کراچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جاپان کی ثالثی میں ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، دوسری جانب سعودی عرب اور قطر کے درمیان تقریباً 2 سال سے جاری سرد تعلقات میں نرمی آنے لگی، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے خلیج تعاون کونسل کے ہنگامی اجلاس میں قطری امیر کو مدعو کرلیا گیا ہے، تفصیلات کے مطابق امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کیساتھ جوہری ڈیل کا امکان موجود ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم شینزوآبے کے ساتھ ٹوکیو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ پائی جانے والے کشیدگی کے تناظر میں مصالحت پسندانہ گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا اور امریکا کے درمیان ایک دوسرے کے احترام کا جذبہ پایا جاتا ہے۔
اسلام آباد.بھارت نے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی تقریب حلف برداری میں وزیر اعظم عمران خان کو نہ بلانے کا فیصلہ کرلیا، بھارت نے حلف برداری میں شرکت کیلئے سارک کے دیگر رکن ممالک کے سربراہان کو دعوت دیدی۔ غیرملکی خبر رساںایجنسی نے بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ بھارت عمران خان کو مدعو نہیں کر رہا،خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری تقریب میں پاکستانی ہم منصب عمران خان کو مدعو نہیں کیا جائے گا،نریندر مودی 30 مئی کو دوسری بار بھارتی وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، بھارت نے مودی کی تقریب حلف برداری کے لیے سارک کے دیگر رکن ملکوں کے سربراہوں کو دعوت دی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی وزیر اعظم کو نہ بلانا اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فوری مثبت پیشرفت کا امکان نہیں ہے۔
اسلام آباد بجٹ اسٹریٹجی پیپر (بی ایس پی) برائے 2019-20 آج وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سود کی ادائیگی20 فیصد اضافے کے ساتھ آنے والے مالی سال کے 2.4 ٹریلین روپے ہوجائے گی، ایک ٹریلین روپے کی اضافی مالی وصولیوں کے لئے ایف بی آر نے ان اداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے جہاں وصولیوں کے لئے کریڈٹ کارڈ مشین نصب ہیں، نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے دینے کے بعد سود ادائیگی کی ضرورت میں اضافہ بڑے محصولات کو کھاجائے گا جس سے دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کیلئے مرکز کے پاس کچھ نہیں بچے گا، اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ جانے والے مالی سال کیلئے جی ڈی پی کے 7.3 فیصد مجوزہ خسارہ کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 2019-20 میں جی ڈی پی کے تقریباً 6.3 فیصد تک نیچے لایا جاسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق بجٹ اسٹریٹجی پیپر (بی ایس پی) برائے 2019-20 آج وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سود کی ادائیگی20 فیصد اضافے کے ساتھ آنے والے مالی سال کے 2.4 ٹریلین روپے ہوجائے گی۔ نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے دینے کے بعد سود ادائیگی کی ضرورت میں اضافہ بڑے محصولات کو کھاجائے گا جس سے دیگر ضروری اخراجات پورے کرنے کیلئے مرکز کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ آنے والے مالی سال میں تقریباً 2.7 تا 2.8 ٹریلین روپے کے بجٹ خسارے کے کامل اعداد و شمار میں کوئی بھی بڑا فرق نہیں ہوگا اگر اس کا موازنہ اسی سطح کے جانے والے مالی سال 2018-19 کے ساتھ کیا جائے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ جانے والے مالی سال کیلئے جی ڈی پی کے 7.3 فیصد مجوزہ خسارہ کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 2019-20 میں جی ڈی پی کے تقریباً 6.3 فیصد تک نیچے لایا جاسکتا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اگلے بجٹ میں پرائمری بیلنس میں مزید کمی ہوگی کیونکہ ڈسکاؤنٹ ریٹس میں اضافہ سود ادائیگی کی ضرورت میں اضافے کے نتیجے کی صورت سامنے آیا جس سے جی ڈی پی کے ایک فیصد سے زائد مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کرنے کیلئے کوئی جگہ نہیں بچی۔ دریں اثناء مشیر خزانہ ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ نے پیر کو کے پی میں ضم ہوجانے والے فاٹا ڈسٹرکٹس پر غور کیلئے اجلاس کی صدارت کی اور بالکل واضح کردیا کہ وسائل کی کمی کے نتیجے میں ترجیحات پر پھر سے غور کیا جانا چاہئے۔ اجلاس میں خیبر پختوانخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے صوبے میں ضم ہونے والے ڈسٹرکٹ کی مالی ضروریات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت فاٹا کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہر ممکن مدد کرے گی اور فاٹا کے ضم شدہ ڈسٹرکٹس کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے خیبر پختونخوا صوبے کی اعانت کرے گی۔ دوسری جانب 5550ارب روپے مالی وصولیوںکا ہدف پورا کرنے کیلئے حکومت نے آئندہ بجٹ میں سخت اقدامات تجویز کئے ہیں۔ جس میں ہوٹلوں پرکم شرح سے ٹیکس کا نفاذ، برآمدی شعبے پر سے زیرو ریٹنگ کا خاتمہ جس سے 75؍ ارب روپے حاصل کئے جاسکیں گے۔ایک موبائل سیل فون درآمد کرنے کی اجازت واپس لینا کم ڈیوٹی شرح کےساتھ اورٹیکس بنیاد کو وسعت دینے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال شامل ہے۔ ایف بی آر نے فولادکے شعبے کو 17؍ فیصد جنرل سیلز ٹیکس ]جی ایس ٹی) کےساتھ معمول کی ٹیکس وصولیوں میں لانے کی تجویز دی ہے۔ شکر پر بھی جی ایس ٹی 17؍ فیصد کردی جائے گی۔ مشروبات پر ایف ای ڈی کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائےگا۔ ایک ٹریلین روپے کی اضافی مالی وصولیوں کے لئے ایف بی آر نے ان اداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دینے کی تجویز دی ہے جہاں وصولیوں کے لئے کریڈٹ کارڈ مشین نصب ہیں۔ ایف بی آر نے بینکنگ شعبے سے بے نامی اکائونٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے پربھی زور دیا ہے۔ کمپنیوں کے اکائونٹس کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ اکثر بڑے ڈیلرز بے نامی ہیں۔ یہ تجویز بھی زیر غور ہےکہ برآمد کنندگان کو ٹیکس ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دے کر اخراجات کے گوشواروں کے ساتھ ریٹرن داخل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت قابل ٹیکس آمدنی سالانہ 12؍ لاکھ سے ہٹا کر 8؍ لاکھ روپے کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔ لیکن اس تجویز پر عملدرآمد کے لئے پہلے وزیراعظم کے مشیر کو مطمئن کرنا ہوگا۔ ایف بی آر اس بات کو بھی لازمی کرنے جارہہ ےکہ مینوفیکچررز کو تقسیم کنندگان اور ڈیلرز کی جانب سے گوشوارے داخل کرنے کو یقینی بنانا ہوگا۔ آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس قانون میں تبدیلی بھی متوقع ہے۔
اسلام آباد (ایجنسیاں)مسلم لیگ (ن )کے پارلیمانی رہنما خواجہ محمد آصف نے شمالی وزیرستان واقعہ اور چیئر مین نیب ویڈیو معامعاملے کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹیاں بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم کو بویا واقعہ پر جواب دینا پڑیگا ، پی ٹی آئی جتنا دیوالیہ پن کسی اور جماعت میں نہیں،چیئرمین نیب کی مبینہ آڈیو اور ویڈیو منظر عام پر آنے میں تحریک انصاف ملوث ہے‘تحریک انصاف میں عمران خان کی جگہ لینے کیلئے کچھ لوگ تیاربیٹھے ہیں ،چاہ رہے ہیں کہ قومی حکومت بنے اور وہ وزیر اعظم بنیں ۔ پیر کوقومی اسمبلی اجلاس میں نکتہ اعتراض پر خواجہ محمد آصف نے کہاکہ حکومت نے جو کردار چیئرمین نیب کے معاملے میں ادا کیا وہ شرم ناک ہے کیونکہ انہوں نے اپنے لوگوں کو حفاظت کرنے کے لیے چیئرمین نیب کی ذات پر حملہ کرکے ان کی ساکھ کو خراب کرنے کی کوشش کی۔حکومت نیب کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے، تاہم حکومت نیب کو ٹارگیٹ کرکے اپنے لوگوں کو نہیں بچا سکتی۔تجویز کردہ حکومتی ترامیم کے مطابق حکومت اپنے لوگوں کو بچانا چاہ رہی تھی ،ایسی ترامیم ہمیں منظور نہیں تھیں ۔چیئرمین نیب کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جارہی ہے اور قومی اسمبلی کو اس معاملے کی تحقیقات کرنی چاہیے ‘ تحریک انصاف میں عمران خان کی جگہ لینے کیلئے کچھ لوگ بیٹھے ہیں ،وہ چاہ رہے ہیں کہ قومی حکومت بنے اور وہ وزیر اعظم بنیں ،اسپیکر کو بھی پتہ ہے ۔ اس موقع پر اسپیکر نے خواجہ آصف سے مکالمہ کیا کہ مجھے کیا پتہ ہے ؟جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔فواد چوہدری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ میرے بھائی سے اہم وزارت لیکر ایک غیر منتخب شخص کو وزیر بنا دیا گیا ہے اور میرے بھائی کو بتی کے پیچھے لگا دیا ہے۔فواد چوہدری جب سے وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں آئے ہیں اچھی باتیں کر رہے ہیں، مجھے یقین ہے کہ اگر انہیں دریا کی لہریں گننے پر بھی لگا دیا جائے تو وہ وہاں بھی کوئی کام نکال لیں گے، ان کے اس جملے پر بھی ایوان قہقہوں سے گونج اٹھا۔ خواجہ آصف نے کہاکہ اس وقت وطن عزیز بحرانوں سے گزر رہا ہے‘اس وقت جو لوگ ملک کی معیشت چلا رہے ہیں ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں ہے، وہ بیگ لیکر آئے ہیں اور بیگ لیکر چلے جائیں گے‘ موجودہ حکومت نے وزیر خزانہ لیز پر لیا ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ روز جو واقعہ ہوا ہے میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاؤں گا کیونکہ وہ افسوسناک ہیں ؟