تبدیلی آئے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت عثمان بزدار کیخلاف عدم اعتماد کا ووٹ لانے کے حق میں تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ق لیگ والے بھی حمایت کریں گے۔پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ جو تبدیلی بھی آئے گی وہ آئین کی حدود میں رہتے ہوئے آئے گی۔نون لیگ کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ وہ اس آپشن (بزدار کی تبدیلی) پر بات کریں گے لیکن کہا جاتا ہے کہ نواز شریف کو اِس وقت دلچسپی نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر بزدار کو تبدیل بھی کیا گیا اور ان کی جگہ نون لیگ کا اتحاد آیا تو اس سے کچھ تبدیل نہیں ہوگا تاوقتیکہ نظام کو درست کیا جائے۔پیپلز پارٹی پہلے مرحلے میں پنجاب میں تبدیلی کی حامی ہے۔ مذاکرات میں مولانا فضل الرحمٰن کیلئے چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر بھی بات چیت ہوئی لیکن کہا جاتا ہے کہ مولانا ایسی کسی بھی ’’ہائبرڈ تبدیلی‘‘ کیلئے تیار نہیں۔مرکز میں اِن ہائوس تبدیلی کے حوالے سے پس منظر میں ہونے والی بات چیت میں احسن اقبال اور خواجہ آصف سمیت کچھ نام سامنے آئے ہیں۔عثمان بزدار وزیراعظم عمران خان کے چہیتے ہیں جن کی وجوہات صرف وہی جانتے ہیں۔پی ٹی آئی میں کئی لوگ انہیں پسند نہیں کرتے جبکہ جو لوگ اہم ہیں وہ بھی وزیراعلیٰ کو غیر موثر اور نا اہل سمجھتے ہیں۔ لیکن عمران خان ڈٹے ہوئے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب وہی رہیں گے چاہے کچھ ہو جائے۔پی ڈی ایم کے ایک سینئر عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ پس منظر میں تجاویز پر بات ہوئی ہے تاکہ بزدار کیخلاف عدم اعتماد کا ووٹ لایا جائے، انہیں تبدیل کیا جائے اور اس کا نتیجہ عمران خان حکومت کے خاتمے پر ہوگا۔ذریعے کا کہنا تھا کہ تبدیلی اس وقت تک اہم نہیں ہوتی جب تک نظام درست نہ ہو۔حکومت کیخلاف اپوزیشن کی تحریک کے دوران، وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ جمعرات کو حکومتی اتحادیوں سے ملاقات کی جنہوں نے ان کے سامنے مسائل و شکایات کے انبار لگا دیے کہ انہیں ترقیاتی فنڈز نہیں مل رہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور فیصلہ سازی میں انہیں دور رکھا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ، وزیراعظم عمران خان کو اس وقت مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے حکومتی اتحادی جماعتوں کے حق میں ظہرانہ دیا جس میں ق لیگ والوں نے شرکت نہیں کی۔اس صورتحال کے دوران مونس الٰہی نے ٹوئیٹ کی کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی جماعت کا اتحاد ظہرانوں کیلئے نہیں بلکہ ووٹ کیلئے تھا۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اتحادیوں کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے تمام مسائل جلد حل کیے جائیں گے اور وہ ان کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اتحادیوں کا اچانک عدم اطمینان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں اور پی ڈی ایم جماعتیں انہیں محسوس بھی کر رہی ہیں۔میڈیا میں ق لیگ کے ذرائع کے حوالے سے اطلاعات ہیں کہ پارٹی پی ٹی آئی کے رویے سے خوش نہیں اور شکایت کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اکثر لاہور آتے ہیں لیکن کبھی ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی سے ملاقات نہیں کرتے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، انہوں (وزیراعظم) نے ق لیگ کے علیل صدر چوہدری شجاعت کی خیریت بھی دریافت نہیں کی۔وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ، جن کا تعلق ق لیگ سے ہے، کے حوالے سے بھی میڈیا نے بتایا کہ ق لیگ کے پاس عوام کو دکھانے کیلئے ایسی کوئی کارکردگی نہیں جو اب تک حکومت نے دکھائی ہو۔ ان کے حوالے سے میڈیا میں بیان آیا تھا کہ اگر پارٹی نے اپنے معاملات درست نہ کیے تو ہمارے لیے پی ٹی آئی کے ساتھ مزید چلنا بہت مشکل ہے۔ایم کیو ایم کے لیڈر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا، جے ڈبلیو پی چیف شاہ زین بگٹی اور دیگر نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس کے درمیان بات چیت ہوئی۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کے کورونا سے نمٹنے کے اقدامات اور انسداد پولیو مہم کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا، بل گیٹس نے انسداد پولیو مہم میں پاک فوج کے تعاون کو سراہا ، مقامی قائدین اور با اثر شخصیات کے ذریعے پولیو مہم مؤثر بنانے کے اقدامات کی تعریف کی۔آرمی چیف نے کہا کہ پولیو مہم کا سہرا کارکنوں، موبائل ٹیموں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور طبی عملے کے سر ہے۔
