لاہور (نمائندہ خصوصی) برصغیر کے نامور فوک گلوکار عالم لوہار کو دنیا سے گزرے 37 برس بیت گئے ، عالم لوہار نے یکم مارچ 1928 کو گجرات میں آنکھ کھولی ، بچپن سے ہی گلوکاری کا شوق ہونے کی وجہ سے انہوں نے کم عمری میں ہی گانا شروع کر دیا ۔ اس دور میں اپنے چمٹے اور انداز گائیکی کی بدولت عالم لوہار کو پاکستان کے علاوہ بیرون ملک بھی بے پناہ شہرت ملی ، اسی دور میں ان کی گائی ہوئی جگنی منظر عام پر آئی جس نے عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کی دھوم بھارت میں بھی سنائی دینے لگی۔یہ اس جگنی کی مقبولیت ہی تھی کہ اسے اس دور میں بننے والی فلموں میں بھی خاص طور پر شامل کیا گیا اور ان پر ہی فلمایا بھی گیا۔ عالم لوہار کے مشہور گیتوں میں اے دھرتی پنج دریاواں دی ، دل والا دکھڑا نئیں ، جس دن میرا وہاں ہووے گا اور ان گنت گیت شامل ہیں ، اس کے علاوہ انہیں ماضی کی مشہور داستانوں کو بھی ترنم سے سنانے میں کمال حاصل تھا ، ان کی گائی ہوئی ہیر رانجھا اور قصہ سیف الملوک کو لوگ آج بھی فراموش نہیں کرسکے ، عالم لوہار نے گلوکاری کے میدان میں بہت کمال دکھائے مگر وہ ابھی اور بہت کچھ کرنا چاہتے تھے پر وقت نے انہیں مہلت نہ دی۔3 جولائی 1979 کو لالہ موسیٰ کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں ان کی موت ہوگئی ۔ ان کی موت کے بعد صدر پاکستان کی جانب سے انہیں پرائڈ آف پرفارمنس کا ایوارڈ دیا گیا ۔ عالم لوہار نے ریڈیو پاکستان اور ٹی وی سے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ، یہاں پر انہوں نے صوفیانہ کلام کو اس انداز سے پیش کیا کہ سننے والوں کے دل پر نقش ہوگیا۔
کراچی (خصوصی نمائندہ) پاکستان میں پولیس کے زیر حراست مختلف خطرناک جرائم میں ملوث لیاری گینگ وار کے بدنام زمانہ ملزم عزیر بلوچ کو جاسوسی کے الزام میں فوج نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔فوج کے شعبہ تعلقات عامہ “آئی ایس پی آر” کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے بدھ کو علی الصبح ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں بتایا کہ عزیر بلوچ کو پاکستان آرمی ایکٹ/آفیشل ایک مجریہ 1923ء کے تحت تحویل میں لیا گیا۔ان کے بقول عزیر پر جاسوسی، سلامتی سے متعلق حساس معلومات غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔عزیر بلوچ پر کراچی کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور پولیس پر حملوں سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں لگ بھگ 35 مقدمات درج تھے۔تقریباً ایک سال تک منظر سے غائب رہنے کے بعد وہ 2015ء میں اچانک دبئی میں نمودار ہوا جہاں انٹرپول کے ذریعے اس کی گرفتاری کی خبریں منظر عام پر آئیں لیکن اس کے بعد جنوری 2016ء میں سندھ رینجرز نے اسے کراچی سے گرفتار کرنے کا بتایا۔عدالت نے عزیر بلوچ کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا اور اس پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
مردان (خصوصی نمائندہ) سانحہء مردان نے پاکستانی سیاسی جماعتوں کے لیے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں ایسے افراد کو شامل ہونے کی اجازت کیوں دے رہی ہیں، جن کے خیالات مذہبی رجعت پسندی، سخت گیری اور انتہا پسندی کے عکاس ہیں۔پاکستان میں قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے افراد کو برداشت کرتی ہیں۔ ملکی سوشل میڈیا پر یہ بات خوب چلی کہ ہندو لڑکیوں کو جبراﹰ مسلمان بنانے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما کا ہاتھ تھا جب کہ سانحہ سیہون کے حوالے سے بھی کچھ ایسے افراد کو حراست میں لیا گیا، جن کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا۔