خون کسی کا گرے ہماری دھرتی پر ، وہ انتہائی افسوسناک ہے ۔فورسز پر کسی قسم کے حملے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے لیکن اس مسئلے کو سیاسی طور پر حل ہونا چاہیے،ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا ہوگا‘ہمیں بیرونی دشمن کے سامنے متحد ہوکر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے‘ہر دور میں ہم نے غلطیاں کیں، مشرقی پاکستان میں غلطیاں کیں، بلوچستان میں اکبر بگٹی کی شہادت سے ایک المیہ پیدا ہوا ،ہم تاریخ کے اس دھارے پر کھڑے ہیں اگر فالٹ لائن کو درست نہ کیا تو سلامتی کو خطرہ ہے۔کہا جا رہا ہے کہ شمالی وزیرستان واقعہ میں ہمارے ایوان کا ایک رکن گرفتار اور دوسرا مفرور ہے، ہمیں اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی جانب سے دیئے گئے بیان پر رد عمل دیتے ہوئےکہا ہے کہ خواجہ آصف کی جھوٹ بولنے کے حوالے سے مکمل تاریخ ہے۔ آج پھر اسمبلی میں من گھڑت کہانی بیان کی گئی۔چیئرمین نیب کے خلاف پروگرام کرنے والے میڈیا چینل میں شراکت داری کے الزام کو سختی سے مسترد کردیا ۔ پیر کو ایک ٹویٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ کسی بھی میڈیا چینل میں شراکت تو دور کی بات، میرا کسی چینل میں ایک شیئر تک بھی نہیں ، خواجہ آصف نے میرے بارے میں جھوٹ پر مبنی بیان دیا انہیں چاہئیے کہ وہ اپنے اس بیان کو واپس لیں۔
اسلام آباد سپریم کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ای کورٹس سسٹم کا آغاز کردیا ہے جبکہ چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کی سپریم کورٹ میں ہی ای کورٹ سسٹم کا پہلی مرتبہ آغاز ہوا ہے،جس سے سائلین پرمالی بوجھ بھی نہیں پڑیگا، سستاانصاف آئینی ذمہ دار ی ہے،اپنی ذمہ داری پوری کرنیکی کوشش کر رہےہیں، ای کورٹ سسٹم کو پورے پاکستان تک پھیلائیں گے اور آئندہ مرحلے میں ای کورٹ سسٹم کوئٹہ رجسٹری میں شروع کرینگے،ای کورٹ سسٹم کے ذریعے مقدمات کی سماعت کا آغاز ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑا قدم ہے، جس سے کم خرچ سے فوری انصاف ممکن ہو سکے گا اور سائلین پر مالی بوجھ بھی نہیں پڑیگا، وکلاسائلین کے خرچے پرفائیواسٹارہوٹلوںمیں ٹھہرتے ہیں، آج سائلین کے وکلا پر خرچ ہونے والے 20؍ تا 25؍ لاکھ روپے بچائے۔ انہوںنے سپریم کورٹ کی آئی ٹی کمیٹی کے ممبر،ججز،مسٹر جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مشیر عالم چیئرمین نادرا اور سپریم کورٹ کے متعلقہ ڈی جی آئی ٹی کی کاوشوں کوخوب سراہا۔ فاضل عدالت نے ای کورٹ سسٹم کے تحت فوجداری نوعیت کے پہلے چار مقدمات کے فیصلے بھی جاری کئے۔ دوران سماعت عدالت نے اقدام قتل میں ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں خارج جبکہ قتل کے دو مقدمات میں ملزمان کی ضمانت منظورکرلی۔ بدعنوانی کے ایک مقدمے میں چیف جسٹس نے ملزم سعید سومرو سے استفسار کیا کہ سرکاری ملازم ہو کر 32 ایکڑ زمین، 3 فلیٹس، گاڑیاں ، شیئرز ، اتنا خزانہ کہاں سے آیا ؟ عدالت نے سزاکیخلاف نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سوموار کے روز ملکی تاریخ میں پہلی بار ویڈیو لنک کے ذریعے کراچی برانچ رجسٹری کے4فوجداری مقدمات کی سماعت کی توفریقین کے وکلاء نے سپریم کورٹ کراچی برانچ رجسٹری سے دلائل دیئے ، سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے صدر امان اللہ کنرانی نے کراچی برانچ رجسٹری سے چیف جسٹس اور دیگر فاضل ججوں کو ویڈیو لنک نظام کی تنصیب کے حوالے سے مبارکبادپیش کی ،جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آج پہلے ہی روز ای کورٹس سے سائلین کے20سے 25 لاکھ روپے بچ گئے ہیں ،سستا اور بروقت انصاف ہماری آئینی ذمہ داری ہے، فاضل عدالت نے مقدمہ قتل کے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل محمد یوسف لغاری نے کراچی برانچ رجسٹری سے دلائل پیش کئے۔چیف جسٹس نے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور دلائل سننے کے بعد ریمارکس دیئے کہ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم افراد نے قتل کیا ہے اور اس کیس کے نامزد ملزمان اس واردات میں ملوث نہیں۔ انہوںنے کہاکہ مقامی پولیس نے کیس کی تفتیش میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا ہے ،مقدمہ میں شریک ملزمان غلام حسین اور غلام حیدر پہلے ہی ضمانت پر ہیں۔ دوران سماعت فاضل عدالت کے علم میں آیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ضمانت کی درخواست خارج ہونے کیخلاف 2016 میں دائر ہونے والی اپیل کو 2019 تک لٹکائے رکھا ، چیف جسٹس نے کہا کہ وقوعہ 2014 میں رونما ہواہے، ٹرائل کورٹ نے 2016 میں ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کی تھی، سندھ ہائیکورٹ نے 2016 سے 2019 تک اس کی اپیل پر فیصلہ کیوں نہیں کیا؟ انہوںنے ریمارکس دیے کہ اس طرح کے معاملات ججوںکے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں۔ عدالت نے سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری کو ہائی کورٹ کے فیصلے کی کاپی حاصل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے ضمانت کی اپیلوں کے فیصلوں سے متعلق دو ہفتوں کے اندررپورٹ بھی طلب کرتے ہوئے وہ رپورٹ چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل کو ارسال کرنے کا حکم جاری کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ کا جائزہ لیکر مناسب اقدام کیا جائیگا۔ بعدازاں عدالت نے ملزم نور محمد کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی۔ فاضل عدالت نے ایک اور مقدمہ قتل میں ملزمان حفیظ احمد اورامجد علی کی ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیلوںکی سماعت کی تو ملزمان کے وکیل غلام رسول منگی نے کراچی برانچ رجسٹری سے دلائل پیش کئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جب کسی نے کچھ دیکھا ہی نہیں تو اب ملزمان کی گرفتاری کا کیا فائدہ؟ایف آئی آر بھی 6 دن کے بعد درج کرائی گئی ہے ، کیا پوسٹمارٹم میں موت کی وجہ سامنے آئی ہے ،جس پر فاضل وکیل نے کہاکہ پوسٹمارٹم میں بھی موت کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ میڈیکل رپورٹ میں بھی موت کی وجہ سامنے نہیں آئی۔بعد ازاں عدالت نے ملزمان کی ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔ فاضل عدالت نے اقدام قتل اور زخمی کرنے سے متعلق ایک اور مقدمہ کے ملزم عرب عرف بالو اور محمدمشتاق کی ضمانت قبل از گرفتاری سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیلوں کی سماعت کی تو ملزمان کے وکیل غلام اللہ چنگ نے کراچی برانچ رجسٹری سے دلائل پیش کئے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قتل کی نیت کرنا بھی جرم ہے، تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 میں ارادہ قتل سے حملہ کرنے کی سزا دس سال ہے،حملہ کے نتیجہ میں اگر زخم آئے تو اسکی سزا الگ ہوتی ہے ،انہوںنے کہاکہ اقدام قتل( تعزیرات پاکستان کی دفعہ 324 ) کا کیس قتل سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے کیونکہ اس میں ز خمی ہونے والا شخص اصل حملہ آور کی نشاندہی کر سکتا ہے،جبکہ کوئی مقتول ایسا نہیں کرسکتا۔انہوںنے ریمارکس دیے کہ ای کورٹ سسٹم سے آج کے دن سائلین کے 20 سے 25 لاکھ بچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرنا ہماری آئینی ذمہ داری ہے اورہم اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستوں سے متعلق اپیلیں خارج کر دیں،جس پرسندھ پولیس نے کراچی رجسٹری کے باہر سے ملزمان ارباب اور مشتاق نامی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے کرپشن کے ملزم سعید اللہ سومرو کی سزا کیخلاف نظرثانی درخواست خارج کر دی۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ سرکاری افسر ہوکر آپکے پاس کونسا خزانہ تھا جو اتنے اثاثے بنا لیے؟ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو ملزم کا کہنا تھا کہ اپنی سزا بھگت چکا ہوں لیکن کرپشن کا داغ ہٹوانا چاہتا ہوں کیونکہ کرپشن پر سزا دینے کا فیصلہ غلط تھا، انکا کہنا تھا کہ وہ پی ٹی سی ایل میں بطور ڈویژنل انجینئر کام کرتے تھے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے 32ایکٹر زمین اور تین فلیٹ خریدے،دو گاڑیاں اور اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز بھی خریدے، سرکاری افسر ہوکر آپکے پاس کونسا خزانہ تھا جو اتنے اثاثے بنا لیے؟ سعید اللہ سومرو نے کہاکہ ملازمت کی ساتھ کاروبار بھی کرتا تھا، 32 ایکٹر زمین میرے والد نے خریدی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ملازمت کیساتھ ذاتی کاروبار کیسے کر سکتے تھے؟ آپ نے دوران ملازمت والد کے ذریعے زمین خرید کر نفع میں فروخت کی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ آپ نے دو کروڑ جرمانہ ادا نہ کرنے کی سزا بھی بھگت لی، اضافی سزا بھگتنے سے جرمانہ معاف نہیں ہو جاتا،کیوں نہ دو کروڑ جرمانے کی رقم وصولی کیلئے نوٹس جاری کریں۔