وہ جس کی ایک کال پر پورا کراچی بند ہو جاتا تھاوہ الطاف حسین صفائی کے کام پر لگ گئےفرش پر جھاڑو لگاتے لگاتے،دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر خراٹے لینے لگےوقت وقت کی بات ہے،کہتے ہیں زمانہ بہترین استادہے یا تو الطاف حسین کی ایک کال پر پورا کراچی بند ہو جاتا،فیکٹریوں میں آگ لگا دی جاتی اور دکانیں تباہ کر دی جاتی تھیں یا پھر آج کا وقت ہے کہ اس کا پرسان حال کوئی نہیں۔وہ ایم کیو ایم جس کے سامنے بڑی بڑی سیاسی پارٹیاں ناکام ہو گئیں آج اس کے حصے بخرے ہو گئے۔یہاں تک کہ انتہائی مطلوب ہونے کے بعد جب کراچی سے لندن جا پہنچے تب بھی الطاف حسین کی ایک فون کال پر پورا کراچی شہر بند کرا دیا جاتا اور ہر طرف دنگے فساد نظر آتے تھے۔مگر آج ان کی حالت دیکھیں تو ترس آتا ہے۔سوشل میڈیا پر ایم کیو ایم کے بانی راہنما الطاف حسین کی ویڈیو وائرل ہو چکی ہے جس میں انہیں دیکھا جا سکتا ہے کہ اپنے گھر میں صحن کی صفائی کر رہے ہیں۔پانی والے پائپ کے ساتھ فرش دھو رہے ہیں اور وائپر بھی لگا رہے ہیں۔ویڈیو کے دوسرے لمحے انہیں دیکھا گیا کہ وہ بیسن کے ساتھ دیوار کے ساتھ لگے ہوئے سو رہے ہیں اور خراٹے مار رہے ہیں۔وہ اسٹول پربیٹھے ہیں ان کے ہاتھ میں پانی والا پائپ اور جھاڑو بھی ہے مگر وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سو رہے ہیں۔الطاف حسین نے صفائی کرنے کے لیے لانگ شوز اور سر پر ٹوپی اور جسم پرہیوی جیکٹ بھی پہن رکھی ہے۔ان کی صفائی کرتے ہوئے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور لوگ طرح طرح کے تبصرے کرتے نظر آ رہے ہیں
سن دو ہزارمیں معمولی اکثریت کے ساتھ جب جارج ڈبلیو بش یا بش جونیئر امریکا کے صدر منتخب ہو ئےاور اقتدار سنبھالا تو دُنیا کو حیرت تھی کہ بظاہر احمق نظر آنے والا شخص بھی امریکا کا صدر بن سکتا ہے۔پھر اس وقت بش جونیئر کی اکثریت اتنی معمولی تھی کہ لوگوں نے سوچا ایسا امریکی نظام کی غلطی سے ہو اہے، اور بش جونیئر دوسری مرتبہ صدر منتخب نہیں ہو سکیں گے، مگر بش نے دو بڑی جنگیں شروع کیں ۔ایک افغانستان اور دوسری عراق میں، پھر بھی 2004ء میں دوسری مرتبہ امریکا کے صدر منتخب ہو گئے۔بش جونیئر کے وہ آٹھ سال دُنیا کے لئے تباہ کن تھے اور اُن کے دوسری مرتبہ انتخاب نے یہ واضح کر دیا تھا کہ ان کی پہلی جیت محض اتفاقی نہیں تھی بلکہ امریکی عوام کی بڑی تعداد ،ری پبلیکن پارٹی کی دائیں بازو کی قدامت پرستی اور قوم پرستی پر یقین رکھتی ہے۔اسی طرح 2016ء میں امریکی صدارتی انتخاب نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکا کا صدر بنا دیا تو ایک بار پھر دُنیا اور خود امریکی عوام کی بڑی تعداد سناٹے میں آگئی تھی کہ نہ جانے یہ نیم پاگل شخص کیا گل کھلائے گا لیکن جس طرح بش جونیئر کا انتخاب کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا، اسی طرح ٹرمپ کا انتخاب بھی امریکی عوام کی کوئی انجانے میں غلطی نہیں بلکہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو تین نومبر 2020ء کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ سات کروڑ سے زیادہ ووٹ نہ لے پاتے۔ یاد رہے کہ یہ امریکی صدارتی انتخابات کی تاریخ میں کسی امیدوار کو پڑنے والے ووٹوں کی دوسری بڑی تعداد ہے۔حالیہ انتخابات میں ٹرمپ نے مجموعی ڈالے گئے ووٹوں کا سینتالیس فی صد حصہاپنےنام کیا ہے جو کہ نصف سے کچھ تھوڑا ہی کم ہے اور کل پچاس امریکی ریاستوں یا صوبوں میں سے چوبیس میں ٹرمپ کامیاب ہوئے، جن میں فلوریڈا اور ٹیکساس جیسی ریاستیں بھی شامل ہیں۔پھر ایسا بھی نہیں کہ چار سالہ دورِ اقتدار میں ٹرمپ کی حرکتیں کسی سے ڈھکی چھپی ہوں۔ امریکی عوام کوئی اندھے بہرے تو نہیں انہوں نے سب دیکھا سنا اور پھر بھی اتنی بڑی تعداد میں ٹرمپ کو ووٹ دیئے۔دراصل امریکی صدارتی انتخابی نظام کی غالباً سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہاں ایسے لوگ بھی صدر منتخب ہوتے رہے ہیں جنہوں نے پاپولر یا عوامی ووٹ تو کم حاصل کئے مگر چونکہ ریاستی ووٹ زیادہ ہوتے ہیں اس لئے اس بنیاد پر جیت ممکن ہوتی ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جن ریاستوں کی آبادی زیادہ ہے ان کے پاپولر اور الیکٹورل ووٹ دونوں زیادہ ہوتے ہیں لیکن اگر بڑی ریاستوں میں کوئی امیدوار 51 فی صد اکثریت سے جیتے تو اس کے سارے الیکٹورل ووٹ کامیاب امیدوار کو مل جاتے ہیں۔