اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ہونے والی العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران بیان ریکارڈ کراتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ قطری شہزادے کے خطوط کے حوالے سے میرا کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں کسی حیثیت میں بھی کسی ٹرانزیکشن کا حصہ نہیں رہا، میرا نام کہیں بھی کسی بھی دستاویز میں نہیں۔نواز شریف کے تحریری جواب کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔’’مارشل لاء کے بعد ہمارا کاروباری ریکارڈ مختلف ایجنسیاں لے گئیں‘‘سابق وزیراعظم نواز شریف نے کمرہ عدالت میں اپنے وکیل خواجہ حارث سے مشاورت بھی کی جبکہ انہوں نے واجد ضیاء کے بیانات پر بھی اعتراضات کیے۔العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے احتساب عدالت میں اپنے دیئے گئے بیان میں کہا کہ 1999ءمیں مارشل لا کے نفاذ کے بعد شریف خاندان کے کاروبار کا ریکارڈ مختلف ایجنسیاں لے کرچلی گئیں۔بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ مقامی پولیس اسٹیشن میں کاروباری ریکارڈ کے ایجنسیوں کے لے جانے کی شکایت بھی درج کرائی لیکن کوئی اس پر کارروائی نہیں کی گئی اور 1999ءمیں قبضے میں لیا گیا ریکارڈ آج تک واپس نہیں کیا گیا۔نواز شریف نے مزید کہا کہ صرف 1999ء میں ہی یہ نہیں ہوا، یہ ہمیشہ ہوتا آیا ہے کہ 1972ء میں پاکستان کی سب سے بڑی اسٹیل مل اتفاق فاؤنڈری کو قومیا لیا گیا۔سابق وزیر اعظم نے بیان میں یہ بھی کہا کہ 1972ء میں سیاست میں بھی نہیں تھا ،میں نے 80ء کی دہائی میں سیاست کا آغاز کیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ایوان میں آکر معافی نہ مانگنے پر رولنگ دیتے ہوئے ان کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔چیئرمین سینیٹ نے ایوان میں غیر پارلیمانی الفاظ کے استعمال پر وفاقی وزیر فواد چوہدری کو ایوان میں آکر معافی مانگنے کی ہدایت کی اور کہا کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں ان کے سینیٹ میں داخلے پر پابندی ہوگی۔گزشتہ بدمزگی پر سینیٹ میں پھر گرما گرمی، اپوزیشن کا واک آؤٹ صادق سنجرانی کا مزید کہنا تھاکہ سینیٹ میں بدمزگی پیدا ہونا شروع ہوگئی ہے، اس لے ہم سب پر لازم ہے کہ احتیاط کریں۔چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر اطلاعات کو معافی مانگنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری ایوان میں آکر معافی مانگیں، اگر معافی نہیں مانگتے تو ان پر جاری اجلاس میں داخلے پر پابندی لگاتا ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ممبران پر لازم ہے کہ وہ چیئرمین، قائد ایوان اور حزب اختلاف کا احترام کریں، ممبران ایوان میں ایسے الفاظ اور اشارے نہ کریں جو غیر مناسب ہیں۔چیئرمین سینیٹ کی ہدایت کے بعد سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ ایک گروہ ہے جو عملی طور پر پارلیمنٹ کو بے توقیر کرتا رہا ہے، اب یہ اندربیٹھ کر پارلیمان کو بے توقیر کررہے ہیں، جب بھی اجلاس ہوگا وزیر اطلاعات آکر چیئرمین اور ایوان سے معافی مانگیں گے اور کہیں گے کہ آئندہ ایسا عمل دوبارہ نہیں کروں گا۔فواد چوہدری کا سینیٹ میں داخلہ منع واضح رہےکہ اس سے قبل بھی وفاقی وزیر فواد چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے مشاہد اللہ کے درمیان سینیٹ میں تلخ کلامی ہوئی تھی، وفاقی وزیر نے اپوزیشن کے خلاف دھواں دھار تقریر کی تھی تاہم اپوزیشن کے شدید احتجاج پر معافی بھی مانگ لی تھی۔