وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پولیس نظام میں اصلاحات کا عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔عثمان بزدار کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں صوبائی وزیر قانون راجا بشارت، چیف سیکریٹری، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری قانون اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پولیس کے رویے میں بہتری لاکر تھانہ کلچر کو تبدیل کریں گے، پولیس نظام میں اصلاحات وقت کا اہم تقاضا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان پر پولیس تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، سابق حکومتوں نے پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔عثمان بزدار نے یہ بھی کہا کہ پنجاب پولیس کو عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا، حوالات میں بند ملزمان کے ساتھ کوئی بھی ماورائے قانون اقدام ناقابلِ برداشت ہے۔
ملک بھر میں یوم بحریہ آج منایا جارہا ہے، کراچی میں پاک بحریہ کی خصوصی تقریب میں یوم دفاع و یکجہتی کشمیر کے موقع پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ آج کا دن بحریہ کے افسران اور جوانوں کے حوصلے اور شجاعت کی یاد دلاتا ہے۔8 ستمبر کو پاکستان نیوی کے بحری جنگی جہازوں نے بھارت کے ساحل پر حملہ کیا اور پاک بحریہ نے دوارکا میں بھارتی ریڈار اسٹیشن کو تباہ کیا۔نیول چیف ایڈمرل ظفر محمود عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبدوز غازی کا خوف بھارتی نیوی کے جہازوں پر چھایا رہا، آبدوز غازی نے سمندر پر اپنی با لادستی قائم کیے رکھی۔ یومِ بحریہ 1965کی جنگ کے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔اس دن کی مناسبت سے کراچی میں پاک بحریہ کی خصوصی تقریب میں یوم دفاع و یکجہتی کشمیر کے موقع پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، تقریب میں کمانڈر کراچی وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی مہمان خصوصی تھے۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق تقریب میں شہداء کے لواحقین کی بڑی تعداد کو مدعو کیا گیا تھا، اس موقع پر کمانڈر کراچی وائس ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے کہا کہ ملکی سرحدوں کا دفاع شہداء کے لہو سے ناقابل تسخیر بنتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی دفاع میں شہداء کی لازوال قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، ملکی سرحدوں کا دفاع شہداء کے لہو سے ناقابل تسخیر بنتا ہے۔کمانڈر کراچی نے شہداء کے لواحقین کے عزم اور حوصلے کو بھی خراج تحسین پیش کیا، تقریب کے اختتام پر کمانڈر کراچی نے شہداء کے لواحقین سے فرداً فرداً ملاقات کی ۔
چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی کے پاکستان کے دورے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی پاکستان کے 2 روزہ سرکاری دورے پر آئے تھے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔وانگ ژی نے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی۔اعلامیے کے مطابق ان ملاقاتوں میں باہمی دل چسپی کے امور، خطے اور عالمی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔پاکستان نے چین کو کشمیر سے متعلق اپنے مؤقف اور تشویش سے آگاہ کیا۔چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کشمیر کا تنازع تاریخ کا حل طلب تنازع ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
