امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سرکٹ کورٹ میں جمع کرائے گئے کاغذات کے ذریعے پتہ چلا کہ امریکی صدر نے اپنی ذاتی رہائش گاہ تبدیل کر لی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر کے آخر میں نیویارک سے اپنی رہائش گاہ تبدیل کر کے فلوریڈا پام بیچ میں سکونت اختیار کر لی۔امریکی صدر نے اپنے ٹوئٹ میں رہائش گاہ کی تبدیلی کے حوالے سے بتایا کہ مجھے ذاتی رہائش گاہ نیو یارک سے فلوریڈا منتقل کرنےکافیصلہ کرتے ہوئے برا لگا لیکن نیو یارک کو سالانہ لاکھوں ڈالر دیئے، پھر بھی مجھ سے وہاں بہت برا سلوک کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ بطور صدر ہمیشہ نیویارک کے عوام کی مدد کے لیے حاضر رہوں گا اور نیویارک کے لیے ہمیشہ دل میں ایک خاص مقام برقرار رہے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب میں اور میری فیملی وائٹ ہاؤس کی جگہ فلوریڈا کے پام بیچ میں مستقل رہائش اختیار کریں گے۔نیویارک ٹائمز نے امریکی صدر کے قریبی شخص کے حوالے سے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکس کی وجہ سے اپنی رہائش گاہ نیویارک سے فلوریڈا منتقل کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ فلوریڈا میں انکم ٹیکس اکٹھا نہیں جاتا۔رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے قریبی شخص کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ٹیکس کے حوالے سے مین ہٹن ڈسٹرکٹ کے اٹارنی کے کیس کے باعث شدید غصے میں تھے تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ رہائش گاہ کی تبدیلی سے اس کیس پر کیا اثر پڑے گا۔
خالصتان 2020 میں دنیا کے نقشہ پر ابھر کررہے گا، یہ بات امریکہ ، برطانیہ سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے سکھ کمیونٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہیڈکوارٹر کے سامنے مظاہرے کے دوران کہی۔یورپ بھر میں مقیم کشمیری کمیونٹی نے بھی ان سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے، مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سکھ کمیونٹی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے مطالبہ کیا کہ بھارت میں مقیم اقلیتوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں 88 روز سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم اور کرفیو نافذ کرکے لوگوں کو گھروں میں محصور کر رکھاہے۔خواتین کی عصمت دری کی جارہی ہے اوربچوں پر بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، بھارت کی اپوزیشن جماعتوں سمیت کسی کو مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کیا جائے اور غیر ملکی مبصرین کو وہاں جانے کی اجازت دی جائے اور وہاں جانے کے حوالے سے جو رکاوٹیں ہیں انھیں ختم کرائی جائیں۔فرانس سے بھی معروف کشمیری رہنما زاہد اقبال ہاشمی کی قیادت میں ایک وفد نے مظاہرے میں شرکت کی اور سکھوں کو مکمل تعاون اور یکجہتی کا یقین دلایا۔ واضح رہے کہ مظاہرے میں سکھ کمیونٹی کے جوانوں کے ساتھ خواتین، بچوں اور بوڑھوں نے بھی بھرپور شرکت کی۔
حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے رابطے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس دوران عمران خان اور پرویز خٹک نے آزادی مارچ کے شرکاء سے اسلام آباد میں کیے گئے مولانا فضل الرحمٰن کے آج کے خطاب پر گفتگو کی۔ذرائع کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک، جے یو آئی ف کے سربراہ سے ملاقات کریں گے۔پرویز خٹک ملاقات میں مولانا فضل الرحمٰن کو آزادی مارچ سے متعلق معاہدے کی مکمل پاسدار کا کہیں گے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے آج آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں، صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہاؤس جا کر گرفتار کر لے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گورباچوف کو ناکامی کا اعتراف کرکے ریاست کی حاکمیت سے دستبردار ہونا ہوگا، عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی مزید اجازت نہيں دے سکتے۔