جس سے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ پورے امریکا میں کم پاپولر ووٹ لینے والے بھی زیادہ الیکٹورل ووٹ کی بدولت صدر بن جاتے ہیں۔ امریکا میں2016ء کے انتخاب میں ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کے مقابلے میں تیس لاکھ پاپولر ووٹ زیادہ حاصل کئے تھے اور اب یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی صدر لگاتار دوبار ووٹوں کی دوڑ ہار جائے۔ٹرمپ کا دور اس حوالے سے ضرور یاد رہے گا کہ نہ صرف انہوں نے عالمی سطح پر نقصان دہ اقدام کئے بلکہ عجیب و غریب بیانات بھی دیتے رہے۔ مثلاً ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ کسی کو گولی بھی مار دیں تو بھی ان کے ووٹ بینک پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ذرا سوچئے کیا کوئی معقول آدمی اس طرح کا بیان دے سکتا ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کو ان کا یہی جارحانہ مزاج پسند آتا رہا۔جوبائیڈن نے حالیہ انتخاب میں پنسلوانیا، وسکانسن اور مشی گن میں ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی اور وہی اُن کی جیت کا باعث بنی۔ ان ریاستوں میں غالباً لوگ ٹرمپ کے رویوں اور حرکتوں سے اُکتا چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے جوبائیڈن کو منتخب کیا۔پھر ٹرمپ بڑے کھل کر نسل پرستانہ بیانات دیتے رہے ۔مثلاً انہوں نے سفید فام اکثریت کو برتری پر یقین رکھنے والوں کی مذمت نہیں کی بلکہ انہیں تیار رہنے کیلئے کہا۔ اس طرح ٹرمپ بڑی بڑی شیخیاں بگھارتے رہے اور مسلسل خود اپنی تعریفیں کرتے رہے اوربار بار کہتے رہے کہ وہ سب سے ذہین ہیں، پھر مختلف سازشوں کا بھی ذکر کرتے رہے جن کا غالباً کوئی وجود نہیں تھا۔ہارنے کے دوران بھی صدر ٹرمپ نے کسی شائستگی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ دھاندلی کے بارے میں بغیر شواہد کے دعوے کرتےرہے اور انصاف کا مطالبہ کیا پھر وہ طرح طرح کی ٹویٹ کرتے رہے جن میں قانونی اور غیر قانونی ووٹوں کے بارے میں نکات اٹھانے کی کوشش کرتے رہے اور پھر اعلان تک کر دیا کہ وہ انتخاب جیت چکے ہیں۔پھر دعویٰ کیا کہ انہیں سات کروڑ دس لاکھ ووٹ ملے ہیں۔ جو کہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے کم کر دیئے گئے جو ان کے انتخابی عملے کو دیکھنے نہیں دیئے گئے۔ٹرمپ نے ایک اعتراض یہ بھی کیا کہ لاکھوں افراد کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے والے بیلٹ پیپر بھیجے گئے۔ جنہوں نے یہ مانگے بھی نہیں تھے۔لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ کو شکست میں کورونا وائرس سے امریکا میں ہونے والی ہلاکتوں نے بھی اہم کردار ادا کیا اور لوگ ان کے انتظام سے خوش نہیں تھے۔ امریکا میں اب تک دو لاکھ تیس ہزار افراد کورونا کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں جو دُنیا میں سب سے بڑی تعداد ہے۔صدر بائیڈن کی جیت میں ایک اہم عنصر اس بات کا تھا کہ بائیڈن اپنے آپ کو ایک ایسے امیدوار کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہے جو تنازعوں سے مبرا تھا اور جسے لوگ پسند کرنے لگے تھے۔ بائیڈن پچھلے پچاس سال سے سیاست میں ہیں۔ اس دوران اُن کی شہرت مجموعی طور پر بہت اچھی رہی ہے۔ پھر لوگ ٹرمپ کے اس ’’تبدیلی‘‘ کے جھانسے سے بھی نکل گئے کہ وہ امریکا کو دوبارہ عظیم ملک بنا دیں گے۔ٹرمپ نے امریکا کی ایک ایسی تصویر پیش کی تھی جس میں ظاہر کیا گیا تھا کہ پورا ملک تباہ ہو چکا ہے جسے صرف ٹرمپ ٹھیک کر سکتے ہیں،مگر ان کی صدارت میں متوسط اور نچلے طبقے کے لوگ زیادہ متاثر ہوئے ۔ٹرمپ جیسے لوگ خود نہیں تبدیل ہوتے نہ ہی حالات سے کچھ سیکھتے ہیں بلکہ ایک ہی جیسے منتر پڑھتے رہتے ہیں کہ میں یہ کردوں گا وہ کردوں گا،مگر کر کچھ نہیں پاتے صرف چند نمائشی نمونوں کے سوا ،پھر یہ خود سے اختلاف رکھنے والوں کو برداشت بھی نہیں کر پاتے، خود پے در پے تنازعوں کا شکار رہتے ہیں مگر یہ ماننے پر تیار نہیں ہوتے کہ ان میں صلاحیت ہے اور نہ ان لوگوں میں جنہیں انہوں نے اپنے اردگرد جمع کر رکھا ہوتا ہے۔گوکہ ملکی معیشت کے حوالے سے ٹرمپ نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی مگر مجموعی طور پر صرف معیشت کو پیمانہ بنانا بھی ٹھیک نہیں ہے۔ مثلاً زیادہ تر فوجی آمروں کے دور میں معیشت کی مجموعی صورت حال بہتر نظر آتی ہے۔ جس میں آمروں کی صلاحیت سے زیادہ دیگر عوامل کا دخل ہوتا ہےجیسا کہ چلی کے آمر یپنوشے اور پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق اور مشرف کے ادوار میں معاشی کارکردگی نسبتاً بہتر رہی مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ایسا مصنوعی طور پر کیا گیا اور ان کے ادوار میں ملک کے سماجی تاروپود کو شدید نقصان پہنچا ہے۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو ری پبلیکن صدور نے دنیا کو زیادہ جنگوں میں جھونکا ہے۔ مثلاً صدر ریگن نے جنرل ضیاء الحق کی مدد سے پاکستان کو افغان جنگ میں جھونکا جس کے نقصانات ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔ ملک میں کلاشنکوف کلچر اور ہیروئن کلچر کا آغاز بھی اسی دور میں ہوا۔پھر ری پبلیکن صدر بش جونیئر نے جنرل مشرف کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایک اور افغان جنگ میں دھکیلا جس کے تباہ کن اثرات اب تک سامنے آرہے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی نے دُنیا بھر میں بشمول پاکستان کے قدامت پرستی کو فروغ دیا اور غیر جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا ہے۔ اگر کوئی فوجی آمر ان کے اشاروں پر چلتا رہے تو انہیں کوئی مسئلہ نہیں کہ وہاں جمہوری حقوق کی کس طرح سے پامالی ہو رہی ہے۔ جس طرح صدر ریگن اور بش سینئر اور جونیئر دونوں کرتے رہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی نظام میں کسی صدر کو دو مرتبہ سے زیادہ منتخب ہونے کی اجازت نہیں اس کا مطلب ہے کہ اگر ٹرمپ چاہیں تو 2024ء میں ایک بار پھر صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مگر اس کے لئے انہیں دوبارہ ری پبلیکن پارٹی کے مراحل سے گزرنا ہو گا۔صدر بائیڈن کی جیت میں ایک اور فیصلہ کن کردار ان کو نائب صدارت کی امیدوار کملا ہیرس نے بھی ادا کیا۔وہ نہ صرف خواتین کے ووٹ بلکہ بڑی تعداد میں بھارتی ووٹ دلانے میں بھی کامیاب ہوئیں ۔ نائب صدارت کا عہدہ اس لئےزیادہ اہم ہے کہ بائیڈن اس وقت 78 برس کے ہیں اور ان کی صدارت کے بعد کملا ہیرس ایک موزوں صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آسکتی ہیں۔ جس کے لئے ان کا بھارتی نژاد ہونا بھارتی امریکیوں کے لئے بڑا معنی خیز ہو گا۔گو کہ جو بائیڈن تین مرتبہ صدارتی امیدوار بننے کی کوشش کر چکے تھے۔ تیسری کوشش میں وہ نہ صرف امیدوار بنے بلکہ میدان بھی مار لیا۔ پھر ٹرمپ کے غیر سائنسی رویے نے بھی بائیڈن کی خاصی مدد کی۔ ٹرمپ تو کھلے عام سائنسی طور پر ثابت شدہ حقائق پر سوال اٹھاتے رہے۔ مثلاً خود کورونا وائرس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلاتے رہے۔جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد سیاہ فام لوگوں کے غم و غصے نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ بڑی تعداد میں مظاہرے ہوئے جس کے جواب میں ٹرمپ نے مزید جارحانہ رویہ اپنایا، جبکہ بائیڈن نے خاصا محتاط رویہ اختیار کیا۔ انتخابی مہم کے دوران بھی بائیڈن ٹرمپ کے مقابلے میں زیادہ تازہ دم نظر آئے۔ ٹرمپ نہ صرف تھکاوٹ کا شکار دکھائی دیئے بلکہ انہوں نے بڑی لاپروائی سے کام لیا اور مسلسل بدزبانی بھی کرتے رہے، جس کا بائیڈن کو فائدہ ہوا۔اپنے چار سالہ دورِ صدارت میں ٹرمپ ایک ایسے صدر کے طور پر سامنے آئے جس نے انتشار کو ہوا دی اور معاشرے میں نسلی و معاشی تفریق کو مزید پھیلائو دیا جبکہ بائیڈن ایک پرسکون شخصیت کے طور پر سامنے آئے۔ بائیڈن نے کسی ایسے امیدوار کو نائب صدارت کے لئے نہیں چنا جو نسبتاً زیادہ بائیں بازو کی طرف جھکا ہوا ہو ،جن میں برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن شامل تھے۔ ان کے مقابلے میں کملا ہیرس نسبتاً معتدل سمجھی جاتی ہیں۔ بائیڈن ماحول اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی ٹرمپ کے غیر سائنسی رویے سے بہت دور تھے بلکہ انہوں نے برنی سینڈرز کے مؤقف کو اپنایا جس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ بائیڈن صدر بننے سے پہلے ہی اپنی ٹیم تشکیل دے لیں گے اور اپنی کابینہ کا اعلان بھی کردیں گے، گو کہ امریکی صدر کو اعلیٰ عہدوں پر اپنے امیدوار نامزد کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔لیکن بہت سے سینئر عہدے ایسے ہی جن کے لئے سینیٹ کی توثیق کی ضرورت ہوتی ہے، صدر کے منتخب کردہ لوگوں کو سینیٹ کی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر انٹرویو دنیا ہوتا ہے، بعد رائے شماری کے ذریعے انہیں مقرر یا مسترد کر دیا جاتا ہے۔