لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے دست راست تاج محمد عرف تاجو کو پاکستان لانے کی پولیس نے کوششیں شروع کر دیں۔پولیس ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ کے دست راست تاج محمد عرف تاجو کو پاکستان لانے کے لیے کراچی پولیس کے چیف کی جانب سے شہر بھر سے تفصیلات جمع کرنے کے لیے ڈی آئی جیز کو خط لکھ دیا گیا ہے جبکہ تاج محمد عرف تاجو کے ریڈ وارنٹ جاری کردیئے گئے ہیں ،دوسری جانب نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول اسلام آباد کی جانب سے بھی کراچی پولیس کے چیف کو خط لکھا گیاہے،نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول کی جانب سے کراچی پولیس چیف کو لکھے گئے خط میں شہر بھر کے تھانوں سے جرائم کا ریکارڈ جمع کرنے کا کہا گیا ہے۔
وزیرا عظم عمران خان نے پاکستانیوں کو خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ ستمبرمیں 73 ملین ڈالر کے سرپلس کیساتھ کرنٹ اکاؤنٹ پہلی سہ ماہی کیلئے 792 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا، یہ پاکستان کیلئےعظیم خوشخبری ہے بالآخر ہم درست سمت میں چل نکلے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے حالیہ پیغام میں لکھا کہ پاکستان کیلئےعظیم خوشخبری، بالآخر ہم درست سمت میں چل نکلے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ستمبرمیں 73 ملین ڈالر کے سرپلس کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ پہلی سہ ماہی کیلئے 792 ملین ڈالر سرپلس ہوگیا۔عمران خان نے کہا کہ گزشتہ برس اسی عرصے میں ایک ہزار 492 ملین ڈالر خسارے کا سامنا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ماہ میں برآمدات 29 فیصد بڑھیں جبکہ ترسیلاتِ زر میں 9 فیصد اضافہ ہوا۔
ولیس نے کلہاڑی کے وار سے ہاری کی گردن دھڑ سے جدا کردینے کے واقعے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے آلہ قتل برآمد کرلیا۔ ملزم نے پولیس کے سامنے ہاری کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔ڈگری کے گائوں میں ایک شخص نے ہاری سے سگریٹ پلانے کی فرمائش کی۔ انکار پر بوڑھےہاری پر کلہاڑی سے حملہ کرکے اسکی گردن دھڑ سے اتار دی تھی اور سر کٹی لاش ویران و بنجر زمین پر پھینک کر فرار ہو گیا تھا۔پولیس نےچھاپہ مارکر ملزم کو آلہ قتل کلہاڑی سمیت گرفتار کرلیا۔ ایس ایچ او فرمان اگھیم نے قتل کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس ٹیم کے ساتھ فوری جائے وقوعہ پر پہنچ کر شوائد جمع کرنے کے بعد قاتل کی تلاش شروع کردی. اور قتل میں ملوث ملزم نہال چندکولھی کو آلہ قتل کلہاڑی سمیت چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا۔معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے مقتول رائے چند بھیل سے سگریٹ مانگی تھی۔ انکار پر غصے میں آکرملزم نھال چند کولھی نے اسکا سر تن سے جدا کرکےاسے قتل کرڈالا. پولیس نے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر سمیت 200 افراد کے خلاف مزار قائد کے تقدس کی پامالی کا مقدمہ درج کروانے والا وقاص احمد عدالت کو مطلوب نکلا، پولیس نے وقاص احمد پر انسداد دہشت گردی کے تحت ایف آئی آر کی تصدیق کردی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمے کا مدعی وقاص احمد مفرور ملزم ہے، وقاص احمد خان کیخلاف تھانا سپر ہائی وے میں مقدمہ درج ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ وقاص احمد خان کیخلاف انسداد دہشت گردی کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج ہے، وقاص احمد و دیگر کیخلاف 25 اگست 2019 کو مقدمہ درج ہوا تھا۔وقاص احمد پر مقدمے میں ہنگامہ آرائی اور کار سرکار میں مداخلت کی بھی دفعات ہیں، پولیس نے احسن آباد میں زمینوں پر ناجائز قبضوں کیخلاف کارروائی کی تھی۔پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی سپریم کورٹ کے حکم پر کرنے گئے تھے، ملزمان نے مزاحمت کی، جبکہ ملزم کیخلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔پولیس کے مطابق وقاص احمد مقدمے میں عدالت سے مفرور ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان نے عدالت سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔واضح رہے کہ مزار قائد بے حرمتی کیس میں ساڑھے 11 گھنٹے گرفتار رہنے کے بعد عدالت نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اُنہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ تاہم وقت ختم ہونے کے باعت عدالت نے کیپٹن صفدر کے وکلاء کو مچلکوں کی جگہ ایک لاکھ روپے نقد جمع کرانے کا حکم دے دیا۔کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پولیس نے آج صبح ہوٹل کے کمرے سے گرفتار کیا تھا۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو گرفتار کرنے اہلکار ہوٹل کے کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر آئے، انہیں دوائیں لے جانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی، ایک لمحے کے لیے بھی ایسا نہیں لگا یہ سندھ حکومت کی کارروائی ہے۔نائب صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ عدالت سے مفرور شخص کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، کیپٹن صفدر کو پہلے سے دھمکیاں مل رہی تھیں کہ نہیں چھوڑیں گے، وہ یہاں بیٹھی ہیں، ہمت ہے تو گرفتار کرلیں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اور صفدر کراچی سے لاہور ساتھ جائیں گے۔
پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان دورِ جوانی سے ہی دنیا بھر میں مقبول ہیں، جس کی وجہ ان کا کرکٹ کا کامیاب کریئر ہے تو کچھ ان کی کرشماتی شخصیت کا نتیجہ۔سوشل میڈیا پر فعال رہنے والے عمران خان نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر دورِ جوانی پر مبنی ایک نایاب ویڈیو شیئر کی ہے۔3 منٹ سے زائد کی اس ویڈیو میں عمران خان کو دیارِ غیر میں مداحوں کو آٹوگراف دیتے، حسین مناظر سے لطف اندوز ہوتے، سڑکوں پر چلتے پھرتے، مداحوں سے محو گفتگو، پاکستان میں شکار کرتے، عام لوگوں کی طرح ڈھابے پر بیٹھ کر کھاتے، جیپ میں دوستوں کے ہمراہ سیر و تفریح کرتےاور شکار کھیلتے دیکھا جاسکتا ہے۔عمران خان کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو کے پہلے حصے میں اُن کے دورِ جوانی میں بیرون ملک گزارے ایام کی تفصیل سے تصویری جھلکیاں شیئر کی گئیں۔ویڈیو کے دوسرے حصے یعنی دو منٹ کے بعد انہیں پاکستان میں اپنے آبائی گاؤں کے پہاڑوں پر شکار کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔روایتی لباس اور سر پر ٹوپی پہنے عمران خان کو بکریاں چَراتے بھی دکھایا گیا۔ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عمران خان نے اپنی پوسٹ میں ’جب دنیا جوان تھی‘ تحریر کیا۔خیال رہے کہ عمران خان اپنے سوشل میڈیا پیغامات میں جہاں اپنے دورِ جوانی کو یاد کرتے دکھائی دیتے ہیں یا زندگی کے بیتے ایام کو اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں وہیں وطنِ عزیز کے نوجوانوں کو مشورے بھی دیتے دکھائی دیتے ہیں۔سوشل میڈیا پر متحرک عمران خان نے اس سے قبل نوجوانوں کو اکتوبر میں تُرک مصنفہ کی کتاب ’forty rules of love‘ پڑھنے کی تجویز دی تھی۔عمران خان کا اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں کہنا تھا کہ ’اکتوبر میں ہمارے نوجوانوں کو میں ایلف شفق کی کتاب ’فورٹی رولز آف لو‘ پڑھنے کی تجویز دیتا ہوں۔ یہ خدا کی محبت، تصوف، رومی اور ان کے مرشد شمس تبریز کے بارے میں ایک متاثر کن کتاب ہے۔‘