تحریک پاکستان کے سرگرم رکن اور بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے لئے وطن واپسی کمیٹی کے چیئرمین سید حسن شریف امریکہ کی ریاست اوہائیو کے شہر سنسناٹی میں انتقال کر گئے۔وہ چند سالوں سے علیل تھے ان کی نماز جنازہ جمعہ کو اسلامک سینٹر آف گریٹر سنسناٹی میں ادا کی گئی جس میں مرحوم کے دوستوں رشتہ داروں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سید حسن شریف نے سوگواران میں تین بیٹے سید انور شریف، سید شریف سید سرور شریف اور ایک بیٹی روبینہ شریف چھوڑی ہے۔ مرحوم سیدحسن شریف، ڈیلس پیس اینڈ جسٹس سینٹر اور مسلم ڈیموکریٹک کاکس کے بانی و سابق صدر آفتاب صدیقی کے ماموں تھے۔مرحوم سید حسن شریف اپنی نوجوانی کے زمانے میں تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے، اور انھوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے مختلف اجلاسوں میں بھی شرکت کرکے نوجوانوں کی نمائندگی کی تھی۔ وہ 1940 کی قرارداد پاکستان کے وقت بھی موجود تھے ۔سید حسن شریف کے والد بیرسٹرمحمد شریف بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھیوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے اپنے گھر پٹنہ میں قائداعظم محمد علی جناح کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا تھا اور وہ بہار مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ 1938 میں ان کی سربراہی میں قائم ایک کمیشن میں آل انڈیا مسلم لیگ کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی۔جس کے نتائج کے بعد 1940 کی قرارداد پاکستان کی بنیاد ڈالی گئی تھی اس رپورٹ کو شریف رپورٹ کا اس وقت نام لیا گیا تھا جبکہ پاکستان بننے کے بعد وہ کراچی منتقل ہوگئے تھے، مرحوم سید حسن شریف، سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی واپسی کیلئے قائم کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔انہوں نے یورپی یونین، اقوام متحدہ اور رابطہ عالم اسلامی سمیت متعدد قومی اور بین الاقوامی فورم پر اس سے متعلق بھرپور کوشش کر کے بنگلہ دیش میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی نمائندگی کی اور رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے ان کی واپسی کے لیے فنڈ کے لیے ٹرسٹ بھی تشکیل دیا۔ان کے انتقال سے تحریک پاکستان اور سقوط مشرقی پاکستان کے بعد پاکستانیت کے لیے جدوجہد کرنے کے حوالے سے ایک تاریخی باب بند ہوگیا۔
مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو دن کی مہلت دے دی ۔ آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب میں کہا کہ استعفے کے لیے دو دن دے رہے ہیں،صبر کا امتحان نہ لیا جائے ورنہ عوام کا سمندر یہ طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کو وزیراعظم ہائوس جا کر گرفتار کر لے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے گورباچوف کو ناکامی کا اعتراف کرکے ریاست کی حاکمیت سے دستبردار ہونا ہوگا ، عوام کے مستقبل سے کھیلنے کی مزید اجازت نہيں دے سکتے۔آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ استعفا دے دیں، ورنہ پھر ہم نے اس سے آگے فیصلے کرنے ہیں، ہمارے اس امن کا احترام کیا جائے، مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کرسکیں گے۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے ، مہنگائی نے گھر کر لیا ہے، مائیں اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہیں ، رکشے والے اپنے رکشے جلارہے ہیں ہم قوم کو ان نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ انہیں مزدوروں ، غریبوں اور کسانوں کے ساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دےسکتے، پچاس لاکھ گھر بنانے کی بات کی گئی تھی مگر پچاس ہزار سے زیادہ لوگوں کے گھر گرادیئے گئے ہیں۔فضل الرحمان نے کہا کہ عمران خا ن نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا تھا ، مگر ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ لوگ باہر سے نوکریاں کرنے کے لیے آئے ہیں مگر باہر سے صرف دو لوگ نوکری کرنے آئے ہیں انہیں بھی آئی ایم ایف نے بھیجا ہے۔سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم قرآن و سنت کی روشنی میں پاکستان کو بنائیں گے، روح قائداعظم پوچھ رہی ہے میر ا پاکستان کہاں ہے۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد مسلمانوں کی مدد کے لیے رکھی گئی تھی قائد اعظم نے 1948 میں فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی تھی اور مسلمانوں کے لیے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی بنائی گئی تھی ، مگر آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کچھ اور ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کرنے کا کہا جاتا ہے ، مذہبی کارڈ پاکستان کے آئین میں موجود ہے آپ کون ہوتے ہیں ہمیں مذہب کی بات سے روکنے والے، اسلام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان کے ساتھ اسلام ہے۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کرپٹ اور چوروں کے خلاف لڑرہے ہیں مگر ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ کے مطابق پچھلے ایک سال میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔سر براہ جے یوآئی نے کہا کہ عمران خان تم چوروں کے سردار بنے ہوئے ہو ، دوسروں کو آئینہ دکھانے والوں اپنی شکل آئینے میں دیکھ لو ، آج پاکستان کا سب سے بڑا آزادی مارچ نکلا ہوا ہے مگر میڈیا پر پابندی لگائی ہوئی ہے ہمارے مارچ کے دکھانے پر ۔انہوں نے کہا کہ میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں اور میڈیا پرسن و مالکان کے ساتھ میری ہمدردیاں موجود ہیں ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھالی جائے اگر پابندی نہیں اٹھائی تو پھر ہم بھی کسی چیز کے پابند نہیں رہیں گے ۔سربراہ جے یو آئی کا کہنا ہے کہ آج کشمیر یوں کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے ، موجودہ حکمرانوں نے کشمیریوں کو مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کشمیریوں کے لیے لڑیں گے ، ان کی خود مختاری اور آزادی کے لیے پاکستانی عوام لڑیں گے ۔فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اگر ہمیں تنگ کیا گیا تو یہ اتنا بڑا مجمع اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو اس کے گھر جاکر گرفتار کرسکتا ہے ۔سر براہ جے یو آئی نے کہا کہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، ہم اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، مگر ہم اداروں کو بھی غیر جانب دار دیکھنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج استادوں کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جارہا ہے، خواتین اساتذہ کے منہ پر تھپڑ مارے جارہے ہیں۔پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں، بلاول
اس سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ الیکشن 2018 میں فوج کو پولنگ اسٹیشن میں کھڑا کرکے انتخابات کو متنازعہ بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ میڈیا پر بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کا انٹرویو تو چل سکتا ہے، بھارتی فضائیہ کے پائلٹ کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر ایک سابق صدر آصف علی زردای کا انٹرویو نہیں چل سکتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کی مرضی سے اقتدار میں نہیں آئے وہ کسی اور کی وجہ سے اقتدار میں آئے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ عمران خان نے ایک سال میں عوام کا معاشی قتل کر دیا ہے، ان کی معاشی پالیسیوں میں غریب عوام کو تکلیف اور امیروں کو ریلیف مل رہا ہے، عوام کے لیے مہنگائی کا سونامی ہے جبکہ امیروں کے لیے بیل آئوٹ پیکجز ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کٹھ پتلی وزیر اعظم کے دور میں کشمیر پر تاریخی حملہ ہورہا ہے اور ہمارا وزیر اعظم قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر پوچھتا ہے کہ میں کیا کروں، وزیر اعظم کشمیر کے لیے صرف تقاریر اور ٹوئٹ کرتا ہے مگر اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ طلبہ مزدوروں کسانوں، تاجروں اور سیاستدانوںسمیت آج پورے پاکستان کا نعرہ گو سلیکٹڈ گو، بن چکا ہے۔اسلام آباد میں جاری جمعیت علمائے اسلام ف اور اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ جلسے میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام جمہوریت مانگتے ہیں۔