اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں برطانوی وزارت داخلہ نے پاکستان میں گرفتار ملزم محسن علی سید کو حوالے کیے جانے کی درخواست روک دی۔ حکام کا کہنا ہے کہ درخواست تکنیکی وجوہات پر روکی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ نے برطانوی وزارت داخلہ سے سفارش کی تھی کہ محسن علی سید کو برطانیہ حوالے کرنے کے لیے پاکستان سے درخواست کی جائے ۔ اس بارے میں برطانوی وزارت داخلہ کا موقف ہے کہ حوالگی کی درخواست برطانیہ کی کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مشورے پر روکی گئی ۔اس سے پہلے برطانیہ نے کئی بار پاکستان کو عمران فاروق قتل کیس میں پیش رفت کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن اب تک گرفتار مرکزی ملزم کو حوالے کرنے کی درخواست پاکستان سے نہیں کی ۔اسکاٹ لینڈ نے عمران فاروق قتل کیس میں محسن علی اور کاشف خان کو نامزد کر رکھا ہے، جبکہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کا کہنا ہے کہ حوالگی کا معاملہ پولیس کا نہیں بلکہ حکومتی سطح کا ہے ۔دوسری جانب برطانوی دفتر خارجہ کا کہناہے کہ حوالگی کی درخواست کے بلاک کئے جانے سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ معاملہ وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) فوجی عدالتوں کے قیام میں مزید دو سال کی توسیع کے لیے اٹھائیسویں آئینی ترمیم آج قومی اسمبلی میں پیش کی جائے گی۔ ترمیم میں پیپلزپارٹی کی چار تجاویز بھی شامل ہوں گی۔ حکومت پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل کی قرارداد بھی پیش کرے گی۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت آج شام چار بجے ہو گا، جس میں فوجی عدالتوں کے قیام کے لیے ترمیم شدہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس حوالے سے کامیاب مذاکرات کے بعد اجلاس میں پیپلزپارٹی کی چار تجاویز بھی شامل کی جائیں گی جس کے تحت فوجی عدالتوں کی کارروائی میں قانون شہادت کا اطلاق ،ملزم کو گرفتار ی کی وجوہات بتا کر 24 گھنٹوں میں ہی فوجی عدالت کے سامنے پیش کرنے اور ملزم کو وکیل کرنے کا حق دینے کی شقین بھی شامل کی گئی ہیں۔اجلاس میں تمام پارلیمانی رہنماؤں پر مشتمل قومی سلامتی کمیٹی کی تشکیل سے متعلق قرارداد بھی پیش کی جائے گی۔کمیٹی فوجی عدالتوں، نیشنل ایکشن پلان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جڑے ہر معاملے کی نگرانی کرے گی۔
کراچی (نمائندہ خصوصی) سندھ ہائی کورٹ کے ریفری جج جسٹس آفتاب گورر پر مشتمل بینچ میں ڈاکٹر عاصم کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ ڈاکٹر عاصم کے خلاف 462 ارب روپے کی کرپشن کا الزام ہے۔ڈاکٹر عاصم کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عاصم شدید بیمار ہیں، ضمانت انکا حق ہے۔ جیل میں علاج کے باوجود ان کا نچلا دھڑ شدید متاثر ہوا ہے۔دوران حراست ان پر دل کا دورہ پڑ چکا ہے۔ ان پر فالج کابھی حملہ ہو چکا ہے۔ یہ کہنا کہ ڈاکٹر عاصم کو انکی مرضی کے مطابق علاج کی سہولت دی جا رہی ہے، بالکل گمراہ کن ہے۔میڈیکل بورڈز کی تجاویز اور رپورٹس سے ثابت ہے کہ ڈاکٹر عاصم ذہنی تناو کا شکار ہیں۔ان کا دوران حراست مناسب علاج نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر عاصم 10 خطرناک امراض میں مبتلا ہیں۔ بعض بیماریوں کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں۔پراسیکیوٹر محمد الطاف نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم کا انکی مرضی کے مطابق علاج کرایا جا رہا ہے۔ وکیل نیب نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم رینجرز کے وردی سے ڈرتے ہیں، ان کانفسیاتی علاج بھی ہو رہا ہے۔ہائیڈروتھراپی کے علاوہ آغا خان اسپتال میں ہر بیماری کا علاج ہے۔