لندن پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو پاکستان کے حوالے کرنے کے قانونی طریقہ کار کے رسمی آغاز کے لئے برطانیہ اور پاکستان نے باہمی مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے۔ دی نیوز نے ڈار سے متعلقہ کیس اور اس ہفتہ دستخط ہونے والی ایم او یو کی ایک کاپی دیکھی ہے، جو تحویل مجرمین کے معاہدہ کی عدم موجودگی میں قانونی بنیاد فراہم کرے گی۔ یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ ایم او یو پر دستخط اس وقت ہوئے، جب وزیر اعظم عمران خان کے احتساب پر ایڈوائزر شہزاد اکبر نے برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید سے ملاقات کی۔ 23 مارچ کو وزیر داخلہ نے ایک ٹوئٹ کیا کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے برطانیہ اور پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں پیش رفت پربحث کے لئے آج صبح شہزاد اکبر سے دوبارہ ملاقات پر خوشی ہوئی ہے۔ ایم او یو میں لکھا گیا ہے کہ حکومت پاکستان اور برطانوی حکومت اسحاق ڈار کو حکومت پاکستان کے حوالے کرنے کے لئے ہم آہنگی پر پہنچ گئی ہے۔ یہ دستاویز، جس پر وزیر داخلہ ساجد جاوید کی جانب سے پاکستان کے لئے انصاف اور احتساب پر نئے فوکل پرسن گرائم بگر اور وزیراعظم عمران خان کے احتساب کیلئے مشیر شہزاد اکبر نے دستخط کئے تھے، اس میں کہا گیا ہے کہ باہمی مفاہمت کی یادداشت کا مطلب یہ ہے کہ ’’اسحاق ڈار کو ایک یا زائد جرائم پر قانونی کارروائی اور سزائے قید سنانے کے لئے حکومت پاکستان کے حوالے کر دیا جائے‘‘۔ ایم او یو میں کہا گیا ہے کہ جرم سے نمٹنے میں یہ زیادہ متحرک تعاون فراہم کرے گی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایم او یو متعلقہ قانونی سسٹم میں ایک ملزم کو شفاف ٹرائل کے حق اور قانون پر عمل درآمد کے لئے قائم ایک غیر جانبدار ٹریبونل کی جانب سے مجرمانہ عمل پر قانونی کارروائی کے حق کی واضح ضمانت دیتا ہے۔ ایم او یو پر دستخط کی کارروائی سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ تحویل مجرمین کے معاہدہ کی عدم موجودگی میں باہمی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہونا اسحاق ڈار کی پاکستان کو حوالگی کی ضمن میں ایک بڑا قدم ہے۔ حالیہ برسوں میں برطانیہ نے ایسے خصوصی انتظامات روانڈا کی حکومت اور ایک مرتبہ تائیوان کے لئے بھی کئے تھے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ایم او یو پر دستخط کا مطلب یہ بھی ہے کہ برطانوی حکومت مطمئن ہے کہ پاکستان ملزم کی حوالگی کے لئے مناسب ملک ہے اور برطانیہ انگلینڈ اور ویلز کے قوانین کی روشنی میں سابق وزیر خزانہ کی حوالگی پر غور کے لئے مطمئن ہے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت پاکستان اگلے دو ہفتوں میں اسحاق ڈار کی حوالگی کے لئے مواد سیکرٹری آف سٹیٹ کو بھجوا دے گی اور امید ہے کہ سیکرٹری آف سٹیٹ حوالگی کے عمل کو تیز کردیں گے۔ برطانوی حکومت پہلے ہی پاکستان سے کہہ چکی تھی کہ کسی ملزم کو سزائے موت نہ دیئے جانے کی یقین دہانی کی صورت میں اس کی حوالگی کے لئے تحویل مجرمین کا معاہدہ کرنے پر آمادہ ہے۔ پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے عائد کی گئی شرائط تسلیم کر لی تھیں، جس کے بعد شہزاد اکبر نے برطانیہ کا دورہ کیا۔
اسلام آباد چینی نائب صدر وانگ چی شان نے صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان اورچین نے کئی سمجھوتوں اور یادداشتوں پر دستخط کر دیئے‘ جن میں پاک چین معاشی معاہدہ، زرعی فریم ورک میں تعاون، قدرتی آفات کے دوران ریلیف، بلوچستان کے علاقے لسبیلہ میں یونیورسٹی کی ترقی کا معاہدہ شامل ہے۔ اس موقع پر پاکستان میں 4منصوبوں کا افتتاح بھی کیا گیا جس میں 660 کے وی ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن پراجیکٹ میٹاری سے لاہور، رشکئی سپیشل اکنامک زون پراجیکٹ، ہواوے ٹیکنیکل سپورٹ سنٹر اور کنفیوسیوش انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی آف پنجاب شامل ہیں۔چینی نائب صدر اپنے تین روزہ دورہ پاکستان پر اتوار کو اسلام آباد پہنچے تونورخان ائیر بیس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےان کا پرتپاک خیرمقدم کیا ‘ اس موقع پر وفاقی وزیرخسرو بختیار بھی موجود تھے۔ نورخان ائیر بیس پہنچنے پر چینی نائب صدر کودوبچوں نے گلدستہ بھی پیش کیا‘بعد ازاں چینی نائب صدر نے صد ر عارف علوی سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ، صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین گہرے، تاریخی اور ثقافتی تعلقات میں جڑے ہوئے ہیں‘دونوں ممالک ایک دوسرے کی مختلف معاملات پر حمایت کرتے ہیں، صدر مملکت نے چینی صدر کے بیلٹ اینڈ روڈ کے اقدام کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی قومی ترقی میں سی پیک کی اہمیت کوسراہا اور اس کے جلد مکمل ہونے پر زور دیا۔چینی نائب صدر نے چینی قیادت کا تہنیتی پیغام پہنچایا اور کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اسی طرح مزید آگے بڑھتے رہیں گے اور مضبوط سے مضبوط تر ہوں گے۔