اس سے قبل مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف کہتے ہیں کہ تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی، اب آئی ہے۔ آزادی مارچ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عوامی سمندر پی ٹی آئی کے سلیکٹڈ وزیرِ اعظم عمران خان کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا، اس عظیم الشان آزادی مارچ کو لیڈ کرنے پر مولانا فضل الرحمٰن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہاں لاکھوں لوگ موجود ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کا مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں نکلنے والا آزادی مارچ اسلام آباد میں موجود ہے۔پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے بعد مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف بھی جلسہ گاہ پہنچے، سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمٰن نے ان کا استقبال کیا۔ جلسہ گاہ میں آزادی مارچ کے شرکاء نے مولانا فضل الرحمٰن کی امامت میں نمازِ جمعہ ادا کی، جس کےبعد جلسے کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے
شہباز شریف نے کہا کہ عمران نیازی آپ نے کنٹینر کی سیاست شروع کی تھی
آج تمہاری کنٹینر کی سیاست یہاں پر دفن ہو رہی ہے، میرے قائد نواز شریف کی قیادت میں اسپتالوں میں مفت دوائیں غریب اور نادار لوگوں کو ملتی تھیں، آج ان سے دوائیاں چھین لی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال 50 ہزا لوگ ڈینگی وائرس سے بیمار ہوئے، سیکڑوں انتقال کر گئے، عمران نیازی کہیں نظر نہیں آیا، آج روزگار، کاروبار ختم ہو گیا، روٹی دو روپے سے پندرہ روپے پر پہنچ گئی، سوا سال میں عوام کی چیخیں نکل گئیں، آج دن آگیا ہے کہ عمران خان کی چیخیں نکل جائیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ ہمیں اس جعلی حکومت سے جان چھڑانی چاہیے،جب تک عمران نیازی سے پاکستان کی جان نہیں چھوٹتی، ہم ان کی جان نہیں چھوڑیں گے، آج مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے، عمران خان مغرور ہیں، ان کا بھیجا خالی ہے، عمران خان جادو ٹونے سے حکومت چلا رہے ہیں۔شہباز شریف سے قبل محمود خان اچکزئی نے بھی جلسے سے خطاب کیا، مولانا فضل الرحمٰن بعد میں خطاب کریں گے۔ملک بھر سے جمعیت علمائے اسلام ف کے قافلوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، گرفتاری سے رہائی ملنے کے بعد جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللّٰہ بھی کارکنوں کے ہمراہ آزادی مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد روانہ ہو گئے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کی حصوصی حیثیت ختم کرنے کےاقدام کے بعد بھارت نے ایک اور وار کردیا، مقبوضہ جموں وکشمیر اورلداخ کو تقسیم کرنے کے بھارتی قوانین لاگو کر دیئے گئے۔ بھارتی اقدامات کی عالمی برداری بڑے پیمانے پر مذمت کر رہی ہے۔دونوں یونٹس کو نئے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے چلایا جائے گا،زیادہ اختیارات نئی دلی کے پاس ہوں گے۔نئے قوانین کے تحت بھارتی شہری مقبوضہ کشمیرمیں جائیدادیں خریدنے اور رہنے کے بھی حق دار قرار دے دیے گئے، مقبوضہ جموں کشمیر کا پرچم اور آئین بھی ختم کر دیا گیا۔دوسری جانب مقبوضہ وادی میں لاک ڈاؤن 88ویں روز بھی جاری ہے۔مقبوضہ وادی میں تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز بند پڑے ہیں، ذرائع نقل و حمل اور ہر طرح کے مواصلاتی رابطے منقطع ہیں، سڑکوں سے ٹریفک غائب ہے اور خوراک وادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے پاکستانی عوام کو ماضی میں صنعتی ترقی کے باوجود ثمرات نہیں مل سکے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد میں ‘کاروبار میں آسانیاں’ کے عنوان سے ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ماضی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کی صنعتوں نے ترقی کی لیکن اس کے ثمرات غریب عوام کو نہیں مل سکے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت غریب طبقے کو غربت سے باہر لانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو سخت معاشی مشکلات کا سامنا رہا لیکن پھر بھی غربت کے خاتمے کے لیے احساس پروگرام شروع کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کاروبار میں آسانی کے لیے اقدامات پر ماہرین کی کاوشوں کی بھی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے نظام تعلیم کو بھی بہتر کیا جانا ضروری ہے۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوجوانوں کو فنی تربیت دے رہے ہیں تا کہ یہ پاکستان کے لیے سرمایہ ثابت ہوں۔صدر ورلڈ بینک نے بھی کاروبار میں آسانیوں سے متعلق نمائش سے خطاب کیا۔