مسلم لیگ کے رہنما اور فیصل آباد سے سابق ایم این اے مرحوم صاحبزادہ کریم پر یہ الزام تھا کہ وہ مذہبی طور پر انتہا پسندانہ خیالات کے حامل تھے جب کہ پاکستانی وزیر اعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اس مبینہ تقریرکے بھی سوشل میڈیا پر بہت چرچے ہوئے، جس میں انہوں نے ممتاز قادری کو ایک ہیرو قرار دیا تھا۔ وزیر اعظم کی جماعت نون لیگ پر یہ الزام بھی ہے کہ اس کے کالعدم تنظیموں سے روابط رہے ہیں اور اس کے کارکنان سانحہء بادامی باغ میں بھی ملوث تھے۔ اسی طرح اب سیکولر سوچ کی حامل عوامی نیشنل پارٹی کی طلبہ تنظیم پر بھی یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس کے ارکان مشعل خان پر حملے میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔سوال یہ ہے کہ قومی دھارے کی سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند عناصر نے نشو ونما کیسے پائی، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سماجی علوم کے ماہر اور معروف دانشور ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا، ’’معاشرے میں مجموعی طور پر مذہبی رجعت پسندی میں اضافہ ہوا ہے۔ چونکہ سیاسی جماعتیں بھی اسی معاشرے سے ہیں، تو اس کا عکس ان میں بھی دکھائی دے گا۔ سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند عناصر کی شمولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب ملک میں کوئی قد آور سیاسی شخصیات جیسے کہ سہروردی، بھٹو اور قیوم خان نہیں ہیں۔ آپ کے پاس دوسرے درجے کی سیاسی قیادت ہے۔‘‘ڈاکٹر مہدی حسن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں جس طرح اسٹڈی سرکل کے ذریعے سیاسی کارکنان کی تربیت کی جاتی تھی، وہ اب معدوم ہے۔ سماجی طور پر کئی ایسی تنظیمیں تھیں، جو روشن خیالی کے فروغ کے لیے کام کرتی تھیں، کئی مجلے اور رسالے ایسے چھپتے تھے، جو سماجی اور سیاسی معاملات میں عوام کی رہنمائی کرتے تھے۔ ترقی پسند مصنفین اور ان کے رسالوں نے ایک طویل عرصے تک سماج میں مکالمے کے رجحان کو فروغ دیا اور معاملات کا تنقیدی جائزہ لینا سکھایا۔ اب چونکہ اس طرح کی تنظیمیں بہت زیادہ متحرک نہیں ہیں، تو معاشرہ ایک اجتماعی جمود کا شکار ہے، جس کا اثر سیاسی جماعتوں پر بھی پڑا ہے۔‘‘ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا، ’’سیکولرازم کو ہمارے ملک میں گالی بنا دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور کچھ نہیں کرتیں تو کم از کم قائد اعظم کی گیارہ اگست کی اس تقریر کو ہی اپنا رہنما اصول بنا لیں، جس میں پاکستان کے بانی نے کہا تھا کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے اور اس کا ریاستی امور سے کوئی لینا دینا نہیں۔ یا پھر وہ قرآن کے اس پیغام کو ہی اپنا لیں، جس میں کہا گیا کہ تمہارا دین تمہارے ساتھ اور ہمارا دین ہمارے ساتھ۔ اگر سیاسی جماعتوں نے اپنی پارٹی رکنیت کے لیے کوئی جامع اصول طے نہ کیے تو پھر مردان کے سانحے جیسے واقعات ہوتے رہیں گے۔‘‘ڈاکٹر مہدی حسن نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون سے پہلے صرف غازی علم دین والا واقعہ ہوا تھا۔ ’’لیکن جب سے یہ قانون بنا ہے، ایسے تیرہ سو واقعات ہو چکے ہیں اور پچانوے فیصد مقدمات میں ملزم مسلمان ہی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو اس مسئلے پر سوچنا اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لیے کوئی جامع پروگرام مرتب کرنا ہوگا۔