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ پولیس نے ہوٹل میں میرے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو گرفتار کر لیا۔کراچی میں مزار قائد میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے نعرے لگانے کے خلاف بریگیڈ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مزار قائد تقدس پامالی کے مقدمے میں مریم صفدر اور نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سمیت 200 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے میں جان سے مارنے کی دھمکی، مزار قائد ایکٹ کی خلاف ورزی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔رہنما ن لیگ مریم نواز کی مزار قائد اعظم پر حاضری کے موقع پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ’’ووٹ کو عزت دو اور مادر ملت زندہ باد ‘‘ کے نعرے لگوا ئے تھے۔ مقدمہ وقاص نامی شہری کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کیپٹن (ر) صفدر کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
انتظامیہ کی جانب سے تمام رکاوٹوں کے باوجود جمعہ کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے گوجرانوالہ سے حکومت کیخلاف تحریک شروع کر دی ہے، گوجرانوالہ اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے پی ڈی ایم کے پہلے بڑے جلسے میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔جلسہ رات گئے جاری رہا۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آج جمہوریت کو چورہاے پر ذبح کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ کلمہ حق ہم ادا نہیں کرینگے تو کون کرے گا، جلسے سے ن لیگ کے قائد میاں نوازشریف نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا ۔ جلسے سے مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، راجہ پرویز اشرف نے بھی خطاب کیا۔پی ڈی ایم قائدین نے کہا کہ حکومت کو این آر او نہیں ملے گا، جمہوریت بحال کرنے نکلیں ہیں، 22؍ کروڑ عوام کو ان کا حق دلوائیں گے، نوازشریف نے کہا کہ محب وطن کون جنہوں نے آئین توڑا؟ آمروں نے ہمیشہ سیاستدانوں کو غدار کہا گیا۔پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین کی بالا دستی قبول نہ کرنے والا غدار ہے، ہم جمہوریت بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں،سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج سب کو نوازشریف یاد آرہے ہیں، جبکہ ایک اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت نے سوا دو سال کے دوران عوام کو اذیت کے سوا کچھ نہیں دیا۔چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ملک میں تاریخی مہنگائی ہے، عمران خان کلبھوشن کے وکیل بن گئے، جمہوریت کی بحالی کیلئے اپوزیشن ایک پیج پر آگئی ہے اب عمران کے گھبرانے کا وقت آگیا ہے،ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ عوام کا مقدمہ لیکر گوجرانوالہ آئی ہوں، گوجرانوالہ کے شہریوں تیار رہو حکومت کو گھر بھیجنا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے رات ڈیڑھ کے بعد جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالہ کے پہلوان اکھاڑے میں اتر چکے ہیں ، عوام کا سمندر حکمرانوں کی کشتی کو ڈبو دے گی ، ناجائز اور غیر آئینی حکومت کیخلاف علم بغاوت لیکر استقامت سے کھڑے رہے۔آج پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی صورت میں تمام جمہوریت پسند قوتیں آج تحریک کا آغاز کررہی ہیں، تحریک چل پڑی ہے، عوام کا سمندر کراچی ، کوئٹہ ، لاہور، ملتان اور پشاور میں آئیگا ، انشاء اللہ اگر ہمت ہوئی تو یہ آنے والا دسمبر نہیں دیکھیں گے ، انکے اوسان خطا ہوچکے، ہمت جواب دے چکی ہے ، 15ارکان اسمبلی نے پارلیمنٹ سے انہیں بھگادیا۔ان کی اکثریت کام نہیں آئی ، جمہوریت کو چوراہے پر کھڑا کرکے ذبح کردیا گیا ہے، ہم مدینہ مزاج لوگوں کی زندگی کوفے میں کٹ رہی ہے ، بھارت نے کشمیر پر قبضے کرکے جشن منایا ،حکمراں خاموش رہے ، انڈیا نے اس دن خوشی منائی جب یہاں دھاندلی ہوئی اور ایک جعلی وزیراعظم یہاں لایا گیا ، جمہوریت کے خون پر بھارت نے جشن منایا ، انڈیا میں ماتم ہورہا ہے کیونکہ پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی بات ہورہی ہے اور کشمیر کی بات کی جارہی ہے۔