ویسے جو بائیڈن کے انتخاب جیتنے کے بعد پہلی تقریر نے بڑا اچھا تاثر قائم کیا ہے، انہوں نے قوم کو متحد کرنے کی بات کی ہے، ویسے بھی وہ تقریباً ساڑھے سات کروڑ ووٹ لے کر امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے صدر ہوں گے، سب سے اچھی بات جو انہوں نے کی وہ یہ تھی اپنے حریفوں کو دشمن تصور کرنا غلط ہوتا ہے۔ اسی طرح کملاہیرس نے بھی اپنی تقریر میں لوگوں کے زخم مندمل کرنے کی بات کی اور کہا کہ اخلاقیات اور سائنس کو اولیت دینا ہوگی۔ یہ دونوں اہم باتیں ہیں، جن سے دیگر ممالک بھی کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔کملا ہیرس نہ صرف پہلی خاتون نائب صدر ہیں بلکہ پہلی افروایشیائی بھی ہیں۔ ان کے والد افریقی نژاد اور والدہ بھارتی نژاد ہیں۔
بائیڈن کی کامیابی سے دُنیا کے مختلف خطوں اور ممالک میں کیا توقعات کی جا سکتی ہیں
پاکستان
توقع ہے جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کریں گے.سابقہ ڈیموکریٹک صدر اوباما نے اس خطے میں کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ افغان جنگ کے خاتمے کیلئے پہلے اپنی فوجیوں کی تعداد بڑھائی اور پھر کم کی۔اس لئے توقع کی جانی چاہئے کہ صدر بائیڈن پاکستان میں جمہوری قوتوں کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کریں گے۔ یاد رہے کہ صدر اوباما نے جنرل مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد پاکستان میں کیری لوگر بل کے ذریعے بڑی امداد دی تھی جو سویلین شعبوں جیسے تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے تھی اور اس میں فوجی امداد کا پہلو تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ جوبائیڈن سے توقع کی جانی چاہئے کہ ایک بار پھر پاکستان کے لئے بڑے امدادی منصوبے کا اعلان کریں ،ساتھ ہی تجارت میں پاکستان کی مدد کریں اور پاکستان پر سی پیک سے الگ ہونے کے لئے ٹرمپ کا دبائو ختم کریں۔
افغانستان
امن کی بحالی بلکہ اس کی تعمیر و ترقی کے لیے بھی کام ہونے کی توقع ہے.افغانستان کے حوالے سے بائیڈن سے توقع کی جا سکتی ہےکہ وہ نہ صرف امن کی بحالی بلکہ اس کی تعمیر و ترقی کے لئے بھی کام کریں گے۔ اس سے قبل 1992ء میں منتخب ہونے والے امریکی صدر نے سب سے بڑی غلطی یہ کہ تھی کہ افغانستان کے معاملات سے امریکا کو بالکل الگ کر لیا تھا اور افغانستان کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیاتھا، گوکہ اس میں افغان مجاہدین کا بڑا دخل تھا، جو آپس میں دست و گریباں رہے اور کوئی مستحکم قومی حکومت تشکیل نہ دے سکے۔اب بائیڈن کو وہ غلطی نہیں دہرانی چاہئے اور اب تک جو اربوں ڈالر امریکا افغان جنگ پر خرچ کر چکا ہے اس کے بجائے اتنے ڈالر اگر افغانستان کی تعمیر و ترقی پرخرچ کئے جائیںتو طالبان کا خطرہ ختم ہو سکتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ افغان طالبان کابل پر حملے کر رہے ہیں،جس کا امریکا کو نقصان کم اور افغان عوام کو زیادہ ہو رہا ہے۔
چین
کیا چین امریکی تعلقات بہتری کی طرف جائیں گے اور کشیدگی کم ہوگیصدر ٹرمپ نے چین کی طرف بڑا ہی معاندانہ رویہ رکھا تھا اور اس کے خلاف آسٹریلیا، بھارت اور جاپان کو ملا کر ایک چار فریقی اتحاد بنانے کی کوشش کی۔ نہ صرف یہ بلکہ چین نے پاکستان کو سی پیک میں شامل کر کے یہاں جو منصوبے شروع کئے ان کی بھی مخالفت کی۔اب بائیڈن سے توقع کی جانی چاہئے کہ وہ چین کی جانب اپنا رویہ تبدیل کریں گے اور مل جل کر چلنے کی پالیسی اپنائیں گے۔ اس خطے کو ایسی پالیسی کی ضرورت نہیں جس میں آپ یاچین کے ساتھ ہوں یا امریکا کے ساتھ بلکہ ایسی حکمت عملی بنانے چاہئے جس میں سب مل کر اس خطے کی تعمیروترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ٹرمپ کو چین کو گھیرنے کی پالیسی یا اس پر پابندیاں لگانے کی پالیسی اب ختم ہونی چاہئے۔ چین نہ صرف ایک بڑی طاقت ہے بلکہ امریکا کے ساتھ تجارت میں اس کا بہت بڑا حصہ بھی ہے۔ دونوں معیشتیں ایک دوسرے پر بڑی حد تک انحصار بھی کرتی ہے۔ اس لئے ممکنہ طور پر بائیڈن کی جیت سے چین امریکی تعلقات بہتری کی طرف جائیں گے اور کشیدگی کم ہوگی۔اس کے ساتھ بائیڈن کو چین میں انسانی حقوق کے بارے میں امریکی مؤقف میں تبدیلی لانی ہو گی، گو چین کا ماضی اس سلسلے میں کچھ اچھا نہیں رہا مگر امریکا ایسے دوستوں کو رعایت دیتا رہتا ہے۔ جو بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ماضی رکھتے ہیں۔ مگر چین پر امریکا بہت شور مچاتا رہتا ہے ، اس رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