‘‘معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر لال خان نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’سیاسی جماعتوں میں ایسے عناصر اس لیے داخل ہوئے ہیں کہ سیاست دان عوام کے مسائل حل نہیں کرتے اور جب عوام میں ان مسائل کے حوالے سے بے چینی بڑھتی ہے، تو وہ اس کو حل کرنے کے لیے مذہب کا استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیا، جس کا نقصان پورے سماج کو ہوتا ہے۔‘‘ڈاکٹر لال خان نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین خود بھی بہت رجعت پسند ہیں۔’’بے نظیر بھٹو پیروں فقیروں کے پاس جاتی تھیں اور توہمات پر یقین رکھتی تھیں۔ عوامی نیشنل پارٹی نے طالبان سے معاہدے کر کے سوات میں شریعت کورٹس بنائیں۔ سیاسی جماعتوں کو اپنی ممبرشپ کے لیے کوئی نہ کوئی پیمانہ بنانا پڑے گا۔ مثال کے طور پر سترکی دہائی میں پیپلز پارٹی کی رکنیت کے لیے تو ایک پیمانہ ہوتا تھا لیکن اب کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے کوئی ضابطے نہیں ہیں۔ اگر ہمیں انتہا پسند عناصرکا قلع قمع کرنا ہے، تو ہمیں کوئی نہ کوئی پیمانہ تو رکھنا پڑے گا اور نظریاتی سیاست کرنا ہو گی۔‘‘لیکن کیا سیاسی جماعتیں سانحہء مردان کے بعد اپنا قبلہ درست کرنے کی کوئی کوشش کر رہی ہیں، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اے این پی کے مرکزی رہنما زاہد خان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہم اب اس بات کو واضح کر رہے ہیں کہ ہماری صفوں میں کوئی ایسا فرد نہ ہو، جو مذہب کے نام پر نفرت پھیلائے۔ ہم کہتے ہیں کہ سانحہء مردان میں اگر ہمارے لوگ ملوث ہیں، تو انہیں بھی کڑی سزا دی جائے۔ اے این پی نے بحیثیت ایک جماعت ہمیشہ مذہبی انتہا پسندی کی مخالفت کی ہے۔جب ہمارے ایک لیڈر غلام احمد بلور نے متنازعہ بیان دیا تھا، تو ہم نے فوراﹰ اس کی مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ اس بیان کا پارٹی کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ اب ہم ان عناصر کی سرکوبی کریں گے جو انتہا پسندانہ خیالات کو فروغ دینے میں ملوث پائے جائیں گے۔‘‘
کوئٹہ (خصوصی نمائندہ) کچھ عرصے تک خاموشی کے بعد، پیر کو کوئٹہ میں ہونے والے ایک تازہ واقعے میں ایک کمسن بچہ ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق، کوئٹہ کے نواحی علاقے جناح ٹاؤن میں دیسی ساختہ بم کا دھماکہ ہوا، جہاں تین سے آٹھ سال تک کی عمر کے بچے گھر کے سامنے کھیل رہے تھے۔اِسی اثنا میں، موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے پلاسٹک کے تھیلے میں رکھا گیا دھماکہ خیز مواد اُن کی طرف پھینک دیا۔ ایک بچے نے تھیلہ اُٹھانے کی کوشش کی جس سے دھماکہ ہوا اور اُس سے بچہ موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ ایک لڑکی اور لڑکا زخمی ہوگئے۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں بچوں کو فوری طور سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اُن کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔ ادھر، ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔واقعہ کے بعد پولیس اور فرنٹیر کور بلوچستان کے حکام اور اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور شواہد قبضے میں لے لئے۔ واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ یا تنظیم نے قبول نہیں کی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ زمین کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے دو گروپوں کے درمیان تنازعے کے باعث پیش آیا، جس کی تفتیش کی جا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے واقعہ کی سخت الفاط میں مذمت کی ہے اور پولیس حکام کو ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) پاکستانی فوج نے رواں برس فروری میں صوبہ سندھ سے لاپتہ ہونے والی طالبہ نورین لغاری کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے ان کا اعترافی بیان جاری کیا ہے۔ادھر دوسری جانب آئی ایس پی آر کی جانب سے اہم اعلان کیا گیا ہے کہ کالعدم جماعت الاحرار اور طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے خود کو پاک فوج کے حوالے کر دیا ہے۔ “دہشت گرد اور ان کے ساتھی کہیں بھی ہوں، ان کا خاتمہ کیا جائے گا۔”یہ ویڈیو بیان پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں موجود صحافیوں کو دکھایا جس میں بظاہر نورین لغادی نے شدت پسند تنظیم کا رکن ہونے کا اعتراف کیا ہے۔بیان میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ انھیں بطور ایک خودکش حملہ آور استعمال کیا جانا تھا اور انھیں ’تنظیم‘ کی جانب سے اس کارروائی کے لیے ہتھیار فراہم کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ہدف کسی ’چرچ پر حملہ کرنا تھا۔‘ بیان میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ ’مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا۔ میں اپنی مرضی سے لاہور آئی تھی۔‘یاد رہے کہ نورین لغاری لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل سائنس جامشورو سے رواں سال 10 فروری کو لاپتہ ہوئی تھیں۔ بعد میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں نورین لغاری کا کہنا تھا کہ وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر کے شام روانہ ہونے والی ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ نورین لغاری کھبی بھی شام نہیں پہنچیں۔فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ویڈیو دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ نوجوان ہماری ایک طاقت ہیں اور جب یہ نوجوان جب دہشت گردوں کا نشانہ بن جائیں تو یہ کتنی قابل تشویش بات ہے۔ انہوں نے والدین سے اپنے بچوں پر نظر رکھنے کی درخواست بھی کی۔
لاہور (خصوصی نمائندہ) گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو گیا، شارٹ فال 7000 میگا واٹ تک پہنچ گیا، پن بجلی کی پیداوار کم ہوکر 2000 میگا واٹ رہ گئی۔گرمی کی آمد کے ساتھ ہی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے اور لوڈشیڈنگ کی تان شارٹ فال پر ٹوٹتی ہے۔ سن 2012 جون جولائی میں بجلی کی طلب 18 ہزار جبکہ شارٹ فال 8 ہزار میگا واٹ رہا۔ 2013ء جون ، جولائی کے دوران طلب 19 ہزار اور شارٹ فال 9 ہزار میگا واٹ تک چلا گیا۔ 2014ء جون جولائی میں شارٹ فال 7 سے 8 ہزار میگا واٹ جبکہ بجلی کی طلب 20 ہزار میگا واٹ رہی۔جون جولائی 2015ء میں طلب 20 ہزار اور شارٹ فال 7 ہزار میگا واٹ رہا ۔ 2016ء جون جولائی میں یہ شارٹ فال 7 ہزار میگا واٹ اور طلب 21 ہزار میگا واٹ تک جا پہنچی۔ اب 2017ء جون ، جولائی کے درمیان متوقع شارٹ فال 8 ہزار طلب 22 ہزار میگا واٹ رہنے کا امکان ہے ۔ ادھر صورت حال یہ ہے کہ اس وقت ملک بھر میں بجلی کی کل طلب 17 ہزار جبکہ پیداوار 10 ہزار میگا واٹ ہے۔ذرائع نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے مطابق پن بجلی کی پیداوار کم ہوکر 2000 میگا واٹ رہ گئی ۔ سرکاری بجلی گھر صرف 4000 میگا واٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں ، سولر و دیگر ذرائع سے 500 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ پرائیویٹ بجلی گھروں سے 3500 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔شہروں میں 12 گھنٹے اور دیہی علاقوں میں 14 سے 16 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے ۔ لوڈشیڈنگ کے خلاف مناواں میں شہریوں نے ٹائر جلا کر جی ٹی روڈ پر مظاہرہ کیا اور سڑک کو ٹریفک کیلئے بلاک کر دیا۔