وکٹ کیپر بیٹسمین کامران اکمل نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں 900 شکار مکمل کرلیے، وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے پہلے ایشین وکٹ کیپر بن گئے ہیں۔37 سالہ کامران اکمل نے اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں سینٹرل پنجاب اور سندھ کے درمیان میچ میں وکٹوں کے پیچھے مجموعی طور پر 8 شکار کئے، جس کے ساتھ انہوں نے فرسٹ کلاس کیریئر میں 900 شکار مکمل کرلیے، وہ یہ کارنامہ انجام دینے والے نہ صرف پہلے پاکستانی، بلکہ ایشیا کے بھی پہلے وکٹ کیپر ہیں۔کامران اکمل کے شکار میں 836 کیچز اور 64 اسٹمپس شامل ہیں۔کامران اکمل نے کہا کہ وہ جب تک کرکٹ کھیلیں گے، بہتر سے بہتر پرفارم کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ایک سوال پر وکٹ کیپر بیٹسمین نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پچھلے چار سیزن میں بطور وکٹ کیپر بیٹسمین ان کی پرفارمنس کے بعد انہیں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں موقع ملنا چاہئے، اگر انگلینڈ اور آسٹریلیا میں دو وکٹ کیپر ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں ہوسکتے۔ اگر موقع ملا تو وہ پانچویں یا چھٹے نمبر پر پاکستان کی بیٹنگ کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔
پیغام رسانی کی ایپلی کیشن واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کے لیے بنائے گئے اسپائے ویئر کے شکار افراد میں زیادہ تر بھارتی صحافی اور سماجی کارکنان تھے۔کچھ روز قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ واٹس ایپ نے اسرائیلی فرم کے خلاف امریکی عدالت میں جاسوسی کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کردیا تھا۔علاوہ ازیں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی کمپنی نے اس اسپائے ویئر کی مدد سے 20 ممالک کے 14 سو سے زائد افراد کی جاسوسی کی تھی۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق جن ممالک کے باسیوں کی جاسوسی کی گئی تھی ان میں میکسیکو، بحرین اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی شامل ہیں۔اس معاملے میں اب نئی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق اسرائیلی کمپنی کی جاسوسی کا نشانہ بننے والوں میں بھارتی صحافی و سماجی کارکنان بھی شامل ہیں۔کتنے صحافیوں اور سماجی کارکنان کی جاسوسی کی گئی ہے اس کی حتمی تعداد کے بارے میں کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آسکی۔واٹس ایپ نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ این ایس او گروپ ہی اپریل اور مئی کے دوران واٹس ایپ ڈیوائسز کو خراب کرنے کے لیے ہونے والے سائبر حملے میں ملوث ہے۔دوسری جانب نگرانی کے لیے سافٹ ویئر بنانے والی اسرائیلی کمپنی نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا تھا۔خیال رہے کہ بھارت دنیا بھر میں واٹس ایپ صارفین کی سب سے بڑی منڈی ہے جہاں تقریباً 40 کروڑ لوگ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔اسرائیلی ہیکرز نے واٹس ایپ استعمال کرنے والے تمام فون پر اس سافٹ ویئر کو دور بیٹھے ہی انسٹال کردیا تھا۔
روس نے بحیرۂ ابیض میں بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔روسی وزارت دفاع کے مطابق یہ میزائل ایک آبدوز سے داغا گیا اور اس نے ہزاروں میل دور ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔میزائل شمالی روس میں واقع بحیرۂ ابیض (White Sea) میں موجود ایک اپ گریڈ کی گئی آبدوز سے فائر کیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق بیلسٹک میزائل کا ٹارگٹ مشرقِ بعید میں واقع روسی علاقے کاماچٹکا میں تھا۔