حالیہ تنازہ اس وقت شروع ہوا جب بدھ کو (گزشتہ روز) سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان خان کاکڑ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھاجس پر چیئرمین نے وفاقی وزیر کا مائیک بند کردیا اور غیر پارلیمانی الفاظ استعمال کرنے پر انہیں تنبیہ بھی کی۔آج سینیٹ اجلاس شروع ہوا تو گزشتہ روز کی بدمزگی پر ایوان میں آج پھر گرما گرمی ہوئی، فواد چوہدری کے گزشتہ روز کے رویے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا،شدید احتجاج کیا اور فواد چوہدری کی معافی کا مطالبہ کیا تھا۔اس سے قبل مسلم لیگ نون کے سینیٹر راجا ظفر الحق نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی بات بھی نہ مانی جائے تو واک آؤٹ کرنا پڑے گا۔نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر حاصل بزنجو نے کہا کہ جب تک وفاقی وزیر ایوان سے معافی نہیں مانگیں گے اپوزیشن ایوان میں نہیں بیٹھے گی۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ عوام دیکھ رہے ہیں کہ کون ایوان نہیں چلنے دے رہا، مشاہد اللہ خان کی تقریر اور وفاقی وزیر کی تقریر کا متن منگا لیں، دیکھیں اجلاس میں کس نے غیر پارلیمانی بات کی۔پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پارلیمانی زبان کے دائرے سے نکل کر بات کی جاتی ہے، وزیر اطلاعات کو معافی مانگنی پڑے گی، پھر دیکھیں گے کہ ایوان کو کہاں چلائیں، باہرچلائیں یا کہیں اور۔اپوزیشن ارکان نے وفاقی وزیراطلاعات کے معافی مانگنے تک ایوان سے واک آؤٹ کر دیا، نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر نے سینیٹ میں کورم کی نشاندہی کر دی۔چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے قائد ایوان کو ہدایت کی کہ وہ اپوزیشن کو منا کر لے آئیں، انہوں نے اعظم سواتی اور علی محمد خان کو بھی ساتھ جانے کی ہدایت کی۔سینیٹ میں کورم پورا نہ ہونے کے باعث اجلاس آدھے گھنٹے کے لیے ملتوی بھی کیا گیاتھا۔
بالی ووڈ کے بادشاہ شاہ رخ خان نے اپنی بیٹی سہانا خان کو ’سانولا‘ کہنے پر لوگوں کو کرارا جواب دے دیا۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق بالی ووڈ کنگ شاہ رخ خان نے کچھ روز قبل کولکتہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئےکہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی سہانا خان سے بے حد محبت کرتے ہیں۔ بعد از ٹائمز آف انڈیا نے شاہ رخ سے سوال کیا کہ سہانا کے رنگ پر انہیں کئی سالوں سےمتنازعہ سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس بارے میں ان کا کیا کہنا ہے؟اس سوال کے جواب میں شاہ رخ خان نے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنے مداحوں سے غلط بیانی نہیں کرتے اورنا ہی لوگوں کو اُن کے ظاہری روپ کی بنا پر نہیں جانچتےہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں بہترین نظر آنے والا شحض کبھی نہیں تھا، نا میرا قد لمبا تھا، نا میرا قابل تعریف جسم تھا، بہترین ڈانس بھی نہیں کرتا، بال بھی خوبصورت نہیں اور نا ہی میں کسی اسکول سے اداکاری سیکھ کر آیا ہوں جس نے سیکھایا کہ مجھے ہندی فلم ہیرو بننا ہےتو اگر ان پہلوئوں سے بات کی جائے تو میں کیسا ہوں؟شاہ رخ خان نے کہا کہ اُن کی طرح گوری خان اور ان کے بچے آریان، سہانا اور ابراہم خان بھی نارمل پیپل‘ ہیں۔ جن کا مذاق بھی اُڑایا جاسکتا ہے اور ان کی بے عزتی بھی کی جاسکتی ہےکیونکہ ہر کسی کو یہ حق ہے کہ وہ کسی کے بارے میں بھی اظہار رائے دے۔انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میں ایک نچلے متوسط طبقےسے تعلق رکھتا تھا جو اپنے کمرے میں پہلے ہالی ووڈ اداکار چیری لیڈ اور چلنٹ ایسٹ ووڈ کے پوسٹر رکھا کرتا تھا لیکن میں یہ کبھی نہیں سوچتا تھا کہ ان پوسٹر کی وجہ سے میں بھی ان جیسا بن جاؤں گا یہی وجہ ہے کہ یہ پہلو کبھی میری زندگی کا حصہ نہیں رہا۔شاہ رخ خان نے کہا کہ ایک چیز جو مجھے کام سے مخلص رکھتی ہے وہ میری دیانت داری ہے اور اس میں رنگ و روپ کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی انسان کا رنگ و روپ پر کوئی اختیار ہے، آج یرا طرز زندگی دیکھیں، میں دیکھے جانے میں بھی اچھا ہوں اور پوسٹر بوائے بھی بن گیا ہوں۔انٹرویو کے اختتام میں انہوں نے مزید کہا کہ یں اپنی بیٹی کے حوالے سے بھی ہمیشہ سچ کہتا ہوں اور کہوں گا کہ وہ سانولی ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کی خوبصورت ترین ڑکی ہے اور اُس کے سانولے رنگ کے حوالے سے کوئی مجھے کچھ نہیں کہہ سکتا۔
پچھلے کچھ ماہ سے یہ خبریں گردش کررہی ہیں بالی ووڈ اداکارہ ملائیکہ اروڑااور اداکار ارجن کپور آئندہ سال اپریل میں شادی کرنے جارہے ہیں بعد ازیہ خبر سامنے آئی کہ دونوں اداکار شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے قبل وہ ایک دوسرے کومکمل طورپر جاننا چاہتے ہیں۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 45 سالہ ملائیکا اروڑا نے خود سے 11 سال چھوٹےاداکار ارجن کپورسے شادی اور محبت کے حوالے سے اب تک کوئی بات نہیں کی تھی، تاہم اب انہوں نے ارجن سے شادی کے سوال پر خاموشی توڑدی ہے۔ہندوستان ٹائمز نے ملائیکہ اروڑا سے شادی کی افواہوں سے متعلق سوال کیا توانہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنی ذاتی زندگی سے متعلق سوالات کے جواب نہیں دیتیں، اس لیے نہیں کہ وہ شرماتی یا گھبرا جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں کوئی بھی بات کرنا اچھا نہیں سمجھتیں، سب جانتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کیا ہوا اور انہوں نے کیسا وقت گزار اور اب کیسی ہیں اور انہیں اب اس حوالے سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ملائیکہ اروڑا کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنی زندگی انجوائے کررہی ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی کو خوبصورت اور قیمتی بھی قراردے دیا۔بالی ووڈ کی ڈانس کوئین ملائیکہ اروڑا اور غنڈے اداکار ارجن کپور کی شادی کی افواہوں نے اُس وقت جنم لیا جب دونوں کو بھارت کے معروف پروگرام ’انڈیا گوٹ ٹیلنٹ‘ میں ایک ساتھ اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے دیکھا گیا۔ اس پروگرام میں دونوں نے بطور مہمان جج شرکت کی تھی۔ واضح رہےکہ چند ہفتے قبل اٹلی کے شہر میلان میں ملائیکہ اروڑا اور ارجن کپور کو ایک ساتھ ہاتھ تھامے دیکھا گیا تھا، دونوں کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر بھی خوب وائرل ہوئی تھی جس کے بعد سے یہ بات پھیل گئی کہ یہ دونوں جلد شادی کرنے والے ہیں۔