بعد ازاں چین کے نائب صدر ایوان وزیراعظم پہنچے جہاں وزیراعظم نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی ،اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماوں نے دو طرفہ تعلقات کے امور، علاقائی صورتحال سمیت جنوبی ایشیا میں حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا اور تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔اعلامیے کے مطابق اسٹریٹیجک تعاون اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین صدر شی جن کا روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ قابل تحسین ہے‘چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لیے پرُعزم ہیں‘چینی نائب صدر نے ہمسایہ ملکوں سے تعاون اور امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی قابل تحسین ہے۔ اعلامیے کے مطابق چینی نائب صدر اور وزیراعظم عمران خان نے مٹیاری تا لاہور 660 کے وی ٹرانسمیشن، رشکئی میں خصوصی اقتصادی زون، ہواوے ٹیکنیکل سپورٹ سینٹر اور پنجاب یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کیا۔چین کے نائب صدر گندھارا کا دورہ بھی کریں گے جہاں انہیں گندھارا کی قدیم تہذیب کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی۔ملاقات کے بعد پاکستان اور چین نے سی پیک کے تحت باہمی سرگرمیوں میں اضافے کے لئے مختلف منصوبوں پر تعاون کے5 دستاویزات پر دستخط کئے ، دونوں ممالک نے زرعی معاونت پر ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کئے۔ایف ایم ڈی فری زون جس میں چین کی جنرل ایڈمنسٹرین کسٹم اور اینیمل کوارنٹائن ڈیپارٹمنٹ برائے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی و ریسرچ پاکستان کے درمیان ویکسینیشن کی ایک یادداشت پر دستخط کئے گئے۔ پاکستان چین اکانومک کارپوریشن ایگریمنٹ پر چین کے نائب وزیر ڈینگ بوکنگ اور پاکستان کے سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نور احمد نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے۔ چینی نائب وزیر ڈینگ بوکنگ اور سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے ایک باہمی تبادلہ کی یادداشت پر بھی دستخط کئے۔ دونوں دوست ممالک نے سی ایم ای سی اور حکومت بلوچستان اور لسبیلہ میں جدید زرعی جامع ڈیولپمنٹ لسبیلہ یونیورسٹی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے۔
کراچی مودی کی تقریب حلف برداری، عمران کو دعوت دینے کا فیصلہ ہوگیا؟بھارتی میڈیا کی متضاد اطلاعات سامنے آنے لگیں، تقریب حلف برداری میں ٹرمپ، پیوٹن،ژی سمیت برطانیہ، جاپان، جرمنی، فرانس ، اسرائیل اور عرب رہنمامدعو ہونگے، اکثریتی رپورٹوں کے مطابق مودی کی تقریب برداری میں عمران خان کو شرکت کی دعوت نہیں دی جائے گی تاہم کچھ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مودی کی تقریب حلف برداری میں عمران خان کو مدعو کرلیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی پیش رفت عمران خان کے فون کے بعد سامنے آئی جب انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی۔2014میں وزیر اعظم منتخب ہونے پر مودی نے اس وقت کے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو تقریب حلف برداری میں مدعو کیا تھا اور نواز شریف نے شرکت کی تھی تاہم اس بار عمران خان کو پلوامہ اور بالاکوٹ واقعات کی وجہ سے مدعو کیے جانے کا امکا ن نہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم کو تقریب میں مدعو کیے جانے کے سوال پربھارت کے سرکاری ذرائع کاکہنا ہے کہ اس طرح کی گفتگو قبل ازوقت ہے تاہم حکومت جلد اس حوالے سے فیصلہ کرے گی۔مودی نے2014 میں تقریب میں تمام سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا تھا، اگر حکومت نے تمام سارک سربراہان کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ مشکل ہوجائے گا کہ کس کو بلایا جائے کس کو نہیں،پاکستانی وزیر اعظم مہمانوں کی فہرست میں شامل ہیں،سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت یہ امکان نہیں کہ عمران خان کو مدعو کیا جائے گا۔بھارتی میڈیا کے مطابق تقریب حلف برداری میں عمران خان کو دعوت دینے سے عالمی سطح پرمودی کے امیج بڑھ سکتا ہے۔ مودی کی تقریب حلف برداری 30 مئی کو ہو گی جس کے لیے مختلف ممالک کے سربراہان کو شرکت کے دعوت نامے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تقریب میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ،روسی صدر پیوٹن، چینی صدر ژی جن پنگ کو مدعو کیے جانے کا امکان ہے اس کے علاوہ برطانیہ، جاپان، جرمنی، سری لنکا، فرانس ، اسرائیل ، اورسعودی عرب کے رہنماؤں کو بھی مدعو کیا جائے گا، ولی عہدابوظبی محمد بن زاید النہیان اور بنگلا دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھی مدعو کیا جا رہا ہے۔ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کو مدعو نہیں کیا جائے گا تاہم ابھی تک غیر ملکی رہنماؤں کو مدعو کیے جانے کے حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مودی کو پہلے سوشل میڈیا پر اور پھر فون کر کے الیکشن میں کامیابی پر مبارکباد دی۔ جولائی 2018کے بعد مودی اور عمران خان کے درمیان ٹیلی فونک بات چیت ہوئی تھی۔
