بالآخر پنجاب میں بھی رینجرز کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اختیارات مل گئے ہیں۔”ردالفساد”کے نام سے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے زبردست تحریک شروع ہوگئی ہے پوری قوم کی دعائیں ا ن کے ساتھ ہیں کہ خدائے عزو جل دہشت گردی کے ناسور سے ملک کو پاک کرنے میں افواج پاکستان کو کامیابی عطا فرمائیں۔یہ اختیارات سونپے جانے میں کیا رکاوٹ تھی؟چلئے دیر آئید درست آئیدکی طرح اس کو غنیمت جاننا چاہیے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گرد حتیٰ کہ خود کش بمبار تک بن جانا اور اپنی جان و جسم کے پر خچے اڑ ا ڈالنا کیوں اور کیسے ایک علیحدہ نظریہ بن چکا۔ذرا پیچھے جھانکیے تو 9/11کے بعد جب امریکنوں کو ایک فون کال پر پاکستانی اڈوں سے ہمسایہ اسلامی ملک افغانستان پر حملوں کی اجازت دی گئی تھی تو انہوں نے پر امن طور پر چلتی ہوئی افغانستان کی طالبان حکومت کو تہس نہس کر ڈالا اور تقریباً پاکستان سے 72 ہزار حملے افغانستان پر کیے ایٹمی پاکستان پر قبضہ کرنے والا ڈکٹیٹر خود کو کمانڈو کہتا تھا مگر ایک کال پرہی چت لیٹ گیا۔
دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ آج تک کبھی مسلمانوں نے سیکولر ،لادین ،سامراجی طاقتوں کواپنی سرزمین کو اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پیش نہیں کیا۔ پھر ہمارے کمانڈو کا یہ فیصلہ بغیر کسی مشورہ کے تھاحتیٰ کہ کور کمانڈرز سے بھی مشاورت نہ کی گئی۔پھر امریکنوں کی نشاندہی پر اپنے مسلمان بھائیوں کو خواہ وہ کسی مقدمہ میں ملوث تھے یا نہ سامراجیوں کو بیچنے کا عمل جاری کردیا کئی مطلوبہ افراد کو امریکہ کے حوالے کرکے کروڑوں ڈالر کمائے وہ کن بینکوں میں جمع ہوئے ؟ایسے رازوں پر کب پردہ اٹھے گا؟ ہمارے لیے یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جب ہماری سر زمین بے دین سیکولر سامراجی قوتوں نے مسلم ملک پر حملوں کے لیے استعمال کی ہوگی تو افغانی کیا اس کے بدلے میں ہم پر پھول برسائیں گے ؟ انڈیا چالاک لومڑی کی طرح یہ سب کچھ دیکھتا رہااور پھر افغانیوں سے ہمدردیوں کے روپ میں گھس کر وہاں اپنے فوجی اڈے قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا ہمارے حکمران نے تو اپنے ہی ملک میں ڈرون حملوں کی اجازت بھی دے ڈالی تھی۔جس سے ہماری افغانی سرحدی پٹی پر موجود ہمارے مسلمان بھائیوں پر حملے شروع ہوگئے جو کہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے نام پر کیے جاتے تھے مگر معصوم مدارس کے طالب علم بچے بھی درجنوں کی تعداد میں شہید کرڈالے گئے اور مطلوبہ دہشت گردوں کی تلاش میں معصوم شہری بھی ہلاک ہو گئے۔
Terrorism
دہشت گرد کم اور معصوم شہری زیادہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جس سے رد عمل پیدا ہو جا نا فطری تھاکہ یہ کبھی ممکن ہی نہیں اور عقل سلیم بھی تسلیم نہیں کرتی کہ پورے فاٹا کی آبادی دہشت گردی میں ملوث ہو کہ پوری آبادیاں مکمل دہشت گرد نہیں بن سکتیںیہی افغانی پٹھان تھے جو ہمارے افغان بارڈر پر ہمارے محافظ ہوتے تھے قبل ازیں ضیاء الحق کی امریکہ کی شہہ پر افغانستان میں موجود روسی افواج پر چڑھائی بھی ہمارے لیے قطعاً ممد و معاون ثابت نہ ہوسکی ۔پھر ہم نے لاکھو ں افغان بھائیوںکو اپنے ملک میں بطور مہاجر پناہ دی۔ان کا بھی ہمارا نہ بن سکنا خارجہ پالیسی کی ناکامی ہی قرار دیا جائے گا ۔ موجودہ حکومت کا تو کوئی وزیر خارجہ تک نہ ہے ۔بھارتی بڑھکوں کا مقابلہ اور سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ نہیں بلکہ عملاً اعلان جنگ کو روکنے اور ہندو مہاشوں کے دنیا بھرمیں پراپیگنڈوں کا توڑ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔پرویز مشرف کے تولال مسجد پر زہریلی گیسوں سے ہزاروں حفاظ بچیوں کو بھسم کرکے ان کی ہڈیاں گوشت تک گٹروں میں بہا ڈالنے سے بھی رد عمل پیدا ہوا جو خود کش بمبار بن جانے کی بھی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔کاش کہ اب رد الفساد کے نام پر رینجرز ان اصل دہشت گردوں کے خلاف موثر کاروائی کرنے میں کامیاب ہوجائیں جنہوں نے ملک بھر میں فساد برپا کر رکھا ہے اور ہماری متبرک مساجد،مزار ، مدارس و سکول تک محفوظ نہ ہیںاسے آخری اور فائنل رائونڈ بھی سمجھیں اگر خدا نخواستہ خدا نخواستہ میرے منہ میں خاک اگر یہ مشن ناکام ہو گیا تو ہمارا کوئی پرسان حال تک بھی نہ ہو گاکہ
تو نے تو دیکھی ہی نہیں گرمی َ رخسار حیاء
ہم نے اس آگ میں جلتے ہوئے دل دیکھے ہیں
ہمیں انتہائی غورو غوض اور سوچ بچار کرکے دو سال سے جاری ضرب عضب کے مطلوبہ نتائج بھی سامنے رکھنے چاہیں جس سے دہشت گردی کی سرکوبی تو کی گئی مگر مکمل کامیابی حاصل کرنے میں کیا رکاوٹیں رہیں ؟کیا موجودہ حکمرانوں کی طرف سے ہی کوئی لیت و لعل تو نہیں رہا ؟کہیںدہشت گردوں کے سہولت کار ہماری ہی صفو ں میں موجود تو نہیں؟لادین بیورو کریٹ بھی ملک کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ہی ثابت ہو تے رہے ہیں انہی کے مشوروں سے ہم مشرقی پاکستان کھو بیٹھے۔
تیز رفتارفوجی عدالتوں نے بھی موثر کردار ادا کیاجس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ ان کے ختم ہوتے ہی زیر زمین گھسے ہوئے تخریب کاروں نے اپنی سرگرمیاں تیز تر کر ڈالیں اور ایک ہفتہ میں دس دس حملے شروع کر ڈالے اب ذرا سوچیے کہ اب فوجی عدالتوں کو دو بارہ کردار ادا کرنے کے لیے اجازت دینے کے عمل پرہمارے نام نہاد سیاستدانوں کا اتفاق رائے کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف کیوں بنتا جا رہا ہے۔
دراصل انہوں نے اگلے سال عام انتخابات میں حصہ لینا ہے اس لیے عوام شرح صدر سے یہی سمجھتے ہیں کہ ان کا ٹال مٹول لازماً دہشت گردقوتوں کے ووٹ حاصل کرنے کی وجہ سے ہی ہے۔ان کے ایسے ہی مذموم کرداروں کی وجہ سے خدائے عزوجل اللہ اکبر اللہ اکبر اور سیدی مرشدی یا نبی یانبی کے نعرے جپتے غیور مسلمانوں کی تحریک کو کامیابی عطا فرمائیں گے تا کہ ایسے آئندہ حکمران مہنگائی بیروزگاری غربت دہشت گردی جیسے ناسوروں کے خاتمے کے سبب بن سکیں۔وما علینا الاالبلاغ
آزادی رائے کسی بھی شخص کو اپنے خیالات اور بیانات پر مکمل آزادی دینے کا نام ہے _ دیگر انسانی حقوق کی طرح آزادی رائے بھی انسان کا بنیادی حق ہے _ چونکہ ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی رائے اور نظریات کا ہر سطح پر احترام کیا جائے اس لیے کسی حکومت یا تنظیم کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی شکل میں بھی رائے دینے والوں پر پابندی عائد کرے _ مذہب ہو یا سماجی معاملات, حکومتی پالیسیاں ہوں یا مختلف شخصیات ,معاشرے میں رہنا والے ہر فرد کی ان پر رائے آنا ناگزیر ہے _ 1789 کے انقلاب فرانس کے ایک اعلامیے کے مطابق آزادی رائے ہر انسان کا قیمتی حق ہے _ ہر شہری لکھنے , بولنے اور کسی بھی قسم کا مواد شائع کرنے میں آزاد ہے لیکن ان میں کسی بھی بداخلاقی پر وہ قانونی طور پر جوابدہ ہو گا۔
دور جدید میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے میڈیا کو بے لگام کر دیا ہے _ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز کے ذریعے ہر عام و خاص اپنی سمجھ و علم کے مطابق چند سیکنڈوں میں ہی اپنے خیالات دنیا بھر میں پھیلا سکتا ہے _ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے تعمیری اور مثبت کام سر انجام دیے جاتے لیکن یہاں زیادہ تر آزادی رائے کے نام پر لوگوں نے دوسروں کی عزت نفس کو مجروح کرنا اور تنقید برائے تخریب کا ٹھیکہ اٹھا لیا ہے _ عقلیت پسندی کے نام پر گمراہ کن نظریات کا اجتماع اور مذہبی و معاشرتی اقدار سے بیزاری کا اظہار سوشل میڈیا پر عام دیکھا جا سکتا ہے۔