انصاف کی متلاشی شیخوپورہ میں وکیل کے مبینہ تشدد کا شکار بننے والی لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز مایوس ہوگئی، پنجاب پولیس سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ویڈیو بیان میں فائرہ نواز نے کہا کہ مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہے کہ مجھے انصاف ملتا نظر نہیں آرہا، میرے اپنے ہی محکمے کے لوگوں کی وجہ سے ایف آئی آر کمزور ہوئی۔لیڈی کانسٹیبل نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر وکیل نے مجھ پر تشدد کیا، وکلا نے پہلے تو بدکلامی کی، اب تو انتہا کردی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے وکیل بھائی ہی میری کردار کشی کر رہے ہیں، میں ذہنی طور پر بہت زیادہ پریشان اور خوفزدہ ہوں۔فائزہ نواز نے یہ بھی کہا کہ میں پاور فل مافیا کا سامنا نہیں کر سکتی، اپنی عزت اور مستقبل کے حوالے سے بھی بہت پریشان ہوں، میں اس غیر منصفانہ اور ظالم نظام سے دلبرداشتہ ہو چکی ہوں۔
لاہور کےعلاقے گلشنِ راوی میں استاد کے مبینہ تشدد سے جاں بحق طالب علم حنین بلال کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آ گئی۔حنین بلال کی ابتدائی پو سٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کے جسم پر خون کے کوئی دھبےبھی نہیں پائے گئے ،تاہم حنین کےجسم کے چند نمونے پیتھالوجی لیب بھجوا دئیےگئےہیں، جن کی رپورٹ آنے پر ہی موت کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکےگا۔حنین بلال گلشنِ راوی میں واقع نجی اسکول میں دسویں جماعت کا طالبعلم تھا ،طالب علم کےلواحقین نے ٹیچر پر تشدد کا الزام لگایا تھا۔لاہور پولیس نے مقدمہ درج کرکےاسکول ٹیچراور پرنسپل کو گرفتار کررکھاہے۔محکمہ تعلیم نےبھی اس واقعے کی انکوائری کے لیےکمیٹی تشکیل دے رکھی ہے جو اپنے طور پر تحقیقات کررہی ہے۔گزشتہ روز صوبائی وزیر نے بھی پولیس کو شفاف تحقیقات کی تلقین کی تھی اور ہدایت کی تھی کہ پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ مقتول کے ورثاء کے حوالے کرے۔واضح رہے کہ لاہور میں نجی اسکول کے ٹیچر نے معمولی غلطی پر 14 سالہ طالب علم حافظ حنین بلال پر تشدد کیا اور اسے حبس بے جا میں رکھا گیا تھا۔طالب علم کے باپ کی مدعیت میں ٹیچر راحیل اور پرنسپل نثار الحسن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
سیکریٹری داخلہ سندھ کی جانب سے یومِ عاشورہ کے موقع پر کراچی میں موبائل فون سروس بند رکھنے کی تجویزدی گئی ہے۔ذرائع محکمہ داخلہ کے مطابق کراچی میں 8، 9 اور 10 محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس کے سیکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔حکومت سندھ نے وفاقی وزارت داخلہ کو جلوسوں اور مجالس کے راستوں اور اطراف میں موبائل سروس معطل رکھنے کی تجویز بھیج دی ہے
انتقال سے ایک دن پہلےجمعرات کولاہور میں ایک تقریب میں عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نے غربت اور معیشت کو کنٹرول کر لیا تو پاکستان کو اس جیسا لیڈر نہیں مل سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے سامنے جس پرائیڈ کے ساتھ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بات کی تھی پوری دنیا میں کسی کی ہمت نہیں تھی کہ اس انداز پر کشمیر کی بات کرے، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 70 سال میں مودی کو للکارا اور کشمیر کو آزادی کے قریب لے آئے ہیں۔جمعے کی شب ایک بڑی خبر نے کرکٹ کی دنیا کو سوگوار کر دیا، بھارت انگلینڈ آسٹریلیا سے صحافی دوست فون کرکے پوچھ رہے تھے کہ کیا واقعی عبدالقادر ہم سب کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں؟پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسپن لیجنڈ عبدالقادر گزشتہ شب لاہور میں انتقال کرگئے، وہ حرکت قلب بند ہوجانے کے بعد اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے ۔کرکٹ کے حلقوں میں ’باؤ‘ کے نام سے شہرت رکھنے والے عبدالقادر نے پیش امام کے گھر آنکھ کھولی وہ غریب فیملی سے عالمی شہرت یافتہ اسپنر بنے لیکن کلمہ حق بولنے سے نہیں ڈرتے تھے۔