ملائیکہ اور ارجن کی جانب سے ابھی تک شادی کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ سیمنٹ فیکٹریاں اب کٹاس راج مندر کے تالاب سے پانی نہیں لیں گی، عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال اور سپریم کورٹ کی ٹیم کو فیکٹریوں کے معائنے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چکوال میں کٹاس راج مندر کا تالاب خشک ہونے کے معاملے کی سماعت کی۔دوران سماعت مقامی آبادی کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ سیمنٹ فیکٹریاں زیر زمین پانی استعمال کر رہی ہیں، 18 ٹیوب ویلوں کی نشاندہی کی تھی، فیکٹریوں نے بڑے بڑے تالاب بھرے ہوئے ہیں۔ڈی سی چکوال نے کہا سیمنٹ فیکٹریوں کے ٹیوب ویل ختم کردیتے ہیں، چیف جسٹس نے ڈی سی چکوال عبدالستار عیسانی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پڑھ کرکیوں بتا رہے ہیں، تم نے اپنی ڈیوٹی نہیں کی، آپ سپریم کورٹ میں بغیرتیاری پیش کیسے ہوئے، کیا سیمنٹ فیکٹری والوں سے واقفیت نکل آئی ہے؟چیف جسٹس نے سیمنٹ فیکٹری کے وکیل سے مکالمے میں کہا آپ بلاواسطہ طریقہ سے وہی کام کر رہے ہیں، سیمنٹ فیکٹریوں کے وکیل سلمان بٹ نے کہا پانی مون سون کی بارشوں سے بھرا ہے، چیف جسٹس نے کہا زیر زمین پانی اور بارش کے پانی کا فرق لیبارٹری ٹیسٹ سے پتہ چل جائے گا۔عدالت نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چکوال اورعدالتی ٹیم کو فیکٹریوں کا معائنے کرکے رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
وزیراطلاعات پنجاب فیاض چوہان نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کوایک زرداری،سب پربھاری نےہی نقصان پہنچایا،پیپلزپارٹی پروزیراعظم عمران خان پرالزام تراشی زیب نہیں دیتی۔زرداری،شہبازشریف ایک دوسرےکی کرپشن کوتحفظ دینےکی کوشش کررہےہیں۔وزیراطلاعات پنجاب نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی حلوائی اورقصائی کے پاس سے پیسے پہلے کیوں نہیں نکلے،عمران خان کی قیادت ہی دس سال سے جاری منی لانڈرنگ روک سکتی تھی،ماضی میں منی لانڈرنگ کرنےوالے اقامے کی چھتری تلے چھپ جاتے تھے،ثابت ہوگیا کہ اقامہ ،منی لانڈرنگ اور لوٹ مارکرزریعہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی والےکہتے ہیں کہ ان اکاؤنٹس سے کوئی تعلق نہیں،آصف زرداری صاحب لیڈنگ چینل کے لیڈنگ اینکر کےسامنےکہتے ہیں کہ ہاں اکاؤنٹس بنائے ہیں،ان کا نام کرپشن میں پچھلےپچیس سال کی محنت کےبعدحاصل ہوا ہے۔پیپلزپارٹی والےاپنےلیڈرکوسمجھائیں کہ وہ دورگزرگیا جب ایان علی جیسی ماڈلز کےذریعےپیسے باہربھیجے جاسکتے تھے۔فیاض چوہان نے کہا کہ مشاہدالله کوکسی بھی مقام پرمباحثے کاچیلنج کرتاہوں،ان کاکام سارادن لوگوں کولڑاناہے،انہوں نے مشاہدالله نےتین چارمرلےکےمکان اورکلرکی سےسیاست کاآغازکیا،کسی فورم پرمباحثہ کرلیں،انکاکچہ چٹھاعوام کےسامنےلاؤں گا،مشاہد اللہ آل شریف کی کاسہ لیسی کرکے اس مقام پرپہنچے ہیں۔فیصل آباد میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی پر نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں ہنگامہ آرائی کرنےوالے وکلا کےخلاف کارروائی کرینگے۔جہانگیر ترین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تدابیرناکام ہونگی،پی ٹی آئی کی حکومت 5سال پورےکرےگی،جہانگیرترین پی ٹی آئی کےکارکن ہیں،اسی حیثیت سےاجلاسوں میں شرکت کرتےہیں،میں نہیں سمجھتاکہ جہانگیرترین کےخلاف کیس میں کوئی جان ہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک میں حلال طریقےسےبھی جائیدادبنائی جاسکتی ہے،وفاقی تحقیقاتی ادارےکرپشن کی تحقیقات کےلیےآزادہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کس حیثیت سےن لیگ کےقائدبنےہوئےہیں،اسپیکرپنجاب اسمبلی پرویزالہٰی زیرک اورمدبرسیاستدان ہیں،کوئی ادارہ کسی سیاسی جماعت کےکارکن کوفارغ نہیں کرسکتا،پرویزالہٰی کی وڈیولیک ہونےسےمتعلق کسی پرالزام نہیں لگایاگیا۔فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ میڈیاصرف کسی ایونٹ کی وڈیوجاری کرسکتاہے،پرویزالہٰی کی ویڈیولیک ہونا پیمراقوانین کےخلاف تھا،وڈیوکواسپیکرپنجاب اسمبلی کےآفس سےجاری نہیں کیاگیا،کسی کی ذاتی وڈیوکولیک کرناقانون کےخلاف ہے۔
کراچی کی فضا میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئیماحولیاتی آلودگی جانچنے کے عالمی انڈیکس اے کیو آئی کے مطابق اس وقت کراچی کی فضاؤں میں آلودگی 331درجے تک پہنچ چکی ہے، جو انتہائی خطرناک صورت حال کی عکاسی کرتی ہے۔کراچی کی فضامیں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئیدرجہ بندی کے مطابق 151سے200درجے تک آلودگی مضر صحت ہے، 201سے300درجے تک انتہائی مضر صحت اور 301ایک سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کوظاہر کرتاہے۔کراچی کی فضا میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی کراچی میں 11 بجے دن بھی دھند چھائی رھی، جس سے آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ایم سی بی ٹاور اور حبیب پلازہ دھندلا گئےاس وقت شہر قائد میں یہ درجہ 331یعنی خطرناک زون میں داخل ہوچکا ہے، انڈیکس کےمطابق کراچی میں آئندہ دودنوں تک فضائی آلودگی کی صورت حال شدید متاثر رہے گی۔واضح رہے کہ کراچی میں صبح سویرے شہر بھر میں دھند نے ڈیرے ڈال لیے تھے جو دن 12بجے کے بعد بھی بر قرار ہے،محکمہ موسمیات نے اس دھند کو اسموک قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ دھند کم ہو کر اسموک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔دھند کی وجہ سے صبح سویرے حد نگاہ محدود ہوگئی، مختلف گاڑیوں کو آمد و رفت میں دشواری کا سامنا رہا، گاڑیوں کو اپنی ہیڈ لائٹس جلانی پڑ گئیں۔کراچی میں سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نیو کراچی، یوپی سوسائٹی، ناگن چورنگی، نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد، شارع فیصل، ملیر، شاہ فیصل کالونی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، لسبیلہ، گولیمار، گرومندر، ایم اے جناح روڈ، صدر، آرٹس کونسل چوک، برنس روڈ، آئی آئی چندریگر روڈ، ٹاور، کھارادر اور دیگر علاقوں میں علی الصبح پھیلنے والی دھند سے مختلف گاڑیوں بالخصوص اسکول جانے والے بچوں کی وینوں کو شدید دشواری کا سامنا رہا۔محکمہ موسمیات کا یہ بھی کہنا تھا کہ 3دن سے سمندری ہوائیں نہ چلنے اور ہوا میں نمی کا تناسب زائد ہونے کی وجہ سے دھند چھائی ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا تھا کہ ہوا میں نمی کم ہونے سے دھند اسموک میں تبدیل ہوجاتی ہے،سردیوں میں اسموک ہونا معمول کی بات ہے، نیز کراچی میں کل بھی دھند کے بعد اسموک رہنے کا امکان ہے۔