مغرب آزادی رائے کا سب سے بڑا علمدار سمجھا جاتا ہے جہاں کسی بھی معاملے پر رائے کے اظہار کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے _ اسی بنیاد پر مذہب کو خصوصاً اسلام اور رسالت کو تضحیک کا نشانہ بنانا عام ہو چکا ہے _ تاریخ کے چند اوراق پلٹیں تو یہی یورپ ایک وقت میں آزادی رائے کا سب سے بڑا دشمن دکھائی دیتا ہے _ کیتھولک چرچ کی جانب سے لگائی گئی ظالمانہ پابندیاں اور ذاتی رائے کی حوصلہ شکنی کسی سے چھپی ڈھکی نہیں ہے _ گلیلیو, برونو, اور کاپر نیکس سمیت کئی سائنسدانوں کے نام تاریخ کے صفحوں پر عیاں ہیں جن کو صرف اس بنا پہ پھانسی دے دی گئی کہ ان کے نظریات چرچ سے متصادم تھے _ انہوں نے اپنے دور میں جدید سائنسی ترقی کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی لیکن چرچ نے اسے توہین سمجھ کر ان لوگوں کو ہی موٹ کے گھاٹ اتار دیا _ آجکل آزادی رائے مغرب میں صرف اسلام کی توہین کو ہی سمجھ کر اس پر بڑے شوق سے عمل پیرا ہوا جاتا ہے _ کبھی گستاخانہ خاکے شائع کیے جاتے ہیں تو کبھی قران مقدس کی نے حرمتی کی جاتی ہے _ باطل سے ان سب کی توقع ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔
اسلام نے آزادی رائے کو مقدم رکھا ہے اور ہر اس رائے کی حوصلہ افزائی کی ہے جو باعث اصلاح اور تعمیری ہو _ حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ کلمات خیر کہے یا پھر خاموشی اختیار کرے _ اسلام نے ہر اس لفظ اور جملے کی مذمت کی ہے جو عام لوگوں کی عزت نفس کو مجروح اور کسی مذہب کی دل شکنی کرتا ہو _ اسلامی تاریخ میں بے شمار واقعات ایسے ہیں جن میں عام عوام نے خلیفہ وقت پر تنقیدی رائے دی _ لیکن یہ رائے ہمیشہ برائے اصلاح ہوا کرتی تھی نا کہ برائے توہین _ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز میں جہاں اسلامی روایات اور دینی حمیت کو سبقت دی جاتی ہے وہیں چند عناصر آزادی رائے کے نام پر بلا روک ٹوک مذہب اور مقدس ہستیوں کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں _ سوشل میڈیا پر مغربیت سے مرعوب ایسے کئی گروپ دیکھے جا سکتے ہیں جن پر گستاخانہ مواد موجود ہے _ پاکستانی فری تھنکرز گروپ, موچی اور بھینسا سمیت کئی پیج ایسے ہیں جن پر سر عام نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم, صحابہ کرام اور دیگر مقدس ہستیوں کے بارے میں کھلے عام توہین جاری ہے _ متعدد بار ان پیجز کی وجہ سے حالات بگڑے بھی ہیں لیکن پیمرا کی مسلسل خاموشی باعث افسوس ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے قوم و مذہب کی لاج رکھ کر جرات مندانہ فیصلہ سنایا ہے کہ سوشل میڈیا سے تمام گستاخانہ مواد فوری ہٹایا جائے _ یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا ہے اور یہاں کسی بھی فرد کو مقدس ترین ہستی اور مذہب کی توہین کی اجازت نہیں دی جائے گی _ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان کے لیے حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کسی کی شخصیت نہیں ہونی چاہیے _ یہ فیصلہ سنا کر انہوں نے اپنے عہدے کا حق ادا کر دیا ہے _ اور ساتھ ہی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اس ملک میں عبداللہ بن ابی, کعب بن اشرف, تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی جیسے خیالات کے حامیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں _ سوشل میڈیا کو کسی بھی صورت اس مقصد کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا _ پاکستان کو ایسے ہی جذبہ ایمانی سے لبریز اور دینی حمیت رکھنے والے لوگوں کی ضرورت ہے _ الحمداللہ جناب شوکت عزیز صدیقی صاحب کے فیصلے کو دیکھ کر یقین ہو گیا ہے کہ وطن عزیز ابھی دینی غیرت رکھنے والوں اور مذہبی روایات کی پاسداری کرنے والوں سے محروم نہیں ہوا ہے۔
بلاشبہ خیالات اور بیانات کی آزادی ہر فرد کا حق ہے اور اسے استعمال بھی کرنا چاہیے لیکن اس حق سے مذہبی شخصیات کی توہین ہو اور تنقید برائے تخریب ہو یہ ہرگز قابل برداشت نہیں ہے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو چاہیے کہ جلد از جلد ایسے قوانین لاگو کرے جس سے سوشل میڈیا پر ایسے گستاخانہ پیج نہ بنائے جا سکیں اور ہر اس گروپ یا پیج کو بلاک کر دیا جائے جس پر توہین رسالت کا تھوڑا سا بھی شک ہو _ آج ایک شوکت عزیز صدیقی سامنے آیا ہے تو کل کئی جسٹس شوکت عزیز صدیقی سامنے آ کر شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کو دھول چٹاتے دکھائی دیں گے۔
اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم نے جب سے اپنے گریبان میں جھانکنے کی عادت چھوڑی ہے تو ہم ہر اُس بُرائی کے بدبودار دلدل میں دھنستے چلے گئے ہیں آج جیسے دنیا کی تہذیب یافتہ اقوام اپنی تباہی اور بربادی کا بنیادی سبب سمجھ کر برسوں پہلے اپنی جان چھڑاچکی ہے یعنی یہ کہ اپنے فرائض سے غفلت برتنا اور اپنے کا م اور اپنی ذمہ داری سے منہ چرانا اور اپنی ڈیوٹی اور اپنی ذمہ داریوں میں حرام خوری کا مظاہر ہ کرنا، ہر زمانے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے کے ہر اِنسان کے نزدیک ہمیشہ ہی سے تباہی اور بربادی کا بنیادی جز سمجھا جاتا رہا ہے مگر یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج راقم الحرف سمیت کروڑوں پاکستانی ایسے بھی ہیں جو یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ سرکار اور اداروں کی جانب سے سونپی گئی اپنی ذمہ داریوں سے حرام خوری کا مظاہرہ کرنا نہ صرف اپنی ذات اور دنیا و آخرت اور ملک و قوم کے لئے بھی نقصان دہ ہے مگر ہم نہ جانے پھر بھی کیوں؟؟آج تک اِس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور سرکاری منصب کے اعلیٰ اور ادنی عہدے پر فائز رہ کربھی ( ہم سرکاری اداروں میں ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں کے ٹینڈر کے مد میں جاب ورکس کو ٹھیکیداروں سے مل کر کیمیشن اور پرسنٹیج پر بارگینگ کرکے اپنی جیب ورکس کا حصہ بنارہے ہیں اوراِس طرح )حرام خوری اور کا م چوری کے اُسی ڈگر اور راستے پر چل رہے ہیں اَب جہاں ہماری تباہی یقینی ہے۔
تاہم اَب اپنا احتساب کرنے کے بجا ئے لوگوں کو با تیں بنا نے اور بال کی کھا ل نکالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیو نکہ اِس میں حقیقت ہے کوئی شک نہیں ہے کہ” ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑگئی ہے“یہ انورٹیڈ کوماز میں درج ہمارے ضرورت سے کہیں زیادہ کم گو صدرِ مملکت عزت مآب جناب ممنون حُسین کے وہ الفاظ ہیں جو اِنہوں نے پچھلے دِنوںبلڈنگ کوڈ آف پاکستان 2016ءکی آتشزدگی سے بچاو ¿ سے متعلق دفعات کے اجراءکی تقریب سے خطاب کے دوران اداکئے اُنہوں نے جو کہا اور جتنا کہا سب حق و سچ اور حقیقت پر مبنی ہے آج ایک صدرِ مملکت ہی کے کیا ؟ بلکہ لگ بھگ بیس کروڑ پاکستانیوں کابھی یہ مشاہدہ اور تجربہ ہے کہ ہم اور ہماری قوم کو بہت سے حوالوں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت ایسی ہی پڑ گئی ہے کہ اَب اِس کا پیچھا سِوائے اللہ کی سخت پکڑاور ڈنڈے اور لاتوں مکوں اور سزاو ¿ں کے بغیر چھڑانا نا ممکن ہوگیاہے یہ بات اور نکتہ ضرور ذہن میں ہے کہ قبل اِس کے کہ ہم تباہ و برباد ہوجائیں اِس جانب ہمیں سنجیدگی سے کچھ کرنا ہوگا ورنہ ہم اپنی نہ تو دنیا بہتر بنا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی آخرت سنوار سکیں گے۔
بہر حال ، مختصریہ کہ ایک تو ہمارے صدرِ مملکت ممنون حُسین بولتے بہت کم ہیں مگراِس سے کسی کو اِنکار نہیں ہے کہ اِنہوں نے جب بھی لب کُشائی کی ہے تویہ ایسے بولے ہیں کہ اُن کے سامنے اچھے اچھوں کی بولتی بند ہوگئی ہے،اوروہ انگشت بدنداں ہوگئے ہیں کیونکہ یہ جب بھی اپنے لب مبارک ہلاتے ہیں اور اپنی زبانِ مبارک کو حرکت دیتے ہیں تواپنی سیاسی اور سماجی زندگی کے مشاہدات اور تجربات کے ساتھ بڑے نپے تلے انداز سے سچ کا پردہ چاک کرکے وہ کچھ بول دیتے ہیں جو اِن کے دل میں ہوتا ہے تو وہی زبان سے بھی اداہوجاتا ہے جیسا کہ گزشتہ دِنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے تقریر کرتے ہوئے صدرِ مملکت ممنون حُسین نے سرکاری ملازمین سے متعلق پُرشکوہ اندازسے یہ کہہ کر سب کو حیران اور پریشان کردیا کہ ”سرکاری ملازمین کوکام کرنے کی عادت ہی نہیں رہی ، ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑ گئی ہے،پانی و بجلی کے حکام کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سربراہان تبدیل کرنے کا کہا لیکن سُنی اِن سُنی کردی گئی ، مجھے افسوس ہوتا ہے کہمیری تجاویز پر کوئی خاص عملدرآمد نظر نہیں آیا۔اَب اِس منظر اور پس منظر میں آج اگر ہم ذراسی دیر کو سوچیں کہ اِس جملے میں اِس میں ایسی کونسی سی نئی بات ہے؟؟