اسلام آباد (خصوصی نمائندہ) امامِ کعبہ صالح بن محمد بن طالب پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جہاں پران کی ملاقات وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سے ہوئی۔وزیراعظم اور امام کعبہ کے درمیان ملاقات میں مذہبی رہنما اور اسکالرز کس طریقے سے دین ِ اسلام سے متعلق “منفی پروپیگنڈے” کا سد ِ باب کر سکتے ہیں پر تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔امام کعبہ نے پاکستان میں پرجوش خیرمقدم پر پاکستانی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات “قریبی اور مستحکم” اور دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام محبت، امن، صبر، درگزر، احترام اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے جسے دنیا بھر میں پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ روز نوشہرہ میں امام کعبہ شیخ صالح نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صد سالہ تقریبات میں شرکت کے دوران خطبہ جمعہ دیا تھا جس میں انہوں نے مسلم امہ کے متحد ہونے کی اہمیت پر زور دیا تھا۔
گجرات کے علاقہ کنجا میں سی ٹی ڈی کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے۔کارروائی کے دوران 5دہشتگرد ہلاک کر دیے ،جبکہ3 فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی گئی، جس کے نتیجے میں 5 دہشتگرد ہلاک اور 3 فرار ہو گئے۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق دہشتگرد گجرات اور کھاریاں میں حساس تنصیبات کو نشانہ بنانا چاتے تھے۔دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد برآمد ہوا ہے۔دہشتگردوں کا تعلق القائدہ اور تحریک طالبان سے بتایا جاتا ہے۔
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی مخالفین پر بھرپور وار کیے اور کہا کہ سپریم کورٹ سے فیصلے آتے ہیں جنازے نہیں۔سپریم کورٹ سے جنازہ نکلا تو پھر بنی گالا اور لال حویلی سے بھی نکلے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کو طلب نہیں کیا اس لیے انکے خلاف فیصلہ نہیں آئے گا۔اس موقع پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شرجیل میمن 5 ارب روپے خورد برد کے کیس میں گھیرا تنگ ہونے پر فرار ہو گئے تھے، اب بیماری کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ شرجیل میمن چور مچائے شور والی بات کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر قانون نے منطق اپنائی کہ سندھ کی کرپشن کو رانا مشہود کی ویڈیوسے ملانا درست نہیں ہے۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پانچ ارب کی کرپشن کے الزامات کے بعد ملک سے فرار ہونے والے شرجیل میمن کی واپسی خاصی ڈرامائی ثابت ہوئی۔ نیب نے ایئرپورٹ پر ہی حراست میں لے لیا۔ تاہم، ڈھائی گھنٹے تک پوچھ گچھ کرنے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔سابق صوبائی وزیر سندھ ہاؤس پہنچے تو گفتگو کرتے ہوئے نیب حکام پر برس پڑے، کہا کہ وہ عدالت کے حکم پر وطن لوٹے ہیں، ضمانت کے کاغذات بھی موجود تھے، نیب کا اقدام توہین عدالت ہے۔