گلگت بلتستان کو صوبے بنانے کی بات ، اگر ہم نے گلگت بلتسان کو صوبہ بنایا تو جو کچھ ہندوستان نے کشمیر کیساتھ کیا ہے کیا آپ اس کو جواز فراہم نہیں کرینگے ، کیا ہمارا موقف کمزور نہیں ہوگا ، گلگت آزاد جموں وکشمیر کا حصہ ہے، یہ امریکا کا ایجنڈا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج سے لڑائی نہیں، لیکن اگر سیاست میں مداخلت کی جائے، آئین کو پامال، اقتدار پر قبضہ کیا جائے، انتخابات کنٹرول کروائے تو پھر کیخلاف کلمہ حق بلند کرنا ہمارا نہیں تو کس کا کام ہے ، پاکستان کی سیاست کو مقید اور یرغمال نہیں دیکھنا چاہتے، سیاست کو قوم کے ہاتھ میں دینا چاہتے ہیں ، اس حق پر ڈاکہ ڈلاگیا ہے ، عوام کو میدان میںآنا ہوگا ، ملک کو بچانا ہے ، تحریک چل پڑی ہے، سیاست میں اداروں کی مداخلت ختم ہوگی ۔لسے سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ میری آواز عوام تک نہ پہنچے اور ان کی آواز مجھ تک نہ پہنچے، لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، لوگ بےروزگار ہوگئے ہیں، گیس اور بجلی کے بل ادا کرنا لوگوں کے بس میں نہیں رہا حتیٰ کہ ادویات بھی لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوچکی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو مار دیا ہے، نہ جانے کس بے شرمی سے یہ لوگ میڈیا پر آکر اِدھر اُدھر کی کہانیاں سناتے ہیں، یہ کس کا قصور ہے؟ عمران خان نیازی کا یہ انہیں لانے والوں کا؟ اصل قصوروار کون ہے؟ عوام کا ووٹ کس نے چوری کیا، انتخابات میں کس نے دھاندلی کی؟ جو ووٹ آپ نے ڈالا تھا وہ کسی اور کے ڈبے میں کیسے پہنچ گیا؟نواز شریف نے کہا کہ اب اصل قصورواروں کو سامنے لانے میں نہیں ڈریں گے، ہم گائے بھینسیں نہیں ہیں، باضمیر لوگ ہیں اور اپنا ضمیر کبھی نہیں بیچیں گے، عوام کو اس کے ساتھ ظلم کرنے والوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔سابق وزیر اعظم نے خود پر غداری کے الزام سے متعلق کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب آمروں نے عوامی رہنماؤں پر یہ الزام لگایا ہے کیونکہ وہ آئین و قانون کی بات کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پھر محب وطن کون ہیں؟ وہ جنہوں نے آئین کو تباہ کیا یا وہ جنہوں نے ملک کو دو ٹکروں میں تقسیم کردیا۔ نواز شریف نے نیب پر یکطرفہ احتساب اور صرف اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ تمام سیاستدانوں کو غدار کہلایا جاتا ہے اور شروع سے آمروں نے فاطمہ جناح، باچا خان، حسین شہید سہروردی اور دیگر رہنماؤں کو غدار قرار دیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں الزامات لگائے کہ پاکستان میں انتخابات میں مینڈیٹ کو چوری کیا گیا اور دھاندلی کی گئی۔ نواز شریف نے سیاستدانوں پر غداری کے الزامات لگائے جانے پر کہا کہ پاکستان میں محب وطن کہلائے جانے والے وہ ہیں جنھوں نے آئین کی خلاف ورزی کی اور ملک توڑا۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی کی طرح آج بھی غیر جمہوری قوتوں کیخلاف لڑینگے، عوام ہمارے ساتھ ہیں ، جمہوریت بحال کرنے نکلے ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا تبدیلی پسند آئی ؟کون سی تبدیلی آئی ، آج کسان کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں، مزدور کے بچوں کے پاس سائبہ بان نہیں، معیشت تاریک کے بدترین دور سے گزر رہی ہے، تاریخ میں پہلی بار منفی گروتھ میں ہے ، تبدیلی یہ ہے کہ تاریخی مہنگائی ہے۔تاریخی غربت ہے ، تاریخی بے روزگاری ہے ، انڈے دو سو روپے درجن ، آلو 100روپے کلو ، ٹماٹر ، غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے ، محنت کش مزدور کے چولہے بند ،دکانیں بند، فیکٹریاں بند یہ ہے عمران اور اس کے سلیکٹر کی تبدیلی ، بحران ہی بحران ہے، بجلی بحران ، گیس بحران ہے ،ہم سب ایک پیچ پر ہیں، تحریک شروع ہوچکی ، تاریخی جلسے کے بعد سلیکٹڈکو گھبرانا ہوگا۔انہوں نے پرویز مشرف کو سرٹیفائیڈ بھگوڑا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشرف نے بحران نے چھوڑا تھا۔ آج عمران حکومت میں بحران ہے مہنگائی ہے تو ٹائیگر فورس کو لے آتے ہیں، کووڈ ہے تو ٹائیگر فورس۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، یہ کس قسم کا انصاف ہے ، زرداری ، نواز شریف اور فریال تالپور پر الزام لگے تو جیل ، مریم نواز پر الزام لگے تو جیل مگر عمران پر اوراسکے حواریوںپر الزام لگے تو کوئی ان سے پوچھتا نہیں ، یہ صرف اور صرف سیاسی انتقام کرتا ہے ، ہم کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں۔تمام پاکستانیوں کیلئے ایک قانون بنانا ہوگا ، وزراء اعظم، جج اور جرنیل پر الزام ہے تو ان کا بھی احتساب کرنا ہوگا اور جیل میں ڈالنا ہوگا ، پنجاب میں وسیم اکرم پلس کی حکومت ہے مگر گورننس مائنس میں ہے ، سمجھ نہیں آرہا کہ یہ فیصلہ کس نے کیا ہے ، کیا کسی جادوگرنی نے کیا۔انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سے اختلاف لیکن کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ انہوں نے میٹرو بس بنادی ، عمران نے کیا کیا ؟لیور ٹرانسپلانٹ کا استپال بنایا گیا ، صوبوں کو حق نہیں مل رہا،100ارب روپے کم ملے ،این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو 500ارب روپے کم ملے، عوام کا حق پی ٹی آئی سے چھین کر لیں گے ، پاکستان کی فارن پالیسی کا حشر کردیا ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پنجاب میں بھٹو نے مسلم امہ کو اکھٹا کیا ، سلیکٹڈ کشمیر کے مسئلے پر امہ کو اکھٹا نہیں کرسکا ، کشمیر کا سودا نا منظور ،پلوامہ حملے کے بعد عمران کہتا ہے کہ مودی جیتے گا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا ، مودی نے الیکشن میں وعدہ کیا تھا کہ آرٹیکل 370کو ختم کرنا ہوگا ، عمران کو پتہ تھا اس کے باوجود عمران نے مودی کے جیتنے کی خواہش کااظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ گجرات کا قصائی مودی بوچر آف کشمیر بن چکا ہے، عمران نے کہا ہر جمعے کو احتجاج ہوگا ، عمران کشمیریوں کے سفیر بننے کے بجائے کلبھوشن کے وکیل بن گئے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ گوجرانوالہ ایک بات بتاؤ، عمران خان سلیکٹڈ وزیراعظم کو این آر او دینا ہے یا نہیں دینا؟ عمران خان کو این آر او نہیں دینا ناں؟انہوں نے کہا کہ کون کہتا تھا کہ پانچ بندے کھڑے ہو کر میرے خلاف ’’گو عمران گو‘‘ کا نعرہ لگائینگے تو میں چلا جاؤں گا؟ آج لاہور سے گوجرانوالہ تک لوگوں نے ایک ہی نعرہ تھا گو نیاز ی گو نیازی گو نیازی، انہوں نے کہا کہ اب آرام سے جانا ہے یا لوگ تمہیں اٹھا کر باہر پھینک دینگے۔مریم نواز نے کہا کہ میں آج آپ کے سامنے عوام کا مقدمہ لے کر آئی ہوں، میں اس ماں کے آنسوؤں کا مقدمہ لے کر آئی ہوں جو اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا دیکھتی ہے لیکن اسے آٹا، چینی ، روٹی پوری نہیں ہوتی، گوجرانوالہ کے لوگوں آپ لوگوں کا تعلق زیادہ تر تاجر برادری سے ہے کیا آج کاروباروں کو تالے نہیں لگے ہوئے ، میں آج تاجر برادری، مزدور، ریڑھ بان ان سب کا مقدمہ لے کر آپ کے پاس آئی ہوں، میں آج اس عدلیہ کا مقدمہ آپ کے پاس لے کر آئی ہوں جو احکامات کو جب نہیں مانتے اور جب کہتے ہیں ہم آئین و قانون پر چلیں گے تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت صدیقی والا حال ان کا کردیا جاتا ہے۔وہ میڈیا بیٹھا ہے میں آج آپ کے پاس میڈیا کی زبان بندی کا مقدمہ لے کر آئی ہوں، میڈیا میں جو لوگ سچائی کے ساتھ آپ کی آواز بننا چاہتے تھے ان کو یا تو نیب میں جیلو ں میں ڈال دیا گیا یا انکی زبان پر تالے لگادیئے گئے یا ان کو چینلوں سے نوکریوں سے نکلوادیا گیا۔یہ اسلام آباد کے مناظر یاد ہیں ابھی کچھ دن پہلے سرکاری ملازم ہزاروں کی تعداد میں ریڈ زون میں آکر بیٹھے، ابھی کل پرسوں قوم کی مائیں بہنیں بیٹیاں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی شکل میں، پنشنرز، بوڑھے لوگ اسلام آباد کی سڑکوں پر رُل رہے ہیں میں ان کا مقدمہ بھی آپ کے پاس لے کر آئی ہوں۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کا جو بیانیہ ہے وہ عوام کی سمجھ نہیں آتا، آپ کو ان کا سمجھ آتا ہے کہ نہیں آتا؟ ووٹ چوری کا مقدمہ سمجھ آتا ہے کہ نہیں آتا؟ پھر یہ بھی سمجھ آتا ہے ناں کہ ابھی جو کہا تھا کہ آپ کے ووٹوں سے حکومتیں آنی چاہئیں، آپ کے ووٹوں سے جانی چاہئیں، کسی کو یہ حق نہیں ہونا چاہئے کہ آپ کے منتخب نمائندوں کو اٹھا کر وزیراعظم کے آفس سے باہر پھینکے، حساب کتاب آپ نے کرنا ہے اور کسی نے نہیں کرنا، اگر کوئی یہ کرتا ہے تو یہ طاقت آپ کو اس سے چھیننی پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ جب ووٹ کو عزت نہیں ملتی تو عوام کا وہ حال ہوتا ہے جو آج آپ سب کا حال ہورہا ہے، پھر آٹا بھی چوری ہوات ہے مارکیٹ سے غائب بھی ہوتا ہے، یہ ہمیں سسیلین مافیا کہتے تھے اب پتا چلا ہے مافیا کیا ہوتا ہے، جب پہلے آپ چیزیں مارکیٹ سے غائب کروادو، اس کے بعد اس کی قیمت بڑھا کر مارکیٹ میں واپس لے آؤ، میرے بھائیوں! یہ جو کرپشن کرپشن کا عمران خان راگ الاپتا ہے۔اس کی کرپشن کی داستانیں جب باہر آئیں گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے دوڑ لگادیں گے، آج میڈیا کو چپ کرایا ہے، زنجیروں میں جکڑا ہے تو تمہاری کرپشن کی داستانوں پر کھلے عام کوئی بات نہیں کرتا، آج کہتے ہو کہ ہم ایک صفحے پر ہیں تو عمران خان یاد رکھو صفحہ پلٹتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین کی بالا دستی قبول نہ کرنے والا غدار ہے، ہم یہاں شہر میں لوگوں کو گالیاں دینے نہیں آئے ، یہاں کوئی کسی کا آقا نہیں یہاں کوئی غلام نہیں ،ہم آئین کے دفاع کے لئے نکلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم باغی نہیں ، ہم ان لوگوں کے باغی ہیں جو آئین کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ہم ایک نئے جمہوری پاکستان کے تشکیل چاہتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماء سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت نے سوا دوسال میں پاکستان کے عوام کو سوائے اذیت کے اور کچھ نہیں دیا انہیں مزید حکومت میں رہنے کا حق نہیں ۔ پاکستان کا بچانا ہے تو عمران خان کوبھگانا ہے ۔ مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔ کیا کوئی شخص لیڈر ہو سکتا ہے جو جھوٹ بولے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عمران خان اور ہائبرڈ نظام ہو چکا ہے ، آج نواز شریف سب کو یاد آتا ہے جب حکومتیں توڑ دی گئیں کسی کو نواز شریف یاد نہیں آیا،گوجرانوالہ جلسہ جمہوریت اور پاکستان کی فتح ہے گوجرانوالہ نے میدان مار لیا ۔ جتنے لوگ اسٹیڈیم میں موجود تھے اس سے دگنے باہر تھے۔
پشاورکے علاقے بازید خیل میں بھتیجی کے ساتھ مبینہ زیادتی پر پولیس نے چچا کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ والدین کی عدم موجودگی میں چچا 7 ماہ تک اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے، پولیس نے ملزم گلزار کو گرفتار کر لیا ہے۔ایف آئی آر متاثرہ لڑکی نے تھانہ بڈھ بیر میں درج کرائی ہے ، متاثرہ لڑکی نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کا چچا 7 ماہ تک اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے۔لڑکی کا کہنا ہے کہ غریب والدین مزدوری کے لیے جاتے تھے اور ان کی غیر موجودگی میں چچا اسے جنسی تشدد کا نشانہ بناتا تھا، انکار کرنے پر چچا جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا تھا اسی ڈر کے باعث خاموش رہی، حاملہ ہونے پر اپنی والدہ کو تمام صورتِ حال بتائی۔ملزم گلزار کے خلاف زنا بالجبر کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، خاتون کی رپورٹ پر ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کا انتظار ہے جس کے بعد صورتِ حال واضح ہوجائے گی۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک کا پہلا پاور شو آج (جمعہ کو) گوجرانوالہ میں ہوگا۔پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن جامعہ اشرفیہ لاہور ، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کائرہ ہاؤس لالہ موسیٰ سےریلی کی صورت میں گوجرانوالہ جائیں گے ، مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز جاتی امراء سے روانہ ہوں گی ۔ادھر پولیس نے لیگی رہنماؤں اورکارکنوں کی گرفتاری کیلئے 250سے زائد چھاپے مارے جبکہ سرگودھا اور بھلوال میں لیگی کارکنوں کیخلاف کورونا وائرس پھیلانے کے مقدمے درج کرلئے گئے ۔ اپوزیشن کے جلسے میں شرکت روکنے کیلئے میانوالی میںبڑے بڑے کنٹینرز پہنچ گئے۔دوسری جانب حکومت نے اپوزیشن کو اسٹیڈیم بھرنے کا چیلنج دیدیا ہے اور وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ عوام کو تنگ کرنے کیلئے سڑکوں پر کسی صورت جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ جناح اسٹیڈیم کو بھرکر دکھائیں، کرونا ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔ اپوزیشن نے حکومتی چیلنج قبول کرلیا ہے ۔رانا ثناء اللہ ، سعد رفیق کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہا کہ شبلی فراز کا گوجرانوالہ کا اسٹیڈیم بھرنے کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہاکہ اسٹیڈیم بھرا ہوا نظر آیا تو شبلی فراز کتنی دیر میں استعفیٰ دیں گے، مسلم لیگ ( ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کا جلسہ حکمرانوں کے خلاف ریفرنڈم ہو گا۔رانا ثناء اللہ میاں افتخار نے کہاکہ گرفتاریوں سے تحریک زورپکڑتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک کا پہلا جلسہ آج گوجرانوالہ میں ہوگا جس میں اپوزیشن جماعتوں کے مرکزی قائد ین شرکت کریں گے ،جلسہ سے جمعیت علماءاسلام(ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹوزرداری ،مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز،مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے سربراہ ساجد میر ،عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما امیر حیدر خان ہوتی اور میاں افتخاراحمدخطابات کریں گے ۔مولانا فضل الرحمن جامعہ اشرفیہ فیروز پورروڈ،مریم نواز جاتی امراءسے نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد قافلوں کی صورت میں گوجرانوالہ کے لئے روانہ ہونگے۔عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری امیر بہاد ر خان ہوتی کی قیادت میں جلوس جوڑے پل نزد ائرپورٹ سے نکلے گا جو گوجرانوالہ تک پہنچے گا۔مولانا عبدالغفور حیدری پرانا کاہنہ سے کارواں کا آغاز کریں گے، جہاں سے لاہور، قصور، اوکاڑہ، ساہیوال پاکپتن اور دیگر اضلاع کے قافلے ان کے ہمراہ ہونگے، مسلم ٹاؤن پہنچ کر ان کے قافلے مولانا فضل الرحمن کے قافلے کا حصہ بن جائیں گے۔دوسری جانب حکومت نے اپوزیشن کو جناح سٹیڈیم بھرنے کا چیلنج دیا ہے جس پر اپوزیشن نے کہا ہے کہ آج کا جلسہ حکمرانوں کے خلاف ریفرنڈم ہو گا،گزشتہ روزایک ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ بطور جمہوری حکومت اور پارٹی،اپوزیشن کو فیملی لمیٹڈ کمپنی کرپشن کے بچاؤ کے لئے جناح سٹیڈیم میں مجمع اکٹھا کرنے کی باقاعدہ اجازت دیدی ہے۔عوام کو تنگ کرنے کے لئے سڑکوں پر کسی صورت جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ جناح سٹیڈیم کو بھریں،اپوزیشن سٹیڈیم کے اندر جلسہ،کورونا ایس او پیز پر عمل کرے۔دوسری طرف میڈیا سے گفتگو کرتےمسلم لیگ ( ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آج کا جلسہ حکمرانوں کے خلاف ریفرنڈم ہو گا، پنجاب انتظامیہ نے رکاوٹیں ڈالنے کی پوری کوشش کی ناکامی پر مجبور ہو کر جناح سٹیڈیم گوجرانوالہ میں جلسہ کا این اوسی دے دیا ، حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی وجہ سے معیشت تباہ ہو چکی ، پرویز رشیدنے کہا کہ سٹیڈیم بھرا ہوا نظر آیا تو شبلی فراز کتنی دیر میں استعفی دیں گے۔رانا ثنا اللہ نے کہاکہ کارکنوں کی پکڑ دھکڑ اور چھاپوں کا سلسلہ بند کیا جائے، گرفتاریوں سے تحریکیں زور پکڑتی ہیں، کسان، تاجر سمیت سب گوجرانوالہ پہنچیں۔