کہ آج جس پر چور کی ڈاڑھی میں تنکا والے تو تلملاہی اُٹھے ہیں مگر اِدھر اُدھر کے دیگر حکومتی وزراءاور ن لیگ کے بہت سے نئے پرانے سیاسی کھلاڑیوں سمیت بہت سے لوگوں کے پیٹ میں بھی درد اُٹھ رہاہے اور یہ چاکِ کربیان کرتے چیختے چلاتے، دیواروں سے اپنے سرٹکراتے پھررہے ہیں اور صدرِ مملکت کے اِس کہے کو اپنی ہتک کا جنازہ کہہ رہے ہیں اور دردر پہ آہ وفغاں کرتے بھی نہیں تھک رہے ہیں، آج اگر صدرِ مملکت کو اِس کہے پر اپنی عزت کے نکلنے والے جنازے پر ماتم زدہ اتنے ہی پریشان ہیں تو آج کے بعد اِنہیں اپنی ذات کو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے سامنے پیش کرتے ہوئے یہ وعدہ اور عہد کرلینا چاہئے کہ آئندہ وہ صدر ممنون حُسین کے احکامات کو پتھر پر لکیر جا نیں گے اوراپنے کام میں ایسی حرام خوری کا مظاہرہ نہیں کریںگے کہ جس کا شکوہ صدرِ مملکت ممنون حُسین اور بیس کروڑپاکستانیوں کو ہے تو کچھ تبدیلی کے ساتھ بہتر نتائج بھی قوم کو نظرآئیں تو پھر بات بنے گی ورنہ تو قوم یہی سمجھتی رہے گی کہ واقعی ہماری قوم کو مختلف شعبوں میں حرام خوری کی عادت پڑ گئی ہے۔اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ سرکاری ملازمین کی حرام خوری کی پڑی ہوئی یہ عادت اتنی آسانی سے تو نہیں جا ئے گی مگر اِس سے چھٹکارہ اور نجات دلانے کے لئے یہ بھی بہت ضروری ہے کہ پاکستانی قوم کا ہر محب وطن اور باشعور شہری اپنے اندر نہ صرف جرات و بہادری کا حوصلہ پیداکرے بلکہ صدرِ مملکت ممنون حُسین کی طرح فرنٹ میں آکراِس کا مظاہر ہ بھی کرے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں بیٹھے اعلیٰ و ادنی سطح کے سرکاری ملازمین کو اِس بات کا بار بارشدت سے احساس دلاتارہے کہ حرام خوری اور اپنے فرائض میں غفلت برتنے سے کمائی گئی دولت نہ صرف دنیا بلکہ آخرت میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب بنے گی اور روزِقیامت گلے میںایساطوق ڈ الا جا ئے گا کہ حرام خور دور ہی سے پہچانے جا ئیں گے کہ اِنہوں نے اپنی دنیا وی زندگیاں کس طرح سے گزاری ہیں۔(ختم شُد)
میجر طفیل محمد شہید کے والد کا نام چودھری موج الدین تھا۔ جو دین پر سختی سے کاربند تھے اور دور و نزدیک صوفی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان کا خاندان موضع کھرکاں ضلع ہوشیار پور (بھارت) کا رہائشی تھا۔ کاروبار کی وجہ سے 1913 ء میں ہوشیار پور سے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں میں منتقل ہو گئے۔ جہاں پر 22 جولائی 1914 ء کو طفیل محمد نے جنم لیا۔طفیل محمد لکھنے پڑھنے کی عمر کو پہنچے تو انہیں شام چورائی کے ایک مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔اسی مدرسے سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور مزید تعلیم کے لئے گورنمنٹ کالج جالندھر میں داخلہ لے لیا۔اس کالج سے انہوں نے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ایک طرف ان دنوں طفیل محمد فوج میں جانے کی کوشش کر رہا تھا دوسری طرف انہی دنوں ان کی شادی خاندان میں میں ہی نیاز بی بی سے کر دی گئی ۔یہ 22 جولائی 1932 ء میںوہ سپاہی بھرتی ہوئے ۔سپاہی سے ترقی کرتے کرتے جمعدار بن گئے ۔1940 ء میں صوبے دار کے عہدے پر پہنچے 1943 ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اور 1947ء میں جب وہ میجر کے عہدے تک پہنچ چکے تھے ، وہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے اور یہاں فوج میں خدمات انجام دینے لگے۔شہری مسلح فورسز میں ایک امتیازی کیرئیر کے بعد 1958 ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان تعینات ہوئے۔جون 1958ء میں میجر طفیل محمد کی تعیناتی ایسٹ پاکستان رائفلز میں ہوئی۔ اگست 1958ء کے اوائل میں انہیں لکشمی پور کے علاقے میں ہندوستانی اسمگلرز کا کاروبار بند کرنے اور چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو کہ لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔وہ اپنے دستے کے ساتھ وہاں پہنچے اور7 اگست کو بھارتی چوکی کو گھیرے میں لے لیا۔
اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے ،دشمن سے 15 گز کے فاصلے پر پہنچ گئے۔ جب مورچہ بند دشمنوں نے مشین گن سے فائر شروع کئے تو میجر طفیل اپنے ساتھیوں میں سب سے آگے ہونے کی وجہ سے ان کی گولیوں کا نشانہ بننے والے پہلے سپاہی تھے ۔برستی گولیوں میں ،بے تحاشہ بہتے خون کی حالت میں انہوں نے ایک گرینیڈ دشمنوں کی طرف پھینکا جو سیدھا دشمن کے گن مین کو لگا ۔جو گن سمیت فنا ہو گیا ۔ جسم میں خون کے بہنے سے ان کی زندگی کا چراغ بجھنے کو تھا ۔اس حالت میں بھی وہ اپنے ساتھیوں کی قیادت کا فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔
ایک مشین گن تو خاموش ہوگئی لیکن دوسری مشین گن نے اسی وقت فائرنگ شروع کر دی ۔جس کی اندھا دھند فائرنگ سے میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ نشانہ بن گئے ۔میجر طفیل نے ایک گرینیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کردیا۔اس دوران ان کا خون بہتا رہا ۔وہ اپنے نوجوانوں کو ہدایات دیتے رہے۔
اب لڑائی دوبدو لڑی جا رہی تھی ۔اس دوران میجر طفیل نے دیکھا کہ ایک دشمن دبے پائوں ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا۔بے شک کہ میجر صاحب خود شدید زخمی تھے، چل نہیں سکتے تھے، رینگتے ہوئے دشمن اور جوان کے درمیان پہنچ گئے اور اپنی ایک ٹانگ پھیلا دی جیسے ہی دشمن ٹھوکر کھا کر گرا میجر طفیل نے اپنے ہیلمٹ سے اس کے چہرے پر ضربیں لگانا شروع کر دیں۔اس لڑائی میں بھارتی اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑکر فرار ہو گئے۔
میجر طفیل محمدشہید کی ولادت کھرکاں (ہوشیار پور) میں22 جولائی 1914 ء کو ہوئی اور 7 اگست 1958ء کولکشمی اور میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا اور آپ کی تدفین چک نمبر 253 ای بی وہاڑی میں ہوئی۔
میجر طفیل محمد کو شجاعت اور بہادری کے باعث انہیں پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشان حیدر دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ 15نومبر 1959ء کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے کراچی میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والے ایک خاص دربار میں میجر طفیل محمد کی صاحبزادی نسیم اختر کو یہ اعزاز عطا کیا۔
Nishan-e-Haider
”نشانِ حیدر” سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو ایسے افسروں اور جوانوں کو ملتا ہے جنہوں نے بہادری و شجاعت کے غیر معمولی کارنامے سرانجام دئیے ہوں۔ ”نشانِ حیدر” جیسا بڑا فوجی اعزاز اب تک 10فوجی افسروں اور جوانوں کو مل چکا ہے ، جن میں کیپٹن محمد سرور شہید، میجر طفیل محمد شہید، میجر راجہ عزیز بھٹی شہید، میجر محمد اکرم شہید، میجر شبیر شریف شہید، پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید، سوار محمد حسین شہید، لانس نائیک محمد محفوظ شہید، کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور حوالدار لالک جان شہید ، شامل ہیں۔
یہ اعزاز برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ”وکٹوریہ کراس” کے برابر ہے ۔ اس ”اعزاز” کے حاصل کرنے والوں کے ورثاء کو ماہانہ الاؤنس اور تین مربع اراضی بھی دی جاتی ہے۔ ۔زندہ قومیں اپنے محسنوں کے احسانات کو فراموش نہیں کرتیں پروفیسر حمیدکوثر نے نشانِ حیدر پانے والے شہداء پر نظمیں لکھیں۔ اس کے علاوہ ان کا اہم کام یہ ہے کہ میجر طفیل محمدشہید(نشانِ حیدر) کی منظوم سوانح عمری لکھی جو کتابی صورت میں 1967ء میں شائع ہوئی۔کتاب کا نام ”فاتح لکشمی پور” رکھا گیا۔جسے محکمہ تعلیم نے 1969 ء میں پاکستان کے تمام سکولوں’ کالجوں اور دیگر لائبریریوں کے لئے منظور کیا۔میجر طفیل محمد شہید کے بارے میں پروفیسر حمید کوثر کے یہ اشعار ملاحظہ کریں۔
عروج یونہی کسی کو نہیں ملا کرتا
لہو میں ڈوب کے روشن ہوا ہے نام طفیل
مرے وطن کو مبارک ہو یہ مقام طفیل
نشاندارِ حیدر’ وطن کے سپاہی
شہادت کی منزل کے بے لوث راہی
یہ ہے ”لکشمی پور” دیتا گواہی
زمانے میں جب تک اجالا رہے گا
ترے نام کا بول بالا رہے گا
زمانے میں جب تک اجالا رہے گا
ترے نام کا بول بالا رہے گا