بعد ازاں، اسلام آباد میں رہنماء پیپلز پارٹی شرجیل میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اگست 2015ء میں بھی کراچی میں علاج چل رہا تھا، مزید علاج کیلئے بیرون ملک چلا گیا، ڈاکٹروں نے مکمل طور پر سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا، 2 ماہ بعد اچانک میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں آ گیا جس کے بعد میں نے عدالت سے رجوع کیا۔ شرجیل میمن نے بتایا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے بعد کسی قسم کا نوٹس نہیں دیا گیا اور پھر اکتوبر 2016ء میں میرے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ میرا مؤقف سنے بغیر تمام کارروائیاں کی گئیں، ایک چینل نے میرے گھر سے 2 ارب روپے برآمدگی کی غلط خبر چلائی، میں نے چینل کے خلاف دعویٰ دائر کیا لیکن آج تک کارروائی نہیں کی گئی۔شرجیل میمن نے واضح کیا کہ وطن واپسی سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت لی، عدالت سے درخواست کی کہ اپنے خلاف کیسز کا سامنا کرنا چاہتا ہوں۔ شرجیل میمن نے مزید کہا کہ تمام الزامات کا سامنا کرنے آیا ہوں، اپنے خلاف ریفرنس کا بغور مطالعہ کر کے جواب تیار کروں گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میرے لئے کرپشن کے الزامات فخر کی بات نہیں، اگر جرم ثابت ہو جائے تو مجھ پر رحم نہ کیا جائے بلکہ کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں کہ نیب کیا کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ نیب نے شریف برادران، اسحاق ڈار اور رانا مشہود کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟ ایک ملک میں دو قوانین کیوں ہیں؟ رانا مشہود کی ویڈیو کسی کو نظر کیوں نہیں آتی؟ نواز شریف کی نیب کیخلاف گفتگو کے بعد نیب نے کارروائیاں بند کیوں کیں؟انہوں نے زور دے کر کہا کہ نیب صرف پیپلز پارٹی کیلئے بنا ہے، پاناما والوں کیلئے الگ اور پیپلز پارٹی کیلئے خصوصی قانون ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر سادہ لباس لوگوں نے گھیر لیا، پوچھنے کے باوجود سادہ لباس افراد نے اپنا تعارف نہیں کرایا، میں اسے گرفتاری نہیں اغواء کہوں گا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا پاکستان میں جنگل کا قانون ہے؟شرجیل میمن نے بتایا کہ ضمانت ہونے کے باوجود روزانہ نیب آفس جانے کیلئے تیار ہوں، مجھے اٹھانے والوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی لیکن انہیں معاف کرتا ہوں۔ شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ کسی کو گرفتار کرنا ہے تو یہ طریقہ ٹھیک نہیں، موجودہ وزیر کے ساتھ بدتمیزی اور دھکے مناسب نہیں۔ شرجیل میمن کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالتوں پر اعتماد اور فیصلوں کو قبول کروں گا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی نگری میں اترا، نواز شریف، چودھری نثار کی مہمان نوازی کا شکر گزار ہوں۔ پی پی رہنماء طنزیہ لہجے میں یہ بھی بولے کہ میری گرفتاری سے شاید نیب والوں کا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا ہو۔اس سے بل رہائی کے بعد شرجیل میمن نے وزیر اعلیٰ سندھ سے رابطہ کر کے انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ مراد علی شاہ کہتے ہیں سابق صوبائی وزیر ہر عدالتی فیصلے کی پاسداری کریں گے اورآجعدالت کے سامنے پیش بھی ہونگے۔کرپشن کے الزامات کے بعد شرجیل میمن دو ہزار پندرہ میں دبئی چلے گئے تھے۔ سابق صوبائی وزیر نے پندرہ مارچ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔ بیس مارچ کو عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی بھی کرائی تھی۔ شرجیل میمن کے خلاف اکیس مارچ کو احتساب عدالت میں پانچ ارب ستر کروڑ کے کرپشن ریفرنس کی سماعت بھی ہو گی۔