ڈاکٹر عاصم کی ضمانت مسترد کر دی جائے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے کارروائیاں کرکے 9 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔ پولیس نے بلدیہ ٹاؤن مدینہ کالونی ،گلبرگ اور کورنگی عوامی کالونی سے 7 ملزمان کو گرفتار کیا ۔ادھر ڈیفنس فیز 8 درخشاں سے کاروں کا قیمتی سامان چرانے والے 2 ملزمان کو پکڑلیا۔ملزمان کے قبضے سے دو کار ٹیپ اور اسلحہ برآمد ہوا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ۔علاوہ ازیں موچکو میں کارروائی کے دوران حب سےآنے والی کوچ سے4ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل برآمدکرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کوچ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو بھی گرفتارکرلیا گیا ہے۔
دنیا بھر میں خوشیوں سے متعلق تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستانی عوام پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال زیادہ خوش ہیں،خوش رہنے میں پاکستانیوں کا نمبر بھارت سے 32 درجے بہتر ہے۔ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق دنیا کے 155 ملکوں کے عوام میں خوشی کے تناسب کا جائزہ لیا گیا جن میں سے پاکستان 80 ویں نمبر پر رہا۔پچھلے سال اس انڈیکس میں پاکستان کا نمبر 92 واں رہا تھا، دوسری اہم بات یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء کے خطے میں پاکستانی عوام سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں۔پاکستان اس معاملے میں بھارت سے 32 درجے بہتر ہے، چینی عوام پاکستانیوں سے بھی زیادہ خوش رہتے ہیں، ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے کے تحت تیار کی جاتی ہے۔
کراچی : جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلی شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ دفتر ڈاخلہ اب بھی سنجیدہ نہیں ہے۔نئے گستاخوں کو پکڑنے کی کوشش کرنے والوں کو چاہیے کہ سزا یافتہ گستاخوں کو سزا دی جائے تا کہ مجرم اور جرم کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ایسی مثال قائم کی جائے کہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسا کرنے سے ڈرے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کی اصل کامیابی عدالتی فیصلوں کی تعمیل کروانا ہے، جن جن کو قانون ناموس رسالتۖ کے تحت سزا دی گئی ہے ان سب کو پھانسی دی جائے،وقت مقرر کیا جائے کہ اتنے عرصے میں حکم کی تعمیل ہو اور اگر ایسا نہ ہوسکے تو سو موٹو ایکشن لیا جائے اور قصہ تمام کیا جائے۔مختلف پروگرامات و نشستوں سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی رہنما اور مرکزی جماعت اہل سنت کے نگران اعلیٰ شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا ہے کہ جو گستاخ پہلے سے جیلوں میں بند ہیں انہیں عدالت کے فیصلے کے مطابق پھانسی دی جائے، آسیہ ملعونہ کو پھانسی دے کر کیس فارغ کیا جائے، جو گستاخ جیلوں میں زندہ ہیںوہ لوگ بھی خانہ جنگی اور انتشار کا باعث بن سکتے ہیں، عاشقان رسول ۖ کے غم و غصے اور جذبات کو متحمل رکھنا ہے تو پھر تمام گستاخوں کو پھانسی پر لٹکایا جائے۔ملک کے سب سے بڑے دہشت گرد 295Cکے قانون کے تحت سزایافتہ لوگ ہیں جنہیں قرار واقعی سزا نہیں دی جارہی ہے،عوام کے صبر کا امتحان کیوں لیا جا رہا ہے؟پھر کوئی شخص کھڑا ہوگا اوآصیہ جیسی گستاخ کے لئے اظہار ہمدردی کے کلمات کہے گا اور قرآن کے فیصلوں کی بے حرمی کرے گا، ایسا موقع آنے سے پہلے جو مجرم عدالت کے فیصلے کے تحت گستاخ قرار دیے گئے ہیں انہیں پھانسی دی جائے،جب تک آسیہ ملعونہ کو پھانسی نہیں دی جائے گی تب تک گستاخ بلاگرز جیسے عناصر کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی اور وہ یہ سمجھتے رہیں گے کہ وہ اسلام اور رسول اللہ کے خلاف جتنا چاہیے بے ادبی کریں قانون کی پکڑ میں آسکیں گے۔