آج کل پنجاب میں ہونے والے آپریشن سے ہمارے کچھ پختون بھائیوں کا نام لیکر افغان شرپسند آج کل پنجاب میں ہونے والے آپریشن سے ہمارے کچھ پختون بھائیوں کا نام لیکر افغان شرپسند خوب سرگرم عمل ہیں …اس کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ پبجابی پنجابی کی بین بجانے والے کماتے بھی پنجاب میں ہیں بیٹیاں بیاہتے میں پنجابیوں سے ہیں پنجابنوں سے شادی کرنے کے ارمان بھی رکھتے ہیں. جو انہیں ملتی نہیں ہیں تو انہیں آوارہ اور بدچلن بھی زور و شور سے ثابت کرتے ہیں .. ان کی ہر بات سے متاثر بھی ہوتے ہیں ..اور ان میں کیڑے بھی نکالتے ہیں .. اور انہیں جا کر من من بھر کی گالیاں بھی دیتے ہیں . میرے نزدیک خود کو بہت زیادہ غیرت مند پرہیز گار مومن حیادار کہلانے والوں کو یہ بات اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے پوچھنی چاہیئے کہ کیا ایسے ہوتے ہیں غیرت مند لوگ؟؟؟؟ جو جن کیساتھ باعزت وقت گزاریں اور پھر ان پر بہتان تراشی بھی کریں . پیارے بھائیو.. بری بات کوئی بھی کرے وہ بری ہوتی ہے . میرا بیٹا بری بات کرے تو وہ بری نہیں لیکن پڑوسی کا کرے تو وہ بری. . یہ روایت اب ختم ہو جانی چاہیئے . آج کے پڑھے لکھے لوگ اور نوجوان بھی اگر تنقید برائے تنقید یا ضد برائے ضد کریں تو پھر ہم اپنے معاشرے میں تبدیلی کیسے لا سکتے ہیں . پھر تو کبھی کچھ نہیں بدلے گا . میری بات محض کسی ایک واقعہ پر مبنی نہیں ہے پنجابیوں اور پختونوں دونوں سے میرا تعلق اور رشتہ ہے . میں نے جو کہا وہ اسی فیصد تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے . کئی لوگوں نے کہا پنجاب سے لوگ کیوں پختونخواہ میں کام کرنے آتے ہیں یا وہ بھی وہاں کماتے ہیں تو جی ہاں یہ بھی سچ ہے لیکن پنجاب سے پختونخواہ میں جا کر کام کرنے والے اگر 80 ہیں تو پنجابی جو سرحد میں جا کر کام کرتے ہیں وہ بیس ہونگے . اب یہ پرسنٹیج مقابلے پر کیسے لائی جا سکتی ہے۔
ہمارے پنجاب کے ہر محلے میں ہر گلی میں دو چار پختون خاندان آباد ہیں .ہمارے سر آنکھوں پر .. اس کے مقابلے میں سرحد کی گلی محلوں میں کتنے پنجابی کام کرتے ہیں یا آباد ہیں ؟ ایمانداری سے حلفا کہیئے گا پلیز ٹھنڈے دل سے جائزہ لیکر … پنجابی لڑکیوں سے شادی کرنے کے کتنے خواہشمند پنجاب میں شادی دفاتر میں رجسٹر ہیں آپ چاہیں تو کبھی بھی معلوم کر سکتے ہیں ..لیکن پنجابی لڑکیاں پختون ماحول اور سخت گیریوں کے خوف سے وہاں شادی میں دلچسپی نہیں رکھتی .تو میں نے کئی لڑکوں کو ان لڑکیوں پر تہمتیں لگاتے اور گالیاں بکتے دیکھا ہے . ان کی نظر میں ہر عورت جو کسی مرد سے بات کرتی ہے یہاں تک کہ کسی دکاندار یا ڈاکٹر سے بھی بات کرتی ہے تو وہ بدکار ہے . بات دس بیس فیصد کی نہ کریں بات اکثریت کی کریں . اور ہم اپنی غلطیوں کو مانیں گے تو ہی کچھ بدل سکیں گے . ورنہ آپ مجھے جتنا چاہیں کوس لیں. .کچھ نہیں بدلے گا .. میں نے اپنی تحریر کے پہلے حصے میں کسی بھی صوبے کا نام لیکر اس سے تعصب کا اظہار بلکل بھی نہیں ہے جو کہ میرا ایک پوسٹ پر کمنٹ تھا . لیکن اس پر کچھ لوگوں نے تعصبانہ آگ بھڑکانے کی ناکام کوشش کی اور اپنی گھٹیا زبان اور گندی سوچ کا مظاہرہ کیا …میں نے تو پنجابی پنجابی کہنے والوں کو مشترکہ مخاطب کیا ہے … اور میں اس پر قائم ہوں .. کبھی آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھروں پر آدھی رات کو رینجرز نے چھاپے مارے .. وہ دن میں آتے …. یہ ظلم ہے ….. بات ہے کسی مجرم کی تلاش میں کسی کے گھر پر چڑھائی کرنے کی … تو میرے بھائی ساری دنیا میں چھاپے اسی طرح اچانک اور سینکڑوں پولیس یا رینجرز کے ساتھ ہی مارے جاتے ہیں .آدھی آدھی رات کو ہی مارے جاتے ہیں۔
ہم یورپ اور امریکہ میں بھی یہ ہی آئے دن دیکھتے ہیں . آنے سے پہلے سائرن نہیں بجائے جاتے نہ ہی فون پر اطلاع دی جاتی ہے کہ ہشیار ہو جاو ہم چھاپہ مارنے آ رہے ہیں … آپ نے کہا ہماری بجلی گیس پانی پنجاب والے استعمال کرتے ہیں ہمیں نہیں ملتی.. تو جناب بجلی گیس مفت میں ایک شہر یا صوبے سے کہیں نہیں جاتے …جہاں جاتے ہیں وہ اس کی کئی گناء قیمت ادا کرتے ہیں .. جبکہ آپ کے علاقے کے لوگ بجلی پانی اور گیس کے بل تک دینے کو تیار نہیں ہیں تو یہ سہولیات بنا پیسے کے تو دنیا میں کہیں بھی آپ کو نہیں مل سکتی ..اگر ملتی ہے تو ہمیں بھی خبر کریں . ایک بات کی گئی کہ کون کہاں کام کرتا ہے ..تو کہیں بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے یا صوبے میں کام کرنا کوئی بری بات نہیں ہے .لیکن جہاں اور جن کیساتھ مل کر رزق کمآئیں ان کو ہی گالیاں دینا اور ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا کسی صورت بھی شرافت یا انسانیت نہیں کہا جا سکتا . اور اپنے صوبے میں انڈسٹری لگانے پر ذور دینا صوبائی حکومتوں پر ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو انہیں منتخب کرتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں .. وہ وہاں انڈسٹری لگائیں تاکہ ہر ایک کو اپنے علاقے میں ہی کام میسر آ سکے اور علاقے میں ترقی ہو. ہمارے ہاں کرپشن کے علاوہ وہی ہوتا ہے جو کہ انٹرنیشنلی ہر جگہ ہوتا ہے سو ہم پاکستانیوں کو مفتے کے شوق نے ہمیشہ ہی خراب کیا ہے . اس سے ہمیں اب جان چھڑا کر حقیقت کی دنیا میں آ جانا چاہیئے. اکثر اپنی قربانیاں یاد دلاتے ہوئے ہمارے بھائی بھول جاتے ہیں کہ ضرب عصب میں تین سال سے پنجابی بیٹے کیا لڈو کھیلنے جا رہے ہیں۔
افغانی دہشت گرد پالے تو ہمارے پختون بھائیوں نے اپنی معصومیت اور سادگی میں تھے لیکن ان کی صفائی تو پنجاب کیا پورے پاکستان نے اپنی جان پر کھیل کر کی ہے .یہ کوئی جادو سے تو نہیں مارے گئے میں سمجھتی ہوں اس سرچ آپریشن میں پختون بھائیوں کو بڑھ چڑھ کر رینجرز سے تعاون کرنا چاہیئے تاکہ جو افغان مجرمان اور قاتل ان کی زبان اور حلیے کی آڑ لیکر اپنے مذموم مقاصد پورے کر رہے ہیں اور پختونوں کا حق مار رہے ہیں انکا قلع قمع کیا جا سکے .اور ان کا حق اور انہیں دیا جا سکے اور ان کی عزت بحال کی جا سکے .اللہ پاک کرم فرمائے. کہیں بھی افغان اور پختون کو پہچانا ہو تو یاد رکھیں دو لفظ ان کی زبان کے ان سے بول کر دیکھیں پختون اس کی محبت اور دید میں اپنی جان بھی آپ کو پیش کر دے گا . جبکہ افغانی کے سامنے اپنا پورا شجرہ بھی رکھ دیں گے تو بھی وہ نہایت بدمزاج اور اڑیل ٹٹو کی طرح بدلحاظ ثابت ہو گا . یقین نہ آئے تو آج ہی آزما کر دیکھ لیں . پختون بھائیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرنے والا ،مہمان نواز،قدر کرنے والا کوئی مشکل ہی سے ملے گا ..انہیں خوبیوں کو الٹ دیجیئے تو افغان تیار ہے . سو ہمیں پختون اور افغان کی اسے چھانٹی اور پہچان کو یقینی بنانا ہے. تاکہ افغانی مجرمان کے جرائم سے پختون قوم کو بدنام ہو نے سے بچایا جا سکے . اور ان کا حق انہیں دلوایا جا سکے . اور انشاءاللہ ہم سب پاکستانی مل کر اسے یقینی بنائیں گے . سرگرم عمل ہیں …اس کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ پبجابی پنجابی کی بین بجانے والے کماتے بھی پنجاب میں ہیں بیٹیاں بیاہتے میں پنجابیوں سے ہیں پنجابنوں سے شادی کرنے کے ارمان بھی رکھتے ہیں. جو انہیں ملتی نہیں ہیں تو انہیں آوارہ اور بدچلن بھی زور و شور سے ثابت کرتے ہیں .. ان کی ہر بات سے متاثر بھی ہوتے ہیں ..اور ان میں کیڑے بھی نکالتے ہیں .. اور انہیں جا کر من من بھر کی گالیاں بھی دیتے ہیں . میرے نزدیک خود کو بہت زیادہ غیرت مند پرہیز گار مومن حیادار کہلانے والوں کو یہ بات اپنے گریبان میں جھانک کر خود سے پوچھنی چاہیئے کہ کیا ایسے ہوتے ہیں غیرت مند لوگ؟؟؟؟ جو جن کیساتھ باعزت وقت گزاریں اور پھر ان پر بہتان تراشی بھی کریں . پیارے بھائیو.. بری بات کوئی بھی کرے وہ بری ہوتی ہے۔