رہنما ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز کی پانچ سالہ نااہلی برقرار رکھی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے28 جون کو سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ نواز کے رہنما دانیال عزیز کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے عدالت کی برخاستگی تک قیدکی سزا سنائی تھی جس کے بعد وہ پانچ برس کے لیے نااہل ہو گئے تھے۔دانیال عزیز نے نجی تقریب میں اعلیٰ عدلیہ اور اس کے ججز کی تضحیک کی تھی جس کے وہ مرتکب پائے گئے ۔ عدالت نے آئین کی شق 63 ون جی کے تحت انھیں نااہل قرار دے دیا تھا۔انہوں نے توہین عدالت کی کارروائی کے دوران صحت جرم سے انکار کیا تھا۔دانیال عزیز نے اپنی انفرادی کورٹ اپیل واپس لے لی۔ان کے وکیل نے سماعت کے شروع میں روسٹرم پرآ کرکہا اپیل واپس لینا چاہتے ہیں ذرائع کے مطابق جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت کرنا تھی۔بعد ازاں دانیال عزیز نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ بعض اوقات خاموشی سب سے اونچی آواز ہوتی ہے۔
جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل زبیر محمود حیات نے انکشاف کیا ہے کہ مکران کے ساحل پر گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔کراچی میں منعقدہ فیوچرز کانفرس جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ ایک یورپی سروے کے مطابق پاکستانی دنیا کے عقلمند ترین افراد میں چوتھے نمبر پر ہیں، ملک میں معدنیات کے اربوں ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں۔تقریر کے بعد سوالوں کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں آنے والے کل کے بجائے گزرے ہوئے کل میں امن کے خواہاں رہے ہیں، لیکن صرف پاکستان افغانستان میں امن نہیں لا سکتا۔جنرل زبیر محمود کا مکران میں بڑے گیس ذخائر کی دریافت کا انکشاف جوائنٹس چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین نے بتایا کہ مکران کے ساحل پر حالیہ اوشیونوگرافی سروے میں بڑے گیس ذخائر دریافت ہوئے ہیں، پاکستان 2030 ء میں صرف نیوکلیئر توانائی سے 8800 میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک کی ترقی کا زینہ ہے اور بڑی تعداد میں فیس بک، واٹس ایپ اور ٹیوٹر کے استعمال کی بنیاد پر ملک ای کامرس میں بہت تیزی سے ترقی کی راہ بنا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شیل آئل کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں نویں نمبر پر ہے جبکہ ملک میں معدنیا ت کے اربوں ڈالرز کے ذخائر موجود ہیں۔جنرل زبیر محمود کا مکران میں بڑے گیس ذخائر کی دریافت کا انکشاف تقریر کے بعد سوالوں کے جواب میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی 43سالہ سروس میں کبھی بھی افغانستان کے لیے اسٹریٹیجک ڈیپتھ کا لفظ نہیں سنا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں آنے والے کل کے بجائے گزرے ہوئے کل میں امن کے خواہاں رہے ہیں، لیکن صرف پاکستان افغانستان میں امن نہیں لا سکتا۔
صدربینک آف پنجاب نعیم الدین خان کو مدت ملازمت پوری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔بینک آف پنجاب کے صدر نعیم الدین خان نے ذاتی وجوہات کی بناء پر 10 نومبر کو عہدے سے استعفیٰ دیا تھا۔ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے نعیم الدین خان کو اپنی مقررہ مدت تک اسی عہدے پر کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ ابھی نئےصدرکی تقرری کیلئے وقت درکارہے،یہی سیٹ اپ چلایا جائے گا۔نئے صدر کیلئے ملک بھر سے 80 درخواستیں حکومت پنجاب کو آئی تھیں،نعیم الدین خان کے معاہدے کی مدت 31دسمبر 2018 تک ہے۔نعیم الدین خان کا کہنا ہے کہ اب میری مدت کا جو فیصلہ کرنا ہے حکومت نے کرنا ہے ، میں نے بہرحال 7 دسمبرتک کا نوٹس دیا ہوا ہے