گزشتہ سال اگست میں عمران خان نے وزیر اعظم کا حلف لینے کے لئے اپنے جن بے تکلف دوستوں کو مدعو کیا تو ان میں عبدالقادر بھی شامل تھے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسپن لیجنڈ عبدالقادر گزشتہ شب لاہور میں انتقال کرگئے، وہ حرکت قلب بند ہوجانے کے بعد اسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے ۔کرکٹ کے حلقوں میں ’باؤ‘ کے نام سے شہرت رکھنے والے عبدالقادر نے پیش امام کے گھر آنکھ کھولی وہ غریب فیملی سے عالمی شہرت یافتہ اسپنر بنے لیکن کلمہ حق بولنے سے نہیں ڈرتے تھے۔گزشتہ سال اگست میں عمران خان نے وزیر اعظم کا حلف لینے کے لئے اپنے جن بے تکلف دوستوں کو مدعو کیا تو ان میں عبدالقادر بھی شامل تھے۔
وزیر اعظم ہاؤس میں اس تقریب کے بعد عمران خان پرانے کرکٹر دوستوں کے پاس آگئے ان میں وسیم اکرم، وقار یونس، رمیز راجا، مدثر نذر، انضمام، مشتاق احمد، عاقب جاوید اور جاوید میانداد نمایاں تھے۔عمران نے اس نشست میں اپنی اس پرانی خواہش کا اظہار کیا کہ ڈپارٹمنٹ کی ٹیموں کو ختم کرنا ناگزیر ہے تو عبدالقادر نے بر ملا کہا کہ عمران ان سب میں سے کسی میں ہمت نہیں ہے کہ کچھ بولے مگر براہ مہربانی ڈپارٹمنٹ کی ٹیموں کو بند نہ کرنا یہ بڑی غلطی ہوگی۔عینی شاہدین کے مطابق عمران خان جو تھوڑی دیر پہلے وزیر اعظم کا حلف لے کرشیروانی میں ملبوس تھے وہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکے انہیں علم تھا کہ عبدالقادر سچ بولے بغیر نہیں رہ سکتے۔عمران خان ، مدثر نذر اور اقبال قاسم ان کے بے تکلف دوست تھے۔ 2009میں عبدالقادر کی منتخب کی ہوئی ٹیم نے لارڈز میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیتا لیکن ٹیم منتخب کرنے کے بعد وہ پی سی بی چیئرمین اعجاز بٹ سے اختلافات کی وجہ سے مستعفی ہو چکے تھے، عبدالقادر اصول پسند شخص تھے۔انہوں نے تحریک انصاف کو عمران خان کی وجہ سے جوائن کیالیکن پی سی بی کی پالیسیوں پر کھل کر اظہار خیال کرتے رہے۔عبدالقادر کے انتقال سے ایک ہفتہ قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نے وزیر اعظم کے وژن کے مطابق صوبائی ٹیموں کولانے کا اعلان کیا اور ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو ختم کردیا۔عبدالقادر نے لیگ اسپن کے فن کو نئی جدت دی اور ان کی گیندوں پر ویون رچرڈز، گریگ چیپل، جیف بائیکاٹ اور سنیل گواسکر جیسے بیٹسمین مشکل میں دکھائی دیتے تھے۔عبدالقادر چیف سلیکٹر بھی رہے اور لاہور میں کرکٹ اکیڈمی بھی چلاتے رہے، ان کے بیٹے عثمان قادر نے پاکستان انڈر 19ٹیم کی نمائندگی کی، جبکہ ٹیسٹ بیٹسمین عمر اکمل ان کے داماد ہیں۔عبدالقادر نے 67 ٹیسٹ اور 104 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی ان کا شمار دنیائے کرکٹ کے مایہ ناز اسپنرز میں ہوتا تھا عبدالقادر نے ٹیسٹ کرکٹ میں 236 اور ون ڈے میں 132 وکٹیں حاصل کیں۔شین وارن ، ہر بھجن سنگھ، لکشمن اور عمران طاہر اسپن گُرو کی المناک موت پر افسردہ تھے، عبدالقادر کو جب1982کے دورہ انگلینڈ میں عمران خان نے پاکستان ٹیم میں شامل کیا تو انگلش ماہرین اور کرکٹرز اس جادوگر کو دیکھ کر حیران رہ گئے انہیں مشرق کے جادوگر کا نام دیا گیا۔وسیم اکرم کہتے ہیں کہ عبدالقادر کی کمی ہمیشہ محسوس ہوگی شعیب اختر نے کہا کہ وہ نئی نسل میں اس فن کو زندہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔عبدالقادرکے بارے میں سرفراز احمد نے کہا کہ وہ ایک عہد ساز شخصیت کے مالک تھے ان کے جانے سے ایک عہد اپنے اختتام پر پہنچا ہے۔شاہد آفریدی نے کہا کہ عابد علی اور عبدالقادر نے پاکستان کو دنیا بھر میں پہچان دی۔عبدالقادر ورلڈ کلاس اسپنر کے ساتھ ساتھ سچے اور کھر ے شخص کے طور پر جانے جاتے تھے۔