میرا بیٹا بری بات کرے تو وہ بری نہیں لیکن پڑوسی کا کرے تو وہ بری. . یہ روایت اب ختم ہو جانی چاہیئے . آج کے پڑھے لکھے لوگ اور نوجوان بھی اگر تنقید برائے تنقید یا ضد برائے ضد کریں تو پھر ہم اپنے معاشرے میں تبدیلی کیسے لا سکتے ہیں . پھر تو کبھی کچھ نہیں بدلے گا . میری بات محض کسی ایک واقعہ پر مبنی نہیں ہے پنجابیوں اور پختونوں دونوں سے میرا تعلق اور رشتہ ہے . میں نے جو کہا وہ اسی فیصد تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے کئی لوگوں نے کہا پنجاب سے لوگ کیوں پختونخواہ میں کام کرنے آتے ہیں یا وہ بھی وہاں کماتے ہیں تو جی ہاں یہ بھی سچ ہے لیکن پنجاب سے پختونخواہ میں جا کر کام کرنے والے اگر 80 ہیں تو پنجابی جو سرحد میں جا کر کام کرتے ہیں وہ بیس ہونگے . اب یہ پرسنٹیج مقابلے پر کیسے لائی جا سکتی ہے. ہمارے پنجاب کے ہر محلے میں ہر گلی میں دو چار پختون خاندان آباد ہیں .ہمارے سر آنکھوں پر .. اس کے مقابلے میں سرحد کی گلی محلوں میں کتنے پنجابی کام کرتے ہیں یا آباد ہیں ؟ ایمانداری سے حلفا کہیئے گا پلیز ٹھنڈے دل سے جائزہ لیکر … پنجابی لڑکیوں سے شادی کرنے کے کتنے خواہشمند پنجاب میں شادی دفاتر میں رجسٹر ہیں آپ چاہیں تو کبھی بھی معلوم کر سکتے ہیں ..لیکن پنجابی لڑکیاں پختون ماحول اور سخت گیریوں کے خوف سے وہاں شادی میں دلچسپی نہیں رکھتی .تو میں نے کئی لڑکوں کو ان لڑکیوں پر تہمتیں لگاتے اور گالیاں بکتے دیکھا ہے .ان کی نظر میں ہر عورت جو کسی مرد سے بات کرتی ہے یہاں تک کہ کسی دکاندار یا ڈاکٹر سے بھی بات کرتی ہے تو وہ بدکار ہے۔
بات دس بیس فیصد کی نہ کریں بات اکثریت کی کریں . اور ہم اپنی غلطیوں کو مانیں گے تو ہی کچھ بدل سکیں گے ورنہ آپ مجھے جتنا چاہیں کوس لیں. .کچھ نہیں بدلے گا .. میں نے اپنی تحریر کے پہلے حصے میں کسی بھی صوبے کا نام لیکر اس سے تعصب کا اظہار بلکل بھی نہیں ہے جو کہ میرا ایک پوسٹ پر کمنٹ تھا . لیکن اس پر کچھ لوگوں نے تعصبانہ آگ بھڑکانے کی ناکام کوشش کی اور اپنی گھٹیا زبان اور گندی سوچ کا مظاہرہ کیا …میں نے تو پنجابی پنجابی کہنے والوں کو مشترکہ مخاطب کیا ہے … اور میں اس پر قائم ہوں .. کبھی آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے گھروں پر آدھی رات کو رینجرز نے چھاپے مارے .. وہ دن میں آتے …. یہ ظلم ہے ….. بات ہے کسی مجرم کی تلاش میں کسی کے گھر پر چڑھائی کرنے کی … تو میرے بھائی ساری دنیا میں چھاپے اسی طرح اچانک اور سینکڑوں پولیس یا رینجرز کے ساتھ ہی مارے جاتے ہیں . آدھی آدھی رات کو ہی مارے جاتے ہیں۔
ہم یورپ اور امریکہ میں بھی یہ ہی آئے دن دیکھتے ہیں . آنے سے پہلے سائرن نہیں بجائے جاتے نہ ہی فون پر اطلاع دی جاتی ہے کہ ہشیار ہو جاو ہم چھاپہ مارنے آ رہے ہیں … آپ نے کہا ہماری بجلی گیس پانی پنجاب والے استعمال کرتے ہیں ہمیں نہیں ملتی.. تو جناب بجلی گیس مفت میں ایک شہر یا صوبے سے کہیں نہیں جاتے …جہاں جاتے ہیں وہ اس کی کئی گناء قیمت ادا کرتے ہیں .. جبکہ آپ کے علاقے کے لوگ بجلی پانی اور گیس کے بل تک دینے کو تیار نہیں ہیں تو یہ سہولیات بنا پیسے کے تو دنیا میں کہیں بھی آپ کو نہیں مل سکتی ..اگر ملتی ہے تو ہمیں بھی خبر کریں . ایک بات کی گئی کہ کون کہاں کام کرتا ہے ..تو کہیں بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے یا صوبے میں کام کرنا کوئی بری بات نہیں ہے .لیکن جہاں اور جن کیساتھ مل کر رزق کمآئیں ان کو ہی گالیاں دینا اور ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا کسی صورت بھی شرافت یا انسانیت نہیں کہا جا سکتا . اور اپنے صوبے میں انڈسٹری لگانے پر ذور دینا صوبائی حکومتوں پر ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو انہیں منتخب کرتے ہیں اور ووٹ دیتے ہیں .. وہ وہاں انڈسٹری لگائیں تاکہ ہر ایک کو اپنے علاقے میں ہی کام میسر آ سکے اور علاقے میں ترقی ہو. ہمارے ہاں کرپشن کے علاوہ وہی ہوتا ہے جو کہ انٹرنیشنلی ہر جگہ ہوتا ہے سو ہم پاکستانیوں کو مفتے کے شوق نے ہمیشہ ہی خراب کیا ہے۔ اس سے ہمیں اب جان چھڑا کر حقیقت کی دنیا میں آ جانا چاہیئے۔
اکثر اپنی قربانیاں یاد دلاتے ہوئے ہمارے بھائی بھول جاتے ہیں کہ ضرب عصب میں تین سال سے پنجابی بیٹے کیا لڈو کھیلنے جا رہے ہیں …. افغانی دہشت گرد پالے تو ہمارے پختون بھائیوں نے اپنی معصومیت اور سادگی میں تھے لیکن ان کی صفائی تو پنجاب کیا پورے پاکستان نے اپنی جان پر کھیل کر کی ہے .یہ کوئی جادو سے تو نہیں مارے گئے میں سمجھتی ہوں اس سرچ آپریشن میں پختون بھائیوں کو بڑھ چڑھ کر رینجرز سے تعاون کرنا چاہیئے تاکہ جو افغان مجرمان اور قاتل ان کی زبان اور حلیے کی آڑ لیکر اپنے مذموم مقاصد پورے کر رہے ہیں اور پختونوں کا حق مار رہے ہیں انکا قلع قمع کیا جا سکے .اور ان کا حق اور انہیں دیا جا سکے اور ان کی عزت بحال کی جا سکے۔
اللہ پاک کرم فرمائے. کہیں بھی افغان اور پختون کو پہچانا ہو تو یاد رکھیں دو لفظ ان کی زبان کے ان سے بول کر دیکھیں پختون اس کی محبت اور دید میں اپنی جان بھی آپ کو پیش کر دے گا .جبکہ افغانی کے سامنے اپنا پورا شجرہ بھی رکھ دیں گے تو بھی وہ نہایت بدمزاج اور اڑیل ٹٹو کی طرح بدلحاظ ثابت ہو گا . یقین نہ آئے تو آج ہی آزما کر دیکھ لیں . پختون بھائیوں سے زیادہ پاکستان سے محبت کرنے والا ،مہمان نواز،قدر کرنے والا کوئی مشکل ہی سے ملے گا ..انہیں خوبیوں کو الٹ دیجیئے تو افغان تیار ہے . سو ہمیں پختون اور افغان کی اسے چھانٹی اور پہچان کو یقینی بنانا ہے. تاکہ افغانی مجرمان کے جرائم سے پختون قوم کو بدنام ہو نے سے بچایا جا سکے . اور ان کا حق انہیں دلوایا جا سکے . اور انشاءاللہ ہم سب پاکستانی مل کر اسے یقینی بنائیں گے۔
سابق آمر جنرل ضیاءالحق (جس کو کچھ لوگ جنرل ضیاع بھی لکھتے ہیں) نے اپنے گیارہ سالہ اقتدار کے دور میں منافقت کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے تھے۔ اقتدار پر ناجائز قابض ہونے سے پہلے تک سگریٹ پیتا تھا لیکن اپنے دور میں سگریٹ پینا چھوڑ دیا، چندروز سائیکل پر دفتر جاکر قوم کو بچت کی نصحیت کرنا، شلوار قمیض اور شیروانی پہننا، دکھاوے کی عبادت کرنا، یوم آزادی منانا، اسلامی بینکاری اور دفاتر میں نماز کا وقفہ، یہ سب عمل منافقت سے جڑئے ہوئے تھے، اس کا مقصد صرف اورصرف اپنے اقتدار کو طول دینا تھا۔روس کے افغانستان میں داخلے کے بعد تو اس کی عید ہو گئی، امریکہ سے سیاسی حمایت کے ساتھ ساتھ ڈالروصول کرکے مذہب فروشی کرتا رہا۔ اس شغل کے زریعے وہ امریکہ کو ڈالر مجاہد مہیا کرتا تھا جو افغانستان جاکر روس سےنام نہاد جہاد کے نام پر لڑتے اور ڈالر کماتے تھے۔ آمر جنرل ضیاء الحق کے مذہب فروشی کے اس کاروبار میں اس کی سب سے بڑی شریک کا رجماعت اسلامی تھی جو آج بھی پاکستان میں دہشتگردوں کی سب سے بڑی سہولت کار ہے۔ دوسروں کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور موجودہ وزیر اعظم نوازشریف اور انکے وزیر داخلہ بھی منافق جنرل ضیاءالحق کے ہمجولی تھے اور دونوں ہی جنرل سے سیاست کی ٹرینگ لیتے تھے، دونوں میں آج وہی گن پائے جاتے ہیں جوان کےسیاسی باپ جنرل ضیاءالحق میں تھے۔
سترہ اگست 1988 کو جنرل ضیاءالحق فوج کے ایک پروگرام میں شریک ہوکر بہاولپور سے واپس اسلام جارہا تھا کہ اس کا طیارہ فضا میں پھٹ گیا اور ساتھ ہی فضا میں وہ خود بھی پھٹ گیا، جس پر پاکستانی عوام کا کہنا تھا کہ’خس کم جہاں آباد‘۔اگلے دن جنرل ضیاءالحق منافق کے لیے ایک اور منافقت کی گئی اور ایک بتیسی کے ساتھ جلے ہوئے گوشت کے لوتھڑوں کو جنرل ضیاءالحق کی باقیات کہہ کر بغیر کسی وجہ کےاسلام آباد کی فیصل مسجد کے احاطے میں دفن کیا گیا۔ بعد میں کچھ لوگوں نے فیصل مسجد کے اسٹاپ کا نام جبڑا چوک رکھ دیا۔صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ اب بھی یہاں لوگ ویگنوں سے اُتر کر مطلوبہ دفاتر کی جانب جاتے ہیں ، اُس سے قبل ویگن کا کنڈکٹر آواز لگاتا ہے: ”جبڑا چوک والے بھائی“۔ شروع کے چند سالوں میں جنرل ضیاءالحق کے مزار پر ہر سال اسکی برسی کا اہتمام ہوتا تھا لیکن جب کچھ ہی سالوںمیں جنرل ضیاءالحق کے سیاسی کرتوت سامنے آئے تو سوداگر نواز شریف نے جنرل ضیاءالحق کے مزار پر جانا چھوڑ دیا، یہاں تک ہوا کہ اب اس کا بیٹا بھی اپنے باپ کی قبر پر نہیں جاتا، کچھ مہینے قبل سوشل میڈیا پر ایک تصویر پوسٹ کی گئی تھی جس میں جنرل ضیاءالحق کی قبر پرکچھ کتے لیٹے ہوئے تھے۔جنرل ضیاءالحق نے ملک کو گیارہ سال تک جمہوریت سے دور رکھا، آئین میں من مانی ترمیم کرکے اس کی شکل بدلی، اس کے علاوہ اس نے اسلام کے نام پر قوم سے فراڈ کیا اور اسلام کو اپنے گیارہ سالہ دور اقتدار میں بھی مکمل نافذ نہ کر کےاسے ایک مشکل مذہب ثابت کرنے کی کوشش کی۔