بھارت
کیا بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوششوں میں کمی ہوسکتی ہےبائیڈن کے آنے کے بعد امریکا کو بھارت کی جانب پالیسی میں بڑی تبدیلی کا امکان تو نہیں ہے، مگر جس طرح ٹرمپ نے مودی کو بڑھاوا دیا اور اس کی ہمت افزائی کی اس سے اجتناب کی توقع رکھی جا سکتی ہے۔گزشتہ اگست میں بھارت نے مودی کی قیادت میں کشمیر کو یکطرفہ اور خود بھارتی آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت سے الحاق کا اعلان کر کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ اس معاملے میں گو کہ بائیڈن سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ بھارت کو کشمیر سے نکال باہر کریں لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے بھارت کی مذمت میں ایک لفظ نہیں کہا، اس رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ امریکا کی طرف سے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی کوششوں میں کمی آنی چاہئے۔ اس خطے کا مستقبل اچھے باہمی اور ہمسائیگی کے تعلقات میں ہے۔ بھارت پاکستان اور چین اس خطے کے اصل باسی اور وارث ہیں، نہ کہ امریکا جیسے اس خطے کو مزید جنگ میں جھونکنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔اگر امریکا بھارت پر سے فوجی امداد کا ہاتھ اٹھا لے تو اس خطے میں نسبتاً بہتری کی توقع ہے لیکن چونکہ امریکا دنیا بھر میں اسلحہ کی تیاری اور فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے اس لئے خطے میں بھی کشیدگی کا فائدہ امریکی اسلحہ ساز کمپنیاں اٹھاتی ہیں۔ اس معاملے میں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن دونوں جماعتیں یکساں رویوں کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں، اس لئے تبدیلی کا امکان کم ہے۔
ایران
اُمید ہے، سابق صدر اوباما کے معاہدے بحال کریں گے، ایران کو دوبارہ عالمی مرکزی دھارے میں لانے کا موقع فراہم کیا جائے گا.ٹرمپ نے ایران سے بھی معاہدہ ختم کر کے اس خطے میں امن کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔ گوکہ پچھلے ڈیموکریٹک صدر اوباما نے ایران سے معاہدہ کر کے عربوں کی ناراضی مول لی تھی لیکن وہ ایک اچھا قدم تھا۔ عرب ممالک نہیں چاہتے کہ ایران پر سے پابندیاں ختم ہوں اور اس کے عوام معاشی مشکلوں سے باہر نکلیں۔عرب ممالک ایران کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ایران عربوں کو ،جس کا فائدہ امریکا کو ہوتا ہے ،کیوں کہ وہ اربوں ڈالر کے ہتھیار عربوں کو سالانہ فروخت کرتا ہے۔ اب توقع کی جانی چاہئے کہ بائیڈن صدر بننے کے بعدسابق صدر اوباما کے معاہدے بحال کریں گے اور ایران کو دوبارہ عالمی مرکزی دھارے میں لانے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔بہرحال بائیڈن کی جیت نے دنیا میں ایک بہتر ماحول کی توقع پیدا کی ہے۔ ٹرمپ کی بے قوفیوں سے دُنیا کو خاصا نقصان ہو چکا ہے اور اب جیساکہ خود بائیڈن اور کملا ہیرس نے کہا زخموں کو مندمل کرنے کی ضرورت پر پاکستان کو چین اور امریکا سے تعلقات میں توازن رکھنا ہو گا اور طالبان کو غیر مشروط حمایت کی پالیسی ترک کرنی ہو گی۔ اس خطے کے مستقبل میں ہمیں جدید جمہوری قوتوں کی ضرورت ہے نہ کہ قرونِ وسطیٰ کی سوچ اور رویوں کی جو طالبان کا خاصہ ہے۔
نگورنوکاراباخ کے تنازع پر آذربائیجان اور آرمینیا میں گزشتہ 2 ماہ سے جاری جنگ اختتام کو پہنچ گئی، دونوں ممالک کے درمیان روس کی معاونت سے امن معاہدہ طے پاگیا ہے۔ آذربائیجان کے صدر نے جنگ بندی معاہدے کو اپنے ملک کی فتح قرار دیا ہے۔عالمی طور پر تسلیم شدہ آذربائیجان کے علاقے نگورنوکاراباخ کے معاملے پر امن معاہدے کو آذربائیجان کی فتح قرار دیا جارہا ہے۔معاہدے پر آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، آرمینیائی وزیر اعظم نکول پشنیان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دستخط کیے۔آذربائیجان کے صدر نے معاہدے کے بعد اپنے ملک کی فتح کا اعلان کیا، معاہدے پر عمل درآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔صدر الہام علیوف کے فتح کے اعلان کے ساتھ ہی آذری قوم سڑکوں پر نکل آئی، آذربائیجان کے صدر نے دعویٰ کیا کہ آج تاریخی دن ہے، اب نگورنو کاراباخ کا تنازع اختتام کو پہنچ گیا۔