رواں سال پاکستان یومِ دفاع ایک ایسے ماحول میں منارہا ہے، جب روایتی دشمن بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخی اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ انفرادی حیثیت کو مسخ کرتے ہوئے اسے یونین کا حصہ بنا دیا ہے۔ تاہم، اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے حواریوں کے لیے ستمبر کا مہینہ یہ بات یاد دِلانے ایک بار پھرسے آچکا ہے کہ بھارت کے ناپاک عزائم کو سر اُٹھاتے ہی کُچل دیا جائے گا۔ 1965ء میں ایسا ہوچکا ہے اور اگر بھارت نے ایک بار پھر ایسی کوئی حرکت کرنے کی کوشش کی تو اس بار جواب کہیں زیادہ سخت ہوگا۔ ستمبر کا مہینہ، پاکستان کی بھارت کے خلاف تاریخ ساز فتح کا مہینہ ہے۔ 6ستمبر1965ء کو بھارت نے طاقت کے نشے میں مست ہو کر عالمی سرحد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا، جس کا بَری اور فضائی افواج کے ساتھ پاک بحریہ نے بھی ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ بھارت آج تک اس جنگ میں لگنے والے زخموں کو چاٹ رہا ہے۔6ستمبر1965ء کی صبح جنگ کے آغاز اور اس میں ہونے والی تباہ کاریوں کی خبریں پاکستان بھر میں آگ کی طرح پھیل گئیں۔ اسی وقت پاکستان نیوی کے بحری جنگی جہاز، کروز، سرنگوں کو تباہ کرنے والے 5جنگی جہاز اور ٹینکر معمول کی مشقوں کے لیے روانہ ہونے والے تھے مگر جنگ کی خبروں کے باعث روانہ ہونے میں کسی حد تک جلدی کی گئی۔ ایک ماہ قبل رن آف کچھ میں ہونے والی جھٹرپ کی وجہ سے جنگی جہاز پہلے ہی انتہائی تیاری کی حالت میں تھے، صرف ان پر گولہ بارود اور عملے کی خوراک لوڈ کی گئی۔جنگ کے آغاز کے دوسرے دن 7ستمبر کو اپنے ساحل کے دفاع کے لیے جنگی جہاز حفاظتی گشت پر مامور تھے کہ اس دوران نیول ہیڈکوارٹرز کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں ہدایت کی گئی کہ جتنی تیزی سے ممکن ہو جنوبی دوارکا سے مغرب میں 120میل کی طرف بڑھیں اور شام 6بجے تک پوزیشن سنبھال لیں۔ آپریشن کی قیادت کموڈور ایس ایم انور کررہے تھے۔پاک بحریہ نے دفاعی جنگ لڑنے کی بجائے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ 7ستمبر کی شام کو جب پاک بحریہ نے کراچی سے پونے دو سو میل دور اپنی منزل کی طرف سفر شروع کیا تو بپھرا ہوا بحیرہ عرب بھی اپنی پُرشور موجیں سمیٹ کر ان کے راستے سے ہٹ گیا۔ غازیوں کا یہ قافلہ نصف شب کو اپنی منزل پر پہنچ گیا۔دوارکا میں بھارتی بحریہ کا ریڈاراسٹیشن اورفضائی اڈہ تھا۔ پاک بحریہ کے جہازوں میں پی این ایس بابر، پی این ایس بدر، پی این ایس خیبر، پی این ایس جہانگیر، پی این ایس عالمگیر، پی این ایس شاہجہاں اورپی این ایس ٹیپو سلطان شامل تھے۔شیڈول کے مطابق، پاکستان نیوی کے 7جہازوں کے گروپ نے نصف شب کو فائرنگ پوزیشن پر پہنچ کر پوزیشنیں سنبھال لیں، ان کے ساتھ27گنز تھیں۔ ایک کروز بابر کے پاس 5.25″ ٹورٹس، دو جنگی کلاس ڈِسٹرائرز، پی این ایس خیبر اور بدر کے پاس 4.5″ ٹورٹس تھے۔ تین چوکر کلاس 4.5″ ڈِسٹرائرز مونٹنگز تھیں جبکہ ایک فریگیٹ ٹیپوسلطان 4″ مونٹنگز تھی۔ جہازوں نے شمال مغرب کی جانب رُخ کیا تاکہ تمام گنوں سے بیک وقت فائرنگ کو ممکن بنایا جا سکے۔ چند منٹوں میں اللہ اکبر کی صداؤں میں ساڑھے چار منٹ تک مسلسل بمباری کرکے 50،50 راؤنڈز فائر کیے، مطلوبہ ہدف تباہ کیا اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔اس کامیاب آپریشن میں ایک جانب تو بھارت کے کراچی پر حملے کے منصوبہ کوناکام بنا دیا گیا تو دوسری جانب دو بھارتی افسر اور13 سیلرز بھی ہلاک کردیے۔ اس کے علاوہ رن وے کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا، جب کہ انفرااسٹرکچر اور سیمنٹ فیکٹری کو بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ اس اچانک حملے پر بھارتی کمان حیران تھی، تاہم اس مشن میں پاک بحریہ کو کئی خطرات بھی لاحق تھے لیکن پاک بحریہ کے جوانوں نے اپنے جذبۂ شہادت اور مشن کی تکمیل کے لیے ان تمام خطرات کی بالکل بھی پروا نہ کی۔