اسلام آباد قومی احتساب بیورو (نیب)کے چیئرمین کی لیک ہونے والی آڈیو-وڈیو ٹیپس کی تفتیش کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کیلئے مسلم لیگ نون کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی آج کی تحریک ممکنہ طور پر ناکام ہوجائے گی کیونکہ حکمران اتحاد اس کی مخالفت کرے گا۔ دریں اثناء مسلم لیگ نون کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ دس روز قبل انہوں نے پارٹی کی ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کردیا تھا کہ چند روز میں چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف کچھ بڑا ہونے والا ہے جیساکہ حکومت ان سے شدید پریشان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت میں سے کسی نے انہیں یہ اطلاعات دی تھیں۔ مسلم لیگ نون کے پارلیمانی رہنما خواجہ آصف پارلیمانی پینل کی تشکیل کیلئے قومی اسمبلی میں طریقہ کار کے قوانین اور کنڈکٹ آف بزنس کے قانون 244 (بی) کا استعمال کریں گے۔ قانون کہتا ہے کہ قومی اسمبلی تحریک کے ذریعے خصوصی کمیٹی کا تقرر کرسکتی ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے نیب چیف کے خلاف کوئی بھی تفتیش نہیں کی جاسکتی۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ جوں ہی نیب چیف کے انٹرویو اور آڈیو-وڈیو ٹیپس کے لیک ہونے کا تنازعہ کھڑا ہوا، مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کو اس معاملے سے دور رہنے کی ہدایت کی کیونکہ ہم اس جال میں نہیں پھنسنا چاہتے تھے جب حکومت اپنی ذاتی وجوہات کیلئے جاوید اقبال کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ نون ایک عرصے سے نیب چیئرمین کو ان کے عہدے سے ہٹانے کیلئے سخت حملے کر رہی ہے لیکن اب وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ حکومت ایسی صورتحال پیدا کرکے انہیں عہدے سے ہٹانے پر مجبور کردینا چاہتی ہے جہاں وہ دستبردار ہوجائیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نیب اس وقت غیر فعال ہوجائے گا جب اس کے چیف کو کسی بھی وجہ سے جانا پڑے گا کیونکہ چیف کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ڈپٹی چیئرمین بطور چیئرمین کام نہیں کرسکتا۔ انہوں نے قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتساب عدالت میں داخل کئے جانے والے ہر ریفرنس کو چیئرمین سے منظوری لینا ہوتی ہے۔ حکومت اور حزب اختلاف کی اس محاذ آرائی میں نئے چیئرمین کی تقرری ناممکن نظر آتی ہے کیونکہ صدر ایسا قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ مشاورت سے کرسکتا ہے۔ اڑتی خبر یہ ہے کہ حکومت حال ہی میں تقرر کئے گئے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر کو اختیارات دینا چاہتی ہے لیکن ایسا نظائری قانون کے تحت نہیں کیا جاسکتا اور نیب کو چیئرمین کے علاوہ کوئی اور نہیں چلاسکتا۔ بیرسٹر عمر سجاد نے دی نیوز کو وضاحت کی کہ جب سب جانتے ہیں کہ موجودہ سیاسی کشمکش کے باعث نئی نامزدگی ممکن نہیں اور اعلیٰ عدلیہ فیصلہ دے چکی ہے کہ ڈپٹی چیئرمین بطور نیب چیف کام نہیں کرسکتا تو جو بھی جاوید اقبال کو ہٹانے کیلئے کام کر رہا ہے اس سے صاف طور پر اس خواہش کا اظہار ہوتا ہے کہ انسداد کرپشن کا ادارہ غیر فعال ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نیب چیئرمین خود استعفیٰ نہیں دیتے تو نیب چیئرمین کو این اے او کے تحت ہٹانا نہایت مشکل ہوگا۔ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کا کہنا ہے کہ نیب چیئرمین کو ہٹانے کیلئے این اے او کے سیکشن 6 میں کوئی بھی فورم مہیا نہیں کیا گیا۔ عمر سجاد کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نیب چیئرمین کے کیس میں ملوث نہیں ہوسکتا اور محسوس ہوتا ہے کہ سیکشن 6 محض بنیادوں کے حوالے سے گفتگو کرتا ہے لیکن کسی بھی ایسے فورم کی تشریح نہیں کرتا جو یہ تعین کرسکے کہ آیا ان بنیادوں سے نیب چیف متاثر ہوئے ہیں یا نہیں اور ایسا کون کرے گا۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ وفاقی حکومت تفتیش کا حکم دے سکتی ہے کہ آیا نیب چیف جسمانی یا ذہنی معذوری کے باعث اپنے عہدے کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر ادا کرنے کیلئے نا اہل ہیں یا ناشائستہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عمر سجاد کا کہنا تھا کہ جیسا کہ صدر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کی مشاورت سے چیئرمین کا تقرر کرتے ہیں، وہ اسے صرف انہی سے مشاورت کے بعد ہٹا سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر قانون نے بھی تین روز قبل جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی رائے کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید اقبال کی کارکردگی بہت اچھی ہے اور حتیٰ کہ موجودہ تنازع کے دوران بھی ان کی دیانتداری کے حوالے سے کوئی بھی سوال نہیں اٹھایا گیا۔ عمر سجاد کا کہنا تھا کہ اگر مشورہ دینے والے دونوں افراد انکوائری رپورٹ پر کسی اتفاق رائے تک پہنچ جاتے ہیں جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہو کہ نیب چیف جسمانی یا ذہنی معذوری کے باعث اپنے عہدے کی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر ادا کرنے کیلئے نا اہل رہے ہیں یا ناشائستہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں تو تب ہی وہ انہیں عہدے سے ہٹانے کیلئے یہ کیس صدر کو بھیجیں گے۔ تاہم ان کے حالیہ تعلقات پر غور کریں تو وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کسی بھی معاملے پر معاہدے تک ممکنہ طور پر نہیں پہنچیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایس جے سی کسی فرد کو ہٹانے کیلئے فورم ہوتا تو آئین میں واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے جیسا کہ چیف الیکشن کمشنر اور ججز کے کیس میں کیا جاچکا ہے۔
شمالی وزیرستان (نیوز ایجنسیز) شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں اور پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی اور چیک پوسٹ پر فائرنگ سے 5؍ فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جوابی کارروائی میں پی ٹی ایم کے 3؍ کارکن ہلاک اور 10زخمی ہوئے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق رکن پارلیمنٹ محسن داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں چوکی پر حملہ کیا گیا ، پشتون تحفظ موومنٹ کے کا رکنان گرفتار دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو چھڑانا چاہتے تھے ، اس مقصد کے لئے بویا میں واقع خارکمر چیک پوسٹ پر فائرنگ کی گئی، فوجی دستوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا ، علی وزیر سمیت 8؍ افراد کو گرفتار کرلیاگیا ہے جبکہ محسن داوڑ مجمع کو مشتعل کر کے موقع سے فرار ہوگیا۔ دوسری جانب فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہنا تھا کہ چند افراد مذموم مقاصد کیلئے پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں کو استعمال کر رہے ہیں،دہائیوں کی جدو جہد کے ثمرات ضائع کرنے کی اجازت نہیں ، بہادر قبائلیوںکی قربانیوں کو رائیگاں نہیںجانے دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں ایک گروہ نے شمالی وزیرستان کے علاقے بویہ میں خارکمر چیک پوسٹ پر حملہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق گروہ کے حملے کا مقصد دہشت گردوں کے مشتبہ سہولت کاروں کو چھڑانے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح گروہ کی جانب سے چیک پوسٹ پر براہ راست فائرنگ بھی کی گئی، فوجی دستوں نے اشتعال انگیزی کے سامنے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق گروہ کی فائرنگ سے 5؍ فوجی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں 3؍ حملہ آور مارے گئے اور 10؍ زخمی ہوئے، تمام زخمیوں کو علاج کیلئے آرمی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق علی وزیر کو 8؍ ساتھیوں سمیت حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ محسن جاوید مجمع کو مشتعل کرنے کے بعد فرار ہوگیا۔ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ چند افراد مذموم مقاصد کے لئے پی ٹی ایم کے معصوم کارکنوں کو استعمال کر رہے ہیں، دہائیوں کی جدو جہد کے ثمرات ضائع کرنے کی اجازت نہیں ، بہادر قبائلیوںکی قربانیوں کو رائیگاں نہیںجانے دیا جائے گا۔ اتوار کے روز ٹویٹر پر جاری پیغام میں شمالی وزیر ستان واقعے سے متعلق میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ معصوم پی ٹی ایم کارکنان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے چند افراد مذموم مقاصد کے لئے پی ٹی ایم کارکنوں کو اکسا رہے ہیں اور پی ٹی ایم کا رکنوں کو استعمال کر رہے ہیں بہادر قبائلیوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ دہائیوں پر مشتمل جدو جہد کے ثمرات ضائع کرنے کی اجازت نہیں ہے