روس کےافغانستان سے چلے جانے کے بعد امریکہ نے روسیوں سے لڑنے والوں کا راتب بند کردیا ۔ جنرل ضیاءالحق کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی اور ڈالر مجاہدوں کا راتب بھی بند ہوگیا، اس لیے یہ سب امریکہ کے مخالف ہوگئے، روس سے جنگ کے دوران امریکہ نے نام نہاد مجاہدوں کو بہت اسلحہ دیا تھا جو اب ان کے قبضے میں تھا۔11 ستمبر 2001 کو اسامہ بن لادن کی دہشتگرد تنظیم ’القاعدہ‘ کے ارکان نے چار امریکی طیارئے اغوا کیے جن میں سے دو کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹرسے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں انسان ہلاک ہوگئے۔11 ستمبر2001 تاریخ کا وہ افسوس ناک دن ہے جس نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا، دہشت گردی کے اس واقعہ کو امریکیوں نے 9/11(نائن الیون) کا نام دیا۔ نائن الیون کے بعددہشتگرد اسامہ بن لادن جو افغانستان میں جنگ کے دوران روس کے خلاف امریکوں کا سب سے بڑا ہمدرد اور نام نہاد مجاہد تھا ، اس کو اوراس کے ساتھیوں کو پہلے ہی پوری دنیا دہشتگرد کہتی تھی امریکہ نے بھی ان کو دہشتگردقرار دیا اور اس کو مارنے کےلیے دوڑاہوا افغانستان چلا آیا جہاں پر طالبان کی حکومت تھی اور ملا عمر اس کا سربراہ تھا، القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن بھی افغانستان میں ہی موجود تھا۔ملا عمر تو حکومت چھوڑ کر بھاگ نکلا اور نام نہاد مجاہددہشتگرداسامہ بن لادن روپوش ہوگیا۔ امریکی فوج کے افغانستان پر قبضے کے بعد القاعدہ کمزور ہوئی تو نام نہاد جہادیوں نے جو دراصل فسادی اور دہشتگرد ہیں اپنے آپ کوپاکستانی طالبان کا نام دیااور پاکستان میں دہشتگردی کرنےلگے جو آج بھی جاری ہے۔ اب ان دہشتگردوں کو راتب بھارت دیتا ہے، اور دہشتگرد اب بھارتی خفیہ ایجینسی ’را‘ کی ہدایت پر اکثرپاکستان میں دہشتگردی کرتے ہیں۔
نواز شریف ایک سیاستدان کے ساتھ ساتھ کاروباری بھی ہیں لہذا ضرورت پڑنے پر اپنے سیاسی باپ جنرل ضیاءالحق کی منافقتوں کو یاد کرتے ہیں اور پھر ان ہی منافقوتوں میں سے کسی ایک کو اپناتے ہیں۔ دہشتگردوں کے ساتھ تو وہ ہمیشہ سے ہی ہیں لیکن اپنے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے وہ کبھی کبھی لبرل کا لبادہ بھی اوڑھ لیتے ہیں جیسا کہ انہوں نے گذشتہ سال ہندوں کے تہوار میں شرکت کرکے کہا تھا کہ مجھ پر بھی رنگ پھنکیں، کیوں نہ کہتے آخر ان کے سیاسی باپ جنرل ضیاءالحق نے بھی تو نیپال کے ایک مندر میں داخل ہوکر اس کی گھنٹیاں بجائی تھیں۔ نواز شریف نے 2013 میں تیسری بار وزیراعظم بننے کےبعد طالبان دہشتگردوں سے مذکرات کا ڈرامہ شروع کیا ، پوری قوم ان مذکرات سے پریشان تھی لیکن مذہب فروش اور طالبان کے سہولت کار جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کے دونوں گروپوں کی خواہش یہ ہی تھی کہ مذکرات جاری رہیں، مسلسل دہشتگردی کی وجہ سے پاکستانی فوج کے سابق سربراہ جنرل راحیل شریف نے طالبان دہشتگردوں کے خلاف فوجی آپریشن’ضرب عضب‘ شروع کیا۔ جواب میں دہشتگردوں نے بھی بہت دہشتگردی کی ، لیکن بعد میں دہشتگردی میں بہت حد تک کمی آئی تھی۔
جنرل راحیل کے ریٹائر منٹ سے پہلے تک کہا جارہا تھا کہ دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے لیکن فوجی قیادت کی تبدیلی کے بعد دہشتگرد کارروایاں بڑھ گیں ہیں اور فروری 2017 میں دہشتگردوں نے صرف پانچ دن میں 8 یا 9 دہشتگرد کاروایاں کرکے 100سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کیا ہے اوریہ سب کرکے دہشتگردوں نے حکومت کو یہ واضع پیغام دیا ہے کہ ابھی تک ہماری کمریں سلامت ہیں۔ ملک کے عوام کو دہشتگردی سے بچانے کی زمہ داری عوام کی منتخب حکومت کی ہوتی ہے، لیکن وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار کے بارئے میں پورا پاکستان جانتا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے بہت بڑئے غم خوار ہیں، طویل پریس کانفرنس میں وہ قوم کو لیکچردے کر یہ بتاتے ہیں کہ دہشتگرد جوکچھ کررہے وہ ٹھیک ہے انکے خلاف کوئی کارروائی کرنا نامناسب ہے، لہذا نواز شریف سب سے پہلے چوہدری نثار کی زباں بندی کریں اور اپنی منافقت ختم کرکے قوم کے ساتھ وعدہ کریں کہ وہ دہشتگردی کے خلاف لڑینگے،آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے لیے دہشتگروں کا صرف پانچ دن میں 8 یا 9 دہشتگرد کاروایاں ایک کھلا چیلنج ہے، ان کو بھی چاہیے کہ اب پوری کوشش کریں اور دہشتگردوں کی واقعی کمرتوڑ دیں جو ساری دنیا کو صاف نظر آئے۔
تحریر : علی عبداللہ
“انسان ماں کے پیٹ سے آزاد پیدا ہوا ہے _ لہٰذا کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انسان کو اپنا غلام بنائے ” یہ اس اعلان کے ابتدائی جملے ہیں جسے اعلان آزادی کہا جاتا ہے _ امریکہ کو برطانیہ سے آزاد کروا کے اعلان آزادی کرنے والا یہ شخص جارج واشنگٹن تھا اور یہ آزاد جمہوریت کی پہلی باقاعدہ شکل تھی _ دور جدید میں جمہوریت کو ہی بہترین نظام قرار دیا جاتا ہے اور جو شخص جمہوریت پر اعتراض کرے اسے سیاست میں جاہل سمجھا جاتا ہے _ دنیا میں رائج مختلف سیاسی نظاموں میں سے ایک جمہوری نظام بھی ہے _ اس کی اہمیت کے پیش نظر آجکل ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ اسے جمہوری نظام کی تاریخ اور نظریات کا علم ہو۔جمہوریت انگریزی لفظ “ڈیموکریسی” کا ترجمہ ہے اور عربی میں اسے “دیمقراطیہ” بولا جاتا ہے _ گو کہ سیاست کے شہسواروں کے درمیان جمہوریت کے معنوں میں اختلاف پایا جاتا ہے لیکن جمہوریت کے روایتی معنی ہیں, ” ایسی حکومت جس میں عوامی رائے کو کسی بھی شکل میں حکومت کی پالیسیاں بنانے میں بنیاد بنایا جائے ” جمہوریت جدید دنیا کی پیداوار نہیں بلکہ عہد یونان میں بھی جمہوریت کا نظریہ موجود تھا _ وہاں جمہوریت کا تصور سادہ اور محدود سا تھا جس میں ایسا کوئی دستور موجود نہیں تھا جو طے کرے کہ کن معاملات میں عوام رائے دے سکتی ہے اور کن معاملات میں بادشاہ عوامی منظوری کے بغیر کوئی فیصلہ کر سکتا ہے _ یونان کے چھوٹے چھوٹے شہر ایک مستقل ریاست ہوا کرتے تھے جن میں سپارٹا اور ایتھنز وغیرہ مشہور ہیں _ ان ریاستوں میں بادشاہ عوامی رائے لینے کے لیے لوگوں کو ایک جگہ اکٹھا کرتے اور کسی بھی فیصلے میں عوامی رائے طلب کر لیتے تھے _ لیکن جن ملکوں کی آبادی بڑی تھی اور وہاں ایسا ممکن نہیں ہوتا تھا جیسا کہ سلطنت روم وغیرہ, وہاں جمہوریت کے اس تصور کو محدود کر دیا گیا اور بادشاہوں نے اپنے مشورے اور رائے کے لیے مجلس شوریٰ اور کونسل بنا لیں _ رفتہ رفتہ عوام کو رائے میں شامل کرنا ختم ہوتا چلا گیا _ مطلق العنانی نظام میں جمہوریت عملی طور پر دم توڑ گئی۔
غالباً اٹھارویں صدی میں دوبارہ سے جمہوری تصورات نے سر اٹھانا شروع کیا اور آزاد خیال جمہوریت کی بنیاد ڈالی گئی _ جدید جمہوریت کے بانی تین لوگوں کو سمجھا جاتا ہے جن میں وولٹائر, مونٹیسکو اور روسو شامل ہیں _ یہ تینوں اشخاص فرانس سے تعلق رکھتے تھے اور انہی کے نظریات کے نتیجے میں جدید جمہوریت وجود میں آئی _ وولٹائر نے فلسفے , سائنس اور آرٹ پر بہت سی کتابیں لکھیں _ اسکا خیال تھا کہ تمام آسمانی مذاہب تحریف شدہ ہیں اور اب مذہب صرف ایک ہی ہے جسے اس نے فطری مذہب کا نام دیا _ دوسری بات جو اس نے کی وہ یہ تھی کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں چرچ یا حکومت کسی کو اختیار نہیں کہ وہ اس میں دخل اندازی کر سکے _ اور جب یہ بات طے ہو گئی کہ مذہب ذاتی معاملہ ہے تو سیکولرازم وجود میں آیا _ ان سب نظریات کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ چرچ کا مذہب کے نام پر ظلم و ستم ڈھانا تھا _ جمہوریت کی نئی صورت پیش کرنے والا دوسرا شخص مونٹیسکو تھا۔
اس کا نظریہ تفریق اختیارات کا نظریہ کہلاتا ہے _ اس کے مطابق اختیارات کسی ایک شخص یا ادارے کو نہیں سونپنے چاہییں بلکہ مختلف اختیارات مختلف اداروں یا افراد میں تقسیم کر دیے جانے چاہییں اور یہ افراد اور ادارے مکمل آزاد ہوں _ اسی بنیاد پہ قانون سازی کو مقننہ کا نام دے کر الگ ادارہ قائم کیا گیا _ قانون کے مطابق ملک چلانے کا اختیار جس ادارے کو سونپا گیا اسے انتظامیہ کا نام دے دیا گیا _ اسی طرح قانون کی تشریح اور تصفیہ کے لیے عدلیہ کے نام سے تیسرا ادارہ قائم ہوا _ مونٹیسکو کے مطابق ان تمام اداروں کو خود مختار ہونا چاہیے کوئی کسی دوسرے کے کاموں میں دخل اندازی نہ کرے _ تیسرا شخص روسو تھا جس نے جمہوریت کی صورت گری کی _ اسی نے ہی مشہور معاہدہ عمرانی میں تجدید کی اور کہا کہ معاہدہ عمرانی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حکومت میں افراد کو آزادی ہو اور حکومت افراد کی نمائندہ ہو _ عوام اپنی حکومتوں کی نمائندگی کرے اور ہر فرد کے مفادات کا تحفظ کیا جائے _ ان تین بنیادی نظریات کے نتیجے میں جدید سیکولر جمہوریت وجود میں آئی۔