اس جنگ میں پاک بحریہ کو امریکی ساختہ آبدوز ’غازی‘ کی شکل میں بھارت پر سبقت حاصل تھی، ایسی آبدوز پورے خطے میں موجود نہ تھی۔ دوسری جانب اس جنگ میں برادر دوست ملک انڈونیشیا کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت کے صدر سوئیکارنو نے پاکستان کی مدد کے لیے فوری طور پر دو آبدوزیں اور دو میزائل بردار کشتیاں روانہ کیں لیکن اس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی۔سمندر میں پاک بحریہ نے جنگ کے آغاز پر ہی بھارتی نیوی کو دوارکا کے مقام پر جا لیا اور اسے ہلاکتوں کے علاوہ جانی ومالی نقصان پہنچایا اور بھارتی نیوی کو غیر یقینی کیفیت میں ڈال کر محدود کر دیا۔ یہ پاکستان کی قومی اور عسکری تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جانے والا ایک عظیم واقعہ ہے۔آپریشن دوارکا بحری تاریخ کا ایک سنہرا باب،پاکستان کے سمندری محافظوں کا عظیم کارنامہ اور رہتی دنیا تک بھارتی غرورپر طمانچہ ہے۔پاک بحریہ ایک خاموش دفاعی قوت ہے، ہمارے بحری محافظ ساحلوں سے دور سمندروں کی سطح اور گہرائی میں اپنا مشن بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک آبدوزجب زیرِ آب سینکڑوں میٹر گہرائی میں آپریشن کرتی ہے تو وہ نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے لیکن دشمن کیلئے ہر لمحہ خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ وطنِ عزیز کے دفاع، آبی سرحدوں کی نگرانی اور اب سی پیک کے تناظر میں پاک بحریہ کی اہمیت دوچند ہو گئی ہے۔
1948 میں پاک بھارت جنگ کے دوران جرات و بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہونے والے نائیک سیف علی جنجوعہ کو ہلال کشمیر سے نوازا گیا، جسے بعد ازاں نشان حیدرکے اعزاز میں بدل دیا گیا یوں نشان حیدر حاصل کرنے والے وہ پہلے کشمیری شہید بن گئے۔آزاد کشمیر کی تحصیل نکیال کےسپوت نائیک سیف علی شہید نے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں پیرکلیوہ کےمقام پر دشمن کو ناکوں چنے چبواتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سےسب سے بڑے فوجی اعزاز ہلال کشمیر سے نوازا گیا، جو پاکستان کےنشان حیدر کےمساوی ہے، 6 ستمبر1999کو نائیک سیف علی جنجوعہ کے لیےنشان حیدر کے اعزاز کا اعلان ہوا جو اُن کےبیٹے صوبیدارمیجرمحمد صدیق کو دیا گیا۔نائیک سیف علی جنجوعہ 18 سال کی عمرمیں1941ء کو برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوئے، 1947ء میں وہ سردار فتح محمد کریلوی کی حیدری فورس میں شامل ہوگئے۔ جہاں انہیں نائیک کاعہدہ دیا گیا اور انہیں بدھا کھنہ کے مقام پر دشمن سے دفاع کا حکم دیا گیا دشمن نے بھاری توپ خانے سمیت فضائی حملہ کردیا۔نائیک سیف علی نے اپنےساتھیوں کےساتھ مل کردشمن کا بڑا حملہ پسپا کیا اور 25 اور 26 اکتوبر کی درمیانی شب دشمن کی توپ کا ایک گولہ لگنے سے آپ شہید ہوگئے ۔
حافظ آباد میں سگے بھائیوں نےجائیداد کی لالچ میں اپنی بہن کو دس سال تک ایک کمرے میں قید رکھا۔پولیس کے مطابق حافظ آباد کے علاقے کالیکی منڈی کے رہائشی دو بھائیوں شعیب اور جنید نے اپنی سگی بہن نائلہ بی بی کو جائیداد کی لالچ میں اپنے آبائی مکان کے ایک کمرے میں 10 سال قید کررکھا تھا۔طویل عرصے تک قید میں رہنے کے باعث نائلہ بی بی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھیں۔ اہل علاقہ کی نشاندہی پر کالیکی پولیس نےموقع پر پہنچ کر نائلہ بی بی کو بازیاب کروایا اور اُس کے بھائی جنید اور قریبی رشتہ دار محمد آصف کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزمان ہفتے میں ایک بار اپنی بہن کو بند کمرے میں کھانا دیتے تھے۔ نائلہ بی بی ایک ہی چارپائی پر سوتی جبکہ اُس کا کمرہ غلاظت اور گندگی سے بھرا ہوا تھا۔متاثرہ خاتون کو ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج کیا جارہا ہے۔