انہوں نے کہا کہ میں شاندار فتح پر قوم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، اب کاراباخ آذربائیجان ہے اور یہ ہماری فتح کی علامت ہے۔دوسری طرف آرمینیائی وزیراعظم نکول پشنیان نے اپنی شکست تسلیم کرلی اور کہا کہ فوجی وسائل ختم ہونے کی وجہ سے معاہدہ کیا ہے اور یہ سمجھوتہ میرے لیے بھی تکلیف دہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کے مشورے پر ہی امن کا معاہدہ کیا، جس کی وجہ فوجی وسائل ختم ہونا اور مزید تازہ دم فوجیوں کا نہ ہونا ہے۔آرمینیائی وزیراعظم نے مزید کہا کہ فوجی کئی ہفتوں سے لڑ رہے تھے، جن کو آرام کی ضرورت تھی، اگر یہ معاہدہ نہ کرتے تو ہمیں مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑتے۔معاہدے کے مطابق آرمینیا کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقے آذربائیجان کے پاس ہی رہیں گے اور دیگر نواحی علاقوں سے بھی آرمینیائی فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔اس معاہدے کے رو سے حال ہی میں آرمینیا کے قبضے سے چھڑائے گئے علاقے شوشا کا کنٹرول آذربائیجان کے پاس رہے گا اور یہ دفاعی لحاط سے نہایت اہم علاقہ ہے۔آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کئی ہفتے جاری رہنے والی جنگ میں مارنے والے افراد کی متضاد اطلاعات ہیں تاہم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے دونوں ممالک کی جنگ میں 5 ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔آذربائیجان کے صدر کی جانب سے فتح کے اعلان کے بعد ملک بھر میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور علاقائی رقص کرتے رہے، فتح کا جشن ساری رات جاری رہا، خواتین کی بھی بڑی تعداد آذری پرچموں اور فوجی جوانوں کی تصاویر لیے سڑکوں پر نکلی، دارالحکومت باکو میں جگہ جگہ فتح کے جشن کی ریلیاں نکالی گئیں جس میں نوجوان، بچے اور بوڑھے بھی شریک تھے۔ادھر آرمینیا میں آذربائیجان سے امن معاہدے کے بعد عوام میں اشتعال پایا جاتا ہے اور وزیراعظم کے اعلان کے 20 منٹ بعد ہی عوام سڑکوں پر نکل آئے۔دارالحکومت یریوان میں معاہدے کے خلاف شہریوں نے احتجاج کیا اور ری پبلک اسکوائر پر سرکاری عمارتوں اور پارلیمنٹ میں گھس گئے،جنہوں نے پارلیمنٹ میں گھس کر احتجاج کیا اور ارکان سے فوری استعفوں کا مطالبہ کیا جبکہ مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری عمارتوں میں توڑ پھوڑ بھی کی۔
ترکی کے تاریخی صوبے کی مقامی حکومت نے کچرا اٹھانے کے لیے گدھوں کو سرکاری ملازم کے طور پر بھرتی کرلیا۔ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع ماردین صوبے کے تاریخی ضلع Artuklu کی مقامی حکومت نے کوڑا کرکٹ صاف کرنے کے لیے گدھوں کی خدمات حاصل کرلیں۔میونسپلیٹی کارپوریشن نے اس کام کے لیے باقاعدہ گدھوں کو بھرتی کیا جو دن بھر میں صرف 6 گھنٹے کام کریں گے اور مختلف علاقوں سے کچرا جمع کر کے اُسے مقررہ مقام پر پہنچائیں گے۔گدھے کے ساتھ ایک سرکاری ملازم بھی ہوگا جو کچرے دان سے کوڑا جمع کر کے اُسے پشت پر رکھی ہوئی بوری میں ڈالے گا۔ایک گدھے کو 7 سال کے لیے ملازمت دی جائے گی اور مدت ختم ہونے کے بعد اُسے سرکاری اصطبل سے آزاد کردیا جائے گا۔
پولیس نے عزیر بلوچ سے برآمد راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز مواد جلنے کاانکشا ف کردیا جس سے اہم مقدمہ میں لیاری گینگ وار سرغنہ، دہشت گرد عذیر بلوچ کے بری ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔کیس پراپرٹی سٹی کورٹ مالخانہ آتشزدگی میں جل کر خاکستر ہوگئی۔ دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کیخلاف دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سے متعلق کیس میں تفتیشی افسر سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔منگل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے خلاف دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔مقدمہ میں عذیر بلوچ اور مقدمہ کے تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے ۔ پولیس نے عذیر بلوچ سے برآمد راکٹ لانچر اور دھماکہ خیز مواد جلنے کا انکشاف کردیا۔مقدمہ کی سماعت کے دوران بم ڈسپوزل کے اے ایس آئی نے اپنا بیان قلمبند کرادیا۔ گواہ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ عذیر بلوچ سے برآمد تین آر پی جی سیون راکٹ ، چھ رائفل گرینڈ اور دستی بم کو ناکارہ کیا گیا تھا۔دوران سماعت عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ مقدمہ کی کیس پراپرٹی کہاں ہے۔