شاہ محمد اویس نورانی صدیقی نے کہا کہ پنڈورا باکس کھل چکا ہے، حسین حقانی صرف سہولت کار تھے، اصل ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی،پانامہ لیک، ڈان لیک اور حقانی لیک میں ملوث کرداد قوم کے گناہگار ہیں،قوم احتساب خود کرے گی،الحمد اللہ ،جمعیت علماء پاکستان اس ملک کی واحد مذہبی و سیاسی جماعت ہے جو کسی بھی لیک یا اسکینڈل میں ملوث نہیں ہے،قوم اگر نظام مصظفیۖ کے پرچم تلے متحد ہوجائے تو یہ سارے دو نمبر سیاستدان بھاف جائینگے، کیوں نظام مصظفی عدل و انصاف کا نظام ہے۔جمعیت علماء پاکستان و مرکزی جماعت اہل سنت، انجمن طلبہ اسلام، فدایان ختم نبوت اور انجمن نوجوانان اسلام کی مشترکہ کال پر ملک بھر میں چار روزہ احتجاجی مہم جاری ہے، لاہور میں مرکزی رہنما پیر اعجاز ہاشمی،ملتان میں قاری احمد میاں خان،شیخوپورہ میںمرکزی رہنما علامہ قاری زوار بہادر، سکھر میں مفتی محمد ابراہیم قادری ،مردان میں فیاض خان،رحیم یار خان میں علامہ نور احمد سیال، جیکب آباد میںمفتی شریف سرکی،میر پور خاص میں مفتی نور النبی سکندی،گھوٹکی میں مولانا بدرالدین، لاڑکانہ میں پیر محمد علی جان مجددی،شکار پور میں مولانا شفیق قادری،پشاور میں مولانا معراج الدین اور دیگر قائدین جمعیت و اکابرین نے مختلف مظاہروں و ریلیوں سے خطابات کیے۔ملک بھر میں گستاخ بلاگرز کے خلاف عوامی غم و غصہ اپنے عروج پر ہے۔حکومت جلد قصوروار عناصر کو گرفتار کرے،ملک بھر میں جاری احتجاجی مہم میں مختلف شہروں میں ،قائدین نے اپنے پیغام و خطابات میں کہاہے کہ گستاخانہ مواد چاہے تحریری شکل میں ہو یا پھر ویڈیو کی صورت میں ہو، دونوں صورتوں میں بند کروایا جائے، ہمارے لئے رسول اللہ ۖ کی حرمت دنیا و آخرت کی تمام اشیاء سے زیادہ قیمتی ہے،اگر فیس بک اور یوٹیوب بند کرنے کی ضرورت ہے تو پہلی فرصت میں بند کردی جائے،جن ویب سائٹ پر مواد موجود ہے، ان ویب سائٹ کے مالکان کو بھی پکڑا جائے، صرف ویب سائٹ بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔مسلمان کی جان، مال اور اولاد سب کچھ ناموس رسالت پر قربان ہے،قائدین نے عوام سے عہد لیا کہ ناموس رسالت کے دفاع کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے،اور ہر پلیٹ فارم پر تحفظ ناموس رسالتۖ اور تحفظ شعائر اسلام کا پیغام عام کریں گے اور سیکولر لابی کو اسلام مخالف ذہن سازی کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔قائدین نے عزم کیا کہ نظریہ پاکستان و نظریہ اسلام کے خلاف جو بھی سازش ہوئی، اس کے خلاف بہتر حکمت عملی سے عوامی، سیاسی اور مذہبی سطح پر اس کا توڑ لائینگے۔
وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پرقائم تحقیقاتی کمیٹی کی سفارش پر اعلیٰ حکام نے کارروائی کرتے ہوئے چودہ اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔ پولیس کے مطابق مبینہ مقابلے کی تحقیقات ڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش کررہے ہیں۔معطل ہونے والوں میں ایس ایچ او تھانہ آر اے بازر ساجد محمود ، سب انسپکٹر محمد افضل، سب انسپکٹر لیاقت علی، اے ایس آئی وحید احمد، ہیڈ کانسٹیبل رمضان ، کانسٹیبلز شاہزیب، ندیم، غضنفر، شاہد محمود شامل ہیں۔ عاطف قیوم، تقی الحسنین، سیف اللہ، ندیم ابراہیم اور آصف کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ بائیس فروری کی رات پولیس نے مبینہ مقابلے میں دو بھائیوں عرفان اور وسیم کو قتل کیا تھا۔