پی ڈی ایم کے سیکرٹری اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ آپ رکاوٹیں ہٹائیں ، گرفتاریاں چھوڑیں تو اسٹیڈیم کم پڑ جائیگا،ہم شفاف انتخابات کیلئے نکلے ہیں، ہمارا پروگرام پرامن ہے ، پہلے جلسے سے ہی حکومت خوف کا شکار ہوگئی ہے ، حکومت کو اپنے جلسوں اور تقاریب میں کورونا نظر نہیں آتا مگر اپوزیشن کے جلسہ میں کورونا یاد آجاتا ہے۔کورونا ایک وبا ہے احتیاط کرنی ہے لیکن اس وبا کی اتنی شدت سے نہیں ہے لیکن ماسک پہننا ضروری ہے، جلسے میں کتنے لوگ ہوں گے یہ آپ کو نظر آجائے گا۔علاوہ ازیں جاتی امراء میں لیگی رہنماؤں کی اہم بیٹھک ہوئی، نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز سےسینیٹر پرویز رشید، ، رانا ثنااللہ، میاں جاوید لطیف اور محمد زبیر نےملاقات کی،ملاقات میں مسلم لیگ ن کے کارکنان کی گرفتاریوں کی مذمت کی گئی،مریم نواز نے کہا کہ گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں، ہماری تحریک کامیاب ہوگی۔گجرانوالہ کا جلسہ عظیم الشان ہوگا۔سابق وزیراعظم نوازشریف اور مریم نوازکے ترجمان زبیر عمرنے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہاحکومت ایک نہتی عورت سے خوفزدہ ہے۔ جلسہ روکنے کے کئے ٹرانسپورٹرز پر بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں لاہور پولیس کا شہر میں چھاپوں، گرفتاریوں اور کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا جس کے نتیجے میں شہر کے مختلف تھانوں کی پولیس نے 125 سے زائد لیگی رہنمائوں اور کارکنوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے رشتے داروں اور کا م کر نے والو ں کو بھی حراست میں لے لیا۔
چوہدری ندیم اصغر کائرہ نے کارنر میٹنگ کے دوران سادات خاندان پر بے بنیاد کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ کردی اور دوران خطاب اخلاقیات بھی بھول گئے۔انکی تقریر کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف لالہ موسی کے راہنما کورڈینیٹر بجلی،سوئی گیس ملک آصف نے اظہار خیال کرتےہوئے کہا آج ایک انتہائی محترم سابقہ تحصیل ناظم چوہدری ندیم اصغر کائرہ صاحب کی کارنر میٹنگ میں ایک تقریر سننے کا شرف حاصل ہواجناب عالی بلا شبہ ہم لالہ موسیٰ کے ہر اس شہری اور قائد کو ہیرو مانتے ہیں جس نے اپنے محلے علاقے اور شہر کے لئے کچھ کام کیا۔جناب عالی ہم آپ کی کوششوں کو بھی مانتے ہیں لیکن یہ 90 کی دہائی کی سیاست کی جھلک آپ کے لہجے سے نظر آئی جو کہ موجودہ وقت میں قابل قبول نہیں لہجے اور آداب گفتگو خاندانی روایت کی عکاسی کرتا ہے سادات حاندان نے ہمیشہ اپنے مخالف کو بھی با عزت الفاظ سے مخاطب کیا سید منظور حسین شاہ صاحب کی عوامی خدمات کی روایات کو سید نورالحسن شاہ صاحب اور اب ان کے بھائی سید فیض الحسن شاہ کو صاحب لے کر آگے چل رہے ہیں سادات خاندان اسی حلقے سے 4 دفعہ ایم این اے بنے ہیں جناب عالی کوئی بات تو ہے کہ آپ نے جو کام گنواے ہیں ان سب کے ہوتے ہوئے اور آپ کے بقول سادات حاندان نے کوئی کام نہیں کیا پھر بھی عوام ان کو منتخب کرتے ہیں جناب سب سے پہلے عوام سے عزت اور خلوص کا رشتہ ہوتا ہے جو سب سے مقدم ہوتا ہے کام ہر دور میں ہوتے رہے ہیں مگر جناب ندیم صاحب اخلاقیات بڑی چیز ہے آپ نے انتہا ہی نچلے درجے کی گفتگو کی ہےکاموں کی تفصیلات گیس کی حلقہ میں منظوری سے لے کر ٹراما سنٹر سول ہسپتال خواص پور پل اور بے شمار کام ہیں لیکن یہ سب کام عوام کا حق ہیں ہماری قیادت کی ترجیحات ہمیشہ عوامی کام رہے ہیں اسی وجہ سے آج چوتھی دفعہ عوام نے انھیں منتخب کیا ہے ہماری ترجیحات میں فضول خرچی پاکستان کے بلند ترین فوارہ یا گملے نہیں جناب والی ہو سکے تو وہ بھتے کی پرچیاں ضرور سامنے لائے اگر وہ نہ ہو سکے تو نشاندہی کر دے اور اگر یہ سیاسی بیان تھا تو اخلاقی جرات کرتے ہوئے اپنے لہجے اور جھوٹے الزامات پر معذرت کر لیں اس سے آپ کا قد بڑھے گا کم نہیں ہو گا باقی کاموں کا جواب ہم نہیں ہمارے کام دیں گے شکریہ دل آزاری کی معذرت