الیکشن کمیشن نے ارکان قومی اسمبلی کے مالی سال 20-2019کے گوشواروں کی تفصیلات جاری کر دیں۔نور عالم تین ارب کے اثاثوں کے ساتھ سب سے امیر ترین رکن قومی اسمبلی نکلے،کوئٹہ سے رکن اسمبلی مولوی عصمت اللہ 11 لاکھ روپے اثاثوں کے مالک کے ساتھ غریب رکن اسمبلی کی فہرست میں شامل ہیں۔وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر 8،8کروڑ،آصف زرداری 76کروڑ‘بلاول بھٹو ایک ارب 58کروڑ اور وزیردفاع پرویز خٹک 15کروڑ کے اثاثوں کے مالک ہیں ۔عمران خان کا اندرون اور بیرون ملک کوئی کاروبار ہےنہ اپنی کوئی ذاتی گاڑی ،وزیراعظم کے چار غیرملکی اکاونٹس میں 3 لاکھ 31 ہزار 230 امریکی ڈالرز اور 518 پاونڈز موجود ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے پاس 1 کروڑ 99 لاکھ سے زائد کیش بھی موجود ہے،وزیراعظم عمران خان کے پاس 2 لاکھ روپے مالیت کی چار بکریاں بھی موجود ہیں۔وزیراعظم نے فیروزوالہ میں 80 کنال زمین کے عوض 7 کروڑ سے زائد کا ایڈوانس بھی لے رکھا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 8 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ،اسپیکر اسد قیصر 1 کروڑ 26 لاکھ روپے سے زائد رقم کے مقروض بھی ہیں۔وزیر توانائی عمر ایوب خان 1 ارب 21 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں،عمر ایوب خان نے 2 کروڑ روپے کا قرض لے رکھا ہے۔پرویز خٹک اپنی ساس کے اڑھائی کروڑ روپے کے مقروض ہیں۔اراکین قومی اسمبلی کے اثاثہ جات کی تفصیلات میں عبدالقادر پٹیل پانچ کروڑ چھیانوے لاکھ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں ،نوید قمر چھ کروڑ انسٹھ لاکھ کے اثاثوں کے مالک ہیں،آصف زرداری کے پاس نواب شاہ میں کروڑوں کی جائیداد ہے۔ڈیروکی اکثر زمینیں وراثتی ظاہر کی ہیں، آصف زردای کے پاس ایک کروڑ67 لاکھ کا اسلحہ موجود ہے۔پاکستان میں آصف زرداری کا اناسی لاکھ کا کاروبار ہے، گھوڑوں اور پالتو جانوروں کی قیمت ننانوے لاکھ ظاہر کی گئی ہے،بلاول بھٹو کے پاس ایک ارب اٹھاون کروڑ باون لاکھ روپے سے زائد کے اثاثے ہیں، جی سکس فور اسلام آباد میں گھر تحفے میں ظاہر کیا گیا ہے۔بلاول بھٹو کے آٹھ بینک اکاونٹ ہیں دبئی کی مختلف کمپنیز میں اپنے شئیرز ظاہر کیے ہیں، چھ کروڑ چھہتر لاکھ روپے برطانیہ میں وکٹری انٹرپرائزز لیمیڈ کے حوالے سے اثاثے ظاہر کیے۔دبئی میں کروڑوں روپے کے اثاثے اٹھارہ کمپننیز کے حوالے سےظاہر کیے گئے ہیں، خواجہ سعد رفیق کے بارہ کروڑ سے زائد کے اثاثے ہیں قرضوں کی مد میں خواجہ سعد رفیق نے دو کروڑ پچانوے لاکھ ظاہر کیے ہیں،سردار ایاز صادق کے پاس چھ کروڑ سے زائد کے اثاثے ہیں،شاہد خاقان عباسی نے چھ کروڑ کے اثاثے ظاہر کیے ہیں،فضل الرحمان کے صاحبزادے اسعد محمود نےاکائونٹس میں آٹھ لاکھ سے زائد کی رقم ظاہر کی ہے۔اختر مینگل کے اثاثوں کی مالیت لاکھوں میں ہے،پرویز اشرف نے دو کروڑ سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے، مریم اورنگزیب تین کروڑ سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں۔احسن اقبال نے زرعی زمین چار ایکڑ بتائی ہے، ایک اعشاریہ ایک ملین روپے کا ناروال میں رہائشی پلاٹ بھی ظاہر کیا ہے،خرم دستگیر نے بارہ لاکھ نناونے ہزار سے زائد کا کاروبار ظاہر کیا ہے، خرم دستگیر نے بائیس لاکھ کی گاڑی ظاہر کی ہے،ریاض فتیانہ چون لاکھ چھیاسی ہزار سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں، غلام بی بی بھروانہ 37لاکھ سے زائد کے اثاثوں کی مالک ہیں ،برجیس طاہر کے پاس تین کروڑ تیرہ لاکھ سے زائد کے اثاثے ہیں۔رانا تنویر حسین کے پاس بائیس کروڑ اڑسٹھ لاکھ سے زائد کے اثاثے ہیں ،شیخ روحیل اصغر سولہ کروڑ ستر لاکھ سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں، شہبازشریف نے پاکستان میں غیر زرعی اراضی کی قیمت ایک کروڑ سینتالیس لاکھ ظاہر کی ہے، سیکڑوں کنال اراضی تحفے کے طور پر ظاہر کی ہے۔شہبازشریف نے تیرہ کروڑ 78 لاکھ سے زائد اثاثے برطانیہ میں ظاہر کیے ہیں ،شہباز شریف نےبینک اکاونٹ میں چھ کروڑ انتالیس لاکھ روپے ظاہر کیے ہیں۔شہباز شریف نے ان تمام اثاثوں کی قیمت چوبیس کروڑ چوہتر لاکھ ظاہر کی ہے، شہبازشریف نے جائیداد کے اوپر دس کروڑ کا قرضہ بھی ظاہر کیا ہے،شہبازشریف کے لاہور میں چودہ بینک اکاؤنٹس ہیں۔شہبازشریف نے سیکڑوں ایکڑ زرعی اراضی کی قیمت چھبیس لاکھ روپے ظاہر کی ہے، بینک قرضوں اور ہاوس بلڈنگ لون کی مد میں شہباز شریف نے تیرہ کروڑ ساٹھ لاکھ روپے سے زائد ظاہر کئے۔