جدید دنیا میں جمہوریت امریکہ کی آزادی اور انقلاب فرانس سے تیزی سے پھیلی اور اب ہر ملک جمہوریت نافذ کرنے پر کوشاں ہے _ درحقیقت انقلاب فرانس پوری دنیا میں جمہوریت کے نفاذ کا سب سے اہم سبب سمجھا جاتا ہے کیونکہ امریکہ یورپ سے بہت دور ہے اور وہاں کے جمہوری نظریات بہت زیادی مؤثر طریقے سے یورپ تک نہیں پہنچ پائے تھے۔
تحریر : شہزاد عمران رانا
آج 25فروری بروز ہفتہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن الیکشن 2017-18ہونے جارہا ہے جس کی نشستوں کی تعداد لاہور بار کے مقابلے میں کافی کم ےعنی چارہے جن میں صدر، نائب صدر،سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں مگر یہاں ووٹرز کی تعداد کافی زیادہ ہے کیونکہ یہاں سو سے زائد بار ایسوسی ایشنز کے ممبران جو لاہور ہائی کورٹ کی حدود میں آتے ہیں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ یہاں بھی صدر کی نشست پر ہربار حامد خان کے پروفیشنل گروپ اور عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے مابین ہی مقابلہ ہوتا ہے گزشتہ سال حامد خان گروپ نے کافی عرصے بعد صدارت اپنے نام کی تھی جس میں راناضیاءعبدالرحمن نے اپنے مضبوط سیاسی حریف رمضان چوہدری کو شکست سے دوچارکیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا آخری الیکشن تاریخ میں پہلی بارمکمل طور پر ”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “کے تحت ہوا تھااوراِس بار عاصمہ جہانگیر گروپ کے صدارتی امیدوار رمضان چوہدری نے پہلے کافی کوشش کی کہ الیکشن بذریعہ ”دستی“طریقہ کار سے ہو مگر اِس بار بھی الیکشن”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “ کے تحت ہی ہوگا ۱ور حالیہ دہشت گردی کے پیشِ نظرسیکورٹی کے لیے پاکستان رینجرز سے مدد مانگی گئی ہے۔
عاصمہ جہانگیر گروپ نے دوبارہ رمضان چوہدری کوہی میدان میں اتارا ہے مگر اِس بار دو ایسے امیدوار بھی میدان میں کودپڑے ہیں جو ہمیشہ اِس گروپ کے سیاسی حلیف رہے ہیں اور جو رمضان چوہدری کے لئے بڑی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اِن میں سابقہ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے فرزند اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنما سردارخرم لطیف کھوسہ اور ایک مشہور وکیل راہنما آزر لطیف خان صدر کے لئے کھڑے ہیں جبکہ حامد خان گروپ کی طرف سے لاہور بار کے سابقہ صدر چوہدری ذوالفقارعلی میدان میں ہیں اِس طرح عاصمہ جہانگیر گروپ کے تین امیدواروں کا حامد خان گروپ کے ایک امیدوار سے مقابلہ ہے۔
نائب صدر کی نشست پرون ٹو ون مقابلہ ہے جس میں دونوں امیدواروں کا یہ دوسرا الیکشن ہے جن میں قائداعظم لاءکالج کے بانی حاجی چوہدری سلیم جبکہ اِن کے مدمقابل ممبر پنجاب بار کونسل آغا فیصل کے امیدوار اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنماراشد لودھی ہیں دونوں امیدواروں کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے یاد رہے کہ حاجی چوہدری سلیم پنجاب بار کونسل کے انتخابات 2014میں بھی لاہور سیٹ کے لئے امیدوار تھے اور ہارگئے تھے ویسے اب تک حاجی چوہدری سلیم کسی بھی الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
Election
سیکرٹری کی نشست پر کل پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدوار پہلی بارالیکشن میں حصہّ لے رہے ہیں جن میںحامد خان گروپ کے سرگردہ راہنما ممبرپاکستان بار کونسل مقصود بٹرکے امیدوار حسن اقبال وڑائچ جبکہ اَسی گروپ کے ایک اور راہنما ممبرپاکستان بار کونسل طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار عامر سعید راں بھی میدان میں ہیں اِن کے علاوہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے راہنماسیالکوٹ سے ممبر پنجاب بار کونسل رفیق جٹھول کے امیدوار عرفان ناصر چیمہ جن کو اِسی گروپ کے لاہور سے ممبرپنجاب بار کونسل سید فرہادعلی شاہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ ملک زاہد اسلم اعوان اور میاں مظفر حسین کو مختلف بار ایسوسی ایشنز کی موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے یعنی سیکرٹری کی نشست پر بھی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ الیکشن لاہور بار میں سید فرہادعلی شاہ کے امیدوار برائے نائب صدر عرفان صادق تارڑ اور طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار برائے سیکرٹری ملک فیصل اعوان کامیاب رہے تھے۔ فنانس سیکرٹری یعنی لاہور ہائی کورٹ بارکی آخری نشست۔اِس نشست پر کل تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدواربھی پہلی بارالیکشن میں حصہّ لے رہے ہیں جن میں سابقہ فنانس سیکرٹری اور آئندہ امیدوار برائے ممبر پنجاب بار کونسل بھکر سیٹ سید اخترحسین شیرازی کے امیدوارحافظ اللہ یار سپراءجن کو موجودہ فنانس سیکرٹری سید اسد بخاری کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، اِ ن کے علاوہ سابقہ سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار اور پاکستان مسلم لیگ (ن)لائیزز فورم کے سرکردہ راہنمارانا اسد اللہ خاں کے امےدوار محمد ظہیر بٹ اورایک آزاد امیدوار انتظار حسین کلیار شامل ہیں۔
اِس نشست پربھی تمام امیدواروں کومختلف بار ایسوسی ایشنز کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے اِس نشست پر بھی تمام امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تصور کیا جا رہاہے۔ویسے بھی وکلاءسیاست میں قبل ازوقت پیش گوئی غلط بھی ہوجاتی ہے کیونکہ اِس الیکشن میں بھی لاہور بار کی طرح مختلف گروپوں کی آخری وقت کی ”معاملہ کاری“ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور جو بڑے بڑے برُج الٹ بھی دیتی ہے۔
تحریر : شہزاد عمران رانا
حصہ اول میں، میں نے 23 جنوری کو ہونے والے لاہور بار ایسوسی ایشن کے سالانہ الیکشن 2017-18 سے قبل کا جائزہ پیش کیا تھا جس کی صدارت حامد خان گروپ کے نام رہی۔ اس حصہ میں، میں 25 فروری کو ہونے والے لاہورہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے الیکشن کی بات کروں گاجس کی نشستوں کی تعداد لاہور بار کے مقابلے میں کافی کم ےعنی چارہے جن میں صدر، نائب صدر،سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری کے عہدے شامل ہیں مگر یہاں ووٹرز کی تعداد کافی زیادہ ہے کیونکہ یہاں سو سے زائد بار ایسوسی ایشنز کے ممبران جو لاہور ہائی کورٹ کی حدود میں آتے ہیں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ یہاں بھی صدر کی نشست پر ہربار حامد خان کے پروفیشنل گروپ اور عاصمہ جہانگیر کے انڈیپنڈنٹ گروپ کے مابین ہی مقابلہ ہوتا ہے گزشتہ سال حامد خان گروپ نے کافی عرصے بعد صدارت اپنے نام کی تھی جس میں رانا ضیاء عبد الرحمن نے اپنے مضبوط سیاسی حریف رمضان چوہدری کو شکست سے دوچارکیا تھا۔عاصمہ جہانگیر گروپ نے دوبارہ رمضان چوہدری کوہی میدان میں اتارا ہے مگر اِس بار دو ایسے امیدوار بھی میدان میں کودپڑے ہیں جو ہمیشہ اِس گروپ کے سیاسی حلیف رہے ہیں اور جو رمضان چوہدری کے لئے بڑی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اِن میں سابقہ گورنر پنجاب سردار لطیف کھوسہ کے فرزند اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنما سردارخرم لطیف کھوسہ اور ایک مشہور وکیل راہنما آزر لطیف خان صدر کے لئے کھڑے ہیں جبکہ حامد خان گروپ کی طرف سے لاہور بار کے سابقہ صدر چوہدری ذوالفقار علی میدان میں ہیں اِس طرح عاصمہ جہانگیر گروپ کے تین امیدواروں کا حامد خان گروپ کے ایک امیدوار سے مقابلہ ہے۔نائب صدر کی نشست پرون ٹو ون مقابلہ ہے جس میں دونوں امیدواروں کا یہ دوسرا الیکشن ہے جن میں قائداعظم لاءکالج کے بانی حاجی چوہدری سلیم جبکہ اِن کے مدمقابل ممبر پنجاب بار کونسل آغا فیصل کے امیدوار اور پیپلز لائیرز فورم کے راہنماراشد لودھی ہیں دونوں امیدواروں کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے یاد رہے کہ حاجی چوہدری سلیم پنجاب بار کونسل کے انتخابات 2014میں بھی لاہور سیٹ کے لئے امیدوار تھے اور ہارگئے تھے ویسے اب تک حاجی چوہدری سلیم کسی بھی الیکشن میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