کرم ایجنسی (محمد سلیم ) کرم ایجنسی پاک افغان باڈر خرلاچی پر دونوں ممالک کی حالات کشیدہ دونوں اطراف سے فوجیوں نے کیل کانٹے سے لیس ہوکر مورچہ زن ہوگئے ہے دونوں اطراف سے جس میں ٹینک بکتر بند اور بھاری خود کار ہتھیار نصب کی جارہے ہیں عوام میں خوف ہراس پاکستانی باڈر کے قریب افغانستان ضلح شہرنوں کے علاقوں سے افغانیوں کی محفوظ مقامات تک نقل مکانی شروع ۔تفصیلات کے مطابق ،فاٹا کے طرح کرم ایجنسی میں بھی دہشت گردی روک تھام کے لئے پاک افغان باڈر پر حفاظتی تار لگانے کا کام شروع کردیا گیا ہے جس پر دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوچکے ہے افغان فورسز کے جانب سے خرلاچی گیٹ کے قریب مورچے بنکرز کھودنے میں بھاری مشینرز کام پر لگائی ہے اور بڑی تعداد میں فورسز کو پاکستانی باڈر کے قریب بھاری ہتھیاروں کے ساتھ جنگی پوزیشن میں پڑواں ڈالے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں خوف ہراس پھیلا ہوا ہے سرحد پار امد اطلاع کے مطابق افغان فورسز نے پاکستانی باڈر کے قریب افغانستان ضلح شہرنوں کے علاقا جات ،ڈھنڈا ، پھٹان، بنگش کلے ،چھپری ،اور شہرنوں کے رہائشیوں کو علاقے سے محفوظ مقامات تک نقل مقانی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ جنگ کی صور ت میں کم سے کم نقصان ہوسکے افغانستان بنگش کلے کے رہائشی محمد اسماعیل نے پاکستانی میڈیا نوائے وقت سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین دنوں سے ضلح شہرنوں گردنوح میں افوا پھیل چکی ہے کہ عنقریب دونوں ممالک کے درمیان باڑ لگانے کے تنازعہ پر سخت جنگ ہونے کو ہے جس سے باڈر کے قریب مکینوں میں میں سخت پریشانی کی لہر پھیل چکی ہے گزشتہ روز افغان فورسز کی مسجدوں میں علاقاجات خالی کرنے کے اعلانات سے عوام اور بھی بے چینی پھیل گئی انہوں نے مزید کہاکہ کئی دن سے افغان فورسز جس میں سرحدی پولیس (رینجرز)ملی اردو،کمپین ارمی (سپیشل فورس) اور قولوں اردو(کمانڈوں ) دستوں کو بھاری ہتھیاروں جن میں ٹینک ،بکتر بند ، فوجی ٹرکوں کے زرائے پاکستانی باڈر خرلاچی پر پہنچایا جارہا ہے اسی طرح جنگی ہیلی کاپٹروں کا دستہ شہرنوں ہیڈکواٹر میں تیار ی کی حالت میں موجود ہے دوسرے جانب پاکستانی فورسز نے بھی باڈر پر کسی بھی ناخوشگوار صورت حال اور منہ توڑ جواب دینے کے لئے الرٹ ہوچکی ہے اور ایجنسی کے قریبی آبادی کو باڈر سے دور رکھنے کی حکم جاری کیا اور بیرونی حملے کی صورت میں عام آبادی کو نقصان کم پہنچے پولیٹیکل انتظامیہ کرم کے مطابق ایجنسی میں حالات معمول کے مطابق ہےپاکستان پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے کسی بھی بیرونی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے پاک فوج مکمل طور پر تیار ہے ۔ جب تک حالات معمول پر نہیں اتے تب تک پاک افغان باڈر مکمل طور پر سیل ہوگا ۔
بلوچستان (خصوصی نمائندہ) کوئٹہ میں ڈبل روڈ پر مکان پر ڈمپر گرنے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق ہو گئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق ڈمپر گرنے سے کچے مکان کی چھت گر گئی، ملبے سے 7 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں، جاں بحق ہونے والوں میں 4 بچیاں، ایک خاتون اور 2 مرد شامل ہیں جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈمپر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فوری اور مؤثر امدادی کارروائیوں کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم پوری انسانیت کے محسن ہیں، سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد امت مسلمہ کے جذبات سے کھیلنے کی ناپاک کوشش ہے۔وزیراعظم نے گستاخانہ مواد کی بندش کے لئے ہر ممکن اقدامات کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام اداروں کو مواد پھیلانے والوں کا سراغ لگانے اور قانون کے مطابق سزا دلانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت ہر مسلمان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں مسلمانوں کی حساسیت کا احترام کیا جانا چاہئے۔