سیکرٹری کی نشست پر کل پانچ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اور یہ تمام امیدوار پہلی بارالیکشن میں حصہ لے رہے ہیں جن میںحامد خان گروپ کے سرگردہ راہنما ممبرپاکستان بار کونسل مقصود بٹرکے امیدوار حسن اقبال وڑائچ جبکہ اَسی گروپ کے ایک اور راہنما ممبرپاکستان بار کونسل طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار عامر سعید راں بھی میدان میں ہیں اِن کے علاوہ عاصمہ جہانگیر گروپ کے راہنماسیالکوٹ سے ممبر پنجاب بار کونسل رفیق جٹھول کے امیدوار عرفان ناصر چیمہ جن کو اِسی گروپ کے لاہور سے ممبرپنجاب بار کونسل سید فرہادعلی شاہ کی بھی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ ملک زاہد اسلم اعوان اور میاں مظفر حسین کو مختلف بار ایسوسی ایشنز کی موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے یعنی سیکرٹری کی نشست پر بھی دلچسپ مقابلہ متوقع ہے۔یاد رہے کہ حالیہ الیکشن لاہور بار میں سید فرہادعلی شاہ کے امیدوار برائے نائب صدر عرفان صادق تارڑ اور طاہر نصر اللہ وڑائچ کے امیدوار برائے سیکرٹری ملک فیصل اعوان کامیاب رہے تھے۔فنانس سیکرٹری یعنی لاہور ہائی کورٹ بارکی آخری نشست۔اِس نشست پر کل تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے اوریہ تمام امیدواربھی پہلی بارالیکشن میں حصہّ لے رہے ہیں جن میں سابقہ فنانس سیکرٹری اور آئندہ امیدوار برائے ممبر پنجاب بار کونسل بھکر سیٹ سید اخترحسین شیرازی کے امیدوارحافظ اللہ یار سپراءجن کو موجودہ فنانس سیکرٹری سید اسد بخاری کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے، اِ ن کے علاوہ سابقہ سیکرٹری لاہور ہائی کورٹ بار اور پاکستان مسلم لیگ (ن)لائیزز فورم کے سرکردہ راہنمارانا اسد اللہ خاں کے امےدوار محمد ظہیر بٹ اورایک آزاد امیدوار انتظار حسین کلیار شامل ہیں اِس نشست پربھی تمام امیدواروں کومختلف بار ایسوسی ایشنز کے موجودہ اور سابقہ عہدیداروں کی حمایت حاصل ہے جس کی وجہ سے اِس نشست پر بھی تمام امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تصور کیا جا رہاہے۔ویسے بھی وکلاءسیاست میں قبل ازوقت پیش گوئی غلط بھی ہوجاتی ہے کیونکہ اِس الیکشن میں بھی لاہور بار کی طرح مختلف گروپوں کی آخری وقت کی ”معاملہ کاری“ بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور جو بڑے بڑے برُج الٹ بھی دیتی ہے۔لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کا آخری الیکشن تاریخ میں پہلی بارمکمل طور پر ”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “کے تحت ہوا تھا مگر اِس بار لاہور بار ایسوسی ایشن کا الیکش”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم“کے تحت تمام تیاریوں کے باوجود نہیں ہوسکا اور ایک ہفتے کے لئے ملتوی بھی کیا گیا تھا اِس بات کی وجہ سے عاصمہ جہانگیر گروپ کے امیدوار رمضان چوہدری نے چیئرمین الیکشن بورڈجاوید اقبال راجہ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ وہ آخری الیکشن میں”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “کی وجہ سے شکست سے دوچار ہوگئے تھے جس پر انہوں نے اپنے ہی گروپ کے اہم راہنما اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل محمد احسن بُھون سے ”دستی “ طریقہ سے الیکشن کروانے کے لئے حکم نامہ بھی حاصل کرلیا ہے جس کوصدراتی امیدوار خرم لطیف کھوسہ نے مداخلت قرار دیتے ہوئے چیلنج کردیا ہے اور حامد خان گروپ کے امید وار چوہدری ذوالفقارعلی بھی اِس معاملے کو چیلنج کرنے والے ہیں اب دیکھنا یہ ہوگا کہ الیکشن کس طریقہ کے تحت ہوتا ہے یا مقررہ وقت سے ملتوی ہوجاتا ہے ویسے وکلاءبرادری کی اکثریت وقت کے ضائع سے بچنے کے لئے ”بائیومیٹرک ووٹنگ سسٹم “ کے تحت الیکشن کو ہی پسند کرتی ہے۔
تحریر: صباء چودھری، صادق آباد آج کے دور میں والدین شکوہ کناں ہیں کہ ان کی تعلیم و تربیت کی تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہو رہی ہیں تو دوسری طرف اساتذہ کرام کا بھی یہی شکوہ ہے کہ طلبا میں تربیت کا فقدان ہے ۔اداروں کے ماحول کو پاکیزہ اور علم کے حصول کے لئے سازگار بنانے کی تمام تر سعی نقش بر آب ثابت ہو رہی ہیں۔ اس صورت حال سے تنگ اساتذہ کرام طلبا کو ان کے حال پر چھوڑ کر بری الذمہ ہو گئے ہیں اور شاکی ہیں کہ ان کو معاشرے میں وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اساتذہ کے شایان شان ہوا کرتا تھا۔ استاد اور شاگرد کے درمیان ادب و احترام کا رشتہ مفقود ہو گیا ہے ۔معاشرہ استاد کو تنخواہ دار ملازم سے زیادہ کا درجہ دینے پر راضی نہیں ہے۔آخر اس معاشرتی اور اخلاقی زوال کا سبب کیا ہے ؟ کیا آج کے اساتذہ کرام ماضی کے اساتذہ کرام کے سے افعال رکھتے ہیں جن کے جوتے اٹھانے کو خلیفہ کے بیٹے جھگڑتے تھے ۔اساتذہ کی ناقدری اور بےوقعتی کا سبب کہیں خود ان کے قول و فعل میں تضاد تو نہیں ؟ آج ہماری حالت ایسی ہے کہ ہم اصلاح کا محتاج دوسروں کو سمجھتے ہیں اور اپنی حالت زار پر توجہ نہیں دیتے۔اساتذہ کرام کا عمل خود ان کے قول کی نفی کر رہا ہوتا ہے ۔استاد طلبا کو وقت کی قدر کا درس دے رہا ہوتا ہے اور خود ان کے وقت کو اپنے ذاتی کاموں میں ضائع کر رہا ہوتا ہے ۔طلبا کو خیانت سے دور رہنے اور ایمان داری کو اپنانے کی صلاح دے رہا ہوتا ہے اس کے بر عکس وہ خود درس و تدریس کے وقت میں اپنے ذاتی کام ( اخبار پڑھنا ،تسبیح کرنا ،موبائل کا استعمال وغیرہ )میں استعمال کر کے خیانت کر رہا ہوتا ہے۔ اب ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ ایسے استاد کی کہی بات کی نا قدری کیسے نہ ہو۔ ان حالات میں ہم صرف بچوں کو تربیت کی کمی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے ۔دراصل ہم دوسروں کی اصلاح میں اپنی اصلاح بھول گئے ہیں ۔ جبکہ قرآن پاک میں اس عمل کی نشاندہی کے ساتھ خوفناک وعید بھی آئی ہے۔ ” کیا حکم کرتے ہو تم دوسرے لوگوں کو نیکی کے کام کا اور بھول جاتے ہو اپنے آپ کو حالانکہ تم تو تلاوت کرتے رہتے ہو کتاب کی ،پھر تم کیوں نہیں سوچتے۔“(البقرہ ) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شب معراج میرا گزر کچھ لوگوں پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچیوں سے کترے جا رہے تھے، میں نے جبرئیل سے پوچھا ” یہ کون لوگ ہیں ؟“ جبرئیل نے فرمایا کہ یہ آپ کی امت کے دنیا دار واعظ ہیں جو لوگوں کو تو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر اپنی خبر نہ لیتے تھے ۔(ابن کثیر ) کہتے ہیں کہ ” دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے “۔ سوچنے کی بات یہ کہ کیا ہمارے دل سے نکلی ہوئی اس قدر اثر انگیز ہے؟ ضرورت کردار کے غازی بننے کی ہے، گفتار کے غازی تو دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ضرورت اپنی اصلاح کی ہے۔ اپنے اسلاف پر نگاہ دوڑائیے آخر ان کے قول میں ایسی کیا تاثیر تھی کہ لوگ جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہو جاتے تھے اور آج کے مبلغین کے ہزاروں بیانات بھی کوئی اثر نہیں رکھتے۔ اپنے اقوال و افعال کو قرآن و سنت کے تابع کر لیں گے تو ہماری سادہ سی بات میں بھی وہ اثر ہو گا جو کسی عظیم مبلغ کے مسجع و مقفی بیان میں نہ ہوگا ۔ آئیے آغاز اپنی اصلاح سے کرتے ہیں۔ اپنے کردار میں اپنے اسلاف کے سے اوصاف پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔زندگی کے رخ باتوں سے نہیں بلکہ جدوجہد سے بدلا کرتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے قرآن کو کافی نہیں سمجھا بلکہ عمل کے طریقے سیکھانے کی لئے انبیاکرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا۔ اپنے عمل کو کڑی نگاہ سے پرکھ کر انبیا کرام ؑکی سنت پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح اگر والدین بچوں کی اچھی تربیت کے خواہاں ہیں تو انہیں اپنے عمل سے بچوں کے لئے روشن مثال بننا ہوگا ورنہ اصلاح کی ہر کوشش یونہی رائیگاں جاتی رہے گی۔